اس کہتے ہیں شاطرانہ چال
اس کہتے ہیں شاطرانہ چال(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل دیوبند کی جانب سے حال ہی میں دو کتب سامنے آئیں
(1)۔ تہافتہ الملاحدہ
ترتیب و تدوین :
مفتی ندیم یاسر الواجدی دیوبندی
(2). احتساب ناصبیت
ترتیب و تدوین
مولانا اللّٰہ وسایا دیوبندی
۔۔۔۔۔۔
حالات حاضرہ کے پیش نظر سب اہل علم کی توجہ تہافتہ الملاحدہ کی جانب مبذول ہونی چاہیے تھی ۔ لیکن گنے چنے لوگوں کے علاؤہ کسی نے بھی تہافتہ الملاحدہ کو پذیرائی نہیں دی ۔ باقی کو تو رہنے دیں خود اہل تشیع مکتب فکر کے یو ٹیوبرز نے پوڈ کاسٹوں میں اور انجینئر محمد علی مرزا نے کمرہ بند پروگراموں میں تہافتہ الملاحدہ کا ذکر تک نہیں کیا ۔
جبکہ احتساب ناصبیت کی اشاعت کے ایک ہفتے کے اندر کم از کم پندرہ سے بیس پوڈ کاسٹ اور لا تعداد تبصرے آ چکے ہیں ۔
میں ذاتی طور پر اس بات کا ذکر تک نہیں کرتا ۔لیکن روایت کے حاملین طبقات کو جگانا مقصود ہے وہ سوچیں کہ ہمارا شاطر دماغ دشمن کیا چاہتا ہے۔ اور بین المسالک کو آگ لگانے کے لئے کیسے کیسے پینترے بدلتا ہے ۔۔۔ علمی و فکری اعتبار سے تہافتہ الملاحدہ کو اہل تشیع کی جانب سے بھی پذیرائی ملنی چاہیے تھی لیکن نہیں ملی۔ جبکہ تہافتہ الملاحدہ کی اشاعت بین الاقوامی سطح پر ہوئی ہے ۔ بس اس مختصر سی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی طبقات کو کیسے گھیرا ڈالا جاتا ہے ۔ اور ہم گھیرے میں آ جاتے ہیں ۔ میں پھر دہرائے مجھے احتساب ناصبیت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ عملی طور پر دنیا میں ناصبیت نام کا کوئی وجود نہیں ہے ۔چند گنے چنے لوگوں کی وجہ سے 12 جلدوں پر مشتمل کتاب شائع کرنا محمود احمد عباسی کی روح کو آواز دینے جیسا ہے
جبکہ رافضیت کاناسور امت مسلمہ کی رگ رگ میں نفوذ کر چکا ہے ۔ اب ضرورت ہے کہ 20 جلدوں پر مشتمل احتساب رافضیت شائع ہو