مسلہ طلاق ثالثہ اور غیر مقلدین کا اجماع امت کے سامنے ڈھیٹائی
مسلہ طلاق ثالثہ اور غیر مقلدین کا اجماع امت کے سامنے ڈھیٹائی!
غیر مقلدین نے اجماع صحابہ اور فقہاء کے مقابل ایک کمزور قیاس کی عمارت کھڑی کی ہے اور یہ موقف اپنایا کہ طلاق اگر شریعت کے مطابق نہ دی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی
جبکہ صحابہ کے اثار اوراجماع فقہاء کا موقف یہ ہے کہ طلاق کو حکم شرع کے مطابق ہی دینا چاہیے۔
لیکن کوئی اگر ایک مجلس میں تین طلاقیں اکٹھی دے دے تو کیا یہ واقع ہونگی یا نہیں تو بالکل طلاق واقع ہو جائے گی لیکن شریعت اس امر کو نا پسند کرتی ہے۔
جیسا کہ مطلقا طلاق دینے کے امر کو اللہ نہ پسند کرتا ہے لیکن طلاق تو پھر بھی ہو جاتی ہے۔
اور پوری امت کے مقابل جو دو اثار اہل حدیث حضرات لیے پھر رہے ہیں وہ بالکل کمزور معلل روایات ہیں
غیر مقلدین کی طرف سے حضرت ابن عباس سے منسوب منکر اثر کی حقیقت ائمہ محدثین کی زبانی!
امام ابن عبدالبر طاوس کی روایات (جو وہابیہ کی دلیل ہے مسلہ طلاق میں ) اور دوسری عکرمہ والی روایت کے بارے میں یہ کلام کرتے ہیں :
قَالَ أَبُو عمر فهؤلاء الصحابة كلهم قائلون وبن عَبَّاسٍ مَعَهُمْ بِخِلَافِ مَا رَوَاهُ طَاوُسٌ عَنِ بن عَبَّاسٍ
وَعَلَى ذَلِكَ جَمَاعَاتُ التَّابِعِينَ وَأَئِمَّةُ الْفَتْوَى فِي أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ
وَإِنَّمَا تَعَلَّقَ بِرِوَايَةِ طَاوُسٍ أَهْلُ الْبِدَعِ فَلَمْ يَرَوُا الطَّلَاقَ لَازِمًا إِلَّا على سنته فجعلوا فخالف السُّنَّةِ أَخَفَّ حَالًا فَلَمْ يُلْزِمُوهُ طَلَاقًا
وَهَذَا جَهْلٌ وَاضِحٌ لِأَنَّ الطَّلَاقَ لَيْسَ مِنَ الْقُرْبِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَلَا يَقَعُ إِلَّا عَلَى سُنَّتِهِ إِلَى خِلَافِ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ الَّذِينَ لَا يَجُوزُ عَلَيْهِمْ تَحْرِيفُ السُّنَّةِ وَلَا الْكِتَابِ
وَمِمَّنْ قَالَ بِأَنَّ الثَّلَاثَةَ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَلْزَمُ مُوقِعَهَا وَلَا تَحِلُّ لَهُ امْرَأَتُهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ مَالِكٌ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ وَأَصْحَابُهُمْ والثوري وبن أَبِي لَيْلَى وَالْأَوْزَاعِيُّ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَعُثْمَانُ الْبَتِّيُّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ وَالْحَسَنُ بْنُ حَيٍّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ وَأَبُو ثَوْرٍ وَأَبُو عُبَيْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ
وَمَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ قَالَ بِغَيْرِ هَذَا إِلَّا الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَأَةَ وَمُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ وَكِلَاهُمَا لَيْسَ بِفَقِيهٍ وَلَا حُجَّةَ فِيمَا قَالَهُ
قَالَ أَبُو عُمَرَ ادَّعَى دَاوُدُ الْإِجْمَاعَ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَقَالَ لَيْسَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ وَمَنْ قَالَ بِقَوْلِهِ مِنَ الرَّافِضَةِ مِمَّنْ يُعْتَرَضُ بِهِ عَلَى الْإِجْمَاعِ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ
حَكَى ذَلِكَ عَنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ دَاوُدَ عَنْهُ وَأَنْكَرَ ذَلِكَ بَعْضُهُمْ عَنْ دَاوُدَ
وَلَمْ يَخْتَلِفُوا عَنْهُ فِي وُقُوعِهَا مُجْتَمِعَاتٍ
امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : یہ سارے صحابہ کرام اس چیز کے قائل ہیں بشمول ابن عباس کے اس چیز کے برخلاف جسکو طاوس نے روایت کیا ہے امام ابن عباس کی طرف منسوب کرکے
اور مسلمین کی جماعت سے ائمہ فتویٰ اور تابعین کی ساری جماعت اس کے خلاف ہے جسکو طاوس نے روایت کیا ہے
اور اہل بدعت (وہابی بھی شامل ہیں ) جو ہیں انکا تعلق ہے طاوس کی روایت کے ساتھ (دلیل پکڑتے ہیں )
وہ طلاق کے وقوع کو ثابت نہیں مانتے اگر طلاق سنت کے طریقے سے نہ ہو یا سنت کے مخالف دی جائے تو وہ طلاق کے ہونے کو نہیں مانتے
یہ واضح جہالت ہے (جس میں ابن تیمیہ ، ابن قیم اور اہل ظاہری شامل ہیں ) طلاق کوئی اللہ کی قربت کے لیے تو نہیں دی جاتی جو بغیر سنت کے طلاق کا اطلاق نہ ہوگا
سلف و خلف کے خلاف وہ لوگ (اہل بدعت) جس پر کبھی تحریف سنت و کتاب واقع نہیں ہوئی یعنی منسوب نہیں کی جاسکتی
پھر ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
بعض لوگ طلاق ثلاثہ ایک کلمے (ایک بار کہہ دینا تین طلاق دی ) میں بھی واقع ہو جاتی ہے اسکے لیے اسکی بیوی حلال نہیں ہوگی یہان تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرے اور یہ مذہب ہے
امام مالك
وامام أبو حنيفة
امام الشافعي
والثوري کے اصحاب
وبن أبي ليلى
والأوزاعي
والليث بن سعد
وعثمان البتي
وعبيد الله بن الحسن
والحسن بن حي
وأحمد بن حنبل
وإسحاق بن راهويه
وأبو ثور وأبو عبيد
ومحمد بن جرير الطبري
یہ سارے اور اہل سنت میں میں کسی کو نہیں جانتا جواسکے خلاف کہتا ہو، سوائے الحجاج بن أرطأة اور محمد بن إسحاق اور نہ ہی یہ مجتہد تھے نہ ہی انکا قول حجت ہے
اور پھر امام ابن عبدالبر کہتے ہیں :
امام داود نے اس مسلے پر اجماع نقل کیا ہے اور حجاج بن اطاء کا قول یا ان جیسے کسی اور کا قول جو رافضیہ میں سے انکے جیسے قوال سے اجماع پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ اہل فقہ میں سے نہیں ہیں
اس حکایت کو بعض ابی داود کے اصحاب نے روایت کیا ہے اور بعض نے اس حکایت کا انکار کیا ہے
لیکن ان میں سے کوئی بھی اسکے وقع پر اختلاف نہین کرتا
اسکے بعد پھر امام ابن عبدالبر رکانہ والی طلاق ثالثہ والی روایت نقل کرتے ہیں
قال أبو عمر روى بن إسحاق في ذلك عن داود بن الحصين عن عكرمة عن بن عباس قال طلق ركانة بن عبد يزيد امرأته ثلاثا في مجلس واحد فحزن عليها حزنا شديدا فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم ((كيف طلقتها قال طلقتها ثلاثا في مجلس واحد قال إنما تلك واحدة فارتجعها إن شئت)) قال فارتجعها
قال وكان بن عباس يرى أن السنة التي أمر الله بها في الطلاق أن يطلقها عند كل طهر وهي التي كان عليها الناس
قال بن إسحاق فأرى أن النبي صلى الله عليه وسلم إنما رد عليه امرأته لأنه طلقها ثلاثا في مجلس واحد لأنها كانت بدعة مخالفة للسنة
اس روایت پر ابن اسحاق نے کہا کہ یہ رسولﷺ سے دلیل ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا مخالف سنت اور بدعت ہے
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں :
قال أبو عمر هذا حديث منكر خطأ وإنما طلق ركانة زوجته البتة لا كذلك رواه الثقات أهل بيت ركانة العالمون به وسنذكره في هذا الباب
یہ حدیث (داود بن حصین کی عکرمہ سے ) منکر ہے اور خطاء ہے جب کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی جیسا کہ ثقہ روایان نے بیان کیا ہے انکے گھر والوں میں سے جسکی سند اس باب میں نقل کی ہے
[الاستذكار، ابن عبدالبر جلد ۶ ، ص ۹]
***********************
صاحب استقراء امام ذھبی سے ابن عدی کارد :
امام ذھبی میزان میں داود بن حصین کے ترجمہ میں متعدد اسکی مناکیر روایات بیان کرتے ہیں جس میں سے ایک یہی طلاق ثالثہ والی بھی ہے
أحمد في المسند، حدثنا سعد بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: طلق ركانة بن عبد يزيد أخو المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد، فحزن عليها حزنا شديدا، فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف طلقتها؟ قال: طلقتها ثلاثا.
قال: فقال في مجلس واحد؟ قال: نعم.
قال: فإنما تلك واحدة فارجعها إن شئت.
قال: فرجعها.
فكان ابن عباس يرى: إنما الطلاق عند كل طهر.*******
[میزان الاعتدال برقم2600]
تو امام ذھبی نے ابن عدی کی بات کو نقل کرنے کے بعد ہی داود بن حصین کی عکرمہ والی مسند احمد کی روایت کو میزان میں منکر کے طور پر نقل کی ہے
اور امام اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں (جو فتح الباری کے بعد کی ہے ) میں داود بن حصین کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :
داود ابن الحصين الأموي مولاهم أبو سليمان المدني ثقة إلا في عكرمة ورمي برأي الخوارج من السادسة مات سنة خمس وثلاثين ع
داود بن حصین مدنی یہ ثقہ ہے سوائے ابن عکرمہ سے روایت میں اور یہ خوارج والی رائے رکھتا تھا
[تقریب التہذیب برقم:1779 ]
امام بیھقی سے اس سند کے ضعیف ہونے کی جرح :
وَهَذَا الْإِسْنَادُ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ مَعَ ثَمَانِيَةٍ رَوَوْا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فُتْيَاهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ وَمَعَ رِوَايَةِ أَوْلَادِ رُكَانَةَ أَنَّ طَلَاقَ رُكَانَةَ كَانَ وَاحِدَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ
یہ اسنادسے حجت نہیں پکڑی جا سکتی ہے اور ابن عباس سے اسکے خلاف فتویٰ موجود ہے جو رکانہ کی اولاد نے بیان کیا ہے کہ رکانہ نے ایک طلاق دی تھی
[السنن الکبری بیھقی]
امام ابن حجر اس روایت کوک معلول قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں
وفي الباب عن ابن عباس رواه أحمد والحاكم، وهو معلول أيضا.
[التلخیص الحبیر ، برقم : 1744]
اسکے علاوہ امام ابن عبدالبر اور امام نووی نے اس مسلے پر اتفاق و اجماع لکھا ہے لیکن وہابیہ کی ضد کی داد تو بنتی ہے جو پوری امت سے ٹکر لی ہوئی ہے ایک ضعیف روایت کی بنیاد پر صرف علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم کی وجہ سے
اللہ سب کو حق و سچ قبول کرنے کی ہمت عطا کرے آمین
تحقیق : دعاگو اسد الطحاوی الحنفی