٦ – بَاب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ

پانچ نمازیں کفارہ ہیں

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانچ نمازیں انسان کی خطاؤں کا کفارہ ہیں ۔

٥٢٨ – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْن أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْن إبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ ابی هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيه ُكُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبقِي مِنْ دَرَنهِ؟ قَالُوا لايبقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَات الْخَمْس،ِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا۔

صحیح مسلم: 667، الرقم المسلسل : 1494، سنن ترمذی: ۲۸۶۸ سنن نسائی: 462، صحیح ابن حبان : ۱۷۲۶ سنن بیہقی ج ۳ ص ۶۳ – ۶۲ شرح السنة :344، مسند احمد ج ۲ ص ۳۷۹ طبع قدیم مسند احمد : 8924- ج 14 ص 494 مؤسسة الرسالة، بیروت، جامع المسانيد لابن الجوزی : ۵۱۹۴ مکتبة الرشد ریاض)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابراہیم بن حمزہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی حازم اور الدراوردی نے حدیث بیان کی از یزید از محمد بن ابراهیم از ابی سلمه بن عبدالرحمان از حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازہ پر دریا ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تم کیا کہتے ہو یہ غسل اس کے جسم پر میل کو باقی رہنے دے گا؟ صحابہ نے کہا: یہ اس کے جسم پر کوئی میل نہیں چھوڑے گا آپ نے فرمایا : یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے اللہ ان کے سبب سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) ابراہیم بن حمزه

(۲) عبدالعزیز بن ابی حازم

(۳) عبدالعزیز بن محمد الدراوردی ‘ یہ خراسان کی بستی دراورد کی طرف نسبت ہے

(۴) یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن الهاد اللیثی الاعرج ،یہ ۱۳۹ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۵) محمد بن ابراہیم التیمی’ یہ ۱۲۰ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۶) ابو سلمہ بن عبد الرحمان بن عوف

(۷) حضرت ابوہریرہ رضی الله  عنہ۔(عمدۃ القاری ج ۵ ص ۲۲)

حافظ ابن حجر کے استاذ علامہ بلقینی کی طرف سے اس اشکال کا جواب کہ اجتناب کبائر سے صغائر کا کفارہ ہوجاتا ہے، پھر پانچ نمازوں سے کون سا کفارہ ہوا ؟

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:

علامہ قرطبی نے لکھا ہے: اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں سے تمام گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے لیکن صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں ان کے درمیان کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں جب تک انسان کبائر سے اجتناب کرے لہذا اس باب کی حدیث بھی اس مقید حدیث پر محمول ہے۔

حضرت ابوہریرہ کی اس مقید حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہے

إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُم (النساء: ۳۱)

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہوں کو مٹادیں گے۔

لہذا قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق صغیرہ گناہ تو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے معاف ہوگئے تو پانچ نمازوں سے کون سے گناہ معاف ہوئے ۔

ہمارے استاذ علامہ بلقینی نے اس اشکال کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ انسان تمام عمر گناہوں سے مجتنب رہے تو اس کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں اور حدیث کا منشاء یہ ہے کہ ہر روز پانچ نمازیں پڑھنے سے اس کے اس روز کے صغیرہ گناہ معاف کردیئے جائیں گئے لہذا قرآن مجید سے صغائر کی معافی اور حدیث سے صغائر کی معافی دونوں کے محمل الگ الگ ہیں۔(فتح الباری ج ۲ ص ۱۴۷ دار المعرفة بیروت 1426ھ

علامہ بلقینی کے جواب پر مصنف کا تبصرہ

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر عسقلانی کے استاذ علامہ بلقینی کا یہ جواب درست نہیں ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کو بلاوجہ اور بغیر کسی دلیل کے مقید کیا ہے کہ جو شخص ساری عمر کبائر سے مجتنب رہے گا تب اس کے صغائر کی معافی ہوگی بلکہ اس آیت کا ظاہر معنی یہ ہے کہ انسان جس وقت بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے کسی کبیرہ گناہ کرنے سے باز آگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

ہمارے اس جواب کی تائید اس قاعدہ سے ہوتی ہے کہ اس آیت میں ” کبائر بھی جمع کا صیغہ ہے اور سیئات بھی جمع کا صیغہ ہے اور جب جمع کا مقابلہ جمع سے ہو تو احاد کی تقسیم احاد کی طرف ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے : ” لبس القوم ثيابهم “ سب لوگوں نے کپڑے پہن لیے یعنی ہر شخص نے اپنے کپڑے پہن لیے اس اسلوب پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تمام کبائر کے اجتناب سے تمام صغائر کی معافی ہوگی یعنی ہر کبیرہ کے اجتناب سے اس کے مقابلہ میں صغائر معاف کر دیے جائیں گے نیز ہمارے جواب کی تائید ورآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے:

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْانِ ) ( الرحمن : 46)

اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں

یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے کسی ایک کبیرہ گناہ کو بھی ترک کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دو جنتیں عطا فرمائے گا، تو جس کو اللہ تعالی دو جنتیں عطا فرمائے گا، اس کے صغائر کو تو اللہ تعالی ضرور معاف فرمائے گا لہذا علامہ بلقینی کا یہ قید لگانا صحیح نہیں ہے کہ جو تمام عمر کبائر سے اجتناب کرے اس کے صغائر کا کفارہ ہوگا اور علامہ عسقلانی نے جو اپنے استاذ کا جواب بڑے طمطراق سے پیش کیا تھا’ وہ بھی بے سود ہے۔

اشکال مذکور کا جواب علامہ عینی کی طرف سے

علامہ بدرالدین عینی نے اصل اشکال کا یہ جواب دیا ہے کہ کبائر سے اجتناب اس وقت مکمل ہوگا جب انسان پانچ نمازیں پڑھے گا، سو جس شخص نے پانچ نمازیں نہیں پڑھیں، وہ کبائر سے مجتنب نہیں ہوا کیونکہ ان نمازوں کو ترک کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے لہذا کبائر کا کفارہ پانچ نمازوں کے پڑھنے پر موقوف ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۲۴۔ ۲۳ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )

علامہ عینی کے جواب پر مصنف کا تبصرہ اور پھر مصنف کا جواب

میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی کے جواب سے اصل اشکال نہیں دور ہوا، کیونکہ اصل اشکال یہ ہے کہ جو شخص کبائر سے بھی مجتنب رہا اور اس نے دن کی پانچ نمازیں بھی پڑھیں تو اس کے صغائر کا کفارہ تو اجتناب کبائر سے ہوگیا تو اب دن کی پانچ نمازیں پڑھنے سے کس چیز کا کفارہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس شخص کے صغائر کا کفارہ اجتناب کبائر سے ہوگیا یا جس شخص کے صغائر تھے ہی نہیں تو پانچ نمازیں پڑھنے سے اس کے درجات میں ترقی ہوجائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے کبائر اور صغائر زیادہ ہوں اور اس نے اس روز بعض کبائر سے اجتناب کیا ہو جس کی وجہ سے اس کے صغائر معاف ہوگئے ہوں اور اس کے کبائر ابھی باقی ہوں اور اس روز پانچ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے باقی ماندہ کبائر میں تخفیف ہوجائے گی بہر حال اجتناب کبائر کی وجہ سے صغائر کی معافی کا الگ فائدہ ہے اور پانچ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے درجات میں بلندی یا تخفیف کبائر کا الگ فائدہ ہے اور قرآن مجید اور اس حدیث میں سے کوئی بھی عبث اور بے فائدہ نہیں ہے یہ وہ جواب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس ناکارہ کے ذہن میں القاء کیا ہے اگر یہ حق وصواب ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ہے ورنہ میری فکر کی غلطی ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں ۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۴۲۱- ج ۲ ص ۳۰۰ پر مذکور ہے اس کی شرح میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پانچ نمازوں سے صرف صغائر معاف ہوتے ہیں اور کبائر توبہ سے معاف ہوتے ہیں یا شفاعت ہے۔