فحش حرکات پر مکہ المکرمہ میں سر قلم
اس گندی اور شرمناک بات پر پوسٹ کرنے کا ارادہ نہیں تھا، لیکن جھوٹی اور من گھڑت باتیں پھیلانے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے پوسٹ کرنا پڑ رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے دو افراد، نذرالاسلام اور سیتھی اختر۔ یہ دونوں بن لادن کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اور دونوں ہی مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے صفائی کے کارکن تھے۔ لڑکی کا رہائشی ولا بطحا قریش میں تھا، جبکہ لڑکے کا ولا حیّ الاسکان میں تھا۔
ڈیوٹی کے دوران ان دونوں کے درمیان محبت کا تعلق قائم ہوگیا اور وہ مسجد الحرام کے 85 سے 87 نمبر کے دروازوں کے درمیان سیڑھیوں کے اوپر واقع ایک سنسان کمرے میں زنا کے مرتکب ہوئے۔
نذرالاسلام نے اپنے ایک بھارتی دوست کو نگرانی کے لیے نیچے کھڑا ہونے کو کہا۔ اس دوست نے اس واقعے کی ویڈیو بنالی۔ بعد میں جب اس نے خود بھی اس لڑکی کے ساتھ زنا کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن وہ ایسا نہ کرسکا یا دونوں نے رضامندی نہیں دی، تو اس نے ویڈیو عام کردی۔
اس کے بعد یہ واقعہ منظر عام پر آگیا۔ سعودی حکام تینوں افراد کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بھارتی نوجوان کو 20 سال قید کی سزا ہوئی، اور وہ جیل میں ہے۔ باقی دونوں افراد کو بھی جیل میں رکھا گیا۔
نذرالاسلام بنگلہ دیش سے 10 سے 13 نومبر 2022 کے درمیان سعودی عرب آیا تھا۔ اس نے مئی 2023 میں یہ غلط حرکت کی، جس کے بعد سعودی حکام نے اسے گرفتار کرلیا۔ وہ مئی 2023 سے اکتوبر 2026 تک جیل میں رہا۔ اس مقدمے کی عدالتی کارروائی تقریباً ساڑھے تین سے چار سال تک جاری رہی۔
اس دوران سعودی حکومت کی ذمہ داری اپنے کفیل اور کمپنی کو مطلع کرنا ہے۔ دوسرے ممالک کے لوگوں کو اس بارے میں اطلاع دینا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔
بہت سے لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ دونوں عمرہ کرنے گئے تھے اور وہاں بوسہ لیا تھا۔ یہ تمام باتیں سراسر جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔
وہ دونوں غیر شادی شدہ تھے، یہ بات درست ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ غیر شادی شدہ ہونے کے باوجود انہیں سزائے موت کیوں دی گئی؟ جانتے ہیں؟ اس لیے کہ یہ مسجد الحرام ہے۔ یہاں معاملہ صرف زنا کی سزا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس شخص نے مسجد الحرام کی حرمت اور عزت کو بھی پامال کیا ہے۔
اسی وجہ سے مثالی سزا دینے کے لیے سپریم کورٹ کے اعلیٰ ججوں نے تعزیری سزا کے طور پر سزائے موت کو مناسب سمجھا اور وہی سزا سنائی۔ یہ سزا قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم آج بھی اس معاملے پر بے شرمی کے ساتھ جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے دائیں اور بائیں بازو کے ملحد افراد تو یہ سب کہہ ہی رہے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں سے بھی بعض اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں جو بنگلہ دیش میں اسلامی قانون نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں۔
لہٰذا، اگر آپ اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو زنا کی حمایت کرنا بند کریں، اور اس لڑکے کے والدین کو بھی سمجھائیں کہ وہ میڈیا میں بے شرمی کے ساتھ بیانات دینے سے باز رہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
عبدالرزاق مدنی
داعی، دعوہ سینٹر، طائف، سعودی عرب
یہ واقعہ قتل نہیں ہے،
*سعودی حکومت کی طرف سے دی گئی سزائے موت (Execution)* ہے۔
سوشل میڈیا پر اسے “میاں بیوی کا قتل” کہہ کر پھیلایا جا رہا ہے، جو درست نہیں ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے مکہ مکرمہ، بلکہ مسجد الحرام کے عین قلب میں زنا کا ارتکاب کرنے والے ایک بنگلہ دیشی جوڑے کو دی جانے والی سزائے موت پر جس طرح کا واویلا، گریہ وزاری، اور ماتم برپا کیا جا رہا ہے، اس پر اگر محض مصلحتاً خاموشی اختیار کی جائے تو یہ تاریخ، علم، صحافت، اور الہامی عدل کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہوگی۔
کعبہ اور مسجد الحرام محض پتھروں، ستونوں، اور سنگِ مرمر سے بنی ہوئی کوئی عام سی تاریخی عمارت، یا کسی دورِ قدیم کا عجائب گھر نہیں ہے۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں قدم رکھنے سے پہلے انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے جسم کو احرام کے ان دو سفید ٹکڑوں میں چھپا لے جو اسے اس کی موت اور اس کی قبر کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ وہ حدودِ حرم ہیں جہاں کسی پودے کا توڑنا، کسی جانور کا شکار کرنا تو دور کی بات، کسی کو سخت لفظ کہنا یا کسی کے ساتھ جھگڑنا بھی کائنات کے رب کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں واضح طور پر فرماتا ہے:
﴿فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾
(پس جو شخص ان (مہینوں) میں حج مقرر کر لے تو پھر حج کے دوران نہ کوئی فحش بات ہو، نہ کوئی گناہ کا کام اور نہ ہی کوئی جھگڑا) (سورۃ البقرہ، 2:197)۔
اور عین اس جگہ، جہاں فرشتے اترتے ہیں، جہاں انسان گناہوں سے پاک ہونے کے لیے روتا ہے، وہاں انسانی تاریخ کا ایک ایسا گھناؤنا اور غلیظ ترین فعل سرانجام دیا گیا جس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔
بنگلہ دیش کے ایک معروف اور معتبر اخبار ‘پروتھوم آلو’ (Prothom Alo) کی 20 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، اور سعودی وزارت داخلہ کے باضابطہ بیان کے مطابق، بنگلہ دیش سے نذر الاسلام عبد البصیر نامی ایک شخص ورک ویزے پر سعودی عرب آیا، اور اسی طرح سیتھی اختر نامی ایک عورت بھی وہاں پہنچی۔
یہ دونوں کوئی عام زائرین یا عمرہ کرنے والے مسافر نہیں تھے، بلکہ یہ ‘بن لادن گروپ’ کے وہ باقاعدہ ملازمین تھے جنہیں اس کائنات کی سب سے مقدس جگہ، یعنی مسجد الحرام کی صفائی کا شرف بخشا گیا تھا۔
لڑکے کی رہائش ‘حی الاسکان’ میں تھی، جبکہ لڑکی ‘بطحا قریش’ کے علاقے میں رہتی تھی۔
ذرا اس اعزاز اور اس ڈیوٹی پر تدبر کریں۔
جن جگہوں کو چومنے، جن کے گرد طواف کرنے، اور جن کے سائے میں بیٹھنے کے لیے دنیا بھر کے مسلمان عمر بھر ترستے اور دعائیں مانگتے ہیں، یہ دونوں وہاں روزانہ موجود ہوتے تھے۔
لیکن جب دلوں پر مادہ پرستی کا زنگ چڑھ جائے، جب الہامی خوف ختم ہو جائے، اور انسان کے اندر کا جانور بیدار ہو جائے، تو اسے کعبہ کے غلاف کی حرمت، اس کے تقدس، اور اس کی عظمت بھی دکھائی نہیں دیتی۔
مئی 2023 میں، ان دونوں نے اپنے حیوانی جذبات کی تسکین، اپنی ہوس کو بجھانے، اور کائنات کے رب کی نافرمانی کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا، وہ مسجد الحرام کے دروازہ نمبر 85 (باب سعید بن زید) اور دروازہ نمبر 87 (باب أم ہانی) کے درمیان اوپر جانے والی سیڑھیوں کے قریب ایک سنسان کمرہ تھا۔
یہ کمرہ صفائی کے عملے کے استعمال میں تھا، اور وہیں، کائنات کے خالق کے گھر کے اندر، چند میٹر کے فاصلے پر خانہ کعبہ موجود ہوتے ہوئے، انہوں نے زنا کا ارتکاب کیا۔
اس غلاظت کی انتہا یہیں ختم نہیں ہوتی۔
نذر الاسلام نے اپنے ایک بھارتی دوست کو نگرانی کے لیے نیچے کھڑا کیا، جس نے اس پورے فعل کی ویڈیو بنا لی۔
بعد ازاں، جب اس بھارتی دوست نے بلیک میلنگ کی کوشش کی، اور اپنی ہوس کی تسکین میں ناکامی کا سامنا کیا (کیونکہ وہ خود بھی اس لڑکی کے ساتھ زنا کرنا چاہتا تھا، لیکن ناکام رہا)، تو اس نے انتقاماً وہ ویڈیو عام کر دی۔
یہ کوئی ایسا کیس نہیں تھا جو محض کسی کے الزام، شک، یا محض سنی سنائی باتوں پر کھڑا ہو۔
ویڈیو وائرل ہوئی، اور سعودی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان تینوں کو گرفتار کر لیا۔
ویڈیو بنانے والے اور سہولت کاری کرنے والے بھارتی شہری کو بیس سال قید کی سزا سنائی گئی جو آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہا ہے، جبکہ زنا کرنے والے اس جوڑے کا مقدمہ باقاعدہ سعودی عدالتوں میں چلا۔
یہاں اس پراپیگنڈے کا جواب دینا بھی ناگزیر ہے جو کہتا ہے کہ سعودی عرب نے جلدی میں، بغیر سوچے سمجھے، کسی وحشیانہ قبائلی قانون کے تحت فوراً سر قلم کر دیے۔
یہ سراسر جھوٹ اور عدالتی طریقہ کار سے ناواقفیت ہے۔
مئی 2023 سے لے کر اکتوبر 2026 تک، پورے ساڑھے تین سال یہ کیس نچلی عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ اور پھر شاہی دیوان تک گیا۔
مجرموں نے اعترافِ جرم کیا، تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
بنگلہ دیشی اخبار ‘پروتھوم آلو’ کی رپورٹ کے مطابق، اپیل کورٹ میں تیرہ (13) ججوں پر مشتمل ایک پینل نے اس سارے معاملے کا ازسرِ نو، انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا، اور بالآخر یہ پینل اس نتیجے پر پہنچا کہ سزا کا فیصلہ بالکل درست اور شرعی تقاضوں کے مطابق ہے۔ اور پھر، 14 اکتوبر 2026 کو، مکہ کے علاقے میں، سعودی وزارت داخلہ کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، انہیں تعزیراً سزائے موت دے دی گئی۔
(Saudi Press Agency – SPA, Statement by the Ministry of Interior, October 14, 2026)۔
یہاں سے اس فکری اور نظریاتی جنگ کا آغاز ہوتا ہے جس نے آج کے سوشل میڈیا کو ایک غلاظت کے ڈھیر، جھوٹ کی منڈی، اور بے شرمی کے بازار میں تبدیل کر دیا ہے۔
جب یہ خبر منظرِ عام پر آئی، تو وہ تمام قوتیں جنہیں اسلام، اسلامی سزاؤں، اور سعودی عرب کے نظامِ عدل سے پیدائشی اور نظریاتی عناد ہے، وہ ایک دم متحرک ہو گئیں۔
ان میں دیسی لبرلز، سیکولر صحافی، فیمنسٹ، ملحدین، اور ایران کی وہ راتب خور پراکسیز شامل ہیں جو ہر اس خبر کو اچھالنے کے لیے بے تاب رہتی ہیں جس سے سعودی عرب کی آڑ میں اسلام کو بدنام کیا جا سکے اور اسلامی قوانین کو وحشیانہ ثابت کیا جا سکے۔
لیکن، انہوں نے اس خبر کو سیدھے اور سچے طریقے سے پیش نہیں کیا۔
انسانی نفسیات کا یہ وہ تاریک ترین کھیل ہے جسے ‘نریٹو بلڈنگ’ (Narrative Building) اور پروپیگنڈا کہا جاتا ہے۔
انہوں نے اس مجرم جوڑے کو میاں بیوی بنا کر پیش کیا۔
انہوں نے یہ جذباتی اور جھوٹی کہانی گھڑی کہ یہ تو ایک نیا شادی شدہ جوڑا تھا جو مکہ میں ہنی مون منانے، یعنی عمرہ کرنے آیا تھا، اور غلافِ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر جذبات میں آ کر شوہر نے محض محبت کے اظہار کے لیے اپنی بیوی کے ماتھے پر ایک پاکیزہ بوسہ دے دیا، جس پر ظالم، بنیاد پرست، اور جابر سعودی حکومت نے انہیں سزائے موت دے دی۔
ذرا اس سکرپٹ کی سفاکیت، اس کی ہالی وڈ نما ڈرامہ نگاری، اور اس میں موجود جذباتی بلیک میلنگ پر غور کریں۔
انہوں نے ایک خالصتاً غلیظ، ناپاک، اور مجرمانہ فعل، یعنی مسجد الحرام کے اندر دو غیر محرم، غیر شادی شدہ افراد کے زنا کو، ایک پاکیزہ محبت اور ماتھے کے بوسے میں تبدیل کر دیا، تاکہ پڑھنے والے کے دل میں اس جوڑے کے لیے ہمدردی اور اسلامی قانون کے لیے شدید نفرت پیدا ہو جائے۔
انہوں نے ساتھ میں ایک روتی ہوئی بچی کی تصویر بھی وائرل کر دی کہ یہ اس جوڑے کی بیٹی ہے۔ حالانکہ منطق خود چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ اگر وہ ابھی نیا شادی شدہ جوڑا تھا اور ہنی مون پر گیا تھا، تو یہ پانچ سال کی بچی پیچھے سے کہاں سے نمودار ہو گئی؟
لیکن، جذباتی ہجوم منطق نہیں دیکھتا، وہ صرف آنسو دیکھتا ہے اور جذبات میں بہہ جاتا ہے۔
وہ نام نہاد صحافی، اور سوشل میڈیا کے وہ فاسق و فاجر اور منافق چمپئن جو سچائی کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہوں نے بغیر کسی تحقیق کے، بغیر خبر کے منبع (Source) کو چیک کیے، بغیر فریقین کے بیانات سنے، اس جھوٹ کو ایک کائناتی سچ بنا کر پھیلا دیا۔
انہوں نے لمبے چوڑے کالم لکھ مارے، ٹویٹس کر دیں، اور خود کو انصاف کا علمبردار ظاہر کرنے کے چکر میں ایک ایسی کہانی گھڑ دی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
اور جب بنگلہ دیش کے موقر اخبار ‘جاگو نیوز’ (Jago News 24) نے نذر الاسلام کے والد عبدالبشیر کا انٹرویو شائع کیا، جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ
“سیتی اختر میرے بیٹے کی بیوی نہیں تھی، اور میرا بیٹا غیر شادی شدہ تھا”
(Jago News 24, Interview with Nazrul Islam’s father, October 2026)،
تو ان تمام نام نہاد صحافیوں کے جھوٹ کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔
لیکن شرم ان کو پھر بھی نہ آئی۔
خبر کی تردید آنے کے باوجود ان کے ٹویٹس اور پوسٹیں جوں کی توں موجود رہیں، کیونکہ انہیں سچائی سے نہیں، بلکہ اس ریچ (Reach)، ان لائکس (Likes)، اور اس ایجنڈے سے مطلب تھا جو وہ پورا کر رہے تھے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو خبر بریک کرنے کی جلدی میں کسی کی بھی کھال ادھیڑ سکتا ہے، اور جب بعد میں حقیقت کچھ اور نکلتی ہے تو یہ شرمندہ ہونے کے بجائے اگلی خبر کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔
یہ سوشل میڈیا کے لگڑبگڑ (Hyenas) ہیں، جو صرف زندوں اور مردوں کا گوشت نوچنا جانتے ہیں۔
اس جھوٹے بیانیے کے پیچھے چھپا ہوا جو فلسفہ ہے، وہ دراصل اس سیکولر اور مغربی نظام کا وہ کینسر ہے جس نے آج کے انسان کی روح کو مفلوج کر دیا ہے۔
مغربی فلسفے، جس کی اندھی تقلید ہمارے لبرل اور فیمنسٹ کر رہے ہیں، اس میں ‘گناہ’ (Sin) کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
اگر دو بالغ افراد باہمی رضامندی سے زنا کرتے ہیں، تو یہ ان کی نظر میں کوئی جرم نہیں، بلکہ ان کا بنیادی انسانی حق (Basic Human Right) اور ان کی پرسنل چوائس (Personal Choice) ہے۔
جب مذہب کو ریاست اور معاشرے کی بنیادوں سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے، تو پھر مقدسات کی توہین، اللہ کے گھر کی بے حرمتی، اور زنا جیسے افعال محض ایک ذاتی فعل بن کر رہ جاتے ہیں، جب تک کہ وہ ریاست کے بنائے ہوئے کسی مادی قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔
یہی وجہ ہے کہ جب اسلامی قانون کے تحت زنا کی سزا دی جاتی ہے، اور وہ بھی توہینِ مقدسات کی حد تک پہنچنے والے زنا کی، تو ان لوگوں کی روحیں کانپ جاتی ہیں اور انہیں مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
انہیں اس بات کی تکلیف نہیں ہے کہ دو جانیں چلی گئیں، بلکہ انہیں اس بات کی تکلیف، درد اور آگ ہے کہ جس نظامِ باطل کو وہ پوری دنیا پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، اسلام کا قانونِ تعزیر آج بھی اس نظام کے سر پر ایک الہامی ہتھوڑا بن کر برستا ہے۔
وہ اس ماتھے کے بوسے والی کہانی کو اس لیے لے کر آئے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ اسلامی نظام ایک بے رحم، غیر انسانی، اور جابرانہ نظام ہے جو انسان کی چھوٹی سی محبت کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میاں بیوی کی محبت کو صدقہ قرار دیتا ہے، لیکن کعبہ کے اندر غیر محرموں کے زنا کو وہ ‘فساد فی الارض’ مانتا ہے جس کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔
یہاں ایک بہت بڑا قانونی، شرعی، اور فقہی سوال اٹھایا گیا، جو عموماً کم علم رکھنے والے مسلمان بھی الجھن کا شکار ہو کر پوچھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی سورۃ النور کی آیت نمبر 2 میں تو غیر شادی شدہ (کنوارے) زانی مرد اور عورت کی سزا واضح طور پر سو کوڑے اور جلاوطنی لکھی ہے:
﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾
(زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد، پس ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو)۔
تو پھر سعودی حکومت نے اور ان کی سپریم کورٹ نے قرآنی ‘حد’ سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کیوں دی؟
یہ سوال بظاہر بہت علمی لگتا ہے لیکن یہ اسلامی فقہ، حدود (Hudud)، اور تعزیرات (Ta’zirat) کے بنیادی فرق سے مکمل ناواقفیت، اور سطحی مطالعے کا نتیجہ ہے۔
سورۃ النور میں جو سزا بیان ہوئی ہے وہ ایک عام حالات میں، کسی عام جگہ پر کیے گئے زنا کی ‘حد’ ہے۔
لیکن یہ کوئی عام زنا نہیں تھا۔
یہ مسجد الحرام کے اندر، کائنات کے سب سے مقدس مقام پر کیا جانے والا فعل تھا۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحج کی آیت 25 میں واضح طور پر فرماتا ہے:
﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
(اور جو کوئی اس (مسجد الحرام) میں ظلم کے ساتھ کج روی (الحاد یا بے حرمتی) کا ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے)۔
کعبہ کے اندر گناہ کرنا، اور وہ بھی زنا جیسا کبیرہ گناہ، محض ایک اخلاقی جرم نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف صریح جنگ، اس کے گھر کی کھلی بے حرمتی، اور ‘فساد فی الارض’ کے زمرے میں آتا ہے۔
اور سورۃ المائدہ کی آیت 33 میں فساد فی الارض اور اللہ سے محاربہ (جنگ) کرنے والوں کی سزا نہایت صراحت اور سختی سے بیان کر دی گئی ہے:
﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
(ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، یہی ہے کہ انہیں بری طرح قتل کیا جائے، یا سولی چڑھایا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیے جائیں، یا انہیں زمین سے نکال دیا جائے)۔
جب گناہ اور توہینِ مقدسات آپس میں مل جائیں، تو سزا ‘حد’ (جو مقرر ہے) سے نکل کر حکمرانِ وقت اور قاضی کے اختیارِ ‘تعزیر’ (Discretionary Punishment) میں داخل ہو جاتی ہے۔
اور سعودی سپریم کورٹ کے تیرہ ججوں نے بالکل شریعت کے ان کائناتی اور فقہی اصولوں کے تحت انہیں سزائے موت (قتل تعزیراً) کا فیصلہ سنایا، تاکہ رہتی دنیا تک یہ پیغام، یہ عبرت، اور یہ الہامی خوف قائم ہو جائے کہ کائنات کے رب کے گھر کو، مسجد الحرام کو اپنی حیوانی ہوس کا اڈہ بنانے والوں کی گردنیں ان کے جسموں پر سلامت نہیں رہ سکتیں۔
یہ سعودی عرب کی ہلکی سزا تھی، ورنہ اس جرم کی سزا تو ہاتھ پاؤں کاٹ کر مرنے کے لیے چھوڑ دینا، یا سولی پر لٹکا دینا تھی۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ کی حرمت کا احساس تو اسلام سے پہلے جاہلیت کے اس دور میں بھی عربوں کو تھا جب وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔
تاریخی روایات اور کتبِ تاریخ (جیسے تاریخِ طبری اور سیرت ابن ہشام) میں ایک انتہائی مشہور، سبق آموز اور لرزہ خیز واقعہ موجود ہے جس کا تعلق قبیلہ جرہم کے دو افراد، اساف اور نائلہ سے ہے۔
تاریخ دان بتاتے ہیں کہ اساف بن یعلیٰ کو قبیلے کی ایک لڑکی نائلہ بنت زید سے شدید محبت تھی۔
ایک روز انہیں کعبہ کے اندر تنہائی ملی، اور ان دونوں نے وہاں اپنے حیوانی جذبات پر قابو نہ پاتے ہوئے زنا کا ارتکاب کیا۔
کعبہ کی اس بے حرمتی پر کائنات کے رب کا غضب اس قدر فوری اور شدید تھا کہ اللہ نے ان دونوں کو اسی وقت، کعبہ کے اندر ہی پتھر کا بنا دیا۔
یہ کوئی فرضی افسانہ نہیں، بلکہ عرب کی وہ تاریخ ہے جسے تمام مؤرخین نقل کرتے ہیں۔ (ابن ہشام، السیرة النبوية، جلد 1، صفحہ 82)۔
بعد میں جب مکہ میں بت پرستی کا آغاز ہوا، تو جاہل عربوں نے عبرت پکڑنے کے بجائے انہی دو پتھر بنے ہوئے مجرموں (اساف اور نائلہ) کو کعبہ کے پاس رکھ کر ان کی پوجا شروع کر دی۔
جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے حکم سے جن بتوں کو توڑا گیا، ان میں یہ اساف اور نائلہ بھی شامل تھے۔
ذرا سوچیے، آج سے صدیوں قبل، جب کوئی قانونی اور ریاستی نظام موجود نہیں تھا، تب بھی خالقِ کائنات نے کعبہ میں زنا کرنے والوں کو پتھر بنا کر رہتی دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا تھا۔
آج اگر سعودی حکومت نے اسی کعبہ میں زنا کرنے والوں کو تلوار سے سزائے موت دے کر عبرت کا نشان بنایا ہے، تو یہ کوئی ظلم، بربریت، یا غیر انسانی فعل نہیں، بلکہ یہ اسی الہامی اور کائناتی عدل کی زمینی تعمیل ہے جس کا نفاذ ایک اسلامی ریاست پر فرض ہے۔
آج پتھر نہیں گرتے، کیونکہ اللہ نے شریعت نافذ کرنے کا اختیار، اور تلوار، مسلمانوں کے حکمرانوں کو دے دی ہے۔
اس معاملے کو بنیاد بنا کر سعودی عرب کے عدالتی نظام پر ایک مخصوص نوعیت کا اعتراض بھی اچھالا گیا۔
دعویٰ یہ کیا گیا کہ سعودی عدالتیں عام غیر ملکیوں، خصوصاً غریب بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف تو قانون کی پوری طاقت استعمال کرتی ہیں، لیکن جب معاملہ شاہی خاندان کے اپنے افراد کا ہو تو انصاف کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔
بظاہر یہ ایک دلکش نعرہ معلوم ہوتا ہے، مگر کسی بھی ریاست کے نظامِ انصاف پر فیصلہ نعروں، قیاس آرائیوں اور سیاسی تعصبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی واقعات اور قابلِ تصدیق شواہد کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔
اور جب تاریخ کے صفحات کھولے جائیں تو یہ یک طرفہ بیانیہ کئی سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔
اس حوالے سے 1977ء میں پیش آنے والا شہزادی مشاعل بنت فہد کا واقعہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی اس نوجوان شہزادی کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں تعلیم کے دوران خالد الشعر محلل نامی نوجوان سے محبت ہو گئی، جس کا تعلق بھی سعودی سفارتی حلقوں سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں کے تعلق اور مبینہ طور پر ملک سے فرار کی کوشش کے بعد معاملہ سعودی حکام تک پہنچا۔ اس واقعے کے گرد مختلف روایات، بیانات اور تفصیلات گردش کرتی رہی ہیں، لیکن اس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ شہزادی کو شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے قانونی کارروائی سے مکمل استثنا حاصل نہیں رہا۔
روایتی طور پر بیان کیے جانے والے واقعات کے مطابق، 15 جولائی 1977ء کو جدہ میں شہزادی مشاعل اور اس کے ساتھی کو سزائے موت دی گئی۔ یہ واقعہ سعودی شاہی خاندان اور ریاستی عدالتی نظام کے حوالے سے ہونے والی بحثوں میں آج بھی بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ البتہ اس معاملے کی تمام تفصیلات کو ایک ہی غیر متنازع تاریخی روایت سمجھ لینا درست نہیں؛ اس لیے اس سے استدلال کرتے ہوئے مستند تاریخی ذرائع اور مختلف بیانات کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس سے کئی دہائیاں بعد پیش آنے والا ایک اور واقعہ زیادہ واضح طور پر اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ آیا سعودی عرب میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والا شخص ہر حال میں قانون سے بالاتر رہتا ہے۔ دسمبر 2012ء میں ریاض کے صحرائی علاقے الثمامہ کے ایک کیمپ میں جھگڑے کے دوران سعودی شہزادے ترکی بن سعود نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں عادل المحیمید نامی شخص جان سے گیا۔ مقتول کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں تھا، جب کہ ملزم ایک شہزادہ تھا۔ یوں معاملہ محض دو افراد کے درمیان تصادم کا نہیں رہا بلکہ اس نے انصاف، سماجی حیثیت اور قانون کے یکساں اطلاق سے متعلق ایک اہم سوال کو جنم دیا۔
اس قتل کے بعد مقتول کے اہلِ خانہ کو دیت کی ادائیگی اور صلح پر آمادہ کرنے کی کوششوں کا ذکر سامنے آیا۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، مقتول کے ورثا نے مالی پیشکشوں اور معافی کی درخواستوں کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور قصاص کا مطالبہ برقرار رکھا۔ بالآخر قانونی کارروائی کے بعد 18 اکتوبر 2016ء کو شہزادے ترکی بن سعود کو قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس واقعے کی خبر العربیہ انگلش نے بھی شائع کی تھی: Saudi prince executed for murder in Riyadh، 18 اکتوبر 2016ء۔
اس مثال کی اہمیت یہ نہیں کہ ایک واقعے سے سعودی عدالتی نظام کو ہر پہلو سے مثالی ثابت کر دیا جائے۔ کسی بھی ملک کے عدالتی نظام کی منصفانہ حیثیت جانچنے کے لیے اس کے قوانین، عدالتی طریقۂ کار، شفافیت، اپیل کے حقوق اور مختلف طبقات کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا الگ الگ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم یہ واقعہ کم از کم اس مطلق دعوے کو ضرور چیلنج کرتا ہے کہ سعودی عرب میں شاہی خاندان کا کوئی فرد قتل جیسے سنگین جرم میں سزا کا سامنا ہی نہیں کر سکتا۔
سعودی عرب میں سزائے موت کے استعمال کی تاریخ بھی اس بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ 2019ء میں ایک ہی دن 37 افراد کو سزائے موت دیے جانے کی خبریں سامنے آئیں، جب کہ 2022ء میں ایک ہی دن 81 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ ان واقعات کو انسانی حقوق، عدالتی شفافیت اور سزائے موت کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ اعداد و شمار ریاست کی سخت گیر تعزیری پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان سے کسی مخصوص مقدمے میں جرم، سزا یا عدالتی طریقۂ کار کی تفصیلات خود بخود ثابت نہیں ہو جاتیں۔
اب اصل سوال کی طرف واپس آئیے۔
اگر کسی ملک کی تاریخ میں شاہی خاندان کے افراد کو بھی سزائے موت دیے جانے کی مثالیں موجود ہوں، اور قتل کے ایک مقدمے میں مقتول کے ورثا کے قصاص کے مطالبے کے نتیجے میں ایک شہزادے کو بھی سزا مل چکی ہو، تو محض ملزم کی قومیت، غربت یا غیر ملکی حیثیت کی بنیاد پر یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا جائے کہ اسے لازماً رعایت دی جائے گی؟
اسی طرح کسی غیر ملکی مجرم کے خلاف سخت کارروائی کی خبر سامنے آنے پر یہ فرض کر لینا بھی درست نہیں کہ اس کارروائی کے پیچھے لازماً طبقاتی امتیاز یا نسلی تعصب کارفرما ہے۔ اس کے لیے متعلقہ مقدمے کے حقائق، قانونی دفعات، عدالتی فیصلے اور قابلِ اعتماد رپورٹیں درکار ہیں۔
مسجد الحرام کی حرمت سے متعلق کسی واقعے میں اگر بنگلہ دیشی شہریوں پر سنگین جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے، تو اس معاملے کو بھی جذباتی نعروں کے بجائے شواہد اور قانونی حقائق کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔
کیا واقعی جرم ثابت ہوا؟
کون سی قانونی دفعہ لاگو ہوئی؟
عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟
سزا کی نوعیت کیا تھی؟
اور کیا اپیل یا دیگر قانونی مراحل مکمل ہوئے؟
ان سوالات کے جواب حاصل کیے بغیر نہ کسی مجرم کو بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ کسی عدالتی فیصلے کو محض قومیت یا طبقاتی حیثیت کی بنیاد پر درست یا غلط ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
انصاف کی بحث میں اصل معیار یہی ہونا چاہیے کہ قانون کا اطلاق شواہد، جرم کی نوعیت اور قانونی ضابطوں کے مطابق ہو، نہ کہ ملزم کے نام، خاندان، دولت یا قومیت کی بنیاد پر۔
اگر کسی ریاست میں طاقت ور شخص کو رعایت دی جاتی ہے تو اس پر تنقید ضروری ہے؛ لیکن اگر تاریخی مثالیں اس کے برعکس بھی موجود ہوں تو انہیں نظر انداز کر کے یک طرفہ تصویر پیش کرنا بھی علمی دیانت کے منافی ہے۔
کسی عدالتی نظام پر تنقید ضرور کیجیے، مگر تنقید کو پروپیگنڈے میں تبدیل نہ کیجیے۔
کیونکہ انصاف کا دفاع اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کی بنیاد جذباتی دعووں کے بجائے قابلِ تصدیق حقائق پر رکھی جائے۔
اور سعودی عدالتی نظام، جس میں لاکھ خامیاں ہو سکتی ہیں، مگر جب حدود، قصاص، اور توہینِ مقدسات کی بات آتی ہے، تو وہ آج بھی دنیا کا سخت ترین، بے رحم، اور غیر جانبدار ترین نظام ہے، اور اسی لیے، اسی خوف کی وجہ سے، وہاں کرائم ریٹ (Crime Rate) دنیا میں سب سے کم ہے۔
اس واقعے پر بنگلہ دیشی حکومت اور وہاں کے سفارت خانے کے اس مبہم، دوغلے، اور منافقانہ رویے پر بات کرنا بھی انتہائی ضروری ہے جس نے اس بحث کو مزید پیچیدہ کیا۔
جب ان مجرموں کو سزائے موت دی گئی تو بنگلہ دیش کے بعض حلقوں، میڈیا، اور سفارت خانے نے یہ تأثر دینے کی کوشش کی کہ ہمیں تو اس بارے میں علم ہی نہیں تھا، ہمیں اچانک پتا چلا، اور ہم کچھ نہیں کر سکے۔
یہ ایک ایسا سفید اور سفارتی جھوٹ ہے جسے کوئی ذی شعور انسان تسلیم نہیں کر سکتا۔
ساڑھے تین سال تک مقدمہ چلتا رہا، 2023 میں گرفتاری ہوئی، ویڈیو پورے سعودی عرب میں وائرل ہوئی، ان کے کفیل اور بن لادن کمپنی کو باقاعدہ نوٹس دیے گئے، سات ماہ قبل حتمی فیصلہ سنا دیا گیا، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سفارت خانے کو خبر نہ ہو؟
حقیقت یہ ہے کہ انہیں سب معلوم تھا، لیکن چونکہ جرم اس قدر شرمناک، غلیظ، ناقابلِ دفاع اور کعبہ کی حرمت سے جڑا ہوا تھا کہ انہوں نے سفارتی سطح پر خاموشی اختیار کرنے ہی میں عافیت سمجھی۔
وہ کس منہ سے، کس قانون کے تحت ایک زانی جوڑے کی معافی کی بھیک مانگتے جس نے اللہ کے گھر میں، دنیا کے سب سے مقدس مقام پر غلاظت پھیلائی تھی؟
اگر وہ معافی مانگتے تو ان کے اپنے ملک کے عوام ان کے خلاف کھڑے ہو جاتے۔
لیکن جب سزا پر عمل درآمد ہو گیا، تو پیچھے بیٹھے ہوئے سیکولر میڈیا، ملحدین، اور بی بی سی (BBC) جیسے اداروں نے اسے ایک مظلومیت کا رنگ دے کر واویلا شروع کر دیا۔
دوسری طرف اس لڑکی (سیتی اختر) کی ساس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، کیونکہ نذر الاسلام کے والد کا وہ انٹرویو سامنے آ گیا جس نے اس ہنی مون اور میاں بیوی والی کہانی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، کہ وہ لڑکی اس کے بیٹے کی بیوی تھی ہی نہیں۔
یہ دراصل وہ جھوٹ کا پلندہ تھا جو محض ایک منظم ایجنڈے، ایک عالمی سکرپٹ، اور اسلام دشمنی کے تحت کھڑا کیا گیا تھا۔
اگر ہم اس پورے واقعے، اس کے بعد ہونے والے پراپیگنڈے، اور لبرل مائنڈ سیٹ کا عمرانی اور الہیاتی خلاصہ نکالیں، تو ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج کی جنگ سرحدوں، زمینوں، یا ملکوں کی نہیں، بلکہ بیانیوں (Narratives) اور حرمتوں کو پامال کرنے کی جنگ ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں اور اپنے معاشروں میں چھ سال کی بچیوں سے ہونے والے زیادتی کے واقعات پر، زینب جیسے سانحات پر تو موم بتیاں جلاتے ہیں، بینرز اٹھاتے ہیں، اور انصاف مانگتے ہیں، لیکن جب ان مجرموں کو چوک میں لٹکانے کی بات آتی ہے، یا اسلامی قوانین کے نفاذ کی بات ہوتی ہے، تو انہیں فوری طور پر انسانی حقوق (Human Rights) یاد آ جاتے ہیں۔
یہ وہی منافق لوگ ہیں جنہیں مکہ میں ہونے والا میوزک کنسرٹ، ریاض سیزن، یا شکیرا کا ڈانس تو بہت برا لگتا ہے، لیکن جب مکہ کی حدود میں، کعبہ کے سائے تلے، مسجد کے اندر زنا ہوتا ہے اور اس پر اللہ کا قانون نافذ ہوتا ہے، تو ان کی انسانیت جاگ اٹھتی ہے اور وہ زانیوں کے حق میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں سزائے موت کے نفاذ کے معاملے میں چین پہلے اور ایران دوسرے نمبر پر ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، صرف حالیہ برسوں میں ایران نے ہزاروں افراد کو پھانسی کے گھاٹ اتارا ہے، جن میں سیاسی قیدی اور مظاہرین بھی شامل ہیں، لیکن ہمارے دیسی لبرل، اور ایران کے حامی اس حقیقت پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔
ان کا مسئلہ سزائے موت نہیں ہے، ان کا مسئلہ انسان دوست رویہ نہیں ہے، بلکہ ان کا اصل مسئلہ اور درد، اسلام اور اسلامی شعائر سے عناد ہے۔
شاید وہ اس خوف کا شکار ہیں کہ اگر قانون اور انصاف کے نفاذ کی بات چلی، اور اگر اسلامی سزائیں بحال ہو گئیں، تو کل کو اس کی زد ان کی اپنی گردنوں تک، ان کے اپنے گناہوں تک، اور ان کے اپنے جرائم تک بھی آ سکتی ہے۔
میں اس واقعے اور اس طویل بحث کے بعد کسی جذباتیت میں پڑے بغیر، ایک محقق، ایک مسلمان، اور ایک طالب علم کے طور پر یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہوں گا کہ سعودی عرب کی حکومت، ان کی وزارت داخلہ، اور ان کی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ نہ صرف اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے، بلکہ یہ انسانی معاشرے کی بقاء، کعبہ کی حرمت کے دفاع، اور کائناتی عدل کا وہ حتمی تقاضا تھا جسے پورا کیا جانا ناگزیر تھا۔
جس شخص کا ایمان اللہ اور یومِ آخرت پر ہو، وہ اس فیصلے سے اختلاف کر ہی نہیں سکتا۔
ہم، جو یہاں سوشل میڈیا پر بیٹھ کر جھوٹی کہانیوں، بوسوں کی داستانوں، اور جعلی سکرین شاٹس کی بنیاد پر ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں، ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ہم کس تیزی سے، بغیر تحقیق کیے، بغیر شرعی تقاضے پورے کیے، جھوٹ پھیلانے والوں کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔
قرآن ہمیں سورۃ الحجرات میں سکھاتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾
(اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا.