استاذالعلماء شیخ الحدیث علامہ محمد افتخار احمد قادری نوَّراللّٰہ مرقدہٗ
جامع المنقول و المعقول استاذالعلماء شیخ الحدیث علامہ محمد افتخار احمد قادری نوَّراللّٰہ مرقدہٗ🥀❣️
“ولادت”:-
1954ء کو کاٹلنگ ضلع مردان میں آپ کی ولادت ہوئی
“حصولِ علم”:-
کاٹلنگ کی مسجد مامونی میں علامہ عبدالجلیل خان سرحدی رحمہ اللّٰہ(خلیفہ پیر آف مانکی شریف) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی بعدازاں 1969ء/1970ء کو اُمّ المدارس دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخل ہوگئے اور شدید محنت و لگن اور انہماک کے ساتھ حصولِ علم میں مشغول رہے حتی کہ 1980ء کو دورۂ حدیث شریف پڑھ کر علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی اور سندِ فراغت و دستار فضیلت سے نوازے گئے.
”اساتذہ کرام”:-
•مفتئ اعظم پاکستان مفتی وقار الدین قادری
•شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفی ازہری
•علامہ پروفیسر منتخب الحق قادری
•مفتی جسٹس سید شجاعت علی قادری
•شیخ الحدیث علامہ نصر اللّٰه خان افغانی
•علامہ قاری مصلح الدین صدیقی
•استاذالعلماء مفتئ اہل سنت مفتی رفیق الحسنی
(نور اللّٰه مرقدہم)…
•شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد اسماعیل ضیائی(دامت برکاتہم العالیہ)…
“تدریسی خدمات”:-
فراغت کے بعد 1981ء سے اپنے مادرِعلمی دارالعلوم امجدیہ کراچی میں ہی مدرس مقرر ہوئے، علوم عالیہ و اٰلیہ کی کتب محنت و لگن سے پڑھائیں اور تدریس میں اپنا لوہا منوایا حتی کہ 1995ء میں مفتی محمد ظفر علی نعمانی صاحب رحمہ اللّٰہ نے آپ کو دارالعلوم امجدیہ کا شیخ الحدیث مقرر فرما دیا،
“دارالعلوم امجدیہ کراچی سے وابستگی”:-
1969/70ء تا 1999ء تقریباً30سال تک دارالعلوم امجدیہ کراچی سے وابستہ رہے اس دوران کچھ عرصہ بطورِ طالب علم حصولِ علم میں مشغول رہے بعد ازاں 1981ء سے تاوقتِ وصال تقریباً19برس سے زائد کا عرصہ بحیثیتِ صدرِ مدرس و شیخ الحدیث منقولات و معقولات کی ہر بڑی کتاب جامع انداز میں نہایت ہی آسانی کے ساتھ پڑھاتے رہے…
“امامت و خطابت”:-
1979ء کو اپنے استاذ گرامی مفتی وقارالدین قادری رحمہ اللّٰہ کے حکم پر جامع مسجد مدینہ پرانی سبزی منڈی میں امامت و خطابت شروع کی اور تاحیات اسی مسجد میں خدمات سرانجام دیتے رہے علاقہ چونکہ پشتون آبادی پر مشتمل تھا تو آپ پشتو زبان میں بھی تقریر فرمایا کرتے تھے اور اصلاحِ عقائد و نظریات کے حوالے سے خصوصی کام کرتے روزانہ بعد نماز عشاء اور بعد نماز فجر دروسِ قران اور دروسِ حدیث کا سلسلہ بھی جاری رکھا…
“سیرت و خصائص”:-
مولانا افتخار احمد قادری رحمہ اللّٰہ علوم و فنون کے ماہر، میدانِ تدریس کے محنتی و قابل شہسوار، عظیم عاشقِ صادق، انتہائی ذکی و قابل و مخلص، حسنِ اخلاق کا مجسمہ، مہمان نواز اور سادہ طبیعت و منکسر المزاج تھے…
قدرت نے قوت حافظہ جیسی بے بہا نعمت سے سرفراز فرمایا تھا رات کو دیر تک اور فارغ اوقات میں بھی کتب کا مطالعہ جاری رہتا بلکہ شوقِ مطالعہ و کتب بینی کا عالم یہ کہ:
“جب جامعہ کی لائٹ اپنے مقررہ وقت پر بند کر دی جاتیں تو باہر سڑک پر سرکاری لائٹ کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر مطالعہ فرماتے تھے”❣️…
قرآن شریف کی روزانہ تلاوت آپ کا معمول تھا اور رمضان المبارک میں بھی کثرت سے تلاوت قرآن پاک کرتے اور پوری بخاری شریف کا ایک ایک ختم کرتے تھے…
(اللّٰہ کریم اپنے پیارے محبوب علیہ اکرم الصلاۃ والسلام کے صدقہ و طفیل ہمیں بھی ان جیسا شوقِ و ذوقِ مطالعہ عطا فرمائے🤲)
“بیعت و خلافت”:-
قطبِ مدینہ علامہ ضیاء الدین مدنی رحمہ اللّٰہ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے،
حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری اور شیخ الحدیث مکہ معظمہ حضرت شیخ ڈاکٹر محمد علوی المالکی رحمھما اللّٰه سے خلافت حاصل تھی…
انکے علاوہ سوات کے علاقہ کاناغوربند کے مشھور بزرگ صاحبِ کشف و کرامات حضرت ابواللیث رحمہ اللّٰه مشہوربہ لیونو پیر صاحب سے بھی خلافت حاصل تھی اور ان باباجی نے خلافت کیساتھ ساتھ اپنی ٹوپی اور تسبیح بھی عطا فرمائی تھی(بروایت حضرت علامہ عبدالستار نقشبندی مردانی صاحب حفظہ اللّٰه)
“تلامذہ”:-
تقریباً19 برس کا عرصہ آپ نے مسندِ تدریس پر فائز ہو کر بہترین انداز میں دین متین کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا اس دوران آپ سے سینکڑوں متلاشیانِ علم نے اپنی علمی پیاس بجھائی چند مشہور ارشد تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں:
•مفکرِ اہلسنت علامہ محمد رضوان احمد نقشبندی
•مفتئ اہلسنت یادگارِ اسلاف مفتی محمد الیاس رضوی
•استاذالعلماء علامہ محمد یونس شاکر اخترالقادری
•استاذ العلماء علامہ محمد ندیم احمد خان قادری
•استاذالعلماء علامہ رفیق احمد عباسی
•جامع المنقول و المعقول استاذالعلماء علامہ محمد اسحٰق خان رضوی(Mauritius)
•صیغمِ اسلام علامہ سید مظفر حسین شاہ قادری
وغیرھم…
(استاذالعلماء حضرت مولانا مختار احمد قادری نوَّراللّٰہ مرقدہٗ آپکے برادرِ اکبر ہیں جو 1975ء میں دارالعلوم امجدیہ کراچی سے ہی فارغ التحصیل ہوئے بعدازاں تقریباً تیس سال سے زائد کا عرصہ دارالعلوم امجدیہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور 2006ء کو نشترک پارک میں عین حالتِ نماز جامِ شہادت نوش کیا)….
“زیارت حرمین شریفین و قابلِ رشک موت”:-
حضرت مولانا افتخار صاحب قادری رحمہ اللّٰہ کو زیارتِ حریمین شریفین کا بے حد اشتیاق تھا زندگی بھر دعائیں کرتے رہے آخر کار 1999ء کے سال قسمت نے ساتھ جاگ اُٹھی اور پہلی بار حج بیت اللّٰه کے لیے عازمِ سفر ہوئے(اِس سفر میں آپ کے لائق فائق شاگرد استاذ العلماء علامہ محمد اسحاق خان رضوی حفظہ اللّٰه آپ کے ساتھ رفیق کے سفر تھے) سفر پر نکلنے سے پہلے ہی طبیعت خراب تھی مگر مکہ معظمہ پہنچ کر طبیعت ایسے صحیح ہو گئی گویا کہ کبھی بیمار ہی نہ ہوئے ہوں بہرحال احسن انداز میں ارکان حج ادا کیے جب حج بیت اللّٰه سے فارغ ہو گئے تو مدینہ منورہ حاضری کا شرف پایا یہاں آکر طبیعت مکمل طور پر بہتر ہو گئی، مدینہ میں دوران قیام ایک دن مولانا اسحاق صاحب سے فرمایا کہ:
“میرا دل بہت خوش ہے اور مطمئن ہے”
تو مولانا اسحاق صاحب کے اصرار پر آپ نے فرمایا کہ:
“رات کو خواب میں نبی پاک(علیہ افضل التحیۃ والتسلیم) کی زیارت مع خلفائے راشدین(علیھم الرضوان) کے نصیب ہوئی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ: “تم کو لوگ بہت تنگ کرتے ہیں ہمارے پاس آ جاؤ” اس کے چند روز ہی بعد 22ذی الحجہ1419ھ بمطابق 10اپریل1999ء کو بعمر45 سال عین گنبدِ خضرا کے سامنے داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے جان کا نظرانہ پیش کیا…
دوسرے روز 11اپریل بروز اتوار بعد نماز فجر جنت المکی میں سپرد خاک ہوئے…
……زہے قسمت……
اللّٰہ کریم آپکے درجات بلند فرمائے اور تمام خدمات عالیہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ہمیں بھی آپکا علمی و روحانی فیضان عطا فرمائے🤲
بحوالہ:(انوارِ علماء اہلسنت سندھ از صاحبزادہ سید زین العابدین شاہ راشدی، روشن دریچے از مفتی جمیل احمد نعیمی رحمہ اللّٰه)
✍️محمد بہادر ہزاروی
