وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ (181)

ترجمۂ کنز الایمان

اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ:اور ہماری مخلوق میں سے ایک گروہ۔} یہ گروہ اہلِ حق علماء اور ہادیانِ دین کا ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۸۱، ص۳۹۷)

کوئی زمانہ اہلِ حق سے خالی نہ ہوگا:

اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ کے اہلِ حق کا اِجماع حجت ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی زمانہ حق پرستوں اور دین کے ہادیوں سے خالی نہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے، حضرت ثوبان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے  روایت   ہے  ،  تاجدارِ رسالت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے  ارشاد فرمایا ’’ میری اُمت کا ایک گروہ تاقیامت دینِ حق پر قائم رہے گا اس کو کسی کی عداوت و مخالفت ضَرر نہ پہنچا سکے گی۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزال طائفۃ من امتی۔۔۔ الخ، ص ۱۰۶۱، الحدیث: ۱۷۰(۱۹۲۰))