وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ(193)

ترجمۂ کنز الایمان

اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى:اور اگر تم انہیں رہنمائی کرنے کے لئے بلاؤ۔} یعنی اے مشرکو! اگر تم ان بتوں کو اس لئے بلاؤ کہ وہ تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی کر دیں جس سے تم اپنے مقاصد کو حاصل کر لو تو یہ تمہاری مراد کی طرف نہیں آئیں گے اور اے مشرکو! تم ان بتوں کو پکارو یا خاموش رہو تمہارے لئے دونوں صورتیں برابر ہیں کیونکہ نہ تو انہیں پکارنے کی صورت میں تمہیں کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور نہ ہی خاموش رہنے کی صورت کچھ فائدہ ملے گا۔ (روح البیان، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۹۳، ۳ / ۲۹۵)