تفسیر کبیر کی تکمیل کس نے کی؟ تحقیق رضوی
تفسیر کبیر کی تکمیل کس نے کی؟ تحقیق رضوی
امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق تفسیر مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) کی تکمیل کے متعلق اہلِ علم کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ اسے امام رازی کے ایک فاضل شاگرد نے مکمل کیا ہے۔ تاہم امام اہل سنت نے اس نسبت پر تأمل کا اظہار فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:
امام اہل سنت فرماتے ہیں: مفاتیح الغیب للامام الفخر محمد الرازی تکملتها لتلمیذہ الفاضل علی ما فی النسیم والکشف ولی فیه تامل. (رضوية ٣٠/٢٦١)
مفہوم: مفاتیح الغیب امام فخر الدین محمد رازی کی تصنیف ہے، البتہ اس کی تکمیل ان کے ایک فاضل شاگرد نے کی ہے، جیسا کہ النسیم اور کشف الظنون میں مذکور ہے، لیکن مجھے اس بات میں تأمل ہے۔
امام اہل سنت کے قول ’’وَلِي فِيهِ تَأَمُّلٌ‘‘ کی وضاحت:
اس قول کی مزید وضاحت آپ کے حواشی بر کشف الظنون (مخطوط، صفحہ: 6) میں درج ذیل الفاظ میں موجود ہے:
قوله [ اى حاجى خليفة] وصل فيه الى سورة الانبياء.
اقول: من طالع مفاتيح الغيب ظهر له بطلان هذا القول فإنه كثيرا ما يحيل فى النصف الأول بيان بعض المباحث على النصف الثانى حتى على سورة الجن، و كثيرا ما يحيل فى النصف الثانى على انا بيناه فى النصف الأول، و احال فى النصف الثانى على كتابه لباب اشارات و هو للامام الرازى. فقد نسب كلا ما وقع فى اواخر النصف الثانى الى الفخر الرازى الشهاب نفسه فى عناية القاضى و كذلك غيره. والتواريخ المذكورة فى خواتيم تفاسير السور كلها قبل وفات الإمام بسنين. والله تعالى اعلم
مفہوم: حاجی خلیفہ کا قول ہے کہ امام رازی تفسیر کبیر میں سورۂ انبیاء تک پہنچے تھے۔
میں کہتا ہوں: جو شخص مفاتیح الغیب کا مطالعہ کرے گا، اس پر اس قول کا باطل ہونا واضح ہوجائے گا؛ کیوں کہ امام رازی پہلے نصف میں متعدد مقامات پر بعض مباحث کی وضاحت دوسرے نصف پر، بلکہ سورۂ جن تک، حوالہ دیتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے نصف میں بھی کئی مرتبہ یہ حوالہ دیتے ہیں کہ ہم اس کی وضاحت پہلے نصف میں کر چکے ہیں۔
نیز دوسرے نصف میں اپنی کتاب لباب الاشارات کی طرف بھی حوالہ دیتے ہیں، جو امام رازی ہی کی تصنیف ہے۔
مزید یہ کہ دوسرے نصف کے آخری حصے میں موجود تمام مباحث کو عنایۃ القاضی میں خود علامہ شہاب اور دیگر اہل علم نے امام فخر الدین رازی کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز سورتوں کی تفاسیر کے اختتام پر درج تاریخیں بھی امام رازی کی وفات سے کئی سال پہلے کی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
ترتیب و پیشکش: ابو الحسن محمد شعیب خان
6 نومبر 2026