___________سعودی میں راماین !!

 

غلام مصطفیٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

 

ان دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی شاہراہوں پر ہندو میتھالوجی پر مبنی فلم راماین کے بڑے بڑے پوسٹر آویزاں ہیں۔جیسے ہی یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے سعودی عرب کے مذہبی کردار پر بحث و مباحثہ کا دور شروع ہوگیا۔ایک طرف جہاں عام مسلمان اس عمل پر نہایت افسوس اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں اے آئی کی آڑ لیکر ہند و پاک کے سلفی حضرات سعودی عرب کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔

 

______افواہ یا حقیقت؟

 

سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی فوٹو یا ویڈیو پر ایک دم بھروسہ کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔اے آئی تکنیک کی مدد سے فرضی فوٹو/ویڈیو بنانا نہایت آسان ہوگیا ہے۔اس لیے سلفی حضرات کا اے آئی کی بات کہنا ایک حد تک سمجھ میں آتا ہے لیکن جس طرح سوشل میڈیا پر افواہ پھیلانا آسان ہے اسی طرح افواہ کی حقیقت جاننا بھی سوشل میڈیا نے کافی آسان بنا دیا ہے۔اس حوالے سے جب ہم نے تحقیق کی یہ بات سامنے آئی کہ ریاض کی شاہراہوں پر آویزاں پوسٹر بھی اصلی ہیں اور فلم ریلیز کی بات بھی پوری طرح صحیح ہے۔پانچ نومبر کو بھارت کے ساتھ ساتھ راماین سعودی عرب میں بھی ریلیز ہو چکی ہے۔

اس فلم کو سعودی عرب میں ووکس سنیماز(Vox sinema’s) نے ریلیز کیا ہے۔باضابطہ ان کی ویب سائٹ ksa.voxsinemas.com پر راماین فلم کی بکنگ کھلی ہوئی ہے۔ناظرین اپنی سہولت کے مطابق سنیما ہال کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق یہ فلم ریاض کے القصر مول (AL Qasar Mall) اتیاف مول (Atyaf Mall) اور سنچری کورنر (century corner) میں دکھائی جا رہی ہے۔ریاض کے علاوہ اس فلم کو جدہ، جُبیل، دمام اور تبوک جیسے شہروں کے سنیما گھروں میں بھی ریلیز کیا گیا ہے۔فلم بینوں کے لیے آنلائن بکنگ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔

ووکس سنیما گروپ دبئی کے رہائشی ماجد الفطیم کی ملکیت ہے۔اس گروپ نے سال 1999 سے ووکس سنیما کے نام سے ذیلی گروپ بنا کر کاروبار شروع کیا۔اسی کمپنی نے اپریل 2018 سے سعودی عرب میں فلموں کی نمائش شروع کی۔اس وقت سترہ مقامات پر 149 اسکرینوں پر فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔راماین فلم بھی اسی سنیما گروپ کی جانب سے نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔خاص بات یہ ہے کہ فلم عربی سب ٹائٹل کے ساتھ دکھائی جا رہی ہے۔جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ مذکورہ فلم عرب ناظرین کے لیے پیش کی گئی ہے۔اگر فلم صرف ہندوستانی شائقین کے لیے ہی ریلیز ہوتی تو اس فلم پر عربی سب ٹائٹل کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔کس قدر ذلت کی بات ہے کہ اب نام نہاد توحیدی شرکیہ نعروں کی ترجمہ نگاری تک اتر آئے ہیں۔

 

________صفائی کس لیے؟

 

جیسے ہی سعودی عرب میں راماین فلم کے پوسٹر وائرل ہوئے، تو ہندو پاک کے سلفی برادران سعودی حکومت کے وکیل صفائی کے طور پر میدان عمل میں اتر آئے۔حیرت اس بات پر ہے آخر سلفی حضرات صفائیاں کس لیے اور کیوں دے رہے ہیں؟

 

ایسا تو ہے نہیں کہ سعودی میں پہلی بار کوئی فلم ریلیز ہوئی ہے۔اپریل 2018 سے ہی سعودی عرب میں عوامی پیمانے پر فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔اس سے پہلے بھی سعودی میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے محدود پیمانے ہر سنیما گھر جاری تھے۔2018 سے عرب عوام کے لیے بھی سنمیا گھر کھول دئے گیے۔غیرت ایمانی پر سب سے گھنونا حملہ تو اس وقت ہوا جب نبی کونین ﷺ کے شہر پاک مدینہ منورہ تک میں سنیما گھر جیسی غلاظت ڈال کر شہر نبی کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ایسی بدترین جسارت پر بھی جب خاموشی کی چادر اوڑھ لی گئی تو آج راماین کے پوسٹر پر اتنی صفائیاں بھلا کس لیے؟

 

راماین چونکہ ہندوؤں کے بھگوان کی زندگی پر مشتمل فلم ہے۔سرزمین توحید پر شرکیہ پیغام پر مبنی فلم کی نمائش اعتراضات اور شرمندگی کا سبب بن سکتی ہے، شاید اس لیے سلفی حضرات ضرورت سے زیادہ حرارت وکالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

سلفی صاحبان کو اتنا تو معلوم ہی ہوگا کہ انڈین سنیما بنیادی طور پر ہندو مذہب و معاشرت ہی پر مبنی ہے۔یہاں کی کہانیاں ہندو عقائد و نظریات اور انہیں کے کلچر کو پیش کرتی ہیں۔بت پرستی کے مناظر، شرکیہ کلمات اور کفریہ رسومات ہندی فلموں کے لوازمات ہیں۔اس کے باوجود ان کا دیگر انڈین فلموں پر خاموش رہنا اور راماین کی نمائش کو افواہ اور سعودی حکومت سے حسد قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے دھول سے بچنا اور کیچڑ میں کھیلنا۔

چند پیسوں کی خاطر سرزمین توحید و رسالت پر کفریہ فلمیں نشر ہو رہی ہیں۔جس زمین سے حیا اور اخلاق کا پیغام دیا گیا، اسی دیار میں حیا باختگی کے شوز منعقد کیے جا رہے ہیں۔جس دیار میں شراب کو رجس اور عمل شیطان قرار دیا گیا، آج اسی جگہ شراب خانوں کے لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔

 

یاد رکھیں !!

 

دین کسی حکومت کا نام نہیں کہ اس کے ہر غلط کو صحیح ٹھہرانے یا بچنے کی کوشش کی جائے۔ویژن 2030 کے نام پر جس طرح سعودی عرب میں سنیما گھر، جوا خانے، اور شراب خانوں کو رواج دیا گیا ہے وہ کسی طور پر بھی نظر انداز کیے جانے لائق نہیں ہے۔مانا کہ سلفیت کو سعودیت سے غایت درجہ عقیدت ہے لیکن ایسی عقیدت بھی بھلا کس کام کی جو انسان سے اسلامی غیرت تک چھین لے۔

 

26 جمادی الاولی 1448ھ

7 نومبر 2026 بروز ہفتہ