امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انمول عمل

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انمو ل نصیحتیں

جن پر داعئی دین اگر عمل کرے تو دارین میں سرخروئی حاصل ہو سکتی ہے ۔

(۱) تم بادشاہ سے ایسا عمل رکھو جیسے آگ سے رکھتے ہو ، کہ اس سے دور رہتے ہوئے فائدہ اٹھائو ، بہت قریب نہ جائو ۔

(۲) عوام کے سامنے صرف اسی بارے میں بات کرو جس کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے ، ان کے سامنے نہ ہنسو ، نہ مسکرائو ۔

(۳) بازاروں میں ذیادہ نہ جائو ۔اور دوسروں کی دکانوں میں نہ بیٹھو، اور نہ راستوں میں ٹہرو ۔

(۴) گھر کے علاوہ کسی جگہ بیٹھنا چاہو تو مسجد میں جا بیٹھو ۔

(۵) سسرال میں بیوی کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرنا ، اور دو بیو یوں کو ایک گھر میں جمع نہ کرنا ۔

(۶) حق گوئی میں کسی کا پروا نہ کرنا خواہ بادشاہ وقت کیو ں نہ ہو ۔

(۷) خود کو عوام اور اپنے گردو پیش والوں سے ذیادہ عبادت گذا ر بنائو۔

(۸) اہل علم کے شہر میں جائو تو عامی بن کر جائو تاکہ وہاں کے اہل علم تم کو اپنا حق مارنے والا نہ سمجھ لیں ۔اور نہ ان کی موجودگی میں مسئلہ بتائو نہ ان کے اساتذہ پر طعن کرو ۔

(۹) ذیادہ ہنسنے اور عورتوں کے ساتھ ذیادہ باتیں کر نے سے دل مردہ ہو تا ہے ۔

(۱۰) راستہ چلنے میں وقار و طمانینت اختیار کرو۔کا موں میں جلدی نہ کرو ، اور جو شخص تمہیں پیچھے سے پکارے اس پر توجہ نہ دو ۔

(۱۱) گفتگو میں ذیادہ چینخ پکار نہ کرو۔ لوگوں کے درمیان اللہ عز و جل کا ذکر کرو تاکہ لوگ سیکھیں ۔

(۱۲) نمازوں کے بعد اپنے لئے کچھ ورد مقرر کر لو ۔ ہر ماہ چند دن روزے کے لئے خاص کرلو ۔ اور اپنے نفس کی نگرانی کرو ۔

(۱۳) جب تمہیں کسی کی برائی کا علم ہو تو اس کا تذ کرہ نہ کرو ۔اس کی کوئی اچھائی تلاش کرو اور اسی سے اس کا ذکر کرو ۔

(۱۴) قرآن مقدس کی تلاوت ، قبور ِ مشائخ ،اور مبارک مقامات کی زیارت کثرت سے کرو ۔

(۱۵) بخل سے گریز کرنا ۔کیونکہ بخل انسان کو رسوا کرتا ہے اور نہ لالچی اور جھوٹا بننا ،بلکہ اپنی مروت ہر معاملے میں محفوظ رکھنا ۔

(۱۶) بڑوں کے ہوتے ہوئے اس وقت تک نشست میں بر تری اختیار نہ کرو جب تک وہ تمہیں خود پیش کش نہ کریں ۔

مذکورہ نصیحتیں ان سو نصیحتوں میں سے ہیں جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمائی تھیں ۔

احناف وغیر مقلدین کا تقابلی مطالعہ

محترم قارئین وبرادران اسلام! برصغیر پاک و ہند میں تقریبا بارہ صدیوں سے اسلام آیا۔ یہاں اسلام لانے والے‘ اسلام پھیلانے والے اور اسلام قبول کرنے والے سب کے سب اہل السنتہ والجماعتہ حنفی المسلک تھے یہاں تمام محدثین و مفسرین‘ فقہاء و اولیاء کرام و سلاطین عظام حنفی المسلک تھے۔ الحمدﷲ علی ذالک

لیکن جب سے انگریز کے شاطروغاصب قدم یہاں آئے تو وہ یورپ سے ذہنی آوارگی‘ مادر پدر آزادی اور دینی بے راہ روی کی سوغات ساتھ لائے اور مذہبی آزادی اور مذہبی تحقیق کے خوشنما اور دلفریب عنوانوں سے اس ملک میں ایک خود سرفرقے کو جنم دیا۔

اس فرقے کا پہلا قدم سلف صالحین سے بدگمانی اور اس کی انتہا سلف کے خلاف بدزبانی ہے یعنی اس فرقے کا ہر شخص اعجاب کل ذی رای برایہ پر نازاں و فرحاں ہونے کے ساتھ ساتھلعن آخر ہذہ الامتہ اولھا کا مصداق ہے۔ اس فرقے کا ہر فرد اپنے آپ کو آئمہ اربعہ بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اعلیٰ و برتر سمجھتا ہے۔

محترم قارئین!
میں اس کے مکمل حقائق پر نہیں بلکہ جملہ حقائق میں ایک حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہمارا موضوع بحث ہے اور وہ اس فرقہ زائفہ کی تاریخ پیدائش ہے۔ جس کے جاننے کے بعد آپ پر جھوٹے لبادے اہلحدیث کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔

محترم قارئین!
اس ایک فرق کو ضرور سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ یہ فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے ۱۴ سو سال بعد پیدا ہوا ہے جو فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے اتنا بعد میں پیدا ہوا ہو وہ کیونکر علم و عمل اخلاص وللہیت اجتہاد و استنباط میں خیر القرون میں پائے جانے والے خواص تو کجا عوام کے مقابلے میں افضل ہوسکتا ہے چنانچہ

ان کی کہانی خود انہی کی زبانی

اس محاورے کے استشاد اور مطابقت کے لئے ملاحظہ ہو۔ مولانا عبدالخالق اور نذیر حسین دہلوی صاحبان فرماتے ہیں
سو بانی مبانی اس فرقہ نواحداث کا عبدالحق ہے جو چند دنوں سے بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیرالمومنین (سید احمدشہید) نے ایسی حرکات نائشہ کے باعث اسے اپنی جماعت سے نکال دیا اور علمائے حرمین معظمین نے اس کے قتل کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح وہ بھاگ کر وہاں سے بچ نکلا

(نتائج التقلید ص ۳ الحیات بعد الممات ص ۲۲۸)

حوالہ ثانی
ام المومنین کا گستاخ مولوی عبدالحق بنارسی نے برملا کہا عائشہ علی سے لڑی اگر توبہ نہ کی تو مرتد مری اور یہ بھی دوسری مجلس میں کہا کہ صحابہ کا علم ہم سے کم تھا ان میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں اور ہم کو ان سب کی حدیثیں یاد ہیں۔ (کشف الحجاب ص ۴۲)

حوالہ ثالث
غیر مقلدین کے عالم و مجتہد مسلم نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں اس زمانے میں ایک ریاکار اور شہرت پسند فرتے نے جنم لیا ہے جو ہر قسم کی خامیوں اور نقائص کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں حالانکہ علم اورعرفان سے اس فرقے کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ لوگ علوم آلیہ و عالیہ دونوں سے جاہل ہیں ۔(الحطہ ص ۱۵۳)

محترم قارئین!
اس قسم کے بیسیوں واقعات ان کی کتب سے نقل کئے جاسکتے ہیں مگر ھکذالقدر کفیٰ باالمرء عظۃکے طور پر کافی ہیں۔
مندرجہ بالااقتباسات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف یا ابہام نہیں ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ یہ عبارات اپنے معانی میں خود اظہر من الشمس ہیں۔ بالخصوص نواب صاحب نے تو انتہا کردی۔ خصوصی طور پر نواب صاحب کے یہ الفاظ قابل غور ہیں

(ہر قسم کی خامیوں کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں)

محترم قارئین!
آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس فرقے کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ پھر غیر مقلدین کہتے ہیں کہ غیر مقلد نام تم نے ہمارا رکھا ہے۔ ورنہ ہم اہلحدیث ہیں اور یہ اصطلاح حدیث کی تدوین کے وقت سے چلی آرہی ہے لہذا ہم محدثین کے مسلک پر ہیں۔ تم ہمیں کیسے کہتے ہو کہ ہم بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔

محترم قارئین!
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر یہ بیان کیا جائے کہ اہل حدیث کی اصطلاح کتب متقدمین و متاخرین میں جو استعمال ہوئی ہے اس کا مصداق کون ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جو حضرات حدیث کی خدمت میں روایتہ و درایتہ معروف ہوئے ہوں ایسے صاحبان علم و عمل کے لئے علماء امت اصحاب الحدیث اہل الحدیث اہل الاثر محدثین کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت ان اصطلاحات کے الفاظ میں تو اختلاف ہے معنی میں اتحاد ہے بالفاظ دیگر یہ سب باہم مترادف المعنی ہیں۔

اس دعوے کی دلیل کے لئے بجائے اصول حدیث کی کتب کے حوالے نقل کئے جائیں‘ قطع مسافت کے طور پر ایک غیر مقلد عالم مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب تاریخ اہل حدیث سے حوالہ نقل کردیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

(بعض جگہ تو ان کا ذکر لفظ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے مرجع ہر لقب یہی ہے) (تاریخ اہل حدیث ص ۱۲۸)

محترم قارئین!
سیالکوٹی صاحب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات ان کے نزدیک بھی متراف المعنی ہیں۔ بزعم خویش اہل حدیث یعنی غیر مقلدین اور انفاس قدسیہ اہل حدیث میں بچند وجوہ فرق ہے۔

جماعت یا فرقہ اسے کہتے ہیں جو اصول و فروع میں ایک نظریہ پر متفق ہیں جیسے متقدمین و متاخرین علماء کی کتب میں متعدد فرق کا ذکر ہے مثلا مرجئہ قدریہ جبریہ معتزلہ خوارج روافض وغیرہ ان فرقوں کا بطور فرقہ ذکر ہیٍ مثلا مرجئہ بالکل اعمال کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کرتے‘ دخول جنت کے لئے نفس ایمان کو کافی سمجھتے ہیں تو اس کی ایک خاص نظریہ رکھنے والے گروہ کو مرجئہ سے موسوم کیا گیا۔ جبکہ قابل غور بات یہ ہے کہ اہل حدیث اگر کوئی فرقہ ہوتا اگرچہ حقانی ہوتا تو اس طریق پر ان کا ذکر ضرور ہوتا یعنی یہ کہا جاتا کہ یہ خوارج کا مسلک ہے اور اس کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے جبکہ ایسا نہیں تو اس طرح ذکر نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اہل حدیث کہتے ہی ایسے اشخاص و افراد کو ہیں جو خدمت حدیث میں روایتہ و درایتہ معروف ہو‘ قطع نظراس سے کہ اس کا اپنا فقہی مسلک کیا ہے۔

چنانچہ جب ہم محدثین کا تذکرہ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ احناف شوافع مالکیہ حنابلہ سب ہی اہل حدیث گزرے ہیں چنانچہ ذیل میں ایسے چند افراد کا ذکر مشتے نمونہ از حروارے کے طور پر کئے دیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

اہل الحدیث احناف

(۱) امام اعظم‘ عبدالکریم شہرستانی نے چند افراد کے نام گنوائے ان میں سے ایک امام اعظم بھی ہیں اور آخر میں فرمایا “وھوء لاء کلہم آئمتہ الحدیث”

اور اسی طرح علامہ ذہبی نے امام صاحب کو ان القابات سے یاد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

الامام الاعظم فقیہ العراق متورع عالم عامل متقی اور کبیر الشان ان القابات کے ذریعہ تذکرہ کرتے ہوئے آپ کو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ (تذکرہ الحفاظ ج ۱ ص ۱۵۸)

محترم قارئین!
آپ کی جلالت پر سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہمارا اس وقت ان فضائل و اشعیاب مقصود نہیں ہے۔
(۲) زمربن ہزیل (۳) امام ابو یوسف (۴) قاسم بن معن (۵) علی بن مسر (۶) امام طماوی (۷) عافیہ بن یزید (۸) عبداﷲ بن مبارک ۔

عبداﷲ بن مبارک فرماتے ہیں۔
تعلمت الفقہ الذی عندی من ابی حنیفہ (بغدادی ج ۱۳ ص۳۸۸)

(۹) یحیی بن سعید القطان (۱۰) یحیی بن معین

یحیی بن معین فرماتے ہیں۔

القرأہ عندی قرأہ حزہ والفقہ فقہ ابی حنیفہ علی ھذا ادرکت الناس (بغدادی ج ۱۳ ص ۳۴۷)
کہ میرے نزدیک قراۃ حمزہ کوفی کی اور فقہ حضرت امام اعظم کا راحج ہے۔

تلک عشرہ کاملتہ

اہل الحدیث شوافع

(۱) صاحب مذہب امام ادریس شافعی رحمتہ اﷲ علیہ (۲) امام ترمذی رحمتہ اﷲ علیہ (۳) امام مسلم رحمتہ اﷲ علیہ (۴) امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ (۵) ابو خضر رحمتہ اﷲ علیہ (۶) ابن حبان رحمتہ اﷲ علیہ (۷) ابو السید رحمتہ اﷲ علیہ  (۸) ابن ماجہ رحمتہ اﷲ علیہ

اہل الحدیث مالکیہ

(۱) امام ابو نطیب (۲) قاضی ابو طاہر زملی (۳) امام ابن الباجی (۴) امام اسماعیل القاضی

اہل الحدیث حنابلہ

(۱) امام المقدسی (۲) الاشرم (۳) ابن الجوزی (۴) ابن شیخ عبدالقادر جیلانی یعنی ابوبکر عبدالرزاق

محترم قارئین!
یہ چند اسماء بطور نمونہ ذکرکئے ہیں اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ مسالک اربعہ کے محدثین ہیں۔ ان سب کے محدثین اور اہل الحدیث ہونے پر اتفاق ہے مگر آپ غور تو فرمائیں۔ ان میں حنفی شافعی مالکی حنبلی کیوں ہیں جبکہ ہمارے زمانے کے نام نہاد اہل الحدیث تو نہ حنفی ہیں نہ شافعی ‘ مالکی حنبلی ہیں۔ اس فرق کو آپ ایک مثال سے سمجھیں۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ زید کا مسلک کیا ہے؟ تو جواب دینے والا اگر یہ کہے کہ وہ تو اہل الحدیث ہے تو آپ انصاف سے بتائیں کہ آپ کے ذہن میں کیا آئے گا۔ لامحالہ طور پر ایک فرقے کا تصور جسے ہمارے دیار میں وہابی کا لقب ملا۔ اب بزعم خویش وہ اہل الحدیث کہلاتے ہیں۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ اس فرقہ نوپید کا نام شروع میں محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے وہابی کہا جانے لگا۔ بعد میں ان کے فطری حلیف انگریز سرکار نے اہل حدیث سے مسمیٰ کیا۔ چنانچہ مولانا حسین بٹالوی صاحب رقم طراز ہیں

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ!  میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا خواست گار ہوں۔  ۱۸۸۶ء میں میں نے اپنے ماہواری رسالہ اشاعتہ السنہ شائع کیا تھا جس میں اس کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی اور نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا اس لفظ کا استعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلائے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال اور خیرخواہ رہے ہیں اور یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے۔ ہم کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیںکہ وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہاب یکو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاویٍ اس درخواست پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں۔

(اشاعتہ السنہ ص ۲۴ جلد ۱۱ شمارہ ۲)

محترم قارئین!
بٹالوی صاحب کی اس واضح المعنیٰ عبارت پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہیٍ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس اصطلاح الحدیث کی الاٹمنٹ ان کے دیرینہ یار انگریز نے بطور ہدیہ عنایت کی ہے۔ بے شک کلمتہ حق ارید بہا الباطل اس موقع کے لئے کہا گیا ہیٍ۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو محدثین گزشتہ صدیوں میں گزرے ہیں وہ فرق میں کسی نہ کسی امام کے عیال تھے اور اگر کوئی ایسا نہ تھا تو وہ از خود فقیہ و مجتہد ہوتا تھا۔

محترم قارئین!
مسابق میں جو بیان ہوا یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ۔ اس فرقے کے مقابلہ میں احناف کب سے ہیں‘ ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے۔ اس کو ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) غیر مقلدین کا فرقہ چودھویں صدی میں عبدالحق بنارسی نے بنایا ہے جبکہ احناف خیر القرون قرنی ثم  الذین یلونہم کا مظہر ہیں اور دوسری صدی احناف کا محور اجتہاد رہا اور ابتداء ہوئی۔

(۲) امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کبار تابعین میں سے ہیں جبکہ بانی غیر مقلدین عبدالحق بنارسی تابعی تو کیا تبع تابعی تو کیابلکہ گیارہویں صدی کے کبار علماء تک کا دیدار نہ کرسکا۔

(۳) حضرت امام صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق احادیث میں بشارت ہے کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو تو تب بھی ایک فارسی شخص اسے حاصل کرلے گا۔ جبکہ عبدالحق بنارسی کے لئے کوئی ایک موضوع مخترع روایت بھی موجود نہیں ہے۔

ہاں اب گڑھ لیں تو اور بات ہے۔

محترم قارئین کرام!
اس ہیچمداں نے اپنی بے بغاعتی اور کم علمی کے باوجود حقیقت کی نقاب کشائی و تصویر کشی کی ہے۔ فیصلہ آپ کریں کہ ۱۴ سو سال قبل کے سواداعظم کے طریق پر رہنا بہتر اور حقانی ہے یا شتر بے مہار غیر مقلد بننا۔

راہ و منزل کا انتخاب آپ پر ہے۔

از علامہ عنایت الرحمان ہزاروی

بشکریہ ماہنامہ تحفظ اسلام

اِمام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدث وقت بنے

اِمام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدث وقت بنے
ڈاکٹر سیّد وسیم الدین

امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ جس دور میں پروان چڑھے اس وقت علم زیادہ تر موالی و اعاجم میں زیادہ پایا جاتا تھا۔ آپ نسبی فخر سے محروم تھے۔ الله رب العزت نے آپ کو علم کا فخر عطا فرمایا جو نسب کے مقابلہ میں زیادہ مقدس زیادہ پھلنے پھولنے والا زیادہ پائیدار اور نام زندہ رکھنے والا تھا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی کائناتی حقیقت بن کرثابت ہوئی کہ اولادِ فارس علم کی حامل ہوگی۔ امام بخاری، شیرازی (1) اور طبرانی (2) وغیرہ نے بھی آپ کے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ
ترجمہ: ”اگر علم کہکشاں تک بھی پہنچ جائے تو اہل فارس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرکے رہیں گے۔“

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے وہ شاگرد جو محدثِ وقت بنے ان کے بارے میں چند اشارے اور جملے سپرد قلم کر رہا ہوں جس سے اِمام ابو حنیفہ کی عظمت کا مزید پتا لگایا جاسکتا ہے۔

یحیٰ بن سعید القطان:
فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبی نے میزان اعتدال کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ فنِ رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحیٰ بن سعید القطان پھر اُن کے بعد اُن کے شاگردوں میں یحیٰ بن مدین، علی بن المدین، امام احمد بن جنبل، عمر و بن علی ور ابوخیثمہ نے اس فن میں گفتگو کی اور اُن کے بعد ان کے شاگردوں یعنی امام بخاری مسلم وغیرہ نے۔

حدیث میں ان کا یہ پایہ تھا کہ جب حلقہٴ درس میں بیٹھتے تو امام احمد بن حنبل، علی ابن المدین وغیرہ مُوٴدب کھڑے ہو کر ان سے حدیث کی تحقیق کرتے اور نمازِ عصر سے جو اُن کے درس کا وقت تھا۔ مغرب تک برابر کھڑے رہتے۔ (3) راویوں کی تحقیق و تنقید میں یہ کمال پیدا کیا تھا کہ ائمہ حدیث عموماً کہا کرتے تھے کہ ”یحیٰ جس کو چھوڑ دیں گے ہم بھی اُس کو چھوڑ دیں گے۔ (4) امام احمد بن جنبل کا مشہور قول ہے کہ
ترجمہ: میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔ اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہ کے حلقہٴ درس میں اکثر شریک ہوتے اور ان کی شاگردی پر فخر کرتے۔ اس وقت تک تقلید معین کا رواج نہیں ہوا تھا تاہم اکثر مسائل میں وہ امام صاحب ہی کی تقلیدکرتے تھے۔ خود اُن کا قول ہے کہ (5(

ترجمہ: یعنی ہم نے امام ابو حنیفہ کے اکثر اقوال اخذ کیے ہیں علامہ ذہبی نے تذکرة الحفّاظ میں جہاں وکیع بن الجراح کا ذکر کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ وکیع، امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوٰی دیتے تھے۔ آپ 135ھء میں پیدا ہوئے اور 198ھء میں بمقام بصرہ وفات پائی۔

عبدالله بن المبارک:
محدث نودی نے تہذیب الاسماء واللغات میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے ”وہ امام جسکی امامت و جلالت پر ہر باب میں عموماً اجماع کیا گیا ہے جس کے ذکر سے خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے جس کی محبت سے مغفرت کی اُمید کی جاسکتی ہے۔“
حدیث میں جو آپ کا پایہ تھا اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ محدثین اُن کو ” امیر المومنین فی الحدیث“ کے لقب سے پکارتے تھے۔ ایک موقع پر اُن کے شاگردوں میں سے ایک شخص نے ان سے خطاب کیا کہ عالم المشرق امام سفیان ثوری جو مشہور محدث ہیں اس موقع پر موجود تھے بولے کہ ”کیا غضب ہے عالم مشرق کہتے ہو وہ عالم المشرق والمغرب (6) ہیں۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ عبدالله بن المبارک کے زمانہ میں ان سے بڑھ کر کسی نے حدیث کی تحصیل میں کوشش نہیں۔

صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت کے بڑے ارکان سے سینکڑوں حدیث مروی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ فن روایت کے بڑے راویوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں ۔ حدیث وفقہ میں ان کی بہت سی تصنیفات ہیں مگر افسوس کہ آج تک اُن کا پتا نہیں ملتا۔ آپ مرد کے رہنے والے تھے۔ 118ھء میں پیدا ہوئے اور 181ھء میں مقام ہیت میں وفات پائی۔

یحیٰ بن زکریا ابی مائدہ:
آپ معروف محدث تھے۔ علامہ ذہبی نے تذکرة الحفّاظ میں صرف اُن لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جو حافظ الحدیث کہلاتے تھے۔ چنانچہ یحیٰ کو بھی اُنہی لوگوں میں داخل کیا ہے اور اُن کے طبقہ میں سب سے پہلے اُنہی کا نام لکھا ہے۔ علی بن المدین جو امام بخاری کے مشہور اُستاد ہیں کہا کرتے تھے کہ یحیٰ کے زمانے میں یحیٰ پر علم کا خاتمہ ہوگیا ۔ (7(

صحاح ستہ میں اُن کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں وہ محدث و فقیہ دونوں تھے، اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے ۔ آپ امام ابو حنیفہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور مدت تک اُن کے ساتھ رہے آپ تدوین فقہ میں امام ابو حنیفہ کے شریک اعظم تھے ۔ امام طحاوی نے لکھا ہے کہ وہ تیس برس تک شریک رہے۔
آپ کا وصال 183ھء میں 63 برس کی عمر میں مدائن کے مقام پر ہوا۔

وکیع بن الجراح:
آپ فن حدیث کے ارکان میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو اُن کی شاگردی پر فخر تھا چنانچہ جب وہ اُن کی روایت سے کوئی حدیث بیان کرتے تو اِن لفظوں سے شروع کرتے تھے۔
”یہ حدیث مجھ سے اس شخص نے روایت کی کہ تیری آنکھوں نے اُن کا مثل نہ دیکھا ہوگا۔“(8(

یحیٰ بن معین جو فنِ رجال کے ایک رکن خیال کیے جاتے ہیں اُن کا قول تھا کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کو وکیع پر ترجیح دوں۔ (9) اکثر ائمہ حدیث نے ان کی شان میں اِس قسم کے الفاظ لکھے ہیں۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔ آپ کا وصال 197ھء میں ہوا۔

داوٴد الطائی:
صرفیہ آپ کو بڑا مرشد کامل مانتے ہیں۔ تذکرةالاولیاء میں ان کے مقاماتِ عالیہ مذکور ہیں۔ فقہا اور خصوصاً فقہاے حنفیہ ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل میں۔ محارب میں وقار جو معروف محدث تھے کہا کرتے تھے کہ داوٴد اگر پچھلے زمانہ میں ہوتے تو خدا قرآن مجید میں اُن کا قصہ بیان کرتا۔ (10(

آپ نے ابتداء میں فقہ و حدیث کی تحصیل کی ۔ پھر علم کلام میں کمال پیدا کیا اور بحث و مناظرہ میں مشغول ہوئے۔ ایک دن کسی موقع پر ایک شخص سے گفتگو کرتے کرتے اس پر کنکری پھینک ماری۔ اس نے کہا۔ داوٴد تمہاری زبان اور ہاتھ دونوں دراز ہو چلے۔ ان پر عجب اثر ہوا، بحث و مباحثہ و مناظرہ بالکل چھوڑ دیا۔ تاہم تحصیل علم کا مشغلہ جاری رکھا۔ ایک برس کے بعد کل کتابیں دریا میں ڈبو دیں اور تمام چیزوں سے قطع تعلق کرلیا۔ امام محمد کا بیان ہے کہ میں داوٴد سے اکثر مسئلے پوچھنے جاتا۔ اگر کوئی ضروری مسئلہ ہوتا تو بتا دیتے ورنہ کہتے کہ بھائی مجھے اور ضروری کام ہیں۔

آپ کا شمار امام اعظم حضرت ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں ہوتا ہے۔ خطیب بغدادی، ابن خلکان علامہ ذہبی اور دیگر موٴرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں وہاں امام ابو حنیفہ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے تدوین فقہ میں بھی آپ امام ابو حنیفہ کے شریک تھے اور اس مجلس کے معزز رکن بھی تھے۔آپ کا وصال 160ھء میں ہوا۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمة الله تعالیٰ علیہ کے چند معروف شاگردوں میں قاضی ابو یوسف، رفر، اسد بن عمر، عافیہ الازدی، قاسم بن معن، علی بن مسر، حبّان، سندل بھی خاصے مقبول و معروف ہوئے۔دینِ اسلام کی نشونما اور تدوین فقہ کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ کی خدمات عالیہ اظہر من الشمس ہیں آپ کے شاگردوں اور تلامذہ نے بھی اس ضمن میں چراغ سے چراغ روشن کیا ہے اور ایمان کی حرارت اور روشنی کو اُجاگر کرنے میں آپ کے شاگردوں اور تلامزہ کی خدمات صدقہ جاریہ سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اِسلام کے مسلمان حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی علمی، دینی، فقہی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاشرہ میں احیائے دین کی سرفرازی کے لیے کمر بستہ ہوجائیں تاکہ مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار اور عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے میں بامراد ہوسکیں۔ اور یہ بامرادی و باآوری اُس وقت ممکن ہوگی کہ ہم دین اسلام کی آبیاری کے لیے عملًا قافلہٴ غلامانِ مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہوکر اس امر کا اعادہ کریں کہ ہم امام اعظم حضرت ابو حنیفہ علیہ الرحمة کے صحیح معنوں میں پیروکار اور فدائیاں ابوحنیفہ ہیں۔ کاش کے ہم جملہ حنفی مسلمان حضرت ابو حنیفہ کے وارث و جانشین ثابت ہوسکیں۔

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عُشّاق گئے وعدہٴ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخِ زیبا لے کر
)ڈاکٹر اقبال(

حوالہ جات:
1۔ ابوبکر احمد بن عبدالرحمن شیرازی متوفی 407ھء۔
2۔ مصنف نے یہ حصہ غالباً تبییض الصحیفہ از سیوطی سے لیا ہے۔
3۔فتح المغیث وجواہرمعینہ۔
4۔ تہذیب التدریب، حافظ ابن حجر ترجمہ یحیٰ بن القطان
5۔ میزان الاعتدال، علامہ ذہبی دیباچہ۔
6۔تہذیب الاسماء۔
7۔میزان الاعتدال، علامہ ذہبی ترجمہ یحیٰ۔
8۔ تہذیب الاسماء و اللغات علامہ نودی ترجمہ وکیع بن الجراح۔
9۔تہذیب الاسماء واللغات۔
10۔ میزان الاعتدال، ذہبی۔