وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَجْمِرُ بِيَسَارِهِ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ، وَلِأَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ.

اوراستنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے، اس لئے کہ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ دائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ سے استنجا کیا کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ بایاں ہاتھ گندگی کے لئے ہے۔

وَهَذَا إذَا كَانَتْ النَّجَاسَةُ الَّتِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ، أَوْ أَقَلَّ مِنْهُ

استنجاکا حکم اس وقت تک ہے جب تک نجاست *مَخْرَج* پر *درہم* کے برابر یا اس سے کم ہو۔

فَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَزُولُ إلَّا بِالْغَسْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لِأَنَّ الشَّرْعَ وَرَدَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ

اور اگر *مَخْرَج* پر درہم سے زائد نجاست لگی ہے تو *ظاہر الروایۃ* میں اس حوالے سے حکم مذکور نہیں ہے، لہذا علماء احناف میں اس سلسلے میں اختلاف واقع ہوا، بعض علماء فرماتے ہیں: مخرج پر لگی نجاست درہم سے زائد ہو تو پانی سے دھونا ضروری ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں: ڈھیلوں کے ذریعے بھی نجاست دور کی جاسکتی ہے، اور اسی دوسرے قول کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی نے اختیار کیا ہےاور یہی قول صحیح ہے، اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھیلوں سے استنجا کا حکم بغیر کسی امتیاز کے مطلق (Without Condition) بیان ہوا ہے۔

وَهَذَا كُلُّهُ إذَا لَمْ يَتَعَدَّ النَّجَسُ الْمَخْرَجَ

یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب نجاست *مَخْرَج* کے اردگرد نہ پھیلے۔

فَإِنْ تَعَدَّاهُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمُتَعَدِّي أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ يَجِبُ غَسْلُهُ بِالْإِجْمَاعِ

اگر نجاست مَخْرَجَ کے ارد گرد پھیل جائے، تو دیکھا جائے گا، اگر وہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہے تو بالاجماع (یعنی تمام علماء کا متفق ہونا) اس جگہ کا پانی سے دھونا واجب ہے۔

وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَا يَجِبُ غَسْلُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجِبُ.

اگر نجاست درہم کی مقدار سے کم ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کا دھونا واجب ہے۔

وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي شَرْحِهِ مُخْتَصَرَ الْكَرْخِيِّ أَنَّ النَّجَاسَةَ إذَا تَجَاوَزَتْ مَخْرَجَهَا وَجَبَ غَسْلُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ خِلَافَ أَصْحَابِنَا

امام قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح کرتے ہوئےذکر کیا ہے کہ نجاست اگر مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب ہے ، انہوں نے ہمارے ائمہ کے مذکورہ اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔

لِمُحَمَّدٍ أَنَّ الْكَثِيرَ مِنْ النَّجَاسَةِ لَيْسَ بِعَفْوٍ، وَهَذَا كَثِيرٌ

امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ *کثیر نجاست* معاف نہیں ہوتی، اور مخرج کے ارد گرد پھیلنے والی نجاست (مخرج کو ملاکر) کثیر شمار ہوگی۔

وَلَهُمَا أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَلِيلٌ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ كَثِيرًا بِضَمِّ الْمُتَعَدِّي إلَيْهِ

اور شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ *مخرج* پر لگنے والی نجاست قلیل ہوتی ہے، اور یہ کثیر اس وقت شمار ہوگی جب اسے ارد گرد پھیلنے والی نجاست سے ملاکر شمار کیا جائے۔

وَهُمَا نَجَاسَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي الْحُكْمِ، فَلَا يَجْتَمِعَانِ

اور *مخرج پر لگنے والی نجاست* اور *ارد گرد پھیلنے والی نجاست* حکم کے سلسلے میں مختلف ہیں، تو انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔

أَلَا يُرَى أَنَّ إحْدَاهُمَا تَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَالْأُخْرَى لَا تَزُولُ إلَّا بِالْمَاءِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتَا فِي الْحُكْمِ يُعْطَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُكْمُ نَفْسِهَا، وَهِيَ فِي نَفْسِهَا قَلِيلَةٌ فَكَانَتْ عَفْوًا.

کیا دیکھا نہیں کہ ایک نجاست تو ڈھیلوں کے استعمال سے زائل ہوجاتی ہے جبکہ دوسری نجاست سوائے پانی کے کسی سے زائل نہیں ہوتی، اور جب یہ دونوں حکم میں مختلف ہیں تو دونوں کے موجود ہونے کے وقت ان کے لئے الگ الگ حکم نافذ ہوگا۔ اور ارد گرد پھیلنے والی نجاست چونکہ قلیل ہے اسلئے قابلِ عفو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے*

استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے، دائیں ہاتھ سے کرنا ممنوع اور گناہ ہے ۔(فتاوی رضویہ04) اسی طرح دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنا بھی مکروہ ہے۔

متعدد کتبِ حدیث میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ علامہ کاسانی نے جو حدیث شریف ذکر کی ہے وہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے۔

علامہ کاسانی نے بائیں ہاتھ سے استنجا کی ممانعت پر دو دلیلیں دی ہیں:

ایک تویہی کہ حدیث شریف میں ممانعت ہے۔

دوسری یہ کہ بایاں ہاتھ کا استعمال عموما گندگی کے لئے ہوتا ہے۔ "أَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ”

یہ بات مزاجِ شریعت سے معلوم ہوئی کہ گندگی، برائی یا کم بھلائی کے کاموں کو بائیں جانب شمار کیا جاتا ہے، اسی لئے بائیں ہاتھ سے کھانا مکروہ ہے، ناک پونچھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے، ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں جانب تھتکارنے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے، قرآن مجید نے جہنمیوں کو اصحاب الشمال یعنی بائیں طرف کے لوگ فرمایا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر جگہ ہر کام کا واضح حکم ملے، کچھ چیزیں مزاجِ شریعت سے سمجھی جاتی ہیں جس طرح گندگی کے کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال رکھا ہے اسی طرح اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کا استعمال مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اور ان تمام چیزوں کے روحانی اثرات آپ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

*استنجا۔۔اور۔۔ نجاست کی جگہ کے احکام*

یہ بحث ذرا سمجھئے گا۔۔

انسان کے اگلے یا پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ جس جگہ سے نجاست خارج ہوتی ہے اسے *مَخْرَج* کہتے ہیں۔ لہذا مخرَج دو (2) ہیں:

1- مخرَج البول: پیشاب خارج ہونے کی جگہ۔

2- مخرج الغائط: پاخانہ خارج ہونے کی جگہ، اسے حَلْقَةُ الدُّبُر بھی کہتے ہیں۔

*مخرج البول:* پیشاب خارج ہونے کی جگہ مرد کی تنگ اور عورت کی کشادہ ہوتی ہےاسلئے عورت کے مسئلہ میں پیشاب کا درہم سے زیادہ جگہ تک پھیل جانا ممکن ہے، لہذا اگر مخرج کے علاوہ پیشاب اتنا پھیل جائے کہ درہم سے زیادہ جگہ گھیر لے تو اس جگہ کا پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مخرج الغائط:* پاخانہ خارج ہونے کی جگہ پر نجاست کم لگی ہو یا زیادہ لگی ہو تو ڈھیلے سے استنجا کافی ہے لیکن مخرج کے علاوہ ارد گرد جگہ پر بھی نجاست پھیل گئی تو دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اگر مخرج کے اردگرد نجاست درہم سے کم پھیلی ہے تو پانی سے دھونا فرض نہیں ہے کیونکہ *مخرج* کا الگ حکم ہے اور *حولِ مخرج* یعنی ارد گرد پھیلنے والی نجاست الگ حکم رکھتی ہے۔ لہذا قلیل ہونے کی وجہ سے دونوں کا دھونا فرض نہیں ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی ہے۔

دوسری صورت: اگر اردگرد نجاست درہم سے زیادہ پھیلی ہے تو بالاتفاق دھونا فرض ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے جو اختلاف ذکر کیا ہے اس میں مفتی بہ قول شیخین کا ہے، یعنی امام اعظم اور امام ابویوسف کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ دیگر کتبِ فقہ سمیت فتاوی رضویہ اور بہارِ شریعت میں اسی قول پر فتوی دیا گیا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

ہمارے زمانے کی عورتیں

ہمارے زمانے کی عورتیں

عورتوں کے مسجد جانے کے متعلق ام المومنین، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جو انھوں نے اب ایجاد کیا ہے تو ان کو (مسجد میں آنے سے) منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا-

(بخاری شریف، ج1، ص472، ر869)

علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ (م855ھ) لکھتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو انھوں نے ہمارے زمانے میں ایجاد کر لیا ہے اور اپنی نمائش میں غیر شرعی طریقے اور مذموم بدعات نکال لی ہیں، خاص طور پر شہر کی عورتوں نے تو وہ (حضرت عائشہ صدیقہ) ان عورتوں کی بہت زیادہ مذمت کرتیں-

(عمدۃ القاری، ج6، ص227)

علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اگر علامہ عینی ہمارے زمانے کی فیشن زدہ عورتوں کو دیکھ لیتے تو حیران رہ جاتے- اب اکثر عورتوں نے برقع لینا چھوڑ دیا ہے، سر کو ڈوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں، تنگ اور چست لباس پہنتی ہیں، بیوٹی پارلر میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کراتی ہیں، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، مراتھن دوڑ میں حصّہ لیتی ہیں، بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں، ویلین ٹائنس ڈے مناتی ہیں، اس قسم کی آزاد روش میں عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ہے-

(نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج2، ص798)

میں (عبد مصطفی) کہتا ہوں کہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے کوئی جناب ہیں یا محترمہ! ایسا فیشن نکلا ہے کہ مرد اور عورت میں تمیز کرنا دشوار ہو گیا ہے-

ایک فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی جا رہی ہے کہ "عورتیں مردوں سے کم نہیں” اور اسی مقابلے کے چکر میں عورتوں نے شرم و حیا نام کی چیز کو اپنی لغت (ڈکشنری) سے مٹا (ڈلیٹ کر) دیا ہے!

اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے-

عبد مصطفی

درس 029: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 029: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فَإِنَّ فِعْلَ ذَلِكَ يُعْتَدُّ بِهِ عِنْدَنَا، فَيَكُونُ مُقِيمًا سُنَّةً، وَمُرْتَكِبًا كَرَاهَةً

جو کوئی ان چیزوں سے استنجاء کرے (جس کی تفصیل پچھلے درس میں ہے) تو ہمارے نزدیک اسے استنجاء شمار کرلیا جائے گا۔ تو ایسا شخص بیک وقت سنت پر عمل کرنے والا اور مکروہ کا ارتکاب کرنے والا قرار پائے گا۔

وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ لِفِعْلٍ وَاحِدٍ جِهَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ، فَيَكُونُ بِجِهَةِ كَذَا، وَبِجِهَةِ كَذَا

اور یہ ممکن ہے کہ ایک ہی کام کے دو مختلف پہلو ہوں، ایک پہلو سے کچھ حکم ہو ایک سے کچھ حکم ہو۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ لَا يُعْتَدُّ بِهِ، حَتَّى لَا تَجُوزَ صَلَاتُهُ إذَا لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْأَحْجَارِ بَعْدَ ذَلِكَ.

اور امام شافعی کے نزدیک استنجاء شمار نہیں کیا جائے گا، حتی کہ اسکی نماز جائز نہیں ہوگی جب تک وہ دیگر چیزوں کے استعمال کے بعد پتھر سے استنجاء نہ کرلے۔

وَجْهُ قَوْلِهِ: إنَّ النَّصَّ وَرَدَ بِالْأَحْجَارِ فَيُرَاعَى عَيْنُ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ؛، وَلِأَنَّ الرَّوْثَ نَجَسٌ فِي نَفْسِهِ، وَالنَّجَسُ كَيْفَ يُزِيلُ النَّجَاسَةَ؟

انکی دلیل یہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں باقاعدہ پتھر کا ذکر ہے لہذا استنجاء میں پتھر کا ہی لحاظ رکھا جائے گا۔

اور اسلئے بھی کہ لید ازخود ناپاک ہے، اور ناپاک چیز سے ناپاکی کیسے دور ہوسکتی ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ النَّصَّ مَعْلُولٌ بِمَعْنَى الطَّهَارَةِ وَقَدْ حَصَلَتْ بِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ كَمَا تَحْصُلُ بِالْأَحْجَارِ

اور ہم احناف کی دلیل یہ ہے کہ احادیث میں آنے والا حکم طہارت کے مفہوم کو بیان کرتا ہے، تو جس طرح پتھر سے طہارت حاصل ہوتی ہے اسی طرح دیگر چیزوں سے بھی حاصل ہوجائے گی۔

إلَّا أَنَّهُ كُرِهَ بِالرَّوْثِ لِمَا فِيهِ مِنْ اسْتِعْمَالِ النَّجَسِ، وَإِفْسَادِ عَلَفِ دَوَابِّ الْجِنِّ

ہاں لید سے استنجاء مکروہ (تحریمی) قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ یہ ناپاک چیز کا استعمال کرنا ہے اور جنات کے جانوروں کا چارہ خراب کرنا ہے۔

وَكُرِهَ بِالْعَظْمِ لِمَا فِيهِ مِنْ إفْسَادِ زَادِهِمْ عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ الْحَدِيثُ

اور ہڈی سے بھی استنجاء مکرہ ہے اسلئے کہ اس سے جنات کی خوراک کو خراب کرنا لازم آتا ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔

فَكَانَ النَّهْيُ عَنْ الِاسْتِنْجَاءِ بِهِ لِمَعْنًى فِي غَيْرِهِ لَا فِي عَيْنِهِ

تو مذکورہ چیزوں سے استنجاء کی ممانعت ایسے مفہوم کی وجہ سے ہے جو بذات خود ان میں نہیں پایا جاتا بلکہ کسی اور شی میں پایا جاتا ہے۔

فَلَا يُمْنَعُ الِاعْتِدَادُ بِهِ

لہذا ان چیزوں سے کیا گیا استنجاء، استنجاء شمار ہوگا۔

وَقَوْلُهُ:”الرَّوْثُ نَجَسٌ فِي نَفْسِهِ” مُسَلَّمٌ، لَكِنَّهُ يَابِسٌ لَا يَنْفَصِلُ مِنْهُ شَيْءٌ إلَى الْبَدَنِ فَيَحْصُلُ بِاسْتِعْمَالِهِ نَوْعُ طَهَارَةٍ بِتَقْلِيلِ النَّجَاسَةِ.

اور امام شافعی کا قول: "لید ازخود ایک ناپاک چیز ہے” بالکل درست ہے، لیکن اس کے خشک ہونے کی وجہ سے اس کے اجزاء بدن پر نہیں لگتے، لہذا اس کے استعمال سےنجاست کی مقدار کم ہوکر ایک نوعیت سے طہارت ہو ہی جاتی ہے۔

وَيُكْرَهُ الِاسْتِنْجَاءُ بِخِرْقَةِ الدِّيبَاجِ وَمَطْعُومِ الْآدَمِيِّ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ لِمَا فِيهِ مِنْ إفْسَادِ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ، وَكَذَا بِعَلَفِ الْبَهَائِمِ، وَهُوَ الْحَشِيشُ؛ لِأَنَّهُ تَنْجِيسٌ لِلطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ.

دیباج (ریشمی) کپڑے اور انسانی خوراک یعنی گندم ، جو وغیرہ سے بھی استنجاء مکروہ ہے، اسلئے کہ اس سے بلا ضرورت مال کا ضائع کرنا لازم آتا ہے، اسی طرح جانوروں کے چارے یعنی گھاس وغیرہ سے بھی استنجاء مکروہ ہے، اسلئے کہ اس سے پاک چیز کو بلاضرورت ناپاک کرنا لازم آتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ہم درس نمبر 28 میں مکمل وضاحت کرچکے ہیں کہ

*ہر وہ چیز جس سے نجاست کو پونچھا جاسکتا ہو، اس سے استنجاء ہوجائے گا۔۔ چاہے اس کا استعمال جائز ہو یا ناجائز*

علامہ کاسانی انہیں چیزوں کابیان کرتے ہوئے ایک نکتہ ذکر کرتے ہیں کہ۔۔

ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی کام کے دو مختلف پہلو ہوں۔۔

کسی پہلو سے فرض پورا ہوتا ہو اور ساتھ ہی حرام کا ارتکاب بھی ہوتا ہے، استنجاء میں اسکی مثالیں بیان ہورہی ہیں کہ بہت سی چیزوں سے استنجاء کرنا ناجائز ہے مگر چونکہ "نجاست کا زائل” ہونا پایا جارہا ہے اسلئے بہرحال طہارت حاصل ہوجائے گی۔۔۔

فقہ میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں، مثلا

* کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرلیا اور وہاں نماز کے لئے صفیں بچھادیں۔۔ لوگوں کا وہاں نماز ادا کرنا ناجائز ہےلیکن نماز ادا ہوجائے گی۔

* عورت بغیر محرم کے حج یا عمرہ پر چلے گئی۔۔ گناہ گار ضرور ہوئی مگر حج یا عمرہ ادا ہوجائے گا۔

امام شافعی نے *حدیث کے ظاہر الفاظ* کو بنیاد بناکر کہا کہ چونکہ احادیث میں پتھر کا ذکر آیا ہے لہذا پتھر کا استعمال ضروری ہے اسکے بغیر استنجاء نہیں ہوگا۔

جبکہ ہم احناف کا موقف ہے کہ حدیث میں بیان ہونے والا حکم پتھر کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ مراد طہارت حاصل کرنا ہے چونکہ پتھر کااستعمال رائج تھا اسلئے پتھر کا ذکر آیا۔۔۔اور اہلِ علم یہ بات جانتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم اگرچہ الگ ہو لیکن جہاں تک ممکن ہو *حدیث کے ظاہری الفاظ* کا لحاظ رکھنا مناسب ہوتا ہے، لہذا کپڑا یا مٹی وغیرہ کے مقابلے پتھر سے استنجاء کرنا افضل ہے۔

باقی جو مسائل ذکر ہوئے اس سے متعلق اصولی بحث ہم درس نمبر 28 میں کرچکے ہیں، مذکورہ عبارات میں انہیں چیزوں کا بیان ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑنے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو ‘ اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشو) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو اور ان کو (تادیبا) مارو پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امان میں حاصل کیا ہے اور اللہ کی اجازت سے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کانشان نہ پڑے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢١٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن عمرو اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ والوداع میں تھے آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : سنو عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو وہ تمہارے پاس تمہاری قید میں ہیں تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو ‘ ہاں اگر وہ کھلی بےحیائی کریں تو ان کو ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کا اثر ظاہر نہ ہو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو سنو تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہاری عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ان کو تمہارے گھروں میں آنے نہ دیں ‘ اور سنو تمہاری عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو اچھا پہناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء :) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٥١) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زیاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مارا نہ کرو ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ بدخلقی اور بدزبانی کرتی ہیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مارنے کی اجازت دی پھر بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر جا کر اپنے خاوندوں کی شکایت کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بہت ساری عورتوں نے اپنے خاوندوں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے پھر دن گزرنے کے بعد اس سے جماع کرے۔ (صحیح البخاری :‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق فقہاء کا نظریہ : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (احناف) نے یہ تصریح کی ہے کہ چار صورتوں میں مرد عورت کو مار سکتا ہے۔

(١) جب خاوند چاہتا ہو کہ بیوی بناؤ سنگھار کرے اور بیوی میک اپ نہ کرے۔ 

(٢) خاوند بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے۔ 

(٣) جب وہ نماز نہ پڑھے ایک قول یہ ہے کہ جب وہ غسل نہ کرے۔ 

(٤) جب وہ بغیر عذر شرعی کے گھر سے باہر نکلے ‘ ایک قول ہے کہ جب وہ خاوند کو ناراض کرے ‘ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زبیر بن العوام کی چوتھی بیوی تھی جب وہ کسی بیوی سے ناراض ہوتے تو وہ اس کو کھونٹی کی لکڑی سے مارتے حتی کہ وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ‘ واضح رہے کہ بیوی کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا اس کو مارنے سے افضل ہے الا یہ کہ کوئی ناقابل برداشت معاملہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ٢٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشوہر) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ 

اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل : 

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ منصف حاکم ہیں اور ان منصفوں کو از خود یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب جانیں تو خاوند اور اس کی بیوی کو نکاح پر برقرار رکھیں یا ان میں سے کسی ایک کے ذمہ کسی چیز کی ادائیگی لازم کردیں یا مناسب جانیں تو ان کا نکاح فسخ کردیں ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک یہ منصف وکیل ہیں اور ان کو اختیار نہیں ہے الا یہ کہ زوجین ان کو فسخ نکاح کا اختیار بھی تفویض کردیں۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اور مرد کی طرف سے جو دو شخص مقرر کئے جائیں وہ ان کے وکیل ہوں گے اور بہ حیثیت وکیل کے ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کے حکم کے بغیر از خود ان کا نکاح فسخ کردیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١٩٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

یہ دونوں حاکم زوجین کے وکیل ہیں اور ان کے فیصلہ میں ان دونوں کی رضا کا اعتبار ہوگا یہ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ حاکموں کے فیصلہ کے لئے زوجین کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٧٨۔ ٧٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

جن دو شخصوں کو بھیجا جائے گا اس کے متعلق دو قول ہیں وہ وکیل ہیں اور ان کو از خود زوجین میں تفریق کا اختیار نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حاکم ہیں اور ان کا اختیار ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ یہ وکیل ہیں۔ (روضۃ الطالبین ج ٥ ص ٦٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح روایت یہ ہے کہ یہ دونوں شخص حاکم ہیں اور جب یہ دونوں شخص زوجین کے درمیان تفریق کردیں تو تفریق واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ نکاح سے مقصود الفت اور حسن معاشرت ہے اور وہ ان کے نزدیک نہیں پائی گئی (الی قولہ) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر خاوند کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر عورت کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ہم عورت کو مرد کا تابع کریں گے اور اگر دونوں کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو بھی ان میں تفریق کردی جائے گی اور مرد کو بعض مہر ادا کرنا ہوگا نہ کہ پورا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٤١۔ ٥٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جہاں دونوں حاکم زوجین کے درمیان تفریق کردیں گے تو یہ طلاق بائن کے قائم مقام ہے اور حاکموں کا منصب طلاق واقع کرنا ہے وکالت کرنا نہیں ہے ‘ امام مالک ‘ امام اوزاعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا “۔ ” ایک حاکم مرد کی طرف سے بھیجو اور ایک حاکم عورت کی طرف سے بھیجو “ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ یہ دونوں قاضی اور حاکم ہیں وکیل یا شاہد نہیں ہیں ‘ اور وکیل کی شریعت میں اور تعریف ہے اور حاکم کی شریعت میں اور تعریف ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی تعریف الگ الگ بیان کردی ہے تو کسی شخص یا عالم کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ وہ ایک لفظ کی تعریف کو دوسرے لفظ میں محمول کردے (اس کے بعد علامہ قرطبی نے اپنے موقف پر سنن دارقطنی سے حدیث پیش کی) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٧٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فقہاء مالکیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے ایک عورت اور اس کا خاوند آئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی ان لوگوں نے عورت کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا اور مرد کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے ان دونوں حاکموں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تم دونوں پر کیا فرض ہے ؟ اگر تمہاری رائے میں ان دونوں میں تفریق ہونی چاہیے تو تم ان میں تفریق کردو اور اگر تمہاری رائے میں ان کو اکٹھا ہونا چاہیے تو تم ان کو اکٹھا کردو خاوند نے کہا رہی فرقت تو میں اس کو اجازت نہیں دیتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بخدا تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک تم اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی نہ ہوجاؤ وہ تمہارے حق میں ہو یا تمہارے خلاف ‘ عورت نے کہا میں اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی ہوں خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١١٨٨٣‘ جامع البیان : ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦۔ ٣٠٥) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں حضرت علی (رض) نے خبر دی ہے کہ حاکموں کا فیصلہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوگا جب تک کہ دونوں فریق اس فیصلہ پر راضی نہ ہوجائیں ‘ اسی لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حاکموں کا تفریق کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ خاوند اس پر راضی نہ ہوجائے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اگر خاوند اس کا اقرار کرلے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور نہ قاضی جانبین سے حاکم بنانے سے پہلے اس کو طلاق پر مجبور کرے گا ‘ اسی طرح سے اگر عورت خاوند کی نافرمانی کا اقرار کرلے تو قاضی اس کو خلع پر مجبور کرے گا نہ مہر واپس کرنے پر ‘ اور جب جانبین سے حاکم مقرر کرنے سے پہلے یہ حکم ہے تو جانبین سے حاکم مقرر کرنے کے بعد بھی یہی حکم ہوگا اور خاوند کی مرضی کے بغیر ان حاکموں کا اس کی بیوی کو طلاق دینا صحیح نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام مالک کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ حضرت علی (رض) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بیوی اور خاوند کے جھگڑے میں حاکم بنانے کا معنی ہی یہ ہے کہ یہ اختیار ہے کہ فریقین کے بیان لینے کے بعد وہ اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے خواہ نکاح برقرار رکھے خواہ نکاح و فسخ کردے ‘ اور حاکم بنائے جانے کے بعد بھی ان کو یہ اختیار نہ ہو اور طلاق دینے کا اختیار خاوند کے پاس ہی رہے تو پھر ان کی حیثیت حاکم کی نہیں وکیل کی ہوگی ‘ حالانکہ قرآن مجید نے ان کو حاکم فرمایا ہے نیز حسب ذیل آثار بھی امام مالک کے موید ہیں : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم میں تفریق کرنا چاہیں تو تفریق کردیں اور اگر ان کو ملانا چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

شعبی کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم چاہیں تو ان میں تفریق کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت معاویہ (رض) دونوں کو حاکم بنایا گیا ‘ ہم سے کہا گیا کہ اگر تمہاری رائے ان کو جمع کرنا ہو تو ان کو جمع کردو اور اگر تمہارے رائے ان میں تفریق کرنا ہو تو ان میں تفریق کردو ‘ معمر نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان (رض) نے بھیجا تھا۔ (المصنف رقم الحدیث : ٥١٢۔ ٥١١‘ جامع البیان ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦) 

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کو دونوں طرف کے وکیل یا منصف ختم کرا سکیں تو جو فریق مظلوم ہو اس کو داد رسی کے لئے عدالت میں جانا چاہیے۔ 

اگر شوہر ‘ بیوی کو خرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ 

ہمارے زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا خرچ نہیں دیتا اور نہ اس کو طلاق دیتا ہے بیوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیتی ہے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت گواہوں کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلہ کرکے اس نکاح کو فسخ کردیتی ہے اور اس کو موجودہ مجسٹریٹ اپنی اصطلاح میں خلع سے تعبیر کرتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ از روئے شرع قابل عمل ہے یا نہیں۔ 

امام دارقطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے عیال کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی جو کہتی ہے مجھ کو کھلاؤ مجھ و علیحدہ کردو۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

جو شخص بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے عاجر ہو اس کے بارے میں امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں تفریق نہیں کی جائے گی جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نامرد ہو تو بالاتفاق ان میں تفریق کردی جاتی ہے اور جب کہ نفقہ نہ دینے کا ضرر مباشرت نہ کرنے کے ضرر سے زیادہ ہے تو اس میں بہ طریق اولی تفریق ہونی چاہیے (کیونکہ شوہر کے جماع نہ کرنے پر تو صبر ہوسکتا ہے لیکن بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ) ۔ (بدایۃ المجتہد ج ٣ ص ٣٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ المہذب مع شرح المہذب ج ١٨ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو البرکات سیدی احمد دردیر مالکی لکھتے ہیں : 

جب عورت فسخ نکاح کا ارادہ کرے اور حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرے تو اگر کا خاوند کا افلاس ثابت نہ ہو تو حاکم خاوند کو کھانے کا خرچ اور کپڑے دینے کا حکم دے جبکہ عورت نے نفقہ نہ دینے کی شکایت کی ہو یا اس کو طلاق دینے کا حکم دے یا کہے کہ یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے گا۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوقی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اب رہا یہ سوال کہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق جو اقول پیش کئے گئے ہیں ان میں خاوند عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور ہمارے زیر بحث جو صورت ہے اس میں خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا اور غائب ہوتا ہے تو غائب کے خلاف جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کیسے نافذ ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر غائب کے خلاف دلیل قائم کردی گئی اور قاضی گمان غالب یہ ہے کہ یہ حق ہے جھوٹ نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حیلہ ہے تو غائب کے خلاف یا اس کے حق میں فیصلہ کردینا چاہیے اسی طرح مفتی بھی یہ فتوی دے سکتا ہے تاکہ حرج نہ ہو اور لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں ‘ اور اس میں ضرورت ہے علاوہ ازیں یہ مسئلہ مجہتدفیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی طرف سے ایک وکیل کرلیا جائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غائب کی رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کمی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے اور عنقریب مسخر میں اس کا ذکر ہوگا اسی طرح فتح القدیر کے باب المفقود میں ہے کہ جب قاضی غائب کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی مصلحت دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کردے گا اور اس کا حکم نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ خواہ قاضی حنفی ہو اور خواہ ہمارے زمانہ میں ہو اور یہ قاعدہ پہلے قاعدہ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس قاعدہ کو ضرورت اور مصلحت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات : 

کسی مظلوم اور نان ونفقہ سے محروم عورت کے حق میں جب عدالت فسخ نکاح کردیتی ہے اور اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو اس پر بعض علماء کرام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عدالت کے فیصلہ کی بناء پر اس نکاح کے جواز کا دروازہ کھول دیا جائے تو جو عورت بھی اپنے خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے گی وہ عدالت میں جھوٹا دعوی دائر کر کے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گی۔ اس اعتراض کے جواب میں پہلے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کے دروازہ پر کچھ لوگوں کے جھگڑنے کی آواز سنی آپ ان کے پاس باہر گئے اور فرمایا میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں) میرے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا فوقف زیادہ وضاحت سے پیش کرے اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں سو (بفرض محال) اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ صرف آگ کا ٹکڑا ہے وہ اس کو لے یا ترک کردے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٤٥٨‘ ٧١٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی میں (ازخود) غیب اور مخفی امور کو نہیں جانتا جیسا کہ حالت بشریہ کا تقاضا ہے اور آپ صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور مخفی چیزیں اللہ کی ولایت میں تھیں ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو آپ کو مخفی امور پر مطلع فرما دیتا حتی کہ آپ (صورت واقعیہ کے مطابق) یقین کے ساتھ فیصلہ فرماتے لیکن اللہ نے آپ کی امت کو آپ کی اقتداء کا حکم دیا اس لئے آپ نے ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کی اتباع کرنے میں آسانی اور اطمینان ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٥) 

اسی طرح حافظ ان حجر شافعی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ١٧٥) 

اس حدیث اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت خاوند کے خلاف جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتی ہے تو عدالتتو بہرحال ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرے گی لیکن اس جھوٹ کا وبال اس عورت کے سر پر ہوگا۔ ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کے متعلق ایک اور حدیث یہ ہے : جو لوگ غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ نے واپس آکر ان سے باز پرس کی تو اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ (منافقین) آئے انہوں نے مختلف بہانے کئے اور قسمیں کھائیں سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہر کردہ بہانوں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطنی امور کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک صرف حجت ظاہریہ کا اعتبار ہے : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جھوٹے گواہوں کے ساتھ ظاہرا و باطنا عقود اور فسوخ میں قضا نافذ ہوجاتی ہے بہ شرطی کہ قضا کے محل میں اسی قضا کی صلاحیت ہو اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو۔ (درمختار علی ہامش ردالمختار ج ٤ ص ٣٣٣) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

فسوخ سے مراد ایسافیصلہ ہے جو عقد حکم کو فسخ کردے ‘ لہذایہ طلاق کو بھی شامل ہے اور اس کی فروع میں سے یہ ہے کہ ایک عورت نے دعوی کیا کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور خاوند اس کا منکر ہو اور اس عورت نے اپنے دعوی پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہے خواہ اس کو حقیقت حال کا علم ہو اور ان دو گواہوں میں سے بھی اگر کوئی اس عورت سے نکاح کرے تو عدت کے بعد اس عورت سے نکاح اور مباشرت کرنا جائز ہے اور اس کے پہلے خاوند کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو وطی کرنے کا موقع دے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس عورت پر اس کا خاوند ظلم کرے اس کو نہ گھر میں رکھے اور نہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ دے اور نہ اس کو طلاق دے اور وہ عورتت جوان ہو وہ اپنے معاش کے حصول کے لئے محنت مزدوری یا ملازمت کرے تو اس کو اپنی عزت اور عفت کے لٹ جانے کا بھی خطرہ ہو (اور ایسے واقعات ہمارے ہاں ہوتے رہتے ہیں) تو اس صورت حال کے مطابق اگر عدالت اس کے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے تو یہ ائمہ ثلاثہ کے مطابق ایک جائز عمل ہے ‘ اب اگر کوئی عورت اس قانون سے فائدہ اٹھا کر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے آباد نہ کرنے کی فرضی داستان سنا کر اپنے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرا لے تو اس کا وبال اس عورت کے سر ہوگا اور اس کے اس جھوٹ کی وجہ سے اس جائز طریقہ کو ترک نہیں کیا جائے گا اس کی نظر یہ ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ زیارت قبور کو اس لئے ترک نہیں کیا جائے گا کہ زیارت قبور میں بہت سے منکرات اور مفاسد (ناجائز اور برے کام) مثلا مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور دوسرے امور (مثلا قبروں پر سجدہ کرنا) داخل ہوگئے ہیں کیونکہ عبادات کو ان کاموں کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انسان پر لازم ہے کہ ان عبادات کو بجا لائے اور ان غلط کاموں کا رد کرے اور حسب استطاعت ان بدعات کو زائل کرے (رد المختار ج ١ ص ‘ ٦٠٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

ثانیا : یہ کہ جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ کرانا صرف فسخ نکاح کے عقد کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے۔ ہر قسم کے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پیشہ ور جھوٹے گواہ عدالت کے باہر مل جاتے ہیں اور ان کی بناء پر بہت سے مقدمات میں ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کردیا جاتا ہے تو اب اگر کسی مقدمہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر عدالت کے فیصلہ کو اس لئے معتبر نہ مانا جائے کہ یہ شہادت فی الواقع جھوٹی تھی تو پھر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ معتبر نہیں رہے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ جھوٹی گواہی کی بناء پر ہو اور اس کا حل یہی ہے کہ عدالت کا کام ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کرنا ہے اگر کسی فریق نے جھوٹے شواہد پیش کئے ہیں تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہوگا اور حقیقت کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔ 

قضاء علی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ : 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز ہے انہوں نے کہا جو دور دراز غائب ہو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ نے کہا کہ غائب کے خلاف مطلقا فیصلہ نہیں کیا جائے گا (بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس طرح حاضر کے خلاف ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح غائب کے خلاف بھی ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے (روضۃ الطالبین ج ٨ ص ١٥٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی فیروزآبادی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک شخص قاضی کے سامنے پیش ہو اور شہر سے غائب شخص کے خلاف دعوی کرے یا شہر میں حاضر ہو لیکن بھاگ جائے یا شہر میں حاضر ہو اور چھپ جائے اور اس کو حاض کرنا مشکل ہو تو اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ نہ ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس دعوی کا سننا غیر مفید ہے ‘ اور اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ ہوں تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور اس کے گواہوں کو بھی سنا جائے گا کیونکہ اگر ہم اس کے دعوی کو نہ سنیں تو اس مدعی علیہ کا غائب ہونا یا شہر میں چھپ جانا لوگوں کے حقوق ساقط کرنے کا سبب ہوگا جب کہ ان حقوق کی حفاظت کے لئے حاکم کو نصب کیا جاتا ہے۔ (المہذب ج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ شرح المہذب ج ٢٠ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جس غائب شخص کے خلاف کوئی حق ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا (الی قولہ) غائب کے خلاف صرف آدمیوں کے حقوق میں فیصلہ کیا جائے گا البتہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ حدود میں اسقاط کی گنجائش ہے اگر کسی غائب شخص کے چوری کرنے پر گواہ قائم ہوں تو اس سے مال واپس لینے کا حکم دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں دیاجائے۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص مجلس عدالت سے غائب ہو یا اس شہر سے غائب ہو اور اس کے خلاف گواہ قائم ہوں تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا خواہ اس مقدمہ کا تعلق آدمیوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی حدود سے۔ (محلی ابن حزم ج ٩ ص ٣٦٦) 

قضاء علی الغائب کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ابو سفیان ایک کم خرچ کرنے والے انسان ہیں اور مجھے ان کے مال سے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کے مال سے اتنی مقدار لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٤) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو سفیان (رض) اس مجلس سے غائب تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ‘ امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان ہی یہ قائم کیا ہے باب القضاء علی الغائب۔ اس حدیث میں مالی معاملات میں غائب کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے فسخ نکاح میں غائب کے خلاف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے مفقود (لاپتہ) شخص کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اس کی بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد چار ماہ دس دن (عدت وفات گزارے) پھر اگر اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اپنے دئیے مہر اور بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ (المصنف ‘ رقم الحدیث : ١٢٣١٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 

امام مالک فرماتے ہیں کہ جب اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا تو پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا۔ 

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور وہ غائب ہوگیا اور اس حال میں اس نے اس طلاق سے رجوع کرلیا عورت کو طلاق کی خبر پہنچی اور اس کے رجوع کی خبر نہیں پہنچی اور اس نے دوسری جگہ شادی کرلی حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا جب اس عورت نے نکاح کرلیا تو اب پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا خواہ دوسرے خاوند نے اس سے دخول کیا ہو یا نہیں۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢١٩) 

ان دو حدیثوں میں فسخ نکاح اور طلاق کے معاملہ میں قضاء علی الغائب کا ثبوت ہے۔ 

امام شافعی ‘ امام مالک ‘ اور امام احمد کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے لیکن فقہاء احناف نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر ضرورت کی بناء پر کوئی حنفی قاضی یا مفتی ائمہ ثلاثہ کے اس قول پر فتوی دے تو یہ جائز ہے اور جس عورت کو اس کا خاوند تنگ کرنے کے لئے نہ خرچ دیتا ہو نہ طلاق دیتا ہو اور اپنی عزت اور عصمت کی حفاظت کے ساتھ ملازمت کرکے اس کے لئے روٹی کمانا مشکل اور دشوار ہو اور اندریں صورت وہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے ‘ خاوند حاضر نہ ہو اور عدالت خاوند کے خلاف یک طرفہ ڈگری دے کر خلع کردے (یعنی نکاح فسخ کردے) تو یہ فیصلہ صحیح ہے اور عدت کے بعد اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح ہے۔ 

دفع حرج ‘ مصلحت اور ضرورت کی بناء پرائمہ ثلاثہ کے مذہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

جو فقہاء احناف قضاء علی الغائب کو جائز کہتے ہیں وہ یہ فرق نہیں کرتے کہ حنفی قاضی یہ فیصلہ کرے یا غیر حنفی فیصلہ کرے ‘ قنیہ میں بھی مذکور ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا حنفی ہونا شرط نہیں ہے ‘ اس تصریح سے علامہ رملی اور علامہ مقدسی کا یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا مجوزین میں سے ہونا شرط ہے اور یہی صاحب البحر الرائق کا نظریہ ہے ‘ صاحب البحر نے قضاء علی الغائب کو مفقود کے ساتھ خاص کیا ہے ‘ علامہ رملی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں عموم ہے ‘ جامع الفصولین میں مذکور ہے کہ مسئلہ میں فقہاء کی آراء مضطرب ہیں پس میرے نزدیک یہ ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں غور وفکر کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے اور حرج اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے اور اگر جواز کا تقاضا ہو تو اس کو جائز کہا جائے ورنہ اس کو ناجائز کہا جائے ‘ مثلا ایک شخص نے اپنی بیوی کو چند نیک لوگوں کے سامنے طلاق دی پھر وہ شہر سے غائب ہوگیا اور اس کی جگہ کا پتہ نہیں یا پتہ تو ہے لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہے یا عورت یا اس کے وکیل کا اس کے پاس جانا مشکل ہے کیونکہ وہ جگہ دور ہے یا کوئی اور مانع ہے ‘ اسی طرح اگر مقروض غائب ہوجائے اور اس کا شہر میں مال ہو ‘ اس قسم کی مثالوں میں اگر قاضی کے سامنے غائب کے خلاف گواہ پیش کردیئے جائیں اور قاضی کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ گواہ سچے ہیں اور ان میں کوئی جھوٹ یا حیلہ نہیں ہے تو قاضی کو چاہیے کہ غائب کے خلاف فیصلہ کر دے اور مفتی کو بھی چائیے کہ حرج اور حاجت کو دور کرنے کے لئے اس کے جواز کا فتوی دے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہیں جب کہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس کو جائز کہتے ہیں اور ہمارے اصحاب (احناف) کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی جانب سے ایک ایسا وکیل کرلیا جائے جس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ غائب کی جانب سے مکمل رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے اسی طرح مسخر میں ہے اور فتح القدیر کے باب المفقود میں بھی یہی مذکور ہے کہ غائب کے خلاف قضاء جائز نہیں لیکن جب قاضی غائب کے حق میں اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں مصلحت دیکھے تو فیصلہ کردے اور یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ خواہ قاضی حنفی ہو۔ (درالمختار علی الدر المختار ج ٤ ص ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آزاد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١) 

ترجمہ : اپنی بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ رکھو ورنہ ان کو معروف طریقہ سے علیحدہ کردو اور ان پر زیادتی کرنے اور ضرر پہنچانے کی نیت سے ان کو اپنے پاس نہ رکھو۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ خاوند کے پاس جب بیوی کو نفقہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کا چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے ‘ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ بیوی کو معروف طریقہ سے علیحدہ کرنے کی حد سے نکل گیا پھر حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے ‘ کیونکہ جو شخص اس کو خرچ دینے پر قادر نہیں ہے اس کے نکاح میں رہنے سے اس عورت کو ضرر لاحق ہوگا اور بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابو عبید ‘ یحییٰ بن القطان اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے حضرت عمر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب نے کہا یہی سنت ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے : (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

حاکم پر لازم ہے کہ وہ خاوند سے کہے یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی کو طلاق واقع کردے۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوتی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ بیروت) 

سو اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے خلاف یہ مقدمہ دائر کرے تو کہ اس کا خاوند اس کو خرچ دیتا ہے نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور اس پر گواہ قائم کردے اور خاوند بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دے ‘ خواہ وہ قاضی حنفی ہو یا شافعی یا مالکی یا حنبلی : 

مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی رئیس دارافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں : 

ہاں شوہر کا ظلم و زیادتی اگر عدالت میں شرعی گواہوں سے ثابت ہوجائے اور شوہر شرعی طریقہ سے اسے آباد کرنے پر رضامند نہیں ہوتا نہ اسے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضا مند ہوتا ہے تو ان مجبوریوں کے بعد عدالت گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر یک طرفہ فسخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے۔ (جواہر الفتاوی ج ٣ ص ٣٢٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

مفتی رشید احمد کراچی نے بھی اسی صورت میں عدالت کے فیصلہ کو نافذ العمل قرار دیا ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٥ ص ٤١١۔ مطبوعہ کراچی) 

میں نے اس مسئلہ کو شرح صحیح مسلم میں بھی لکھا تھا اور یہاں مزید تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جب کوئی مظلوم عورت ہمارے زمانہ کے مفتیوں کے پاس جاتی ہے جس کو خاوند نہ خرچ دیتا ہے نہ طلاق ‘ خاوند عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت یک طرفہ ڈگری دے دیتی ہے تو ہمارے مفتی اس فیصلہ کو نہیں مانتے اور اس عورت کو عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے مسئلہ کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے ‘ سو میں نے صرف اسلام کے دفاع کے جذبہ سے یہ تحقیق پیش کی ہے اور اللہ نیتوں کو جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏

ترجمہ:

مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں کیوں کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ‘ اور اس لیے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے سو نیک عورتیں فرماں بردار ہیں۔ مردوں کے پس پشت اللہ کی توفیق سے حفاظت کرنے والی ہیں۔ اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو ، اور ان کو (تادیبا) مارو ‘ پس اگر وہ تمہاری فرماں برداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ‘ بیشک اللہ نہایت بلند بہت بڑا ہے، A

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ 

قرآن مجید سے عورتوں کی حاکمیت کا عدم جواز : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض فضیلت دی ہے اور اس شان نزول یہ تھا کہ بعض عورتوں نے یہ کہا تھا کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے وراثت میں ان کا حصہ دگنا رکھا گیا حالانکہ ہم صنف ضعیف ہیں اس لئے ہمارا زیادہ حصہ ہونا چاہیے تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اس کا جواب دیا ہے کہ مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے اور اس لئے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے۔ 

قوام کا معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

قوام کا معنی ہے کسی چیز کو قائم کرنے والا اور اس کی حفاظت کرنے والا۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ٤١٦‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران) 

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

مرد عورت کا قوام ہے یعنی اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اس کا خرچ برداشت کرتا ہے۔ (لسان العرب ج ١٢ ص ٥٠٣‘ مطبوعہ نشرادب الحوذۃ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ تاج العروس ج ٩ ص ٣٥) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

الرجال قوامون کا معنی یہ ہے کہ جس طرح حاکم رعایا پر اپنے احکام نافذ کرتا ہے اسی طرح مرد عورتوں پر احکام نافذ کرتے ہیں ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ نبوت ‘ رسالت حکومت ‘ امامت ‘ اذان اقامت اور تکبیرات تشریق وغیرہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جمل میں ہوسکتا تھا کہ میں اصحاب جمل کے ساتھ لاحق ہوجاتا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرتا ‘ اس موقع پر مجھے اس حدیث نے فائدہ پہنچایا جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا جب اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا حاکم بنا لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح (اخروی) نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤٢٥‘ ٧٠٩٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٣‘ صحیح ابن حبان ج ١٠ ص ٤٥١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥١‘ ٤٧‘ ٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠ ص ١١٨۔ ١١٧ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ ص ٢٦٦‘ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٢٥۔ ٥٢٤‘ مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٠٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے حکام نیک ہوں ‘ تمہارے اغنیاء سخی ہوں ‘ اور تمہاری حکومت باہمی مشورہ سے ہو ‘ تو تمہارے لئے زمین کے اوپر کا حصہ اس کے نچلے حصہ سے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدکار ہوں ‘ اور تمہارے اغنیاء بخیل ہوں ‘ اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لئے زمین کا نچلا حصہ اس کے اوپر کے حصہ سے بہتر ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٧٣) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کو فتح کی خوش خبری سنائی اور یہ بھی بتایا کہ دشمن کی سربراہی ایک عورت کر رہی تھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں تو وہ تباہ اور برباد ہوجائیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (حافظ ذہبی نے بھی اس حدیث کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ ) (المستدرک ج ٤ ص ٢٩١) 

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں فقہاء اسلام کی آراء :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٣ ص ١٨٣‘ مطبوعہ ایران) 

امام حسین بن مسعود بغوی شافعی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : 

امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت حکومت یا انتظامیہ کی سربراہ یا قاضی نہیں بن سکتی ‘ کیونکہ سربراہ مملکت کو جہاد قائم کرنے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور قاضی کو مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت واجب الستر ہے اس کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ (شرح السنۃ ج ١٠ ص ٧٧‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جمہور فقہاء اسلام نے حضرت ابوبکرہ کی حدیث کی بناء پر عورت کے قاضی بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے ‘ علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن معاملات میں عورت شہادت دے سکتی ہے وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٤ ص ‘ ٢٠٤ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ جمہور فقہاء اسلام نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کو منصب قضاء سونپنا جائز نہیں ہے اور علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ عورت کی قضاء مطلقا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٥٦‘ مطبوعہ لاہور) 

ہر چند کہ علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے یہ لکھا ہے کہ علامہ طبری نے بعض امور میں اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز قرار دیا ہے لیکن اول تو یہ ثابت نہیں ‘ اور ثانیا ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ ‘ احادیث صحیحہ ‘ اسلام کے عمومی احکام اور جمہور فقہاء اسلام کی تصریحات کے سامنے ان اقوال کی کوئی وقعت نہیں ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ علامہ طبری اور بعض مالکیہ نے عورت کی عمومی سربراہی کو جائز نہیں کہا بلکہ بعض امور میں عورت کی صرف قضاء کو جائز کہا ہے۔ 

علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے بغیر کسی ثبوت کے علامہ طبری اور بعض مالکیہ کی طرف عورت کی قضاء کے جواز کی نسبت کردی ‘ حقیقت یہ ہے کہ علامہ طبری اور مالکی فقہاء دونوں اس تہمت سے بری ہیں ‘ علامہ ابوبکر ابن العربی مالکی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

حضرت ابوبکرہ کی روایت کردہ حدیث میں تصریح ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی اور اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے البتہ علامہ محمد بن جریر طبری سے یہ منقول ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا قاضی ہونا جائز ہے لیکن انکی طرف اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ ان کی طرف اس قول کی نسبت ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ کی طرف یہ غلط منسوب کردیا گیا ہے کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ نیز 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ بن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں : 

عورت سربراہی کی اس لئے اہل نہیں ہے کہ حکومت اور سربراہی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے قومی معاملات کو سلجھایا جائے ملت کی جائے اور مالی محاصل حاصل کرکے ان کی مستحقین میں تقسیم کیا جائے اور یہ تمام امور مرد انجام دے سکتا ہے عورت یہ کام انجام نہیں دین سکتی کیونکہ عورت کے لئے مردوں کی مجالس میں جانا اور ان سے اختلاط کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اگر وہ عورت جوان ہے تو اس کی طرف دیکھنا اور اس سے کلام کرنا حرام ہے اور اگر وہ سن رسیدہ عورت ہے تب بھی اس کا بھیڑ بھاڑ میں جانا مخدوش ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ١٤٥٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

ملکہ بلقیس کی حکومت سے استدلال کا جواب : 

قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے واقعے کا جس قدر ذکر ہے اس میں اس کی حکومت کے خاتمہ کا ذکر ہے ‘ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اس کی حکومت کے تسلسل کا ذکر نہیں ہے لہذا اس واقعہ میں عورت کی سربراہی کا ادنی جواز بھی موجود نہیں ہے اور اگر بالفرض بلقیس کے اسلام لانے کے بعد اس کی حکومت کو ثبوت ہو بھی تو وہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے۔ 

جنگ جمل کے واقعہ سے عورت کی سربراہی پر استدلال کا جواب : 

بعض متجدد علماء جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی شرکت سے عورت کی سربراہی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں لیکن یہ استدلال قطعا باطل ہے اول تو حضرت عائشہ (رض) امارت اور خلافت کی مدعیہ نہیں تھیں ہاں وہ امت میں اصلاح کے قصد سے اپنے گھر سے باہر نکلیں لیکن یہ ان کی اجتہادی خطا تھی اور وہ اس پر تاحیات نادم رہیں ‘ امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ (رض) (آیت) ” وقرن فی بیوتکن “ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو “ کی تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ (طبقات کبری ج ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دار صادر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34