بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ

اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا : آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا ‘ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا : آدم کو سجدہ کرو۔ (البقرہ : ٣٤)
حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کی وجہ :
جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی فرشتوں پر فضیلت علمی ظاہر ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت علمی کا اعتراف کرانے کے لیے انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ایک اور آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا جسم بناتے ہی فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا :
(آیت) ” فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین “۔ (الحجر : ٢٩)
ترجمہ : سو جب میں اس کو پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی پسندیدہ روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ کرتے ہوئے گرجانا
اس آیت کے اعتبار سے فرشتوں کا امتحان ہے اور حضرت آدم کی فضیلت کا اظہار اور فرشتوں کی اطاعت گزاری کا بیان ہے۔
سجدہ کا لغوی اور شرعی معنی :
علامہ مجدالدین فیروزآبادی (رح) نے لکھا ہے کہ سجدہ کا معنی ہے : سرنیچے کیا اور جھک گیا۔ (قاموس ج ١ ص ٥٧٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
سجدہ کا لغوی معنی ہے : تذلل کے ساتھ جھکنا ‘ سجدہ کو اللہ کی عبادت سے تعبیر کرتے ہیں ‘ سجدہ کی دو قسمیں ہیں : ایک سجدہ اختیاری ہے اور دوسرا سجدہ تسخیر ہے ‘ سجدہ اختیاری باعث ثواب ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” فاسجدوا للہ واعبدوا “ (النجم ٦٢)
ترجمہ : سو اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو “۔
اور سجدہ تسخیر ‘ انسان ‘ حیوان اور نباتات سب ادا کرتے ہیں : (المفردات ص ‘ ٢٢٣ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
(آیت) ” وللہ یسجدمن فی السموت والارض طوعا وکرھا۔ (الرعد : ١٥)
ترجمہ : اور جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سب خوشی یا مجبوری سے اللہ ہی کو سجدہ کررہے ہیں۔
سجدہ کے شرعی معنی کے متعلق علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں : عبادت کے قصد سے پیشانی کو زمین پر رکھنا سجدہ ہے۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٦٢‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
پیشانی کو زمین پر رکھنا ہاتھوں کو اور گھٹنے یا پیروں میں سے کسی ایک کے زمین پر رکھنے پر موقوف ہے ‘ اس لیے سجدہ کا رکن پیشانی، ہاتھوں اور گھٹنوں اور پیروں میں سے کسی ایک کو زمین پر رکھنا ہے ‘ اور سنت کے مطابق سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے : چہرہ ‘ دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ‘ بعض علماء نے جو یہ لکھا ہے کہ پیروں کی انگلیاں اٹھ جائیں یا مڑ جائیں تو سجدہ نہیں ہوتا یہ صحیح نہیں ہے ‘ اس کی پوری تفصیل اور تحقیق ” شرح مسلم “ جلد اول میں بیان کی گئی ہے۔
فرشتوں کو جس سجدہ کا حکم دیا گیا تھا اس سے یا تو شرعی سجدہ مراد ہے اس صورت میں سجدہ اللہ تعالیٰ تھا اور حضرت آدم کو ان کی عزت افزائی کے لیے قبلہ بنایا گیا تھا ‘ اور یا یہ لغوی سجدہ تھا یعنی سجدہ تعظیم ‘ اور فرشتوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعظیم اور تحیث کے لیے تو اضعا جھک جانے کا حکم دیا گیا تھا جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تواضعا سجدہ کر کے تعظیم کی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا ‘ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا (البقرہ : ٣٤)
تکبر کا معنی اور ابلیس کے تکبر کا بیان :
تکبر کا معنی ہے : کوئی شخص اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ بڑا خیال کرے اور استکبار کا معنی اپنے لیے بڑائی طلب کرنا ہے۔
امام مسلم (رح) اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا : ایک آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اس کے جوتے اچھے ہوں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال سے محبت کرتا ہے ‘ تکبر (کامعنی ہے) حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٦٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
ابلیس کا تکبر یہ تھا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا انکار کیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو حقیر جانا ‘ اور ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو برا جانا ‘ کیونکہ اس کے خیال میں وہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے افضل تھا اور افضل کو مفضول کی تعظیم کا حکم دینا قبیح اور برا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو برا جاننا کفر ہے ‘ حسب ذیل آیات میں اس کے کفر کی وجہ صراحۃ بیان کی گئی ہے :
(آیت) ” قال یابلیس مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی استکبرت ام کنت من العالین قال انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “۔ (ص : ٧٥۔ ٧٤)
ترجمہ : اللہ نے فرمایا کہ اے ابلیس ! تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ؟ آیا تو نے اب تکبر کیا ہے یا تو پہلے سے ہی متکبرین میں سے تھا ؟ اس نے کہا : میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔
ابلیس کا معنی اور اس کے فرشتہ یا جن ہونے کی تحقیق :
محی الدین دریش (رح) لکھتے ہیں :
لفظ ابلیس میں اختلاف ہے کہ آیا یہ مشتق ہے یا نہیں ؟ صحیح قول یہ ہے کہ عجمی علم ہے اور اسی وجہ سے یعنی علمیت اور عجمیت کی وجہ سے یہ غیر منصرف ہے اور اگر یہ ” ابلاس “ (معنی مایوس ہونے) سے مشتق ہوتا تو منصرف ہوتا۔ (اعراب القرآن وبیانہ ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ مطبع دار ابن کثیر بیروت ١٤١٢ ھ)
محمد صافی (رح) نے بھی یہی لکھا ہے۔ (اعراب القرآن و صرفہ وبیانہ ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ انتشارات مدین ایران ١٤١٢ ھ)
جریج نے کہا ہے کہ یہ علم ہے اور علامہ قرطبی (رح) نے اس کو مشتق لکھا ہے۔
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
جمہور کے قول کے مطابق ابلیس فرشتوں میں سے تھا ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ حضرت ابن مسعود ‘ ابن جریج (رح) ‘ ابن المسیب (رض) اور قتادہ (رض) وغیرہم کا یہی مختار ہے ‘ امام ابو الحسن اشعری کا بھی یہی نظریہ ہے ‘ امام ابن جریر طبری (رح) نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ ابلیس کا نام عزازیل تھا اور یہ معزز فرشتوں میں تھا اور چار پروں والا تھا ‘ اس کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیا گیا ‘ قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ یہ فرشتوں کی عمدہ قسم میں شامل ہوتا تھا ‘ سعید بن جبیر (رض) نے کہا : کچھ ملائکہ نار (آگ) سے پیدا کئے گئے تھے ابلیس بھی انہی میں سے تھا ‘ اور باقی ملائکہ کو نور سے پیدا کیا گیا۔
ابن زید ‘ حسن اور قتادہ (رض) نے کہا کہ ابلیس ابوالجن ہے جیسا کہ حضرت آدم ابو البشر ہیں اور وہ فرشتہ نہیں ہے ‘ اور اس کا نام حارث ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے بھی ایک روایت اسی طرح ہے ‘ شھر بن حوشب اور بعض اصولیین نے یہ کہا کہ ابلیس ان جنوں میں سے تھا جو زمین پر رہتے تھے ‘ فرشتوں نے ان سے قتال کیا اور کم عمری میں اس کو قید کرلیا ‘ اس نے فرشتوں کے ساتھ عبادت کی ‘ اس وجہ سے اس کو فرشتوں کے ساتھ مخاطب کیا گیا ‘ اس قول کو امام ابن جریر (رح) نے حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل کیا ہے ‘ اس بناء پر یہ استناء منقطع ہوگا۔
جن صحابہ اور ائمہ کا یہ نظریہ ہے کہ ابلیس فرشتہ نہیں جن تھا ان کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی تھی اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی نہیں کرتے :
(آیت) ” لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایؤمرون “۔ (التحریم : ٦)
ترجمہ : وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اور اس آیت میں صاف تصریح ہے کہ ابلیس جن تھا :
(آیت) ” فسجدوا الا ابلیس کان من الجن ففسق عن امر ربہ “۔ (الکہف : ٥٠)
ترجمہ : ابلیس کے سوا سب فرشتوں نے سجدہ کیا ‘ وہ جنوں میں سے تھا ‘ سو اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔
ثعلبی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابلیس فرشتوں کے اس قبیلہ میں سے تھا جس کو جن کہا جاتا ہے ‘ ان کو دھوئیں والی آگ سے پیدا کیا گیا تھا ‘ اور فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا تھا ‘ اس کا نام سریانی زبان میں عزازیل اور عربی زبان میں حارث ہے ‘ یہ جنت کے خازنوں میں سے تھا اور آسمان دنیا کے فرشتوں کا سردار تھا ‘ آسمان اور زمین پر اس کی سلطنت تھی ‘ علم اور عبادت میں اس کی کوشش سب فرشتوں سے زیادہ تھی ‘ آسمان سے زمین تک کے معاملات کا یہ محافظ اور منتظم تھا ‘ ان امور کی وجہ سے یہ اپنا شرف اور مرتبہ سب سے زیادہ سمجھتا تھا ‘ اس زعم نے اس کو کفر پر برانگیختہ کیا ‘ سو اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ‘ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان رجیم اور راندہ درگاہ قرار دیا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٢٩٥۔ ٢٩٤‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
جمہور مفسرین یہ کہتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ میں سے تھا ‘ ان کی دلیل سورة بقرہ کی یہ آیت ہے : اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا : آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا ‘ ابلیس کو سجدہ کا حکم اسی وقت ہوگا جب وہ فرشتہ ہو کیونکہ اس آیت میں سجدہ کا حکم فرشتوں کو دیا گیا ہے اور جو علماء یہ کہتے ہیں کہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابلیس جن تھا لیکن وہ فرشتوں کے درمیان چھپا رہتا تھا اس لیے بہ طور تغلیب وہ بھی فرشتوں میں داخل تھا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ جنوں کو بھی سجدہ کرنے کا حکم تھا لیکن فرشتوں کے ذکر کے بعد ان کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی ‘ کیونکہ جب اکابر کو کسی کی تعظیم کرنے کا حکم دیا جائے تو اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اصاغر کو اس کی تعظیم کا بہ طریق اولی حکم ہے۔
امام ابن جریر طبری (رح) ‘ علامہ قرطبی (رح) ‘ امام رازی (رح) ‘ قاضی بیضاوی (رح) ‘ علامہ ابوالحیان اندلسی اور علامہ آلوسی وغیرہ کی تحقیق ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے تھا اس کے برخلاف علامہ سیوطی (رح) ‘ علامہ نسفی ‘ علامہ زمخشری ‘ بعض دیگر مفسرین اور متکلمین کی تحقیق یہ ہے کہ ابلیس جن تھا اور قرآن مجید کی ظاہر آیات اسی کے موافق ہیں ‘ علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
ابلیس جن تھا ‘ اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی لیکن چونکہ وہ فرشتوں کی طرف عبادت گزار تھا اور ان میں چھپا رہتا تھا ‘ اس لیے اس کو بھی تغلیبا فرشتوں میں شامل کرکے سجدہ کا حکم دیا گیا تھا۔ (شرح عقائد ص ٩٩‘ مطبوعہ محمد سعید تاجران کتب ‘ کراچی)
ابلیس کے جن ہونے پر حسب ذیل دلائل قائم کئے گئے ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : (آیت) ” کان من الجن “ (الکہف : ٥٠) اس آیت میں ابلیس کے جن ہونے کی تصریح ہے۔
(٢) فرشتوں کی نسل نہیں چلتی اور ابلیس کی نسل ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ اولیآء (الکہف : ٥٠)
ترجمہ : کیا تم شیطان اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہیں ؟
حضرت ابن عباس (رض) کی طرف جو یہ منسوب ہے کہ فرشتوں کی ایک نوع میں توالد ہوتا ہے ‘ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (نبراس ص ٤٦١)
(٣) اللہ تعالیٰ ا رشاد ہے : (آیت) ” لایعصون اللہ ما امرھم “۔ (التحریم : ٦) فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ‘ اور ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔
(٤) امام مسلم (رح) نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا۔ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ ‘ صحیح مسلم ج ٢ ص ٤١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اور قرآن مجید میں تصریح ہے کہ شیطان کو نار سے پیدا کیا گیا ہے۔
جو علماء ابلیس کو فرشتہ قرار دیتے ہیں وہ ان تین آیات اور اس حدیث میں تاویل کرتے ہیں ‘ اور جو ابلیس کو جن قرار دیتے ہیں وہ صرف (آیت) ” فسجدوا الا ابلیس “۔ (البقرہ : ٣٤) میں تاویل کرتے ہیں یا اس استثناء کو منقطع قرار دیتے ہیں اور زیادہ آیتوں میں تاویل کرنے کی بہ نسبت ایک آیت میں تاویل کرنا اولیٰ ہے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں حضرت عمر (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے ‘ اس میں ہے : حضرت جبرائیل رو رہے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے جبرائیل ! اللہ نے تمہیں اتنا بڑا مقام دیا ہے اور پھر بھی تم رو رہے ہو ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : میں کیوں نہ روؤں ‘ میں رونے کا زیادہ حقدار ہوں ‘ ہو ساکتا ہے اللہ کے علم میں میرا یہ مقام نہ ہو جس پر میں فائز ہوں اور ہوسکتا ہے کہ مجھے اس طرح آزمائش میں ڈالا گیا ہو جس طرح ابلیس کو آزمائش میں ڈالا گیا تھا ‘ بیشک وہ بھی فرشتوں میں سے تھا۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ١٢ ص ٣١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ ابلیس فرشتوں میں سے تھا اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا ایک راوی متروک ہے جیسا کہ اس حدیث کے آخر میں لکھا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس کے جن یا فرشتہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن اس کے جن ہونے پر زیادہ دلائل قائم ہیں اور فرشتہ ہونے پر صرف اس آیت میں استثناء متصل سے استدلال کیا گیا ہے اور اس استثناء میں یا تاویل کی جائے گی یا اس کو استثناء منقطع پر محمول کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے فرمایا اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ (البقرہ : ٣٥)
حضرت حوا کی خلقت کا بیان :
قرآن مجید میں حضرت حواء کو پیدا کرنے کا ذکر ہے :
(آیت) ” ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا لیسکن الیھا ‘(الاعراف : ١٨٩)
ترجمہ : (اللہ) وہی جس نے تم کو ایک ذات سے پیدا کیا اور اسی ذات سے اس کی بیوی کو بنایا تاکہ اس کی طرف سکون حاصل کرے۔
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے ساتھ خیرخواہی اور اچھا سلوک کرو ‘ کیونکہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اس کے اوپر والے حصے میں ہوتا ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اس کو چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی رہے گی ‘ سو عورتوں کے ساتھ خیرخواہی کرو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام ابن جریر طبرنی (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) اور دیگر کئی صحابہ کرام (رض) بیان کرتے ہیں کہ پھر ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور اس پر لعنت کی گئی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رکھا گیا ‘ حضرت آدم جنت میں تھے اور ان کو وحشت ہوتی تھی ‘ ان کی بیوی نہیں تھی جس سے ان کو سکون ملے ‘ ایک دن وہ سو گئے جب وہ بیدار ہوئے تو ان کے سرہانے ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی جس کو اللہ نے ان کی پسلی سے پیدا کیا تھا ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پوچھا ‘ تم کون ہو ؟ اس نے کہا : عورت ‘ پوچھا تم کو کیوں پیدا کیا گیا ہے ‘ کہا تاکہ تم کو مجھ سے سکون ملے ‘ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے پوچھا اے آدم ! اس کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : حوا ‘ پوچھا ‘ آپ نے اس کا نام حواء کیوں رکھا ؟ فرمایا : اس لیے کہ یہ حی (زندہ شخص) سے پیدا کی گئی ہے ! تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس جنت میں سے جہاں سے چاہو خوب کھاؤ (جامع البیان ج ١ ص ١٨٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
آیا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت الخلد میں رکھا گیا تھا یا زمین کے کسی باغ میں ؟
علامہ ابن عطیہ لکھتے ہیں :
جنت اس باغ کو کہتے ہیں کہ جس کے گرد باڑ ہو ‘ جس جنت میں حضرت آدم کو رکھا گیا تھا اس میں اختلاف ہے آیا وہ جنت الخلد تھی یا ان کے لیے کوئی باغ تیار کیا گیا تھا ‘ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ جنت الخلد نہیں تھی ان کی دلیل یہ ہے کہ جو جنت الخلد میں داخل ہوجائے وہ اس سے نکلتا نہیں ہے اور یہ محال ہے ‘ البتہ احادیث میں یہ ہے کہ جو بہ طور ثواب کے جنت میں داخل ہوا وہ اس سے نہیں نکلے گا اور جو حضرت آدم کی طرح ابتداء جنت میں داخل ہو اس کا جنت سے نکلنا محال نہیں ہے اور اس کے متعلق احادیث میں یہ نہیں ہے کہ وہ نہیں نکلے گا۔ (المحرر الوجیزج ١ ص ١٨٢‘ مطبوعہ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٩٥ ھ)
علامہ قرطبی لکھتے ہیں :
معترلہ اور قدریہ کا یہ نظریہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت الخلد میں رہنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کو عدن کے ایک باغ میں رہنے کا حکم دیا تھا ‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ جنت الخلد میں ابلیس نہیں جاسکتا کیونکہ جنت الخلد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(آیت) ” لایسمعون فیھا لغوا ولا تاثیما “ (الواقعہ : ٢٥)
ترجمہ : وہ اس میں کوئی بےہودہ بات نہیں سنیں گے نہ گناہ کی بات ‘
(آیت) ” لایسمعون فیھا لغوا ولا کذبا “۔ (النبا : ٣٥)
ترجمہ : وہ اس میں کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ جھوٹی بات۔
(آیت) ” لایسمھم فیھا نصب وما ھم منھا بمخرجین “۔ (الحجر : ٤٨)
ترجمہ : انہیں وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ابلیس نے جنت میں جھوٹ بولا اور بےہودہ بات کی اور آدم اور حواء کو ان کی معصیت کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جنت کی یہ صفت اس وقت ہوگی جب قیامت کے بعد لوگ بہ طور جزاء کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ جنت دارالخلد ان لوگوں کے لیے ہوگی جن کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رکھنا چاہے گا اور جن کے لیے موت مقدر کردی گئی ہے وہ جنت میں داخل ہونے کے بعد اس سے نکل آئیں گے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شب معراج جنت میں گئے اور پھر باہر آئے ‘ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے معروف جنت میں داخل ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا : آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا ‘ پھر آپ نے اپنی خطا کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اتارا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٣٥) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دار الخلد میں رکھا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٣٠٢ مطبوعہ ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس جنت میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا ‘ ورنہ تم حد سے بڑھنے والوں میں شمار ہوگئے (البقرہ : ٣٥)
شجرممنوع کا بیان :
علامہ ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
اس درخت کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے کہ یہ زیتون کا درخت تھا ‘ ایک روایت یہ ہے کہ یہ گندم کا درخت تھا اور ایک روایت یہ ہے کہ یہ انگور کا درخت تھا۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء کو کسی معین درخت کے پھل کھانے سے منع کیا تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ صراحت نہیں کی کہ وہ کون سا درخت ہے ‘ اس درخت کا نام ذکر کیا اور نہ اس کی طرف کوئی اشارہ کیا ‘ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے درختوں میں سے کسی خاص درخت کا پھل کھانے سے حضرت آدم اور حضرت حوا کو منع کیا تھا باقی تمام درختوں سے منع نہیں کیا تھا ‘ ہمارے پاس اس کے علم کی کوئی سبیل نہیں ہے کہ وہ کونسا درخت تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا کوئی ذکر کیا ہے نہ سنت صحیحہ میں اس کی کوئی تعیین ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف اقوال ہیں کہ یہ گندم کا درخت تھا ‘ یا زیتون کا درخت تھا یا انگور کا درخت تھا اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کون سا درخت تھا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے (البقرہ : ٣٥)
آیا شجر ممنوع سے کھانا معصیت تھا یا نہیں ؟
اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس درخت سے کھایا اور اس درخت کے قریب گئے تو کیا وہ ظالموں میں سے ہوگئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قصد اور ارادہ سے درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا ہے ‘ کیونکہ جب کسی کام سے منع کیا جائے تو اس کا محمل یہی ہوتا ہے کہ اس کام کو قصد اور ارادہ سے نہ کیا جائے اور گناہ کی بھی یہی تعریف ہے کہ قصدا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے اور کام نسیان اور خطاء سے سرزد ہوگیا وہ گناہ نہیں ہوتا ‘ سو اب یہ دیکھنا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس درخت سے قصدا کھایا یا بھول کر ‘ تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی ولم نجدلہ عزما “۔ (طہ : ١١٥)
ترجمہ : اور بیشک اس سے پہلے ہم نے آدم سے عہد لیا تھا (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائیں) پس وہ بھول گئے اور ہم نے ان کا قصد نہیں پایا
اور جب آدم (علیہ السلام) نے بھول سے اس درخت سے کھایا تو نہ ان سے معصیت سرزد ہوئی اور نہ وہ ظالموں میں سے ہوئے۔
اب اگر یہ سوال ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے : آدم نے معصیت کی :
(آیت) ” وعصی ادم ربہ فغوی “۔ (طہ : ١٢١ )
ترجمہ : آدم نے اپنے رب کی معصیت کی سو وہ (جنت کی سکونت سے) بےراہ ہوگئے
اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ حضرت آدم بھول کر درخت کے قریب گئے تھے اور ان کا یہ فعل حقیقت میں معصیت نہیں تھا ‘ لیکن یہ فعل اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے معصیت تھا ‘ اور اس آیت میں ان کے اس فعل کو ظاہر اور صورت کے اعتبار سے معصیت فرمایا ہے۔ اس آیت سے مقصود تو یہ تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اس درخت سے نہ کھائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس درخت کے قریب نہ جانا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جو کام ممنوع ہو اس کے مبادی اور مقدمات بھی ممنوع ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس شیطان نے انہیں اس درخت کے ذریعے لغزش میں مبتلاء کیا اور جہاں وہ رہتے تھے وہاں سے ان کو نکال دیا۔ (البقرہ : ٣٦)
شجرممنوع سے کھانے کے لیے ابلیس کی وسوسہ اندازی کا بیان :
اللہ تعالیٰ نے شیطان کے وسوسہ کا حسب ذیل آیتوں میں بیان فرمایا ہے :
(آیت) ” فوسوس الیہ الشیطن قال یادم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی فاکلا منھا فبدت لہما سواتھما وطفقا یخصفن علیہما من ورق الجنۃ ‘ (طہ : ١٢١۔ ١٢٠)
ترجمہ : پھر شیطان نے آدم کی طرف وسوسہ کیا ‘ کہا : اے آدم ! کیا تمہیں (جنت میں) ہمیشہ رہنے کا درخت بتادوں اور ایسی بادشاہت جو کبھی کمزور نہ ہو ؟ تو (آدم وحوا) دونوں نے اس درخت سے کھالیا ‘ سو ان کی ستر گاہیں کھل گئیں اور وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنا جسم چھپانے لگے۔
(آیت) ” وقال مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملکین اوتکونا من الخلدین وقاسمھما انی لکما لمن النصحین “۔ (الاعراف : ٢١۔ ٢٠)
ترجمہ : اور شیطان نے کہا : تم دونوں کو تمہارے رب نے اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ اور ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیرخواہ ہوں
حضرت آدم (علیہ السلام) نے اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کوئی جھوٹی نہیں کھا سکتا اور انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تنزیہا منع کیا ہے اور یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے تحریما منع فرمایا تھا ‘ یا انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خاص اس درخت سے منع فرمایا ہے ‘ میں اس نوع کے کسی اور درخت سے کھالیتا ہوں ‘ دونوں صورتوں میں ان کے اجتہاد کو خطاء لاحق ہوئی اور وہ یہ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نوع شجر سے منع کیا تھا اور یہ واضح رہے کہ اجتہادی خطاء اور نسیان عصمت کے منافی نہیں ہے اور باقی رہا ان کا عرصہ دراز تک توبہ اور استغفار کرنا تو یہ ان کا کمال تواضع اور انکسار ہے۔
ایک اور سوال یہاں پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو جنت سے نکال دیا تھا تو وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو وسوسہ ڈالنے کے لیے جنت میں کیسے پہنچ گیا ؟
(آیت) ” قال فاخرج منھا فانک رجیم “ (الحجر : ٣٤)
ترجمہ : فرمایا : تو جنت سے نکل جا ‘ سو بیشک تو مردود ہے۔
مفسرین نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں ‘ ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عزت اور کرامت کے ساتھ جنت میں اس کے دخول کو منع فرمایا تھا اور وہ چوروں کی طرح چھپ کر گیا اور کسی اور صورت میں متمثل ہو کر حضرت آدم (علیہ السلام) سے یہ گفتگو کی اور ان کو وسوسہ ڈالا ‘ یا وہ جنت کے دروازہ کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اور وہاں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو آواز دے کر بلایا ‘ یا وہ کسی جانور کی صورت میں جنت میں چلا گیا اور جنت کے محافظ اس کو نہ پہچان سکے ‘ یا وہ سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں گیا یا اس نے اپنے بعض چیلوں کو یہ پیغام دے کر جنت میں بھیجا۔
امام ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) ، حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا : اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جنت میں سے جہاں سے چاہو خوب کھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم دونوں حد سے بڑھنے والوں میں سے ہوجاؤ گے ‘ اس وقت ابلیس نے ان دونوں کے پاس جنت میں جانے کا ارادہ کیا ‘ جنت کے محافظوں نے اس کو جانے نہیں دیا ‘ اس وقت سانپ اونٹ کی طرح ایک چوپایہ تھا اور بہت حسین جانور تھا ‘ ابلیس نے اس سے کہا : وہ اس کو اپنے منہ میں رکھ کر جنت میں لے جائے ‘ سوسانپ ابلیس کو اپنے منہ میں رکھ کر چلا گیا اور جنت کے محافظوں کو پتا نہ چلا پھر ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا : کیا میں تم کو ایسا درخت نہ بتاؤں جس کو کھانے کے بعد تم دونوں فرشتوں کی طرح ہوجاؤ گے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے ہوجاؤ گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور قسم کھا کر کہا کہ وہ ان کی خیرخواہی کر رہا ہے حالانکہ اس کا ارادہ یہ تھا کہ ان کا ستر کھل جائے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے انکار کیا تو حضرت حواء نے آگے بڑھ کر اس درخت سے کھالیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) سے کا : اے آدم ! اسے کھالو ‘ دیکھو میں نے کھایا ہے مجھے کچھ نہیں ہوا ‘ جب حضرت آدم نے اس کو کھایا تو ان دونوں کی شرم گاہیں کھل گئیں اور وہ درخت کے پتوں سے اپنے اپنے جسموں کو ڈھانپنے لگے۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٨٧‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ ابن حبان اندلسی نے کہا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ ابلیس نے زمین سے ہی حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہ طریق وسوسہ خطاب کیا تھا اور وہ دھتکارے جانے کے بعد زمین سے آسمان کی طرف نہیں گیا۔ (البحرالمحیط ج ١ ص ٢٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
حضرت آدم (علیہ السلام) نے شجر ممنوع سے پھل کھایا اور اس کے نتیجہ میں ان کا ستر کھل گیا اور ان کو جنت سے زمین پر بھیج دیا گیا ‘ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ‘ جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ یہاں یہ بحث کی جاتی ہے کہ آیا ان کا شجر ممنوع سے کھانا ان کی عصمت کے منافی ہے یا نہیں ‘ اس لیے ہم عصمت کا اصطلاحی معنی ‘ عصمت انبیاء میں مذاہب ‘ عصمت انبیاء پر دلائل اور بہ ظاہر عصمت کے منافی امور کا جواب اور قصہ آدم کے تفصیلی جوابات ذکر کریں گے ‘ ہم نے اس موضوع پر ” شرح صحیح مسلم “ جلد سابع (٧) میں بہت تفصیل اور تحقیق سے گفتگو کی ہے ‘ تاہم یہاں بھی ہم ضروری امور کو ذکر کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔
عصمت انبیاء کا اصطلاحی معنی :
علامہ میر سید شریف جرجانی (رح) لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک عصمت کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) میں گناہ پیدا نہ کرے اور حکماء کے نزدیک عصمت ایک ملکہ (صفت راسخہ ‘ صفت نفسانیہ) ہے جو معاصی کی قباحت اور عبادت کی فضیلت کے علم کی وجہ سے ان کو گناہوں سے روکتی ہے اور عبادت پر برانگیختہ کرتی ہے اور اوامر اور نواہی کی مسلسل وحی کی وجہ سے یہ صفت اور راسخ ہوجاتی ہے ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) سے جو سہوا اور بعض کے نزدیک عمدا صغائر صادر ہوتے ہیں یا وہ کسی اولی اور افضل کام کو ترک کردیتے ہیں ‘ اس سے ان کی عصمت پر اعتراض نہیں ہوگا ‘ کیونکہ صفات نفسانیہ ابتداء غیر راسخ ہوتی ہیں، پھر بتدریج راسخ ہوجاتی ہیں (اور راسخ ہونے کے بعد وہ صفات ملکیہ کہلاتی ہیں) اور ایک قوم (علماء شیعہ) نے عصمت کی تعریف میں یہ کہا ہے کہ کسی انسان کی روح یا اس کے بدن میں ایسی خاصیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس سے گناہوں کا صدور ممتنع ہوتا ہے ‘ یہ تعریف اس لیے باطل ہے کہ اگر ان سے گناہوں کا صدور محال ہو تو وہ گناہوں کے ترک پر دنیا میں مدح اور آخرت میں ثواب کے مستحق نہ ہوں ‘ کیونکہ جو چیز محال ہو اس کے ترک سے تعریف ہوتی ہے نہ ثواب ‘ کیونکہ اس کا کرنا قدرت اور اختیار میں نہیں ہے ‘ نیز اس پر اجماع منعقد ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو گناہوں کے ترک سے ثواب ہوتا ہے اور وہ گناہوں کے ترک کرنے کے مکلف ہیں اور اگر ان سے گناہوں کا صدور محال ہوتا تو ان کو مکلف نہ کیا جاتا نہ ثواب دیا جاتا کیونکہ محال کو ترک کرنے کا مکلف نہیں کیا جاتا نہ اس پر ثواب دیا جاتا ہے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہیے کہ میں تمہاری مثل بشر ہوں ‘ میری طرف وحی کی جاتی ہے ‘ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو امور بشریت کی طرف راجع ہیں آپ ان میں تمام بشروں کی مثل ہیں اور آپ کا امتیاز صرف وحی سے ہے ‘ اس لیے جس طرح اور بشروں سے گناہوں کا صدور محال نہیں ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) سے بھی گناہوں کا صدور محال نہیں ہوگا۔ (شرح المواقف ج ٨ ص ٢٨١۔ ٢٨٠‘ مطبوعہ منشورات الشریف ایران ‘ ١٤١٢ ھ)
انبیاء کرام (علیہم السلام) اور عام بشروں میں صرف وحی کے لحاظ سے ہی فرق نہیں ہوتا بلکہ خصوصیات کے لحاظ سے بھی فرق ہوتا ہے ‘ ان کی بشریت مادی کثافتوں سے منزہ ہوتی ہے اور کمال قرب الہی کی وجہ سے ان کا قلب انوار الہیہ کی جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جس قدر خوف خد ان کو ہوتا ہے مخلوق میں سے کسی کو نہیں ہوتا۔
علماء شیعہ میں سے شیخ طوسی۔ ١ (شیض ابوجعفر محمد حسن طوسی متوفی ٤٦٠ ھ ‘ التبیان ج ١ ص ١٥٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) اور شیخ طبرسی۔ ٢ (شیخ ابوعلی فضل بن طبرسی متوفی ٥٤٨ ھ ‘ مجمع البیان ج ١ ص ١٩٥‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) نے یہ تصریح کی ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں صغیرہ اور کبیرہ گناہ محال ہیں۔
علماء اہل سنت کے نزدیک انبیاء (علیہم السلام) گناہوں پر قدرت اور اختیار کے باوجود خود خدا کے غلبہ سے گناہوں سے بازرہتے ہیں، صغیرہ اور کبیرہ عمدا نہیں کرتے ‘ البتہ نسیان یا اجتہادی خطا سے ان بعض اوقات صغیرہ کا صدور ہوجاتا ہے یا تبلیغی مصلحت کی وجہ سے وہ کسی افضل اور اولی کام کو ترک کردیتے ہیں۔
انبیاء کرام (علیہم السلام) کی عصمت پر دلائل :
انبیاء (علیہم السلام) کے معصوم ہونے پر حسب ذیل دلیل ہیں :
(١) اگر انبیاء (علیہم السلام) سے (العیاذباللہ) گناہ صادر ہو تو ان کی اتباع حرام ہوگی ‘ حالانکہ ان کی اتباع کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :
(آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم۔ (آل عمران : ٣١)
ترجمہ : آپ فرما دیجیے : اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو ‘ اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب بنالے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔
(٢) جس شخص سے گناہ صادر ہوں اس کی شہادت کو بلاتحقیق قبول کرنا جائز نہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا جآء کم فاسق بنبا فتبینوا “۔ (الحجرات : ٦)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اگر فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔
اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کی شہادت کو بلا تحقیق قبول کرنا واجب ہے۔
(٣) فاسق نبوت کا اہل نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” قال لاینال عھدی الظلمین “۔ (البقرہ : ١٢٤)
ترجمہ : اللہ نے فرمایا : ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچتا
(٤) اگر نبی سے گناہ صادر ہوں تو ان کو (العیاذ باللہ) ملامت کرنا جائز ہوگا اور اس سے نبی کو ایذا پہنچے گی اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ایذاء پہنچانا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ “۔ (الاحزاب : ٥٧)
ترجمہ : بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچاتے ہیں ‘ ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے۔
(٥) انبیاء (علیہم السلام) کے مخلص بندے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق و یعقوب اولی الایدی والابصار انا اخلصنھم “۔ (ص : ٤٦۔ ٤٥)
ترجمہ : اور ہمارے بندوں براہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو یاد کیجئے جو قوت اور نگاہ بصیرت والے ہیں ہم نے ان کو مخلص کردیا۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مخلصین کو شیطان گمراہ نہیں کرسکتا :
(آیت) ” قال فبعزتک لاغوینہم اجمعین الا عبادک منہم المخلصین “۔ (ص : ٨٣۔ ٨٢)
ترجمہ : ابلیس نے کہا : تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا سوا تیرے مخلص بندوں کے
(٦) گناہ گار لائق مذمت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی عزت افزائی کی ہے :
(آیت) ” وانہم عندنا لمن المصطفین الاخیار “ (ص : ٤٧)
ترجمہ : اور بیشک وہ (سب) ہماری بارگاہ میں ضرور پسندیدہ بندوں میں سے ہیں
(٧) انبیاء (علیہم السلام) لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں ‘ اگر وہ خود گناہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(آیت) ” کبرمقتا عنداللہ ان تقولوا مالاتفعلون “۔ (الصف : ٣)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات سخت ناراضگی کی موجب ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے
حالانکہ اللہ تعالیٰ انبیاء سے راضی ہے ‘ ارشاد ہے :
(آیت) ” علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا، الا من ارتضی من رسول “۔ (الجن : ٢٧۔ ٢١)
ترجمہ : وہ عالم الغیب ہے ‘ تو وہ اپنے غیب پر کسی کو (بذریعہ وحی) مطلع نہیں فرماتا بجز ان کے جن سے وہ رضی ہے جو اس کے (سب) رسول ہیں۔
اس آیت میں واضح فرمایا دیا کہ اللہ تعالیٰ سب رسولوں سے راضی ہے ‘ اور نیکی کا حکم دے کر خود عمل نہ کرنے والے سے وہ راضی نہیں ہے۔
(٨) اگر معاذ اللہ انبیاء (علیہم السلام) سے گناہوں کا صدور ہوتا تو وہ مستحق عذاب ہوتے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ومن یعص اللہ ورسولہ فان لہ نار جھنم خلدین فیھا ابدا “۔ (الجن : ٢٣)
ترجمہ : اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو لاریب اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا
اور امت کا اجماع ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) جہنم سے محفوظ اور مامون ہیں اور ان کا مقام جنت خلد ہے۔
(٩) انبیاء (علیہم السلام) فرشتوں سے افضل ہیں اور فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتے تو انبیاء (علیہم السلام) سے بطریق اولی گناہ صادر نہیں ہوں گے فرشتوں سے افضلیت کی دلیل یہ ہے کہ فرشتے عالمین میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو تمام عالمین پر فضیلت دی ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ان اللہ اصطفی ادم ونوحا وال ابراھیم وال عمرن علی العلمین “۔ (آل عمران : ٣٣)
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم ‘ نوح ‘ آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے
(١٠) اگر انبیاء (علیہم السلام) معصیت کریں ‘ تو ہم پر معصیت کرنا واجب ہوگی کیونکہ ان کی اتباع واجب ہے اور دوسرے دلائل سے ہم پر معصیت کرنا حرام ہے ‘ سو لازم آئے گا کہ ہم پر معصیت کرنا واجب بھی ہو اور یہ اجتماع ضدین ہے۔
عصمت انبیاء کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات اور مذاہب :
امام رازی (رح) نے عصمت انبیاء کے متعلق حسب ذیل اقوال نقل کیے ہیں :
(١) حشویہ کا مذہب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے عمدا گناہ کبیرہ کا صدور جائز ہے۔
(٢) اکثر معتزلہ کا مذہب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے عمدا گناہ کبیرہ کا صدور جائز نہیں البتہ عمدا گناہ صغیرہ کا صدور جائز ہے البتہ ان صغائر کا صدور جائز نہیں جن سے لوگ متنفر ہوں۔
(٣) جبائی کا مذہب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے عمدا کبائر اور صغائر دونوں اصدور جائز نہیں البتہ تاویلا جائز ہے۔
(٤) انبیاء (علیہم السلام) سے بغیر سہو اور خطا کے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا لیکن ان سے سہو اور خطاء پر بھی مواخذہ ہوتا ہے۔
(٥) رافضیوں کا مذہب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے کسی گناہ کا صدور ممکن نہیں ہے صغیرہ نہ کبیرہ ‘ سہوا نہ عمدا تاویلا نہ خطا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٠١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
مذکور الصدور اقوال نقل کرنے کے بعد امام رازی اپنا مختصر بیان کرتے ہیں :
عصمت انبیاء کے متعلق محققین کا مذہب :
امام رازی (رح) لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک مختار یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سے زمانہ نبوت میں یقینی طور پر کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا ‘ کبیرہ نہ صغیرہ : (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٠٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
ہمارا مذہب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اعلان نبوت کے بعد گناہ کبیرہ مطلقا نہیں کرتے ‘ اور صغائر عمدا نہیں کرتے ‘ البتہ ان سے سہوا صغیرہ کا صدور ہوجاتا ہے ‘ لیکن وہ اس پر اصرار نہیں کرتے اور نہ وہ اس پر برقرار رکھے جاتے ہیں بلکہ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے اور وہ متنبہ ہوجاتے ہیں۔ (شرح المقاصد ج ٢ ص ١٩٣، مطبوعہ دارالمعارف النعمانیہ ‘ ١٤٠١ ھ)
میر سید شریف جرجانی (رح) حنفی لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک مختاری یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اپنے زمانہ نبوت میں مطلقا گناہ کبیرہ سے اور عمدہ صیغرہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ (شرح موافق ص ٦٨٩‘ مطبوعہ مطبع منشی نو لکثور لکھنو)
انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر اعتراجات کا اجمالی جواب :
انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا اجمالی جواب یہ ہے کہ کچھ روایات میں انبیاء (علیہم السلام) کی طرف بعض ایسے واقعات منسوب ہیں جو عصمت کے خلاف ہیں یہ تمام واقعات اخبار احاد سے مروی ہیں اور یہ روایات ضعیف اور ساقط الاعتبار ہیں ‘ اور قرآن مجید کی بعض آیات میں جو انبیاء (علیہم السلام) کی طرف عصیان ‘ غوایت اور ذنب کی نسبت ہے ‘ وہ سہو نسیان ترک اولی یا اجتہادی خطاء پر محمول ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کا توبہ اور استغفار کرنا ان کی کمال تواضع انکسار اور امتثال امر پر محمول ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے فرمایا : تم (سب) نیچے اترو تم میں سے بعض ‘ بعض کے دشمن ہوں گے اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت مقرر تک ٹھکانا اور فائدہ اٹھانا ہے (البقرہ : ٣٦)
حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجنے کی حکمتوں کا بیان :
اس آیت میں حضرت آدم اور حوا کو خطاب ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ خطاب ہے (آیت) ” اھبطامنھا “ (طہ : ١٣٣) اور یہاں جمع کے صیغہ کے ساتھ خطاب ہے “ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں جو ان کی ذریت ہے اس کو بھی خطاب ہے یا حضرت آدم (علیہ السلام) حواء اور ابلیس کو خطاب ہے ‘ ہرچند کہ ابلیس کو پہلے بھی نکال دیا تھا لیکن جب وہ چوری سے چھپ کر وسوسہ ڈالنے کے لیے داخل ہوا تو اس کو دوبارہ نکال دیا۔
منکرین عصمت یا اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر حضرت آدم (علیہ السلام) نے گناہ نہیں کیا تھا تو ان کو سزا کیوں ملی اور ان کو جنت سے کیوں نکالا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجنے کا حکم دینا ‘ ان کے حق میں سزا نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ان کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہے ‘ کیونکہ ان کو زمین پر خلافت الہی کے لیے پیدا کیا گیا تھا ‘ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آدم اور ابلیس کے معرکہ میں ابلیس کامیاب ہوگیا اور اس نے ان کو جنت سے نکلوا دیا ‘ یہ بات بھی بالکل غلط ہے کیونکہ شیطان تو حضرت آدم کے جنت میں عارضی قیام کو بھی نہیں برداشت کرسکا تھا اور وہ اب دنیا میں آکر اور فرائض نبوت اور کار خلافت کو انجام دے کر دائمی قیام کے لیے جنت میں جائیں گے اور شیطان تو ان کے تنہا وجود کو جنت میں برداشت نہیں کرسکا اور حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں آنے کے بعد اپنی بیشمار ذریت کے ساتھ جنت میں جائیں گے اور شیطان لعنتی ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا ‘ اس لیے حضرت آدم (علیہ السلام) کا دنیا میں آنا ایک بہت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ تھا اور شیطان کی ناکامی اور نامرادی کا مقدمہ تھا سو اس معرکہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) ہی کامیاب تھے اور ابلیس خائب و خاسر ہوا۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت آدم (علیہ السلام) شجر ممنوع سے نہ کھاتے تو ہم جنت میں ہی رہتے ان کے شجر ممنوع سے کھانے کی وجہ سے ہمیں بھی جنت سے آنا پڑا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کیسے جنت میں رہتے اور آپ کا کیا استحقاق تھا ؟ جنت تو پاک لوگوں کی جگہ ہے ‘ حضرت آدم کی پشت میں پاک لوگ بھی تھے اور ناپاک لوگ بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو دنیا میں بھیجا کہ اپنی پشت سے تمام ذریت کو نکال کر زمین پر چھوڑ آؤ پھر جو پاک لوگ ہوں گے وہ جنت میں چلے جائیں گے اور جو ناپاک ہوں گے ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں ان ناپاک لوگوں کا وجود ان کے جنت سے آنے کا سبب تھا اور حقیقت یہ ہے کہ چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین کی خلافت کے لیے بنایا گیا تھا اس لیے انہوں بہرحال زمین میں آنا تھا ‘ شجرممنوع سے کھانا سبب نہ ہوتا تو کوئی اور سبب ہوتا ‘ نیز انبیاء (علیہم السلام) بعض اوقات اپنے مخالفین کے شر کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہجرت کرتے ہیں لیکن وہ پھر دوبارہ کامیاب وکامران ہو کر اس جگہ لوٹتے ہیں جیسے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے شر کی وجہ سے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی اور پھر مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے مدین کی طرف ہجرت کی اور پھر مصر میں فاتحانہ لوٹے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے زمین سے آسمان کی طرف ہجرت کی اور پھر زمین پر آئیں گے اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے جنت سے زمین کی طرف ہجرت کی اور پھر جنت میں فاتحانہ داخل ہوں گے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم خلقہ من تراب “۔ (آل عمران : ٥٩)
ترجمہ : بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا۔
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا زمین پر آنا متعدد حکمتوں کی وجہ سے ہے اور ان کی فضیلت کا موجب ہے ‘ کوئی سزا نہیں ہے۔ بقیہ اگلی آیت میں

[Tibyan-ul-Quran 2:34]