باب الكبائر وعلامات النفاق

بڑے گناہوں اور نفاق کی علامتوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ گناہ کبیرہ یا تو وہ ہے جس کی ممانعت دلیل قطعی سے ثابت ہو،یا وہ جس پر شریعت نے کچھ سزا مقرر کی ہو،یا وہ جس سے دین کی توہین ہو،یا ہر گناہ چھوٹے گناہ کے لحاظ سے کبیرہ ہے،یا جس چھوٹے گناہ پر ہمیشگی کی جائے وہ کبیرہ ہے،یا ایک ہی گناہ ایک کے لے صغیرہ اور دوسرے کے لیے کبیرہ “حَسَناتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ”،یا ایک کے لحاظ سے صغیرہ دوسرے کے لحاظ سے کبیرہ۔مسلمان کی توہین گناہ صغیر ہے،علماء مشائخ کی توہین گناہ کبیرہ،نبی،یا قران،یا کعبہ کی توہین کفر،گناہ کبیرہ اور نفاق کی علامت میں عموم مِنْ وَجْہٍ ہے۔

حدیث نمبر :47

روایت ہے عبداﷲ ابن مسعود سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا حضور کو ن سا گناہ ۲؎ بہت بڑا ہے اﷲ کے ہاں فرمایا یہ کہ تم اﷲ کا شریک ٹھہراؤ۔حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا۳؎ عرض کیا پھر کون سا گناہ۔فرمایا یہ کہ اپنی اولاد اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے۴؎ عرض کیا پھر کون سا گناہ فرمایا یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۵؎ تب اﷲ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت اتاری اور وہ جو خدا کے ساتھ دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور نہ اس جان کو ناحق قتل کریں جسے اﷲ نے حرام کیا ۶؎ اور نہ زنا کریں۔

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو عبدالرحمن اور ابن امّ عبد ہے،قبیلہ بنی حزیل سے ہیں،قدیم الاسلام اور جلیل القدر صحابی ہیں۔عمر فاروق سے پہلے اسلام لا ئے،صاحبِ ہجرتیں ہیں کہ اول حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ پاک کی جانب ہجرت کی،بدر اور تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین بردار اور صاحب اسرار تھے،سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک اور پانی لوٹا آپ کے ساتھ رہتا تھا۔عہد فاروقی میں کوفہ کے قاضی رہے،عہد عثمانی میں مدینہ پاک آگئے،ساٹھ سال سے زیادہ عمر پائی ۳۲ھ؁میں مدینہ پاک میں وفات ہوئی،جنت بقیع میں دفن ہوئے،خلفاء راشدین کے بعد بڑے فقیہ اور عالم صحابی آپ ہیں،امام ابوحنیفہ اکثر آپ ہی کی پیروی کرتے ہیں۔رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎ شرعًا بری چیز کا نام گنا ہ ہے۔اس کی چار قسمیں ہیں:ایک وہ جو بغیر توبہ معاف نہ ہو،جیسے کفر و شرک۔دوسرے وہ جو نیک اعمال کی برکت سے بھی معاف ہوجائے،جیسے گناہ صغائر۔تیسرے وہ کہ جن کے بغیر توبہ معاف ہونے کی بھی امید ہو،جیسے حقوق اﷲ کے کبیرہ گناہ۔چوتھے وہ کہ جن کی معافی کیلئے توبہ کے ساتھ مخلوق کو بھی راضی کرنا پڑے جیسے حقوق العباد۔(مرقاۃ)

۳؎ یعنی شرک و کفرکہ یہ اکبر الکبائرہے۔

۴؎ جیسا کہ عرب میں دستور تھا کہ غریب لوگ خرچ کے خوف سے بیٹے اور بیٹیوں دونوں کو قتل کردیتے تھے۔چونکہ اس میں بے قصور جان کو قتل کرنا اور اپنے قرابت دار پر ظلم کرنا اور خدا کی رزاقیّت پر اعتقاد نہ کرنا تینوں باتیں جمع ہیں،اس لئے اس کا درجہ کفر و شرک کے بعدرکھا گیا۔

۵؎ کہ زنا خود گناہِ کبیرہ ہے اور اس میں پڑوسی کے حق کا برباد کرنا بھی ہے۔کیونکہ ہرشخص اپنے پڑوسی پر اعتماد کرتا ہے اورا س کے جان و مال آبرو کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں گناہ کبیرہ صرف چار بیان فرمائے گئے۔ضرورت اور موقعہ کے لحاظ سےعبداﷲ ابن عباس فرماتے ہیں کہ گناہ کبیرہ ۷۰ ہیں اور سعید ابن جبیر فرماتے ہیں کہ ۷۰۰ ہیں۔(مرقاۃ)یعنی گناہ کبیرہ کی انواع ۷۰ اور افراد ۷۰۰۔

۶؎ اس آیت میں حَرَّم اﷲ سے مراد مؤمن ،کافر،ذمی اور مستامن ہیں۔اِلا بالحق میں ان جرموں کی طرف اشارہ ہے جن کی سزا قتل ہے جیسے مرتد ہوجانا،یا زنا،یا ظلمًا قتل یعنی مؤمن ان تین میں سے کوئی جرم کرے گا قتل کیا جائے گا۔