بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ

2:163

اور تمہارا معبود ‘ ایک معبود ایک ہے ‘ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ وہ نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمہارا معبود ایک معبود ہے ‘ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ (البقرہ : ١٦٣)

واحد کا معنی اور لا الہ اللہ پڑھنے کی فضیلت :

اس سے پہلی آیات میں حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا بیان کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہود اپنی کتابوں میں آپ کی نبوت کو چھپاتے تھے اس آیت میں اللہ کی الوہیت اور توحید کو بیان فرمایا ہے اور ظاہر فرمایا ہے یہود اللہ تعالیٰ کی توحید کو چھپاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے کا معنی یہ ہے کہ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور عبادت کا مستحق ہونے میں وہ متفرد ہے اور اس کی کسی صفت میں کوئی اس کا مثیل ‘ شیبہ اور نظیر نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ہم البقرہ : ٢١ میں دلائل بیان کرچکے ہیں :

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کا آخری کلام ہو۔ لا الہ الا اللہ “ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٨٨‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کا امام ترمذی نے بھی ذکر کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ١٦١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم نے روایات نہیں کیا ‘ لیکن یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج ١ ص ٣٥١‘ مطبوعہ دارالباز للنشر والتوزیع ‘ مکہ مکرمہ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

شبلی سے منقول ہے کہ وہ صرف اللہ کہتے تھے ‘ ” لا الہ الا اللہ نہیں کہتے تھے ‘ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : مجھے خوف ہے کہ میں نے ” لا الہ “ کہا اور اسی وقت مرگیا اور ” الا اللہ “ پر نہ پہنچ سکا تو خدا کی نفی کرتا ہوا مروں گا ‘ لیکن یہ انکی محض علمی موشگافی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ مقصود دل سے اللہ کو ماننا ہے اگر کوئی شخص دل سے اللہ کو مانتا ہو اور ” لا الہ الا اللہ “ کہنے کا ارادہ رکھتا ہو اور صرف لا الہ پر اس کو موت آجائے تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت کے مطابق اہل جنت میں سے ہوگا ‘ اس لیے وہی پڑھنا چاہیے جس کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تعلیم دی ہے اور اپنی طرف سے باریکیاں نہیں نکالنی چاہیے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٩١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

ملا علی قاری لکھتے ہیں :

شیخ محی الدین ابن العربی نے کہا ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ جس شخص نے ستر ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھا اس کی مغفرت کردی جائے گی اور جس کے لیے پڑھا گیا اس کی بھی مغفرت کردی جائے گی ‘ میں نے ستر ہزار بار یہ کلمہ پڑھ لیا تھا اور کسی کے لیے خصوصی نیت نہیں کی تھی ‘ ایک مرتبہ میں ایک کھانے کی دعوت میں پہنچا ‘ وہاں ایک نوجوان کشف میں مشہور تھا ‘ کھانے کے دوران وہ رونے لگا میں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا : میں نے اپنی ماں کو عذاب میں گرفتار دیکھا ہے ‘ میں نے دل ہی دل میں ان ستر ہزار کلمات کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا اور اب وہ نوجوان ہنسنے لگا اور کہا : اب میں نے اپنی ماں کو اچھے حال میں دیکھا ہے ‘ تو مجھے اس حدیث کی صحت کا اس نوجوان کے کشف سے یقین ہوا اور اس کے کشف کی صحت کا اس حدیث سے یقین ہوگیا۔ (مرقات ج ٣ ص ٩٩۔ ٩٨ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 163