بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَ‌ؕ وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ فِدۡيَةٌ طَعَامُ مِسۡكِيۡنٍؕ فَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا فَهُوَ خَيۡرٌ لَّهٗ ؕ وَاَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَيۡرٌ لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

معدودے چند دنوں میں ‘ سو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا مسافر (اور وہ روزے نہ رکھے) تو دوسرے دنوں میں عدد (پورا کرنا لازم ہے) اور جن لوگوں پر روزے رکھنا دشوار ہو (ان پر ایک روزہ کا) فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے ‘ پھر جو خوشی سے فدیہ کی مقدار بڑھا کر زیادہ نیکی کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے اور اگر تمہیں علم ہو تو روزہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا مسافر ہو (اور وہ روزے نہ رکھے) تو دوسرے دنوں میں عدد (پورا کرنا لازم ہے) ۔ (البقرہ : ١٨٤)

مریض کے روزہ قضا کرنے کے متعلق مذاہب ائمہ :

علامہ ابواسحاق شیرازی شافعی لکھتے لکھتے ہیں :

جو شخص مرض کی وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو ‘ روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو اور اس مرض کے زائل ہونے کی توقع ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے اور جب مرض زائل ہوجائے تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے اور جب مرض زائل ہوجائے تو اوس پر ان روزوں کی قضا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ (آیت) ” فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر “۔ (البقرہ : ١٨٤) اور اگر کسی شخص نے صبح کو تندرستی کی حالت میں روزہ رکھا پھر بیمار ہوگیا تو وہ روزہ توڑ دے کیونکہ ضرورت کی وجہ سے اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے اور ضرورت متحقق ہے ‘ لہذا روزہ توڑنا جائز ہے۔ (المہذب مع شرح المہذب ج ٦ ص ٢٥٨۔ ٢٥٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ نووی شافعی اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

جو شخص کسی ایسے مرض کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہو جس کا زائل ہونا متوقع ہو اس پر اس وقت روزہ رکھنا لازم نہیں ہے ‘ اور اس پر قضا لازم ہے ‘ یہ اس وقت جب اس کو روزہ رکھنے سے مشقت ہو اور اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ اس کا مرض اس حالت کو پہنچ جائے کہ اس کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہی نہ ہو ‘ بلکہ ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ افطار کے مباح ہونے کی شرط یہ ہے کہ روزہ رکھنے سے اس کو مشقت ہو ‘ اگر اس کو پورے وقت بخار رہتا ہو تو وہ رات کو روزے کی نیت نہ کرے ‘ اور اگر کسی وقت بخار ہو اور کسی وقت نہ ہو اگر روزہ کے شروع کے وقت میں بخار ہو تو روزہ کی نیت نہ کرے اور اگر بخار نہ ہو تو روزہ کی نیت کرے ‘ پھر اگر بعد میں بخار ہوجائے اور روزہ توڑنے کی ضرورت ہو تو روزہ توڑ دے۔ اسی طرح اگر تندرست آدمی صبح روزہ رکھے اور بعد میں بیمار ہوجائے تو اس کے لیے بغیر کسی اختلاف کے روزہ توڑنا جائے ہے۔ (شرح المہذب ج ٦ ص ٢٥٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مریض کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور اس کی دلیل سورة بقرہ کی یہ آیت (١٨٤) ہے۔ جس مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا جائز ہے یہ وہ مرض ہے جو روزہ رکھنے سے زیادہ یا روزہ رکھنے کی وجہ سے دیر میں صحیح ہو ‘ امام احمد سے کہا گیا کہ مریض کب روزہ نہ رکھے کہا : جب روزہ کی طاقت نہ رکھے پوچھا گیا : مثلا بخار تو کہا : بخار سے بڑھ کر اور کون سا مرض ہوگا ؟ (المغنی ج ٣ ص ٤١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

نیز علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

جو شخص تندرست ہو اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو بیمار پڑنے کا خدشہ ہو وہ اس مریض کی طرح ہے جس کو روزہ رکھنے کی وہ سے مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو۔ (المغنی ج ٣ ص ٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

مریض کی دو حالتیں ہیں : ایک حالت یہ ہے کہ اس میں روزہ رکھنے کی مطلقا طاقت نہ ہو ‘ اس حالت میں اس پر روزہ نہ رکھنا واجب ہے ‘ دوسری حالت یہ ہے کہ وہ تکلیف اور مشقت برداشت کرکے روزہ رکھ سکتا ہو ‘ اس حالت میں اس کے لیے روزہ نہ رکھنا مستحب ہے اور اس صورت میں صرف جاہل ہی روزہ رکھے گا۔ (الی قولہ) جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ جب روزہ رکھنے سے کسی شخص کو درد ہو یا تکلیف پہنچے یا روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض کا طول پکڑنے یا زیادہ ہونے کا خدشہ ہو تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے۔ امام مالک کے مذہب کے ماہرین کا یہی مذہب ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٧٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

امام ابوحنفیہ ‘ امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا : جب یہ خوف ہو کہ اس کی آنکھ میں درد زیادہ ہوگا یا بخار زیادہ ہوجائے گا تو روزہ نہ رکھے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ١٧٤ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

سفر شرعی کرنے والے مسافر ‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی کو غلبہ ظن سے اپنی جان یا اپنے بچے کی جان کا خوف ہو یا مرض بڑھنے کا خوف ہو ‘ یا تندرست آدمی کو غلبہ ظن ‘ تجربہ ‘ علامات یا طبیب کے بتانے سے مرض پیدا ہونے کا خوف ہو یا خادمہ کو ضعف کا خوف ہو تو ان کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور بعد میں ان ایام کی قضاء کریں۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٧۔ ١٠٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جس شخص کے گردہ میں پتھری ہو یا جس کو درد گردہ کا عارضہ ہو اس کو دن میں بیس پچیس گلاس پانی پینے ہوتے ہیں یا جو شخص ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل ہو ‘ یہ لوگ اس بیماری کے دوران روزے نہ رکھیں اور بیمار زائل ہونے کے بعد ان روزوں کی قضا کریں۔

مسافر کے روزہ قضا کرنے کے متعلق مذاہب اربعہ :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفر میں بھیڑ دیکھی اور دیکھا کہ ایک شخص پر سایہ کیا گیا ہے آپ نے پوچھا : اس کو کیا ہوا ؟ عرض کیا : یہ روزہ دار ہے ‘ فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٥٦١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتھ سفر کرتے ‘ روزہ دار ‘ روزہ نہ رکھنے والے کی مذمت کرتا تھا نہ روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کی مذمت کرتا تھا (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے مکہ گئے ‘ جب آپ عسفان پر پہنچے تو آپ نے پانی منگایا اور اس کو اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھایا تاکہ اس کو لوگ دیکھ لیں ‘ پھر آپ نے روزہ کھول لیا (اس کے بعد آپ نے روزے نہیں رکھے) حتی کے مکہ پہنچ گئے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

مسافر کے لیے روزہ رکھنا اور روزہ نہ رکھنا دونوں جائز ہیں ‘ اگر اس کو روزہ رکھنے سے ضرر نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے اور اگر ضرر ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔ (روضۃ الطالبین ج ٢ ص ٢٣٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اگر اس نے روزہ رکھ لیا تو یہ مکروہ ہے لیکن روزہ ہوجائے گا۔ (المغنی ج ٣ ص ٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علماء قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

علماء کا اختلاف ہے کہ کس سفر پر روزہ نہ رکھنے اور نماز قصر کرنے کی رخصت ہے۔ حج ‘ جہاد یا دیگر عبادات کے لیے سفر ہو تو اس میں اس رخصت پر اجماع ہے۔ رشتہ داروں سے ملاقات اور طلب معاش کے لیے سفر بھی اس کے ساتھ لاحق ہے ‘ تجارات اور مباح سفر (مثلا سیروسیاحت) میں اختلاف ہے لیکن ان میں بھی رخصت کا ہونا زیادہ راجح ہے ‘ اور جو سفر معصیت ہو (مثلا چوری یا ڈاکے لیے سفر کرے) اس میں اختلاف ہے اور اس میں رخصت کا ممنوع ہونا راجح ہے ‘ اور سفر کی مسافت کی مقدار امام مالک کے نزدیک وہی ہے جتنی مسافت میں قصر جائز ہوتی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٧٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

سفر شرعی میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے جو تین دن تین راتوں کی مسافت پر مشتمل ہو ‘ خواہ یہ سفر معصیت ہو۔ (رد المختار ج ٢ ص ١١٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں پر روزہ رکھنا دشوار ہو (ان پر ایک روزہ کا) فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ (البقرہ : ١٨٤)

(آیت) ” الذین یطیقونہ “ کے معنی کی تحقیق میں احادیث اور آثار :

اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے ‘ آیا اس کا معنی ہے : جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ روزہ نہ رکھیں اور ایک مسکین کا کھانا فدیہ میں دیں ‘ اور پھر یہ آیت اس دوسری آیت سے منسوخ ہوگئی۔

(آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “۔ (البقر : ١٨٥)

ترجمہ : تم میں جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو وہ ضرور اس ماہ میں روزہ رکھے۔

یا اس آیت میں ” یطیقونہ “ ” یطوقونہ “ کے معنی میں ہے : یعنی جن لوگوں پر روزہ رکھنا سخت دشوار ہو ‘ وہ روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کا کھانا فدیہ دیں اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔

اول الذکر معنی کی تائید میں یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

(آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین “۔ (البقرہ : ١٨٤)

حضرت ابن عمر (رض) اور حضرت سلمہ بن اکوع نے کہا : اس کو اس آیت نے منسوخ کردیا “۔ (آیت) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “۔ (البقرہ : ١٨٥)

ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب بیان کرتے ہیں کہ رمضان نازل ہوا اور صحابہ پر روزہ رکھنا دشوار ہوا تو بعض صحابہ جو روزہ کی طاقت رکھتے تھے وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتے اور روزہ ترک کردیتے ‘ انہیں اس کی رخصت دی گئی تھی ‘ پھر اس رخصت کو اس آیت نے منسوخ کردیا۔ (آیت) ” وان تصوموا خیر لکم “۔ (البقرہ : ١٨٤) روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے “ تو انہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے (آیت) ” فدیۃ طعام مسکین “۔ (البقرہ : ١٨٤) کو پڑھا اور فرمایا : یہ منسوخ ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٦١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اور ثانی الذکر معنی کی تائید میں یہ حدیث ہے ‘ امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جب بوڑھا شخص روزہ رکھنے سے عاجز ہو تو وہ ایک مد (ایک کلو) طعام کھلا دے ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (سنن دارقطنی ج ٢ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام دار قطنی نے ایک اور سند سے روایت کیا :

عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے (آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین “۔ (البقرہ : ١٨٤) کی تفسیر میں فرمایا : ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور (آیت) ” فمن تطوع خیرا “ (البقرہ : ١٨٤) کی تفسیر میں فرمایا : اگر ایک سے زیادہ مسکین کو کھلائے تو زیادہ بہتر ہے ‘ اور فرمایا : یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ البتہ اس میں بوڑھے شخص کو رخصت دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور اس کو طعام کھلانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس حدیث کی سند ثابت اور صحیح ہے۔

امام دار قطنی نے ایک اور سند سے اس حدیث کو عطاء سے روایت کیا ہے اس میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : (آیت) ” یطیقونہ “ کا معنی ہے : ” یکلفونہ “ یعنی جو سخت دشواری سے روزہ رکھیں وہ اس کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں اور جو ایک سے زیادہ مسکن کو کھلائے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے اور یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور تمہارا روزہ رکھنا بہتر ہے ‘ یہ رخصت صرف اس بوڑھے شخص کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا یا اس مریض کے لیے ہے جس کو بیماری سے شفا کی توقع نہیں ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

امام دار قطنی نے ایک اور سند کے ساتھ مجاہد اور عطاء سے حضرت ابن عباس (رض) کی یہ روایت ذکر کی ہے اور کہا : اس کی سند صحیح ہے۔

امام دارقطنی نے ایک اور سند کے ساتھ عکرمہ سے روایت کیا :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : بوڑھے شخص کو یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھلائے اور اس پر قضاء نہیں ہے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

امام دار قطنی نے چودہ صحیح سندوں کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ (سنن دارقطنی ج ٢ ص ٢٠٧ ‘۔ ٢٠٥ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

نیز امام دار قطنی روایت کرتے ہیں :

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر سے ایک حاملہ عورت نے سوال کیا تو انہوں نے کہا : تم روزہ نہ رکھو اور ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ اور قضاء نہ کرو۔

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر کی بیٹی ایک قرشی کے نکاح میں تھیں ‘ وہ حاملہ تھیں ‘ ان کو رمضان میں پیاس لگی تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔

ایوب بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ایک کمزوری کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو انہوں نے ایک تھال میں ثرید (گوشت کے سالن میں روٹی کے ٹکڑے ڈال دیئے جائیں) بنایا اور تین مسکینوں کو سیر کر کے کھلایا۔

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ موت سے پہلے حضرت انس کمزور ہوگئے تو انہوں نے روزے نہ رکھے اور گھر والوں سے کہا : ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ‘ تو انہوں نے تیس مسکینوں کو کھلایا۔

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ قیس بن سائب نے کہا : رمضان کے مہینہ میں ہر شخص روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھلاتا ہے تم میری طرف سے دو مسکینوں کو کھاناکھلاؤ۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کو بڑھاپا آجائے اور وہ روزہ نہ رکھ سکے اس پر لازم ہے کہ ہر روزہ کے بدلہ میں ایک کلو گندم دے۔ (سنن دارقطنی ج ٢ ص ٢٠٨ ‘۔ ٢٠٧ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

ان تمام آثار صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور جو کسی دائمی مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے وہ فدیہ دے اور اس کے بعد جو (آیت) ” وان تصوموا خیرلکم “ ہے اس کا معنی ہے : مسافر اور مریض کا روزہ رکھنا بہتر ہے یہ آیت فدیہ کی ناسخ نہیں ہے۔ امام مالک کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت انس بن مالک بوڑھے ہوگئے حتی کے وہ روزہ رکھنے پر قادر نہ رہے تو وہ فدیہ دیتے تھے۔ (موطا امام مالک ص ٢٥٠‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)

امام مالک کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال کیا گیا کہ حاملہ عورت کو جب اپنے بچہ کی جان کا خوف ہو اور اس پر روزہ دشوار ہو تو کیا کرے ؟ فرمایا : وہ روزہ نہ رکھے اور ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو ایک کلو گندم کھلائے۔ (موطا امام مالک ص ٢٥١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)

امام نسائی نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جن لوگوں پر روزہ سخت دشوار ہو وہ ایک روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ‘ یہ رخصت صرف اس بوڑھے کے لیے ہے جو روزہ نہ رکھ سکے یا اس مریض کے لیے جس کو شفا کی امید نہ ہو۔ (سنن کبری ج ٢ ص ١١٣۔ ١١٢ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام طبرانی روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) جب موت سے ایک سال پہلے کمزور ہوگئے تو انہوں نے روزے نہیں رکھے اور فدیہ دیا۔ (المعجم الکبیر ج ١٨ ص ‘ ٣٦٣ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ‘ ١٦٤ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام طبرانی روایت کرتے ہیں کہ حضرت قیس بن سائب نے کہا : رمضان کے مہینہ میں انسان ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلاتا ہے تم میری طرف سے ایک مسکین کو ہر روز ایک صاع (چارکلو) طعام دو ۔ (المعجم الکبیر ج ١٨ ص ‘ ٣٦٣ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب روزہ نہ رکھ سکیں تو فدیہ دیں ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت انس (رض) سے حامل عورت کے متعلق فدیہ دینے کی روایت ذکر کی ہے۔ (سنن کبری ج ٤ ص ٢٣٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

امام بغوی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت کا معنی ہے : جو بہت مشکل سے روزہ رکھیں ان کے لیے روزہ کی جگہ فدیہ دینا جائز ہے اور بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت روزہ نہ رکھیں اور فدیہ دیں ‘ اور حضرت انس جب کمزور ہوگئے تو انہوں نے فدیہ دیا۔ (شرح السنۃ ج ٣ ص ٤٠٥۔ ٤٠٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

امام دارقطنی ‘ امام مالک ‘ امام نسائی ‘ امام طبرانی ‘ امام بیہقی اور امام بغوی نے متعدد اسانید صحیحہ کے ساتھ یہ آثار نقل کیے ہیں کہ بوڑھا شخص اور دائمی مریض جن پر روزہ رکھنا دشوار ہے ‘ وہ روزہ کے بدلہ میں فدیہ دیں۔

(آیت) ” الذین یطیقونہ “ کے معنی کی تحقیق میں مفسرین کی آراء :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری نے (آیت) ” الذین یطیقونہ “ کے معنی اور اس کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کے متعلق متعدد آثار اور اقوال نقل کیے ہیں اور اخیر میں لکھا ہے :

عکرمہ نے (آیت) ” الذین یطیقونہ “ کی تفسیر میں کہا ہے : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد بوڑھا شخص ہے۔

سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : (آیت) ” الذین یطیقونہ “ اس کا معنی ہے : جو مشقت اور تکلیف سے روزہ رکھیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین یطیقونہ “ کا معنی ہے : جو لوگ مشقت سے روزہ رکھیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دیں یہ رخصت صرف اس بوڑھے شخص کے لیے ہے جو روزہ نہ رکھ سکے یا اس بیمار کے لیے ہے جس کو شفا کی امید نہ ہو ‘ مجاہد نے بھی اس اسی طرح روایت کیا ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٨١ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

جو صحابہ اور فقہاء تابعین یہ کہتے ہیں کہ (آیت) ” الذین یطیقونہ “ سے مراد بوڑھے اور عاجز لوگ ہیں ان کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ بلکہ محکم ہے ‘ اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ آیت حاملہ اور دودھ پلانے والی کو شامل ہے یا نہیں۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ١٩٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا یہی مختار ہے ‘ اور نسخ کا قول بھی صحیح ہے ‘ البتہ یہ احتمال ہے کہ نسخ بمعنی تخصیص ہو (الی قولہ) اس پر اجماع ہے کہ جو بوڑھے روزے کی طاقت نہیں رکھتے یا جو بہت مشقت سے طاقت رکھتے ہو وہ روزہ نہ رکھیں اور فدیہ کے وجوب میں اختلاف ہے ‘ ربیعہ اور امام مالک کے نزدیک ان پر فدیہ واجب نہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٨٩۔ ٢٨٨ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابوالحسن ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

(آیت) ” الذین یطیقونہ “ اس آیت کی تاویل یہ ہے کہ جو لوگ تکلیف اور مشقت سے روزہ رکھیں جیسے بوڑھے ‘ حاملہ اور دودھ پلانے والی ‘ یہ لوگ روزہ نہ رکھیں اور ایک مسکین کا کھانا فدیہ دیں ‘ ان پر قضا نہیں ہیں (النکت والعیون ج ١ ص ٢٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ آیت حاملہ اور دودھ پلانے والی کے متعلق نازل ہوئی حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت ابن عباس نے اس آیت میں یہ قرأت کی (آیت) ” الذین یطوقونہ “ (جو مشکل سے روزہ رکھیں) اس سے بوڑھے لوگ مراد ہیں۔ (زاد المسیر ج ١ ص ١٨٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابوبکر رازی جصاص حنفی لکھتے ہیں :

صحابہ اور تابعین میں سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ ابتداء میں روزہ رکھنے کا اختیار تھا ‘ جو شخص روزہ کی طاقت رکھتا ہو خواہ وہ روزے رکھے خواہ فدیہ دے ‘ بعد میں روزہ کی طاقت رکھنے والوں سے یہ اختیار (آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے منسوخ ہوگیا (الی قولہ) اس آیت کا ایک اور معنی یہ ہے کہ جو لوگ مشقت اور صعوبت سے روزہ رکھتے ہیں وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھنے والے نہیں ہیں ‘ وہ بھی روزے کے مکلف ہیں لیکن ان پر روزہ کے قائم مقام فدیہ ہے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جو شخص پانی سے طہارت حاصل کرنے پر قادر نہ ہو وہ بھی پانی سے طہارت حاصل کرنے کا مکلف ہے لیکن اس کے لیے مٹی کو پانی کے قائم مقام بنادیا گیا ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ١٧٧۔ ١٧٦ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

اکثر صحابہ اور فقہاء تابعین کے نزدیک پہلے روزہ کی طاقت رکھنے والوں کے لیے روزہ رکھنے اور روزہ نہ رکھ کر فدیہ دینے کا اختیار تھا بعد میں یہ منسوخ ہوگیا ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت عائشہ (رض) نے اس آیت کو ” یطوقونہ “ پڑھا ‘ یعنی جو مشکل سے روزہ رکھیں وہ فدیہ دے دیں اور کہا : یہ آیت منسوخ نہیں ہے اور بعض علماء نے اس آیت کو (آیت) ” الذین یطیقونہ “ قرأت متواترہ کے مطابق پڑھا اور کہا : یہ آیت منسوخ نہیں ہے کیونکہ وسعت اور طاقت میں فرق ہے ‘ وسعت کا معنی ہے : کسی چیز پر سہولت سے قدرت ہونا اور طاقت کا معنی ہے : کسی چیز پر مشقت سے قدرت ہونا ‘ تو آیت کا معنی ہے : جو لوگ مشقت سے روزہ رکھیں وہ فدیہ دیں یا اس میں ہمزہ سلب ماخذ کے لیے ہے یعنی جو لوگ روزہ کی طاقت نہ رکھیں وہ فدیہ دیں۔ (روح المعانی ج ٢ ص ٥٩۔ ٥٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

بڑھاپے یادائمی مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کے متعلق مذاہب اربعہ :

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

جب بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت پر روزہ رکھنا سخت دشوار ہو تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں اور ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت انس ‘ (رض) اور سعید بن جبیر (رض) طاؤس ‘ ثوری اور اوزاعی کا یہی قول ہے۔ اس قول کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آیت بوڑھے شخص کی رخصت کے لیے نازل ہوئی ہے ‘ اور اس لیے کہ روزہ رکھنا واجب ہے اور جب عذر کی وجہ سے اس سے روزہ ساقط ہوگا تو اس کے بدلہ میں قضا کی طرح کفارہ لازم آئے گا۔

نیز وہ مریض جس کے مرض کے زائل ہونے کی توقع نہیں ہے ‘ وہ بھی روزہ نہیں رکھے گا اور یہ روزہ کے بدلہ میں ایک مریض کو کھانا کھلائے گا کیونکہ وہ بھی بوڑھے شخص کے حکم میں ہے۔ (المغنی ج ٣ ص ٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

امام شافعی اور ان کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ وہ بوڑھا شخص جس کو روزہ رکھنے میں شدید مشقت ہو اور وہ مریض جس کے مرض کے زوال کی توقع نہ ہو اس پر بالاجماع روزہ فرض نہیں ہے اور اس پر وجوب فدیہ کے متعلق دو قول ہیں ‘ زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس پر فدیہ واجب ہے۔ (شرح المہذب ج ٦ ص ٢٥٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

اس پر اجماع ہے کہ جو بوڑھے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے یا سخت مشقت سے روزے رکھتے ہیں ‘ ان کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور اس میں اختلاف ہے کہ ان پر کیا واجب ہے ؟ ربیعہ اور امام مالک نے کہا : ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ البتہ امام مالک نے کہا : اگر وہ ہر روزے کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں تو یہ مستحب ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٨٩ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

جو شخص بہت بوڑھا اور روزہ رکھنے سے عاجز ہو ‘ اسی طرح جس مریض کے مرض کے زوال کی توقع نہ ہو وہ ہر روزہ کے لیے فدیہ دیں۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ایک روزہ کے لیے نصف صاع یعنی دو کلو گندم یا اس کی قیمت فدیہ دے ‘ روزہ کے فدیہ میں فقراء کا تعدد شرط نہیں ہے اور ایک فقیر کو متعدد ایام کا فدیہ دے سکتا ہے اور مہینہ کی ابتداء میں بھی دے سکتا ہے (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شوگر ‘ بلڈ پریشر ‘ دمہ اور جوڑوں کا درد یہ چار بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں ہے ‘ ان کو دواؤں سے کنڑول تو کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بیماریاں زائل نہیں ہوسکتیں ‘ ان میں جوڑوں کا درد روزے کے منافی نہیں ہے اور عام حالت میں دمہ بھی روزوں کے منافی نہیں ہے ‘ لیکن جب شوگر زیادہ ہو تو زیادہ گولیاں لینی پڑتی ہیں جس سے وقفہ وقفہ سے شدید بھوک لگتی ہے ‘ اسی طرح جب بلڈ پریشر زیادہ ہو تو پانی پینا پڑتا ہے اس لیے جن لوگوں کو شوگر یا بلڈ پریشر کا عارضہ ہو اور ڈاکٹر انہیں روزہ رکھنے کی اجازت نہ دے تو وہ روزہ کی جگہ فدیہ دے دیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 184