بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰى‌ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآٮِٕنَا ‌ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ

کیا آپ نے موسیٰ (کی وفات) کے بعد بنواسرائیل کے ایک گروہ کو نہیں دیکھا ‘ جب انہوں نے (اپنے) نبی سے کہا : ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردیں تو ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے ‘ (نبی نے) کہا : اگر تم پر قتال فرض کردیا جائے تو شاید تم قتال نہیں کرو گے ‘ انہوں نے کہا : ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے گھروں میں اہل و عیال سے نکال دیا گیا ہے ‘ پھر جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو چند لوگوں کے سوا باقی سب نے روگردانی کی ‘ اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو بنواسرائیل کی ایک جماعت کے جہاد کی طرف :

متوجہ کرنے کے اسرار :

اس سے پہلی آیتوں میں مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا اور مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کرنے کے لیے پچھلی امتوں میں سے ان لوگوں کے احوال کو بیان فرمایا تھا جو موت سے ڈر کر بھاگے پھر بھی ان کو موت نے آلیا تاکہ مسلمان یہ غور کریں کہ جب موت سے مفر نہیں ہے تو کیوں نہ شہادت کے آئینہ میں موت کا استقبال کیا جائے اور ان آیتوں میں یہ بتایاجا رہا ہے کہ مسلمانوں کو جو جہاد کا مکلف کیا ہے وہ ان پر کوئی پہلا یا نیا حکم نہیں ہے ‘ ان میں سے پہلے بھی بنواسرائیل کو جہاد کا مکلف کیا گیا تھا ‘ اور جب کسی حکم کے متعلق یہ معلوم ہوجائے کہ وہ کسی ایک جماعت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہر زمانہ میں ہر امت کو اس حکم کا مکلف کیا جاتا رہا ہے تو اس حکم کا بار مشقت کم ہوجاتا ہے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے زمانہ کے بنو اسرائیل اللہ کے حکم کی اطاعت اور آپ کی نبوت پر ایمان لانے میں فضول ضد ‘ بحث اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے تھے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی ضد اور کج بحثی سے ملال ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں اور آپ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ایک نبی کے زمانے میں بنو اسرائیل کی ضد اور ہٹ دھرمی کی طرف متوجہ فرمایا کہ یہ ضد اور ہٹ دھرمی ہمیشہ سے بنو اسرائیل کا وتررہا ہے اور یہ ان کے عمل کا ایک تسلسل ہے جو آپ کے زمانہ کے بنواسرائیل میں بھی پایا جاتا ہے۔

بنواسرائیل کی اس جماعت کے نبی آیا شمویل تھے یا شمعون ؟

اس آیت میں جس نبی کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے ‘ وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ وہ نبی شمویل تھے۔ سدی نے کہا : اس نبی کا نام شمعون ہے۔ معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہ نبی حضرت موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نون تھے۔

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد بنواسرائیل میں حضرت یوشع بن نون خلیفہ ہوئے اور انہوں نے تورات کے احکام کو نافذ کیا۔ ان کے بعد حضرت کالب بن یوقنا خلیفہ ہوئے ‘ انہوں نے بھی تورات کے احکام کو نافذ کیا ‘ ان کی وفات کے بعد حضرت حزقیل بن یوزی خلیفہ ہوئے ‘ ان کی وفات کے بعد بنواسرائیل میں کئی حوادث ہوئے اور انہوں نے تورات کے احکام کو فراموش کرکے بت پرستی شروع کردی ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں الیاس بن نسی فنخاص بن العیزار بن ہارون بن عمران کو مبعوت کیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان نبیوں کو تورات کے احکام کی تجدید کے لیے فرمایا تھا ‘ حضرت الیاس کے ساتھ بنواسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا جس کا نام احاب تھا ‘ اس وقت تمام بنواسرائیل بت پرستی کرتے تھے اور حضرت الیاس ان کو اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے ‘ حضرت الیاس کی دعوت کی بنو اسرائیل مسترد کردیتے تھے ‘ صرف ایک بادشاہ ان کی دعوت سنتا تھا اور وہ بھی بت پرستی میں مشغول ہوگیا ‘ پھر ان کے بعد حضرت الیسع خلیفہ ہوئے وہ بھی کچھ عرصہ بعد وفات پاگئے ‘ پھر یکے بعد دیگرے نبی آتے رہے ‘ ان کے پاس ایک تابوت تھا جو آباء و اجداد سے ان کے پاس چلا آتا تھا ‘ اس میں سکینہ اور آل موسیٰ اور آل ہارون کے بقیہ تبرکات تھے ‘ ان کا جب بھی کسی دشمن سے مقابلہ ہوتا وہ اس تابوت کو آگے کردیتے اور اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ ان کو دشمنوں پر فتح عطا فرماتا ‘ پھر ان میں ایک بادشاہ ہوا جس کا نام ایلاء تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایلیا کے پہاڑ میں برکت رکھی اس طرف سے ان پر دشمن حملہ نہیں کرتا تھا اور جب ان کی برائیاں حد سے بڑھ گئیں تو وہ تابوت ان کے ہاتھ سے جاتا رہا ‘ وہ بادشاہ مارا گیا اور انہوں نے اپنے دشمن سے شکست فاش کھائی اس وقت میں حضرت شمویل نبی تھے اور یہی وہ نبی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے ذکر کیا ہے کہ اے نبی ! کیا آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنواسرائیل کے ایک گروہ کو نہیں دیکھا ‘ جب انہوں نے اپنی نبی سے ذکر کیا ہے کہ اے نبی : کہا : ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کردے تو ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے (نبی نے) کہا اگر تم پر قتال فرض کردیا جائے تو شاید تم قتال نہیں کرو گے ‘ انہوں نے کہا : ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں حالانکہ ہمیں اپنے گھروں میں اور اہل و عیال سے نکال دیا گیا ہے ‘ پھر جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو چند لوگوں کے سوا باقی نے روگرادنی کی اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔ امام ابن اسحاق نے وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے کہ جب بنواسرائیل پر مصیبتیں نازل ہوئیں اور انہیں ان کے شہروں سے نکال دیا گیا تو انہوں نے اپنے نبی حضرت شمویل بن بالی سے کہا : ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں گے ‘ نبی نے ان سے کہا : تم نے کبھی وعدہ پورا نہیں کیا اور نہ جہاد سے تمہیں کوئی رغبت ہے ‘ انہوں نے کہا : ہم کیسے جہاد سے بھاگیں گے حالانکہ ہمیں ہمارے شہروں سے نکال دیا گیا ہے۔

امام ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں دوسری روایت یہ بیان کی ہے :

سدی نے بیان کیا ہے کہ بنواسرائیل عمالقہ سے جنگ کرتے رہتے اور عمالقہ کا بادشاہ جالوت تھا ‘ عمالقہ نے بنواسرائیل کو شکست دی اور ان پر جزیہ مقرر کردیا اور ان کی تورات چھین لی ‘ بنو اسرائیل اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ ان میں کوئی نبی مبعوث فرمائے جس کے ساتھ مل کر وہ عمالقہ سے اپنی شکت کا بدلہ لیں ‘ نبوت کے خاندان کے سب لوگ فوت ہوچکے تھے ان میں سے صرف ایک حاملہ عورت باقی بچی تھی ‘ بنواسرائیل نے اس عورت کو قید کرلیا ‘ اس نے اللہ سے دعا کی کہ اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو ‘ سو اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس عورت نے اس کا نام شمعون رکھا تھا ‘ جب وہ بڑا ہوا تو اس کو بیت المقدس میں تورات کی تعلیم کے لیے بھیجا ‘ ایک شیخ نے اس کی تربیت کی ‘ جب وہ بالغ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو مقام نبوت پر فائز کیا حضرت جبرئیل نے ان سے کہا : آپ اپنی قوم کے پاس جائیں اور ان کو اللہ کا پیغام سنائیں ‘ جب وہ قوم کے پاس پہنچے تو قوم نے ان کو جھٹلایا اور کہا : تم بہت جلدی نبی بن گئے اور کہا : اگر تم سچے ہو تو ایک بادشاہ مقرر کرو ‘ ہم اللہ کی راہ میں قتال کریں گے اور یہ تمہاری نبوت کی دلیل ہوگی ‘ حضرت شمعون نے کہا : جب تم پر قتال فرض کردیا جائے تو شاید تم قتال نہ کرو۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ٣٧٥۔ ٣٧٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو چند لوگوں نے سوا باقی سب نے روگردانی کی۔ (البقرہ : ٢٤٦)

یہود کو سرزنش :

جب ان پر ان کے دشمنوں سے قتال اور اللہ کی راہ میں جہاد فرض کیا گیا تو چند لوگوں کے سوا باقی سب قتال سے پیٹھ موڑ کر بھاگے اور انہوں نے اپنے نبی سے جہاد کی فرضیت کا جو سوال کیا تھا اس کو ضائع کردیا اور جن چند لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے استثناء فرمایا ہے یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے طالوت کے ساتھ دریا کو عبور کرلیا تھا۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وہ اصحاب جو آپ کے ساتھ بدر میں تھے ان کی تعداد طالوت کے اصحاب کے برابر تھی ‘ جنہوں نے ان کے ساتھ دریا عبور کرلیا تھا اور وہ تین سو دس اور کچھ تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٦٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔۔ (البقرہ : ٢٤٦)

ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ‘ اور ان میں ان یہود پر زجر وتوبیخ ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے وقت موجود تھے ‘ کیونکہ وہ اس رسول کی بعثت کے منتظر تھے ‘ انہوں نے تورات کی وساطت سے اس نبی کی اطاعت کا عہد کیا تھا ‘ یہ اس نبی کے توسل سے فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے اور جب یہ نبی مبعوث ہوگئے تو انہوں نے سارے عہد ومیثاق پس پشت ڈال دئیے اور صاف اور صریح علامتیں پائی جانے کے باوجود اس نبی کو نہیں مانا اور اس نبی کا کفر کیا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 246