أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورابدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔۔ (البقرہ : ٢٨١)

قرآن مجید میں نازل ہونے والی آخری آیت :

اللہ تعالیٰ نے آیات ربا کو اس بلیغ پر ختم کیا ہے کہ دنیا جانے والی ہے اور آخرت آنے والی ہے اور باقی ہے اور اس کے بعد وہ حساب پیش آنے والا ہے جو یقینی ہے ‘ لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس دن سے ڈرا رہا ہے جس دن تم سب لوگ اللہ سے ملاقات کرو گے ‘ وہ اعمال کی جزا کا دن ہے ‘ اس دن کوئی نیک عمل ہو سکے گا نہ کسی برے کام پر توبہ ہو سکے گی ‘ وہ ثواب عتاب اور محاسبہ کا دن ہے ‘ اس دین ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی ‘ خواہ اس کے عمل نیک ہوں یا بد ‘ خیر ہوں یا شر ‘ اس دن ہر عمل سامنے آجائے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل باقی نہیں بچے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ ان اعمال کی جزا دے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ اور اس ذات سے ظلم کیسے متصور ہوسکتا ہے جو برائی پر صرف اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنی وہ برائی ہو اور نیکی کا دس گنا بڑھا کر اجر دیتا ہے ‘ بلکہ کبھی ایک نیکی پر سات سو گنا کبھی اس سے بھی زیادہ اور کبھی بےحساب اجر دیتا ہے ‘ اے بدکار ! وہ تجھ پر عدل کرے گا ‘ تو اس دن کے آنے سے پہلے توبہ کرلے اور اپنے آپ کو اس کے فضل و کرم کا سزا وار کرلے اور اے نیکوکار ! اس دن کے آنے سے پہلے اپنی نیکیوں کو اور بڑھا لے ‘ وہ تجھ پر فضل کرے گا۔ بعض روایات کے مطابق یہ قرآن مجید کی آخری آیت ہے ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آخرت آیت ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔

یہ آیت کے دن نازل ہوئی تھی اس کے نزول کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو دن حیات (ظاہری کے ساتھ) رہے اور پیر کے دن رفیق اعلی سے واصل ہوگئے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابوعبید ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام بیہقی نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی قرآن مجید کی یہ آخری آیت تھی۔

امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منی میں نازل ہوئی تھی اور اس کے اکیاسی دن بعد آپ کا وصال ہوگیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٧٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

اس آیت کے نزول کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدت حیات میں مختلف اقوال ہیں : نوراتیں ‘ سات دن ‘ تین گھنٹے اکیس دن اور اکیاسی دن۔

امام بخاری ‘ امام ابوعبید ‘ امام ابن جریر ‘ اور امام بیہقی نے شعبی (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ آیت ربا ہے ‘ یہ اس آیت کے آخری آیت ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیوع سے متعلق آیات میں آخری آیت ‘ آیت ربا ہے ‘ یا مراد یہ ہے کہ آیت ربا آخر میں نازل ہوئی ہے ‘ اور تمام آیتوں کے لحاظ سے جو آخری آیت ہے وہ یہی آیت ہے۔ (روح المعانی ج ٣ ص ‘ ٥٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 281