أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً ‌ ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ

ترجمہ:

اے ہمارے رب ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا ‘ ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بہت عطا فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بیشک تو بہت عطا فرمانے والا ہے۔ (آل عمران : ٨)

راسخین فی العلم “ کہ دعا کرتے ہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کرنے کا حکم دیا۔ یا اس دعا کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جن کے دلوں میں کجی ہے اور وہ فتنہ جوئی کے لئے آیات متشابہات کے درپے ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو یہ دعا تلقین کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں کجی پیدا نہ کر دے۔

دلوں کو ٹیڑھا کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت میں مذاہب :

معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صرف خیر کا پیدا کرنے والا ہے شر کا خالق نہیں ہے ‘ اور اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے ‘ کسی شخص کے دل میں کجی اور گمراہی کو پیدا کرنا شر ہے اور معتزلہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ اس آیت میں اہل سنت کی دلیل ہے باقی رہا یہ اعتراض کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی انسان کے دل کو ٹیڑھا کردیا تو اب اس کے گمراہ ہونے اور بدعقیدہ اور بدعمل ہونے میں اس کا کیا قصور ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان برائی کا کسب اور قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں برائی پیدا کردیتا ہے ‘ انسان کا سب ہے اور اللہ خالق ہے ‘ جب انسان کج روی کا کسب اور قصد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ٹیڑھا کردیتا ہے ‘ اس کی وضاحت اس آیت سے ہوتی ہے :

(آیت) ” فلمازاغوا ازاغ اللہ قلوبھم، واللہ لا یھدی القوم الفاسقین “۔ (الصف : ٥)

ترجمہ : پھر جب انہوں نے کجروی اختیاری کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس دعا کا ایک محمل یہ ہے : ہمیں شیطان اور اپنے نفسوں کے شر سے محفوظ رکھ تاکہ ہمارے دل ٹیڑھے نہ ہوں، ایک اور محمل یہ ہے : ہم کو ایسی آفات اور بلاؤں میں مبتلا نہ فرما جس کے نتیجے میں ہمارے دل ٹیڑھے ہوجائیں یا ہم پر لطف و کرم کرنے کے بعد ان الطاف اور عنایات کو ہم سے سلب نہ کر جس کے نتیجہ میں ہم فتنہ میں پڑجائیں اور ہمارے دل ٹیڑھے ہوجائیں۔

بہ کثرت احادیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ ‘ اور اس آیت کی تلاوت فرماتے تھے : اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔

دل کو دین پر ثابت قدم رکھنے کی دعا کے متعلق احادیث :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام ترمذی ‘ امام ابن جریر ‘ امام طبرانی ‘ اور امام ابن مردویہ حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت زیادہ کرتے تھے : اے اللہ ! دلوں کو بدلنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا دل بدل جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جس قدر بنو آدم اور بشر ہیں سب کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں ‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو انہیں مستقیم رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو انہیں ٹیڑھا کردیتا ہے ‘ تو ہم اپنے اللہ سے جو ہمارا رب ہے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے اور ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرمائے بیشک وہ بہت عطا کرنے والا ہے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایک دعا سکھا دیں جو میں اپنے لئے کیا کروں ! آپ نے فرمایا تم یہ دعا کیا کرو : اے اللہ ! محمد نبی کے رب ! میرے گناہ کو بخش دے میرے دل کے غیظ کو دور کردے ‘ اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے اپنی پناہ میں رکھ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٢١٠، مسند احمد ج ٦ ص ٣٠٢‘ جامع ترمذی ص ٥٠٧‘ جامع البیان ج ٣ ص ١٢٥‘ المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٣٨‘ ٣٦٦)

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد اور امام بخاری نے الادب المفرد میں ‘ امام ترمذی نے سند حسن کے ساتھ اور امام ابن جریر نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا بہت زیادہ کرتے تھے : اے دلوں کے بدلنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ پر اور جو کچھ لے کر آئے اس پر ایمان لاچکے ہیں کیا اب آپ کو ہمارے متعلق کوئی خطرہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! تمام دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں اور وہ ان دلوں کو بدلتا رہتا ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٢٠٩‘ الادب المفرد، ص ١٧٦، جامع ترمذی ص ٣١٢‘ جامع البیان ج ٣ ص ١٢٦، صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٣٥) امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابن آدم کے دل چڑیا کی طرح دن میں سات مرتبہ الٹ پلٹ ہوتے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دل جنگل میں پڑے ہوئے ایک پر کی طرح ہے جس کو ہوا الٹتی پلٹتی رہتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٠) (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ٩۔ ٨‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 8