أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ وَالۡخَـيۡلِ الۡمُسَوَّمَةِ وَالۡاَنۡعَامِ وَالۡحَـرۡثِ‌ؕ ذٰ لِكَ مَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ‌ۚ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الۡمَاٰبِ

ترجمہ:

لوگوں کے لئے عورتوں سے خواہشات کی اور بیٹوں کی اور سونے اور چاندی کے خزانوں کی اور نشان زدہ گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتی باڑی کی محبت خوش نما بنادی گئی ہے، یہ (سب) دنیا کی زندگی کا سامان ہے ‘ اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے (رض) آپ کہیے کہ کیا میں تم کو ان (سب) بہتر چیز کی خبر (نہ) دوں ؟ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریابہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ کی رضا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

مشکل الفاظ کے معانی :

” حب “ کے معنی ہیں : کسی چیز کی طرف دل کا مائل ہونا۔ شہوت : جس چیز کی طرف نفس کی تحریک اور ترغیب ہو۔ ” قناطیر “: قنطار کی جمع ہے ‘ قنطار ایک مخصوص وزن ہے اس کی تعبیر ٥٠ کلو گرام کے ساتھ کی گئی ہے۔ مقنطرہ : قنطرہ کا اسم مفعول ہے قنطرہ کا معنی پل ہے ‘ مال کے بہت بڑے ڈھیر کو بھی قنطرہ کہتے ہیں۔ ذھب : سونا ‘ فضہ : چاندی ‘ خیل : جمع ہے اس کا واحد فرس ہے جو من غیر لفظہ ہے اس کا معنی ہے گھوڑے۔ نعم : اونٹ ‘ اس کی جمع انعام ہے اور جمع کا اطلاق اونٹ ‘ گائے اور بکری سب پر آتا ہے۔ نعامہ شترمرغ کو کہتے ہیں ‘ رضوان : رضا ‘ جنت کے خازن کا نام بھی رضوان ہے ‘ اسحار : سحر کی جمع ہے اس کا اطلاق طلوع فجر سے پہلے وقت پر ہوتا ہے۔

سابقہ آیات کے ساتھ ارتباط اور مناسبت :

اس سے پہلے ہم علامہ ابوالحیان اندلسی کے حوالہ سے لکھا تھا کہ ایک نصرانی ابوحارثہ بن علقمہ نے اپنے بھائی سے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ اللہ کے برحق رسول ہیں لیکن اگر میں ان پر ایمان لے آیا تو روم کے بادشاہ مجھ سے اپنا تمام دیا ہوا مال و دولت واپس لے لیں گے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مال اور دنیا کی اور چیزوں کی محبت فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس دائمی اجر وثواب ہے تو تم فانی چیزوں کی خاطر دائمی چیزوں کو ترک نہ کرو ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت کے اخیر میں فرمایا تھا کہ معرکہ بدر میں آنکھوں والوں کے لئے ضرور عبرت ہے ‘ اس آیت میں عبرت کی تفصیل کی ہے کہ دنیا کی عارضی لذتوں میں منہمک ہو کر آخرت کی دائمی نعمتوں سے غافل نہ ہو۔

متاع دنیا کی تزئین اور آرائش اللہ کی جانب سے بہ طور ابتلاء اور آزمائش ہے۔

عورتوں ‘ بیٹوں اور مال و دولت کو انسان کی نظر میں بہت خوش نما اور حسین بنادیا گیا ہے اور اس کے دل میں ان کی محبت پیدا کردی گئی ہے اور یہ محبت اس کے دل میں اس طرح مرکوز ہے کہ یہ اس کی طبعی محبت اور اس کا فطری تقاضا بن گئی ہے ‘ اب اس چیز میں بحث کی گئی ہے کہ انسان کے لئے ان چیزوں کو مزین کرنے والا کون ہے ‘ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کو مزین کرنے والا شیطان ہے اور اس کا استدلال اس آیت سے ہے :

(آیت) ” واذ زین لہم الشیطان اعمالھم “۔ (الانفال : ٤٨)

ترجمہ : اور جب شیطان نے ان کے لئے ان کے کاموں کو مزین کردیا :

شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے اور باطل چیزوں کی شہوات کو انسان کی نگاہ میں حسین اور خوشنما بنا کر پیش کرتا ہے جیسا کہ خود شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا :

(آیت) ” قال رب بما اغویتنی لا زینن لھم فی الارض ولا غوینہم اجمعین۔ الا عبادک منھم المخلصین “۔ (الحجر : ٤٠۔ ٣٩)

ترجمہ : شیطان نے کہا : اے میرے رب ! کیونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا (تو) میں ضرور ان کے لیے زمین میں (برے کاموں کو) مزین کر دوں گا اور میں سب کو ضرور گمراہ کروں گا، سوا تیرے ان بندوں کے جو ان میں سے اصحاب اخلاص ہیں۔

اور جمہور اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ خیر اور شر ہر چیز کا اللہ تعالیٰ خالق ہے شیطان کا مزین کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت سے ہے اور انسان کے دل میں ان چیزوں کی شہوت کو مزین کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور یہ تزئین ابتلاء اور امتحان کے لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ یہ ظاہر فرمائے کہ کون لوگ ان چیزوں کی محبت میں ڈوب کر یاد الہی سے غافل ہوجاتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جنہیں ان چیزوں کی محبت اللہ کی یاد اور اس کے احکام کی اطاعت سے نہیں روکتی ‘ اور جن کے دلوں میں ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی محبت ہے جو اپنی میٹھی نیند اور اپنی ازواج کے قرب کی لذت کو چھوڑ کر رات کے پچھلے پہر اٹھتے ہیں اور سجدوں اور قیام میں صبح کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملا “ (الکہف : ٧)

ترجمہ : بیشک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے زمین کے لئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائش میں ڈالیں (اور یہ ظاہر کریں) کہ ان میں سے کون سب سے اچھے کام کرنے والا ہے۔

(آیت) ” کذالک زینا لکل امۃ عملھم ثم الی ربھم مرجعھم فینبھم بما کانوا یعملون “۔ (الانعام : ١٠٨)

ترجمہ : اسی طرح ہم نے ہر جماعت کے لئے اس کا عمل مزین کردیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے تو وہ انہوں ان کاموں کی خبر دے گا جن کو وہ کرتے تھے۔

دین اور دنیا میں توازن اور اعتدال قائم رکھنا اسلام ہے۔

زیر بحث آیت میں یہ فرمایا ہے کہ انسان کے لئے ان چیزوں کی شہوات کی محبت کو مزین کردیا گیا ہے اور یہ سب دنیا کی زندگی کا سامان ہے ‘ اور ان سے بہتر چیز آخرت کی نعمتیں ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ کی رضا اور خوشنودی ہے ‘ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان چیزوں سے محبت نہیں کرنی چاہیے یا ان سے نفرت کرنا چاہیے یا ان کو چھوڑ دینا چاہیے بلکہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں میں زیادہ اشتغال اور انہماک نہیں ہونا چاہیے حتی کہ انسان دنیا کی زینت اور خوشنمائی میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ کو اور آخرت کو فراموش کر بیٹھے۔ بلکہ انسان معتدل طریقہ پر گامزن ہو اسلام دین فطرت ہے اس میں دین ‘ اور دنیادونوں کے احکام موجود ہیں ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ :

(آیت) ” یبنی ادم خذوا زینتکم عند کل مسجد وکلوا واشربوا ولا تسرفوا انہ لا یحب المسرفین۔ قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق، قلھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یوم القیامۃ کذالک نفصل الایت لقوم یعلمون۔ قل انما حرم ربی الفواحش ما ظھر منھا وما بطن والاثم والبغی بغیر الحق وان تشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطانا وان تقولوا علی اللہ مالاتعلمون “۔ (الاعراف : ٣٣۔ ٣١)

ترجمہ : اے بنوآدم ! ہر نماز کے وقت اپنا لباس زیب تن کرلیا کرو ‘ اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچ نہ کرو بیشک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ آپ کہئے کہ اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور اللہ کے رزق میں سے پاک اور لذیذ چیزیں (کس نے حرام کی ہیں) آپ کہئے یہ چیزیں ایمان والوں کے لئے اس دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں اور آخرت میں تو صرف انہی کے لئے ہیں ہم علم والوں کے لئے اسی طرح آیت کی تفصیل کرتے ہیں۔ آپ کیئے کہ میرے رب نے تو صرف بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے خواہ وہ کھلی ہوئی بےحیائی ہو یا چھپی ہوئی اور گناہ کو اور ناحق سرکشی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں نازل کی اور یہ کہ تم اللہ کے متعلق ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زینت کو اور پاک اور لذیذچیزوں کو اپنے بندوں پر حرام نہیں فرمایا بلکہ ان چیزوں میں اسراف اور حد سے بڑھنے کو حرام فرمایا ہے اور اسی طرح بےحیائی کے کاموں فسق وفجور اور شرک کو حرام فرمایا ہے۔

احادیث میں بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ جائز طریقے سے اعتدال کے ساتھ دنیا کی زیب وزینت کو حاصل کرنا موجب اجروثواب ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے کہا کہ ایک آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس حسین ہو اور اس کی جوتی حسین ہو ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ حسین ہے اور حسن کو پسند فرماتا ہے ‘ تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کے اثر دیکھنے کو پسند فرماتا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٠٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ عمل تزویج کرنا بھی صدقہ ہے ‘ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں سے کوئی شخص محض اپنی شہوت پوری کرنے کے لئے یہ عمل کرے تو بھی اس کو اجر ہوگا ؟ آپ نے فرمایا یہ بتاؤ اگر وہ حرام طریقہ سے اپنی شہوت پوری کرتا تو اس کو گناہ ہوتا ؟ سو اسی طرح اگر وہ حلال طریقہ سے اپنی شہوت پوری کرے گا تو اس کو اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٢٥۔ ٣٢٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ جائز طریقہ سے اعتدال کے ساتھ متاع دنیا سے بہرہ اندوز ہونا ممنوع نہیں ہے بلکہ موجب اجر وثواب ہے ‘ ہاں ممنوع یہ ہے کہ انسان صرف دین کے حقوق ادا کرے اور دنیا کے حقوق فراموش کردے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو جحیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان اور حضرت ابودرداء (رض) کو آپس میں بھائی بنادیا حضرت سلمان حضرت ابودرداء سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت ام درداء سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت ام درداء (حضرت ابودرداء کی زوجہ) کو میلے کچیلے کپڑے پہنے دیکھا تو ان سے کہا یہ تم نے کیا حال بنا رکھا ہے ؟ انہوں نے کہا تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی دلچپسی نہیں ہے پھر حضرت ابودرداء آئے اور حضرت سلمان کے سامنے کھانا رکھا اور حضرت سلمان سے کہا آپ کھائیں میں روزہ دار ہوں ‘ حضرت ابودرداء کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ‘ حضرت سلمان نے کہا سو جاؤ سو وہ سو گئے۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد نماز کے لئے اٹھے انہوں نے پھر کہا سو جاؤ۔ جب رات کا آخری حصہ ہوگیا تو حضرت سلمان نے کہا اب نماز کے لئے اٹھو اور دونوں نے (تہجد کی) نماز پڑھی ‘ حضرت سلمان نے ان سے کہا تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے۔ سو ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو ‘ حضرت ابودرداء نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر یہ ماجرا بیان کیا آپ نے فرمایا : سلمان نے سچ کہا : (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا تجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم (ہر روز) دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا یہ نہ کرو روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو ‘ قیام بھی کرو اور نیند بھی لو ‘ کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے اور تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم مہینہ میں تین دن روزے رکھ لیا کرو ہر نیکی کا دس گنااجر ہوتا ہے تو تمہیں پرھ دہر (زمانہ) کے روزوں کا اجر مل جائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کے گھروں میں تین شخص (حضرت علی ‘ حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) : مصنف عبدالرزاق ج ٦ ص ١٦٧) آئے اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق سوال کیا جب انہیں خبر دی گئی تو انہوں نے اس عبادت کو کم سمجھا اور کہا۔ کہاں ہم اور کہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے اگلے اور پچھلے ذنب (بہ ظاہر خلاف اولی کاموں) کی تو مغفرت کردی گئی ہے ‘ ان میں سے ایک نے کہا میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا ‘ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس آئے اور فرمایا تم لوگوں نے اس اس طرح کہا تھا سنو ! بہ خدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور رات کو سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں سو جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا وہ میرے طریقہ پر نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٧٥٨۔ ٧٥٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ عورتوں ‘ بچوں ‘ مال و دولت اور اسباب زینت سے جائز طریقہ سے اعتدال کے ساتھ متمتع اور مستفید ہونا اسلام میں مطلوب ہے اور اس میں افراط اور تفریط ممنوع ہیں ‘ نہ یہ کرے کہ دن رات عبادت اور ریاضت میں مشغول ہو کر راہبوں کی طرح تارک الدنیا ہوجائے ‘ نہ دنیا داروں کی طرح ان چیزوں کی محبت میں ڈوب کر دین اور شریعت کے تقاضوں کو فراموش کردے ‘ اسلام نے دین دونوں کے متعلق ہدایات دی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اس کے ساتھ ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ‘ اسلام دہریت اور رہبانیت دونوں کے خلاف ہے اور عبادات ‘ معاملات اور سیاسیات کا جامع ہے۔

قرآن مجید نے اس آیت میں چھ چیزوں کے متعلق فرمایا ہے کہ انسان کے لئے ان کی شہوات کی محبت مزین کی گئی ہے عورتیں ‘ بیٹے سونے چاندی کے ڈھیر ‘ نشان زدہ گھوڑے ‘ مویشی اور کھیتیاں۔ فرمایا کہ یہ دنیا کی زندگی کا متاع ہے اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔ ہم اجمالی طور پر ان چھ چیزوں کے متعلق قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے احکام بیان کریں گے، اعتدال کے ساتھ عورتوں کی طرف رغبت کا استحباب :

اپنی منکوحہ عورتوں سے اعتدال کے ساتھ انس اور محبت کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ومن ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ “۔ (الروم : ٢١ )

ترجمہ : اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون پاؤاور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی “۔

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کی متعلق فرمایا :

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا کی تین چیزوں کی محبت میرے دل رکھی گئی ہے۔ عورتیں ‘ خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٩٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ دنیا متاع ہے اور دنیا، کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٤٧٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

عورتوں پر زیادہ اعتماد اور ان کے ساتھ زیادہ اشتغال سے منع کرنے کے لئے فرمایا :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے بعد عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ نہیں چھوڑا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٦٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید الفطر یا عید الاضحی میں عید گاہ گئے۔ آپ عورتوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو کیونکہ مجھے یہ دکھایا گیا ہے کہ تم زیادہ تر دوزخی ہو۔ عورتوں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا تم لعنت بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے تم سے زیادہ ایسی ناقصات عقل اور ناقصات دین نہیں دیکھیں جو بہت زیادہ ہوشیار مرد کی عقل کو بھی سلب کرلیں انہوں نے پوچھا یا رسول ! ہمارے دین اور ہماری عقل میں کیا نقصان ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا عورت کی شہادت مرد کی شہادت کا نصف نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا یہ ان کی عقل کے نقصان کی وجہ سے ہے۔ (پھر فرمایا) کیا یہ بات نہیں ہے کہ جب عورت کو حیض آجائے تو وہ نماز پڑھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ ان کے دین کا نقصان ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اعتدال کے ساتھ بیٹوں کی طرف رغبت کا استحباب :

اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے وجود کو انسان کے حق میں نعمت قرار دیا ہے کیونکہ بیٹے کے وجود سے انسان کی نسل آگے چلتی ہے اور دنیا میں باپ کا ذکر اور چرچا بیٹوں سے ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ “۔ (النحل : ٧٢)

ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے تم سے تمہاری بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں سے بیٹے ‘ پوتے اور نواسے پیدا کئے۔

(آیت) ” امدکم بانعام وبنین “۔ (الشعراء : ١٣٣)

ترجمہ : اس نے چوپایوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائی۔

(آیت) ” ویمددکم باموال وبنین ویجعل لکم جنت ویجعل لکم انھارا “۔ (نوح : ١٢)

ترجمہ : اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغ اگائے گا اور تمہارے لئے دریا بنا دے گا۔

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے صدقہ جاریہ ‘ یا وہ علم جس سے فائدہ حاصل کیا جائے یا نیک بیٹا جو اپنے ماں باپ کے لئے دعا کرتے ہیں۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٤٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اولاد کے ساتھ محبت میں افراط اور شدت اشتغال سے روکنے کے لیے فرمایا :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تلھکم اموالکم ولا اولاد کم عن ذکر اللہ “۔ (المنافقون : ٩)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔

(آیت) ” انما اموالکم واولادکم فتنۃ “۔ (التغابن : ١٥)

ترجمہ : تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہیں۔

اعتدال کے ساتھ مال کی طرف رغبت کا استحباب :

(آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “۔ (النحل : ٧١)

ترجمہ : اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض دوسروں پر رزق میں فضیلت عطا فرمائی ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مال میں زیادتی کو اللہ کا فضل قراردیا ہے ‘ نیز فرمایا :

(آیت) ” وسئلوا اللہ من فضلہ “۔ (النساء : ٣٢)

ترجمہ : اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو۔

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں فقراء مہاجرین نے آکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مالدار لوگ تو بلند درجات اور دائمی نعمتوں کو لے گئے آپ نے فرمایا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں ہماری طرح روزے رکھتے ہیں ‘ وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے۔ وہ غلام آزاد کرتے ہیں اور ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے۔ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جس کی وجہ سے تم سبقت کرنے والوں کا اجر پالو اور اس کی وجہ سے تم اپنے بعد والوں پر سبقت کرو اور کوئی شخص تم سے افضل نہ ہو مگر وہ جو تمہاری مثل اس کام کو کرے۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ ‘ اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو۔ ابو صالح نے کہا پھر فقراء مہاجرین دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا ہمارے مالدار بھائیوں کو ہماری تسبیحات پڑھنے کا علم ہوا تو انہوں نے بھی ہماری طرح تسبیحات پڑھنا شروع کردیں (یعنی وہ پھر مالی عبادت کرنے کی وجہ سے ہم سے بڑھ گئے) آپ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرمائے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢١٩۔ ٢١٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال و دولت کو اللہ کا فضل قرار دیا ہے اور یہ اس وقت ہے جب مال و دولت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کی اطاعت کی اطاعت میں خرچ کیا جائے اور اگر مال و دولت کو محض مال و دولت کی خاطر جمع کیا جائے تو اس کی اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذمت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” الھکم التکاثر۔ حتی زرتم المقابر۔ (التکاثر : ٢۔ ١)

ترجمہ : تمہیں زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے غافل کردیا۔ حتی کہ تم (مر کر) قبروں میں پہنچ گئے۔

(آیت) ” الذی جمع مالا وعددہ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ۔ کلا لینبذن فی الحطمۃ۔ (الھمزۃ : ٤۔ ٢)

ترجمہ : جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ ہرگز نہیں وہ چورا چورا کردینے والی میں ضرور پھینک دیا جائے گا۔

اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی میں شدید اشتغال اور استغراق کی مذمت فرمائی ہے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) نے مکہ میں خطبہ دیتے ہیں ارشاد فرمایا : اے لوگو ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ہوئی ایک وادی مل جائے تو وہ چاہے گا کہ اسے دوسری وادی بھی مل جائے اور اگر اس کو دوسری وادی بھی دے دی جائے تو وہ چاہے گا اسے تیسری وادی بھی مل جائے ابن آدم کے پیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ سے توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٥٣۔ ٩٥٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اعتدال کے ساتھ گھوڑوں اور مویشیوں کی طرف رغبت کا استحباب :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” والانعام خلقھا لکم فیہا دفء و منافع ومنھا تاکلون۔ ولکم فیہا جمال حین تریحون وحین تسرحون۔ و تحمل اثقالکم الی بلدلم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس ‘ ان ربکم لرؤف رحیم۔ والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ ویخلق مالا تعلمون۔ (النحل : ٨۔ ٥)

ترجمہ : اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہے اور (مزید) فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔ اور ان میں تمہارے لئے زینت ہے جب تم شام کو ان کو چرا کر واپس لاتے ہو اور جب انہیں چرنے چھوڑ جاتے ہو۔ اور وہ مویشی تمہارا وزنی سامان اٹھا کر ان شہروں میں لے جاتے ہیں جہاں تم جسمانی مشقت اٹھائے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے بیشک تمہارا رب نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے۔ اور اس نے تمہاری سواری اور زینت کے لئے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے اور وہ ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے۔

(آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل ترھبون بہ عدوا للہ وعدوکم واخرین من دونھم لا تعلمونہم “۔ (الانفال : ٦٠)

ترجمہ : اور (اے مسلمانو) انکے خلاف جتنی تم میں استطاعت ہے ہتھیاروں کی فراہمی اور گھوڑے باندھنے کی تیاری کرلو ان سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر دھاک بٹھاؤ اور ان کے سوا دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گھوڑے تین قسم کے ہیں ایک گھوڑا کسی شخص کے لیے باعث اجر ہے ایک گھوڑا باعث ستر ہے اور ایک گھوڑا باعث عذاب ہے۔ جس گھوڑے کو اس نے اللہ کی راہ میں باندھا وہ اس کے لئے باعث اجر ہے اس کو وہ کسی چراگاہ یا باغ میں چرنے کے لئے چھوڑ دے تو جتنی دور وہ چرنے کے لیے جائے گا اس کے لئے اتنی نیکیاں لکھی جائیں گی اور وہ پانی پینے کے لئے یالید کرنے کے لئے جتنے قدم چلے گا اس کے لئے اتنی نیکیاں لکھی جائیں گی ‘ اور جو گھوڑا انسان کے لیے باعث ستر ہے (یعنی گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ) یہ وہ گھوڑا ہے جس کو اس نے لوگوں سے مستغنی ہونے اور سوال سے بچنے کے لئے باندھا ہو پھر اس گھوڑے پر سواری کرنے اور اس پر بوجھ لادنے میں وہ اللہ کے حق کو فراموش نہ کرتا ہو (یعنی اس کی زکوۃ ادا کرتا ہو) اور جو گھوڑا انسان کے لئے باعث ضرر اور عذاب ہے۔ یہ وہ گھوڑا ہے جس کو اس نے تکبر ‘ ریاکاری اور مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ سے باندھا ہو۔ الحدیث۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣١٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ گھوڑوں اور مویشیوں میں اللہ تعالیٰ نے زینت رکھی ہے اور انسان کے دل میں ان کی محبت ودیعت فرمائی ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے اور بندوں کے ساتھ صلہ رحم کرنے کے لئے ان کو اعتدال کے ساتھ جمع کرے تو یہ مستحب ہے اور باعث اجر وثواب اور سبب مغفرت ہے اور اگر ان کو نمود و نمائش اور فخر اور تکبر کے لئے جمع کرے تو ان کا جمع کرنا باعث ضرر اور گناہ ہے۔

اعتدال کے ساتھ کھیتی باڑی کی طرف رغبت کا استحباب :

کھیتی باڑی کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” افرء یتم ما تحرثون۔ ء انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون “۔۔ (الواقعۃ : ٦٤۔ ٦٣)

ترجمہ : ذرا بتاؤ تو سہی ! جو کچھ تم کاشت کرتے ہو آیا اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مسلمان کوئی پودا اگاتا ہے یا کھیتی باڑی کرتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ کھاتا ہے یا انسان یا جانور تو وہ اس کے لئے صدقہ ہوجاتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل خیبر سے معاملہ طے کیا کہ کھیتوں سے جو فصل کی پیداوار حاصل ہوگی اور باغات سے جو پھل حاصل ہوں گے تو (انکے کام کرنے کے عوض) نصف وہ لیں گے اور (زمین کی ملکیت کی وجہ سے) نصف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے اپنی ازواج مطہرات کو اسی وسق (٤٨٠ من) کھجوریں اور بیس وسق (١٢٠ من) جو عطا فرماتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے دور خلافت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کو اختیار دیا خواہ خود زمین میں کاشت کریں یا غلہ کی مقدار مذکور لیں ‘ بعض نے (حساب سے) غلہ لیا اور بعض نے خود کاشت کا انتظام کیا۔ حضرت عائشہ (رض) نے کاشت کاری کو اختیار کیا تھا۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زراعت اور کھیتی باڑی میں زیادہ انہماک اور شدت اشتغال سے منع کرنے کے لئے۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ باہلی (رض) نے ایک مرتبہ ہل کی پھالی اور کچھ اور کچھ آلات زراعت دیکھے تو کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس قوم کے گھر میں بھی یہ آلات داخل کئے جائیں گے اللہ تعالیٰ اس قوم کو ذلت میں مبتلا کر دے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٤١۔ ٣١٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ جن چھ چیزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کی شہوات کی محبت انسان کے لئے مزین کردیں گئی ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انسان ان چھ چیزوں کو بالکلیہ ترک کر دے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ انسان ان کی محبت میں ڈوب کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کو فراموش نہ کرے اور توازن اور اعتدال کے ساتھ ان چیزوں کی محبت میں مشغول رہنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 14