أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَنَادَتۡهُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَهُوَ قَآٮِٕمٌ يُّصَلِّىۡ فِى الۡمِحۡرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ

ترجمہ:

تو جس وقت وہ عبادت کے حجرے میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے فرشتوں نے انھیں پکار کر کہا کہ (اے زکریا) بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے ‘ جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ سردار اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے اور ہمارے نیک بندوں پر میں سے ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو جس وقت وہ عبادت کے حجرے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے فرشتوں نے انہیں پکار کر کہا اے زکریا ! بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ سردار ‘ اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور بنی ہوں گے اور نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩)

ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت نے آکر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو حضرت یحییٰ کی ولادت کی نوید سنائی اور جمہور نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ ندا کرنے والے حضرت جبرائیل تھے اور چونکہ حضرت جبرائیل جماعت ملائکہ کے رئیس ہیں اس لئے ان کو ملائکہ سے تعبیر فرمایا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت جبرائیل تمام ملائکہ کی صفات جمیلہ کے جمامع ہیں۔

نمازی کو ندا کرنے کی بحث :

بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو شخص نماز پڑھا رہا ہو اس کو ندا کرنا اور اس سے کلام کرنا جائز ہے ‘ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے یا حضرت جبریل (علیہ السلام) نے ندا کی اور ان سے کلام کیا اور اس پر عام آدمیوں کے کلام کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں یہ شریعت سابقہ ہے ہماری شریعت میں نماز میں کلام کرنا ممنوع ہے امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت بن ارقم (رض) روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے باتیں کیا کرتے تھے ‘ ایک نمازی اپنے ساتھ کھڑے ہوئے شخص سے باتیں کرتارہتا تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوگئی : (آیت) ” وقوموا للہ قانتین “۔ (البقرہ : ٢٣٨) اور اللہ کے سامنے خاموشی اور ادب سے کھڑے رہو۔ پھر ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کردیا گیا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٨٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں صلوۃ بمعنی دعا بھی ہوسکتی ہے یعنی حضرت زکریا اس وقت دعا کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ فرض نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور کسی کے بلانے پر جانا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ آپ کے بلانے پر جانے اور آپ سے باتیں کرنے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ اور نفل نماز میں ماں کے بلانے پر چلا جائے اور اس نفل نماز کو دوبارہ پڑھ لے اور باپ کے بلانے پر نفل نماز میں بھی جانا جائز نہیں ہے اس کی تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم سابع میں کی ہے۔

محراب میں نماز پر ھنے کی بحث 

اس آیت میں مذکور ہے حضرت زکریا محراب میں نماز پڑھ رہے تھے علامہ ابوالحیان اندلسی نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا جائز ہے اور امام ابوحنیفہ اس سے منع کرتے ہیں۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ١٢٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی کا استدلال کئی وجہ سے صحیح نہیں ہے اول اس لئے کہ امام ابوحنیفہ مطلقا محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کو مکروہ نہیں کہتے بلکہ جماعت سے نماز پڑھاتے وقت امام کے محراب میں کھڑے ہونے کو مکروہ کہتے ہیں کیونکہ عبادت میں امام کی مخصوص جگہ نصاری کی عبادت کے مشابہ ہے ‘ اور وہ یہاں ثابت نہیں ہے کہ حضرت زکریا اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جبکہ یہاں صلوۃ بمعنی دعا کا بھی احتمال ہے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں محراب کا معنی ہے عبادت کا حجرہ ‘ اور امام ابوحنیفہ نے اس معروف محراب میں کھڑے ہونے کو مکروہ کہا ہے جو مسجد کے وسط میں ایک مخصوص شکل سے بنائی جاتی ہے اور چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ بکثرت احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبادات میں یہود و نصاری کی تشبیہ سے منع فرمایا ہے۔

حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی سوانح :

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت زکریا (علیہ السلام) دعا کی اور فرشتوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے زکریا ! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔ زکریا نے کہا : اے میرے رب میرا لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں۔ فرمایا یوں ہی ہوگا ‘ آپ کے رب نے فرمایا وہ میرے لئے آسان ہے اور اس سے پہلے میں تم کو پیدا کرچکا ہوں جب تم کچھ بھی نہ تھے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے فرمایا تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین رات (دن) لوگوں سے بات نہ کر سکوگے حالانکہ تم تندرست ہوگئے۔ تو وہ اپنے (ماننے والوں) لوگوں کے سامنے عبادت کے حجرہ سے باہر نکلے سو ان کی طرف اشارہ کیا کہ صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔ (مریم : ١١۔ ٧)

پھر حضرت یحییٰ کے پیدا ہونے کے بعد ان کی طرف یہ وحی کی :

(آیت) ” ییحی خذا الکتاب بقوۃ واتیناہ الحکم صبیا۔ وحنانا من لدنا وزکوۃ وکان تقیا۔ وبرا بوالدیہ ولم یکن جبارا عصیا۔ وسلم علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا۔ (مریم : ١٥۔ ١٢)

ترجمہ : اے یحییٰ پوری قوت سے کتاب پکڑ لو اور ہم نے انہیں بچپن میں نبوت دی۔ اور اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی عطا فرمائی اور وہ نہایت متقی تھے۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمانی کرنے والے نہ تھے۔ اور ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔

ان تین اوقات میں سلام کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ابن آدم پر یہ تین اوقات بہت سخت ہوتے ہیں ان اوقات میں وہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہوتا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :

(آیت) ” والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم : ٣٣)

ترجمہ : اور مجھ پر سلام ہو میری ولادت کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا۔

قتادہ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : آپ مجھ سے بہتر ہیں آپ میرے لئے استغفار کریں ‘ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں آپ میرے لئے استغفار کریں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں کیونکہ میں نے اپنے اوپر خود سلام بھیجا ہے اور آپ پر اللہ نے سلام بھیجا ہے ‘ تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے جان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ہی فضیلت دی ہے۔ امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ابن آدم نے خطا کی ہے یاخطا کا ارادہ کیا ہے ماسوا یحییٰ بن زکریا کے ‘ اور کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے زیادہ افضل ہوں۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور امام دار قطنی نے بھی روایت کیا ہے۔ ابن وہب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے پاس آئے تو وہ انبیاء (علیہم السلام) کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے کسی نے کہا موسیٰ کلیم اللہ ہیں۔ کسی نے کہا عیسیٰ روح اللہ ہیں ‘ کسی نے کہا ابراہیم خلیل اللہ ہیں۔ آپ نے فرمایا شہید کہاں ہے ؟ جو اون کے کپڑے پہنتے تھے اور درخت کے پتے کھاتے تھے اور گناہوں سے ڈرتے تھے ‘ اور حافظ ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن یحییٰ بن زکریا کے سوا ہر شخص اللہ تعالیٰ سے کسی نہ کسی (نوع کے) گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سید اور حصور فرمایا ہے پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کر کہا ان کے پاس بس اتنی تھی پھر ان کو ذبح کردیا گیا۔

امام احمد اپنی سند کے ساتھ حضرت حارث اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو پانچ چیزوں پر عمل کرنے اور بنواسرائیل کو ان کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ قریب تھا کہ حضرت یحییٰ اس میں تاخیر کرتے کہ ایک دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا آپ کو پانچ چیزوں پر عمل کرنے اور بنواسرائیل کو ان کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا تھا یا آپ انہیں تبلیغ کریں یا پھر میں تبلیغ کرتا ہوں۔ حضرت یحییٰ نے کہا اے بھائی ! مجھے ڈر ہے کہ اگر تم نے مجھ سے پہلے ان کلمات کی تبلیغ کردی تو مجھے عذاب ہوگا یا مجھ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر حضرت یحییٰ نے بیت المقدس میں بنو اسرائیل کو جمع کیا اور کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے پانچ باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو بھی ان پانچ چیزوں کی تعلیم دوں۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے خالص مال سے سونے یا چاندی کے بدلہ ایک غلام خریدے اور وہ غلام اپنے مالک کے سوا کسی اور کی خدمت کرے اور مالک کی آمدنی کسی اور شخص تک پہنچائے۔ تم میں سے کون شخص پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور تم کو رزق دیا تو تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو بالکل شریک نہ کرو۔ جب تک بندہ اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اللہ بھی اس کی طرف متوجہ رہتا ہے اس لیے جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر توجہ نہ کرو ‘ اور اللہ نے تمہیں روزے رکھنے کا حکم دیا اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس لوگوں کی ایک جماعت میں مشک کی تھیلی ہو جس سے سب لوگوں کو مشک کی خوشبو آرہی ہو ‘ اور بیشک روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘ اور اللہ نے تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو اس کے دشمنوں نے قید کرلیا اور اس کی گردن کے ساتھ اس کے ہاتھ باندھ دیئے پھر وہ اس کی گردن اڑانے کے لئے آئے تو اس نے کہا تمہاری کیا رائے ہے میں تمہیں اپنی جان کا فدیہ دے دوں ! پھر وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ مال انہیں دے کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے ‘ اور میں تم کو اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو پکڑے کے لئے اس کے پیچھے اس کا دشمن دوڑ رہا ہو تو وہ ایک مضبوط قلعے میں آکر قلعہ بن ہوجائے اور جب کوئی شخص اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایک مضبوط قلعہ میں شیطان سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ حضرت حارث اشعری نے کہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے جماعت کے ساتھ رہنا ‘ حکم سننا اور اطاعت کرنا ‘ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ کیونکہ جو شخص ایک بالشت بھی جماعت سے نکالا اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا الا یہ کہ وہ واپس آجائے ‘ اور جس نے زمانہ جاہلیت کی چیخ و پکار کی اس نے جہنم سے مٹی ڈال لی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خواہ اس نے روزے رکھے ہوں اور نماز پڑھی ہو۔ آپ نے فرمایا خواہ اس نے روزے رکھے ہوں اور نماز پڑھی ہو اور مسلمان ہونے کا زعم کیا ہو۔ مسلمانوں کو مسلمان کہہ کر بلاؤ کیونکہ اللہ عزوجل نے اللہ کے بندوں کو مسلمان اور مومن کہا ہے۔ اس حدیث کو امام ابو یعلی ‘ امام ترمذی امام ابو داؤد طیالسی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام حاکم اور امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔

مورخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یحییٰ لوگوں سے الگ رہتے تھے۔ وہ جنگلوں سے مانوس تھے۔ درختوں کے پتے کھاتے۔ دریاؤں کا پانی پیتے۔ کبھی کبھی ٹڈیوں کو کھالیتے اور کہتے تھے اسے یحییٰ ! تم سے زیادہ انعام یافتہ کون ہوگا۔ امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ ان کے ماں باپ انہیں ڈھونڈنے نکلے تو وہ دریا اردن کے پاس ملے ان کی عبادت اور ان میں اللہ کا خوف دیکھ کر وہ بہت روئے۔ مجاہد نے ذکر کیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا ہری ہری گھاس کھاتے اور خوف خدا سے بہت روتے تھے۔ ذہیب بن ورد بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) سے ان کے بیٹے یحییٰ گم ہوگئے وہ تین دن ان کو ڈھونڈتے پھرے بالاخر وہ کھودی ہوئی قبر میں ملے وہاں بیٹھے ہوئے خوف خدا سے رو رہے تھے ‘ انہوں نے کہا اے بیٹے ! میں تم کو تین دن سے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں قبر میں بیٹھے ہوئے رو رہے ہو ! حضرت یحییٰ نے کہا اے میرے ابو ! کیا آپ ہی نے مجھے یہ خبر نہیں دی تھی کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جنگل ہے جس کو صرف رونے والوں کے آنسوؤں سے ہی طے کیا جاسکتا ہے۔ امام ابن عساکر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ حضرت یحییٰ نے کہا اہل جنت جنت کی نعمتوں کی لذت کی وجہ سے نہیں سوتے ‘ سو اسی طرح صدیقین کو چاہیے کہ ان کے دلوں میں جو اللہ کی محبت ہے اس کی وجہ سے نہ سوئیں پھر فرمایا ان دونوں نعمتوں میں کتنا فرق ہے۔ وہ بہت زیادہ روتے تھے حتی کہ مسلسل آنسو بہنے کی وجہ سے ان کے رخساروں میں نشان پڑگئے تھے۔

حضرت یحییٰ کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیں کہ اس زمانہ میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو اس کام سے منع کیا ‘ اس وجہ سے اس عورت کے دل میں حضرت یحییٰ کے خلاف بغض پیدا ہوگیا جب اس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہوگئی تو اس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ بادشاہ نے حضرت یحییٰ کو قتل کرکے ان کا سر اس عورت کے سامنے پیش کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ عورت بھی اسی ساعت مرگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ پر فریفتہ ہوگئی اس نے حضرت یحییٰ سے اپنی مقصد برآری چاہی ‘ حضرت یحییٰ نے انکار کیا جب وہ حضرت یحییٰ سے مایوس ہوگئی تو اس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ کو قتل کرایا اور ان کا سر مبارک کاٹ کر ایک طشت میں اس عورت کو پیش کردیا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٥٤۔ ٤٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٣ ھ)

حضرت یحییٰ کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل میں بھی اس کی تصدیق ہے : 

کیونکہ ہیرودیس نے آپ آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب سے اسے قید خانہ میں باندھ رکھا تھا کیونکہ ہیرودیس نے اس سے نکاح کرلیا تھا۔ اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں۔ پس ہیرودیاس اس سے دشمنی رکھتی اور چاہتی تھی کہ اسے قتل کرائے مگر نہ ہوسکا۔ کیونکہ ہر ودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اس سے ڈرتا اور اسے بچائے رکھتا تھا اور اس کی باتیں سن کر بہت حیران ہوجاتا تھا مگر سنتا خوشی سے تھا۔ اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور گلیل کے رئیسوں کی ضیافت کی۔ اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی اور ناچ کر ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا جو چاہے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔ اور اس سے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے مانگے گی اپنی آدھی سلطنت تک تجھے دوں گا۔ اور اس نے باہر جا کر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں ؟ اس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔ وہ فی الفور بادشاہ کے پاس جلدی سے اندر آئی اور اس سے عرض کی کہ میں چاہتی ہوں کہ تو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھا میں ابھی مجھے منگوا دے۔ بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔ پس بادشاہ نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اس کا سر لائے۔ اس نے قید خانہ میں جا کر اس کا سر کاٹا۔ اور ایک تھال میں لا کر لڑکی کو دیا اور لڑکی نے اپنی کو دیا۔ پھر اس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اٹھا کر قبر میں رکھی۔ (مرقس : باب : ٦‘ آیت ٢٩۔ ١٨‘ نیاعہد نامہ ص ٤٠۔ ٣٩‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، سردار اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے اور ہمارے نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩)

حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنا :

یحیی کے معنی ہیں زندہ ہوتا ہے یا زندہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام یحییٰ رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کے ساتھ زندہ رکھا۔ یا وہ کلمہ حق کہنے کی باداش میں قتل کئے جانے کے بعد ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت زکریا کی بیوی نے حضرت مریم سے کہا میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ تمہارے پیٹ کے بچہ کے لئے حرکت کرتا ہے ‘ پھر حضرت زکریا کی بیوی کے ہاں حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور حضرت مریم کے ہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ کے مصدق تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا ہے جو کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ خالہ زاد بھائی تھے اور حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے کہتی تھیں کہ میں محسوس کرتی ہوں جو میرے پیٹ ہے وہ اس کو سجدہ کرتا ہے جو تمہارے پیٹ میں ہے حضرت یحییٰ نے اپنی ماں کے پیٹ میں حضرت عیسیٰ کو سجدہ کرکے ان کی تصدیق کی وہ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی تصدیق کرنے والے تھے ‘ حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو سید فرمایا ہے اس کا معنی ہے وہ علم اور عبادت میں سردار تھے قتادہ نے کہا وہ علم ‘ حلم اور تقوی میں سردار تھے۔ مجاہد نے کہا سید کا معنی ہے جو اللہ کے نزدیک کریم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو حصور بھی فرمایا ہے، حصور کا معنی ہے جو عورتوں سے خواہش پوری نہ کرتا ہو۔ حضرت ابن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یحییٰ بن زکریا کے سوا ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا۔ الحدیث : (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٧٤۔ ١٧٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حضرت یحییٰ کا عورتوں کی خواہش پوری نہ کرنا اپنی پاکبازی کی وجہ سے تھا کسی عجز کی وجہ سے نہ تھا ‘ انبیاء کرام ہر قسم کے عیب سے منزہ ہوتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 39