أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنۡهُ ۖ اسۡمُهُ الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ وَجِيۡهًا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَۙ

ترجمہ:

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک (خاص) کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہے اور اللہ کے مقربین میں سے ہے

تفسیر:

خلاصہ آیات اور وجہ ارتباط : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ اور حضرت مریم کے احوال بیان فرمائے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قرابت دار تھے۔ اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے احوال اور واقعات بیان فرمائے ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارشاد فرما رہا ہے : اے رسول مکرم ! اس وقت کو یاد کیجئے جب جبرائیل نے مریم سے کہا اللہ آپ کو عیسیٰ کی بشارت دیتا ہے جو اللہ کے صرف کلمہ ” کن “ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس آیت میں اگرچہ ملائکہ کا لفظ ہے مگر اس سے مراد حضرت جبرائیل ہیں اور ان کو ملائکہ سے اس لئے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ وہ ملائکہ کی تمام صفات کمالیہ کے جامع ہیں ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک معزز اور مقربین میں سے ہیں اور وہ لوگوں سے پالنے میں بھی باتیں کریں گے اور پختہ عمر میں بھی باتیں کریں گے اور وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے ہیں۔ حضرت مریم نے متعجب ہو کر کہا ان کے ہاں بچہ کیسے پیدا ہوگا ان کا تو خاوند ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا اس کے نزدیک بغیر باپ کے بچہ کو پیدا کرنا کوئی مستبعد اور تعجب خیز بات نہیں ہے اس نے ابتدا آسمان اور زمین کو پیدا کیا ‘ حوا کو بغیر عورت کے پیدا کیا اور حضرت آدم کو عورت اور مرد دونوں کے بغیر پیدا کیا۔ نیز اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر فرمایا تھا جن کو بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے پیدا کیا تھا یہ بھی عام معمول اور عادت کے خلاف پیدائش تھی اور اس وقت بھی یہی فرمایا تھا اسی طرح ہوتا ہے اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے اب اس سے بھی زیادہ معمول اور عادت کے خلاف پیدائش کی اور حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور اس آیت میں بھی فرمایا اسی طرح ہوتا ہے اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا کلمہ قرار دینے کی توجیہہ 

اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرمایا ہے اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک (خاص) کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ (آل عمران : ٤٥) ایک اور آیت میں فرمایا :

(آیت) ” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ “۔ (النساء : ١٧١)

ترجمہ : مسیح عیسیٰ بن مریم محض اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے۔

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیسیٰ اللہ کی (پسندیدہ) روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٢٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کلمہ ” کن “ سے پیدا کئے گئے ہیں یوں تو اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کلمہ ” کن “ سے پیدا کی گئی ہے لیکن ان چیزوں کے کچھ مادی اور ظاہری اسباب بھی ہوتے ہیں۔ مثلا حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے مٹی کا پتلا بنایا گیا۔ عام انسانوں کی پیدائش کے لئے مرد وزن کے اختلاط اور نطفہ کو ظاہری سبب بنایا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر کسی ظاہری اور مادی سبب کے محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ ” کن “ سے پیدا کیا گیا اس لئے آپ کو کلمۃ اللہ فرمایا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح عادل سلطان کو ظل اللہ اور نور اللہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت اور اس کے نور کے ظہور کا سبب ہوتا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ظہور کا سبب ہیں اور کلمہ ” کن “ کے تصرفات کے مظہر اور دلیل ہیں اس لئے ان کو کلمۃ اللہ فرمایا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور اور حدوث کا مبدء ہے اس لئے ” کلمۃ “ اور ” کلمۃ منہ “ فرمایا اور اپنی طرف اضافت فرمائی ہے اور یہاں ” من “ کا لفظ تبعیض اور جز عمیت کے لئے نہیں ہے جیسا کہ بعض عیسائیوں کا گمان ہے ‘ بعض عیسائی یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں بکلمۃ منہ (آل عمران : ٤٥) مذکور ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ تعالیٰ کا جز ہیں اور یہ ان کے ابن ہونے کو مستلزم ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں ” من “ تبعیض کے لئے نہیں بلکہ ابتداء کے لئے ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی ابتداء بغیر باپ کے واسطے کے محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ ” کن “ سے ہوئی ہے جس طرح قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :

(آیت) ” وسخرلکم مافی السموات وما فی الارض جمیعا “ (الجاثیہ : ١٣)

ترجمہ : اور اس نے تمہارے نفع کے لئے مسخر کردیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے تمام اس کی طرف سے ہیں۔

ظاہر ہے یہاں بھی لفظ ” من “ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اللہ کا جز ہیں اور اس کے بیٹے ہیں بلکہ یہاں بھی لفظ ” من “ ابتداء کے لئے ہے یعنی سب چیزوں کے صدور کی ابتداء اللہ کی طرف سے ہوئی ہے اور اس نے ہر چیز کو کلمہ ” کن “ سے پیدا کیا لیکن ان سب چیزوں کو کلمۃ اللہ اس لئے نہیں فرمایا کہ ان چیزوں کو بعض ظاہری اور مادی واسطوں سے پیدا فرمایا ہے۔

مسیح کا معنی :

مسیح اور عیسیٰ کے متعلق دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ عبرانی زبان کے لفظ ہیں ‘ ابوعبیدہ اور لیث نے کہا مسیح عبرانی زبان میں مشیح تھا اور عربی زبان میں یہ مسیح ہوگیا اور عیسیٰ اصل میں یشوع تھا جیسے کہا ہے کہ موسیٰ اصل میں موش کی یا میشا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ عربی زبان کے الفاظ ہیں اور مشتق ہیں اکثر علماء کا اسی پر اتفاق ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح اس لئے کہتے ہیں کہ وہ بیماروں کے اوپر ہاتھ پھیرتے (مسح کرتے) تو وہ تندرست ہوجاتے ‘ احمد بن یحییٰ نے کہا آپ کو مسیح اس لئے کہا گیا کہ آپ بہت جلد قطع مسافت کرلیتے تھے۔ بعض علماء نے کہا کہ آپ یتیموں کے سر پر شفقت سے بہ کثرت ہاتھ پھیرتے تھے اس لئے آپ کو مسیح فرمایا۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ مسیح کا معنی رگڑنا اور مٹانا بھی ہے چونکہ آپ کے مفروضہ گناہ رگڑ دیئے گئے تھے اس لئے آپ کو مسیح فرمایا ‘ پانچویں وجہ یہ ہے کہ جس مبارک تیل کے ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے جسموں پر مالش کی جاتی تھی اسی تیل کے ساتھ آپ کے جسم کی مالش کی گئی ‘ علماء نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تیل کو انبیاء (علیہم السلام) کی علامت بنادیا ہے۔ چھٹی وجہ یہ ہے کہ جس وقت وہ پیدا ہوئے ان کے جسم پر تیل کی مالش کی ہوئی تھی ‘ ساتویں وجہ یہ ہے کہ جس وقت وہ پیدا ہوئے حضرت جبرئیل نے ان پر اپنے پروں کے ساتھ مسح کیا تاکہ وہ مس شیطان سے محفوظ رہیں یہ سات وجوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح کا لقب دینے کی ہیں ‘ اور دجال لعین کو جو مسیح کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ممسوح العین ہوگا یعنی اس کی ایک آنکھ رگڑی ہوئی یا مٹی ہوئی ہوگی۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجاہت کا بیان : 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عیسیٰ بن مریم فرمایا اور ماں کی طرف ان کی نسبت کی ہے کیونکہ وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ دنیا اور آخرت میں وجیہہ ہوں گے وجیہہ اس شخص کو کہتے ہیں جس شخص کے لئے عزت ‘ شرف اور قدر ومنزلت ہو ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بنواسرائیل نے ایک جسمانی عیب کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت کی اور ان کی وجاہت بیان فرمائی :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللہ وجیھا “۔ (الاحزاب : ٦٩)

ترجمہ : اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ان کی تہمت سے بری فرما دیا اور وہ اللہ کے نزدیک معزز ہیں۔

وجہہ کا معنی ہے چہرہ : وجیہہ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی نیکیوں اور مقبولیت کی وجہ سے سرخرو ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کئی وجوہ سے اللہ کے نزدیک دنیا اور آخرت میں سرخ رو ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ دوسری وجہ ہے کہ وہ مستجاب الدعوات ہیں انکی دعا سے مردے زندہ ہوجاتے تھے اور مادر زاد ا اندھے بینا ہوجاتے تھے۔ اور برص والے تندرست ہوجاتے تھے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ یہود لگائی ہوئی تہمتوں سے دنیا میں بری ہوئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب جزیل کا وعدہ فرمایا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ مقربین میں سے ہیں اس میں یہ تنبیہہ ہے کہ جب انہیں پھانسی دی جائے گی تو اللہ تعالیٰ ان کو آسمانوں پر اٹھا لے گا ‘ یہود اور نصاری دونوں اس پر متفق تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی دی گئی اور صلیب پر چڑھا کر سولی دی گئی اور جس شخص کو سولی دی جائے اس کو عیسائی لعنتی کہتے تھے حتی کہ حضرت عیسیٰ کے متعلق بھی کتاب مقدس میں لکھا ہے :

مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ (گلیتوں باب : ٣‘ آیت : ١٣‘ نیا عہد نامہ ص ١٨٠‘ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور)

عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لعنتی کہتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک وہ دنیا اور آخرت میں معزز ‘ قدر و منزلت والے اور مقربین میں سے ہیں۔ یہود اور عیسائی دونوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر یہ تہمت لگاتے تھے کہ ان کو سولی دی گئی ‘ اسلام نے سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی برات بیان کی اور یہ اعلان کیا کہ یہود نے حضرت (علیہ السلام) کے مشابہ کسی اور شخص کو سولی دی تھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی نہیں دی گئی انہیں زندہ آسمانوں پر اٹھالیا گیا تھا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 45