أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اَوۡلَى النَّاسِ بِاِبۡرٰهِيۡمَ لَـلَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُ وَهٰذَا النَّبِىُّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ وَلِىُّ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

ترجمہ:

بیشک تمام لوگوں میں ابراہیم سے نزدیک تر وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کی اتباع کی اور یہ نبی اور جو (ان پر) ایمان لائے، اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک تمام لوگوں میں ابراہیم سے نزدیک تر وہی لوگ تھے جنہوں نے اس کی اتباع کی اور یہ نبی اور جو (ان پر) ایمان لائے اور اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے۔۔ (آل عمران : ٦٨)

اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی اتباع کرنے کے دعوی کا حق ان ہی لوگوں کو ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین ‘ ان کی شریعت اور ان کے طریقہ کی پیروی کرتے ہیں اور وہ یہ نبی ہیں یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین اور آپ پر ایمان لانے والے ‘ اور جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ ان کی مدد کرنے والا ہے ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نبی کے نبیوں میں سے کچھ مددگار ہوتے ہیں اور ان نبیوں میں سے میرے مددگار میرے باپ اور میرے رب کے خلیل ہیں ‘ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے (جامع البیان ج ٣ ص ٢١٨‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٤٢٦ مطبوعہ کراچی)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 68