لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 92

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰى تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

تم ہرگز نیکی نہیں حاصل کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو اور تم جس چیز کو بھی خرچ کرتے ہو، اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے۔

تفسیر:

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ کافر اگر قیامت کے دن بالفرض روئے زمین کے برابر سونا بھی صدقہ کرے تو وہ مقبول نہیں ہوگا ‘ تب یہ سوال پیدا ہوا کہ صدقہ کب قبول ہوگا ‘ کس کا قبول ہوگا اور کون سے صدقہ کی قبولیت زیادہ متوقع ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ صدقہ کرنا بر (نیکی) ہے اور ابرار کا صدقہ قبول ہوگا ‘ اور نیکی تب حاصل ہوگی جب ان چیزوں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے جو انسان کو سب سے زیادہ پسند ہوں۔

بر کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

بر کا معنی ہے صلہ ‘ جب کوئی شخص صلہ رحمی کرے تو کہتے ہیں اس نے بر کی ‘ قرآن مجید کی مذکور ذیل آیت اسی معنی میں ہے۔

(آیت) ” لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلونکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین “۔ (الممتحنہ : ٨)

ترجمہ : جن لوگوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ‘ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ساتھ بر کرنے یعنی عدل اور احسان کا سلوک کرنے سے منع نہیں فرماتا ‘ بیشک اللہ عدل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “۔ (ال عمران : ٩٢)

ترجمہ : تم اس وقت تک ہرگز بر یعنی نیکی نہ پا سکو گے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے کچھ خرچ نہ کرو۔

ابو منصور نے کہا بر دنیا اور آخرت کی خیر کو کہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو ہدایت ‘ نعمت اور اچھی چیزیں عطا فرمائی ہیں وہ دنیا کی خیر ہے اور جنت میں دائمی نعمتوں کا حصول آخرت کی خیر ہے (اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے ہم کو دنیا اور آخرت کی خیر عطا فرمائے آمین) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ہمیشہ سچائی پر رہو کیونکہ سچائی بر کی ہدایت دیتی ہے ‘ شمر نے کہا اس حدیث میں بر کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض علماء نے کہا نے کہا برسے مراد صلاح (درستگی) ہے اور بعض نے کہا برسے مراد خیر ہے ‘ اور میرے علم میں اس سے زیادہ جامع بر کی اور کوئی تفسیر نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ تمام اقوال کو جامع ہے۔

لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا بر ہے ‘ ہمارے شیخ نے بیان کیا کہ بعض اہل لغت نے کہا کہ بر کا اصل معنی وسعت ہے بحر کے مقابلہ میں برکا لفظ اسی سے ماخوذ ہے ‘ پھر یہ لفظ شفقت ‘ احسان اور صلہ میں مشہور ہوگیا ‘ مصنف (صاحب قاموس) نے بصائر میں کہا ہے کہ برکا معنی ہے فعل خیر میں توسع ‘ کبھی یہ لفظ اللہ عزوجل کی طرف منسوب ہوتا ہے اور البر الرحیم کہا جاتا ہے اور کبھی بندے کی طرف منسوب ہوتا ہے اور برالعبد ربہ کہا جاتا ہے یعنی بندے نے زیادہ عبادت کی ‘ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو ثواب عطا کرنے اور بندے کی طرف منسوب ہو تو اطاعت کے معنی میں ہے ‘ اطاعت کی ایک قسم اعتقاد ہے اور دوسری اعمال ‘ قرآن مجید کی مذکور ذیل آیت ان دونوں قسموں کو شامل ہے :

(آیت) ” لیس البران تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم ولاخر والملائکۃ والکتب والنبین واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل والسآئلین وفی الرقاب واقاب الصلوۃ واتی الزکوۃ والموفون بعھدھم اذا عاھدوا والصبیرین فی الباسآء والضرآء وحین الباس اولئک الذین صدقوا، واولئک ھم المتقون “۔ (البقرۃ : ١٧٧) 

ترجمہ : اصل بر (نیکی) یہ نہیں ہے کہ تم اپنا مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلو ‘ البتہ اصل براس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ ‘ روز آخرت ‘ فرشتوں ‘ (آسمانی) کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال سے محبت کے باجود (اللہ کے لیے) رشتہ داروں ‘ مسکینوں مسافروں ‘ سوال کرنے والوں اور غلام آزاد کرنے کے لیے مال دے اور نماز قائم کرے ‘ اور زکوۃ ادا کرے ‘ اور عہد کرنے کے بعد عہد پورا کرنے والے اور تکلیف اور سختی میں صبر کرنے والے۔ یہی لوگ (بر میں) صادق ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔

روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ‘ کیونکہ یہ آیت اعتقاد اعمال ‘ فرائض ‘ نوافل ‘ بروالدین اور ان کے ساتھ حسن سلوک میں وسعت پر مشتمل ہے۔ (تاج العروس شرح القاموس ج ٣ ص ٣٧۔ ٣٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

نیکی کے حصول کے لیے صحابہ کرام کا اپنی محبوب چیزوں کو صدقہ کرنا : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ (رض) مدینہ میں کھجوروں کے لحاظ سے سب سے زیادہ مالدار تھے ‘ اور ان کا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحاکا باغ تھا ‘ یہ مسجد (نبوی) کے سامنے تھا ‘ رسول اللہ باغ میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے ‘ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : تم ہرگز نیکی نہیں حاصل کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو “ تب حضرت ابو طلحہ (رض) اٹھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور عرض کیا : یا رسول ! بیشک اللہ فرماتا ہے : تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو۔ “ اور بیشک میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحا ہے ‘ اور یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے اور میں اللہ کے نزدیک اس کی نیکی اور آخرت میں اس کے اجر کی توقع رکھتا ہوں ‘ یارسول ! آپ جہاں مناسب سمجھیں اس کو رکھیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چھوڑو ‘ یہ نفع بخش مال ہے ‘ یہ نفع بخش مال ہے ‘ اور میں نے سن لیا جو تم نے کہا ہے ‘ اور میری رائے یہ ہے کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں کو دے دو ‘ حضرت ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ایسا ہی کروں گا پھر حضرت ابوطلحہ نے اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور اپنے چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٩٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوئے :

(١) زمینوں اور باغات کو اپنی ملکیت میں رکھنا جائز ہے ‘ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو زمینوں کی شخصی ملکیت کو ناجائز کہتے ہیں اور اس میں اس روایت کا بھی رد ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی طرف منسوب ہے کہ زمینوں کو نہ رکھو ورنہ تم دنیا میں رغبت کرو گے۔

(ب) دوست کے باغ سے پانی پینا اور پھل کھانا جائز ہے اسی طرح اس کے مکان سے کھانا ‘ کھانا بھی جائز ہے بشرطیکہ اس کا دوست اس سے خوش ہوتا ہو ‘ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء کا باغات میں جانا جائز ہے۔

(ج) علماء اور صالحین سے مشورہ لینا جائز ہے ‘ خواہ مشورہ صدقہ و خیرات سے متعلق ہو یا کسی اور نفلی عبادت سے ‘ یا دنیا کا کوئی معاملہ ہو ‘ اور اپنی محبوب چیز کو خرچ کرنے کے متعلق بھی مشورہ کرنا جائز ہے۔

(د) اگر کسی مال کو مطلق وقف کیا جائے اور اس کے خرچ کرنے کی مد کو متعین نہ کیا جائے پھر بھی وقف کرنا صحیح ہے ‘ اور جب تک قبول نہ کیا جائے وکالت صحیح نہیں ہے۔

(ہ) اپنے رشتہ داروں اور خاندان کے دیگر غریبوں پر نفلی صدقہ کرنا دوسرے لوگوں پر صدقہ کرنے سے افضل ہے ‘ اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تمہارے لیے دو اجر ہیں رشتہ داروں سے حسن سلوک کا اور صدقہ کا۔ “ نیز صحیح بخاری (کتاب الھبہ) میں ہے کہ جب حضرت میمون (رض) نے اپنی ایک کنیز کو آزاد کردیا تو آپ نے فرمایا اگر تم یہ اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو تمہیں زیادہ اجر ہوتا۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

ایوب بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ تو حضرت زید بن حارثہ (رض) رسول اللہ کی خدمت میں اپنے محبوب گھوڑے کو لے کر آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ اللہ کی راہ میں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ گھوڑا (ان کے بیٹے) حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ (رض) کو دے دیا ‘ حضرت زید بن حارثہ (رض) اس پر رنجیدہ ہوئے ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس کیفیت کو دیکھا تو آپ نے فرمایا سنو بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس صدقہ کو قبول کرلیا ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢٤٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

امام بزار اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب مجھے یہ آیت یاد آئی (آیت) ” لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون “ تو میں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں غور کیا کہ کون سی نعمت مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ‘ تو میں نے دیکھا کہ ایک رومی کنیز تھی جو مجھے زیادہ محبوب تھی میں نے کہا یہ اللہ کے لیے آزاد ہے ‘ سو اب اگر میں اس کی طرف لوٹتا تو اس سے نکاح کرلیتا۔ (تفسیر القران ج ٢ ص ٧١‘ مطبوعہ ادارہ اندلس بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن جریر اور امام ابن المنذر نے اپنی اپنی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ وہ ان کے لیے قیدیوں میں سے ایک کنیز خرید لیں ‘ حضرت عمر (رض) نے اس کنیز کو بلایا اور کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” تم ہرگز نیکی نہیں حاصل کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو۔ “ پھر آپ نے اس کنیز کو آزاد کردیا۔

امام عبد بن حمید ثابت بن حجاج سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت زید (رض) نے کہا اے اللہ ! تجھے علم ہے کہ مجھے اپنے مال میں سے اس گھوڑے کے سوا اور کوئی چیز محبوب نہیں ہے۔

حضرت زید (رض) نے وہ گھوڑا مسکینوں پر خرچ کردیا “ پھر حضرت زید نے دیکھا کہ وہ لوگ اس گھوڑے کو فروخت کر رہے تھے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس گھوڑے کو خریدنے کے متعلق سوال کیا ‘ آپ نے ان کو خریدنے سے منع فرمایا :

امام احمد حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (پکی ہوئی) گوہ لائی گئی آپ نے اس کو خود کھایا نہ اس سے منع فرمایا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آیا ہم یہ مسکینوں کو کھلا دیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کو تم خود نہیں کھاتے وہ دوسروں کو بھی نہ کھلاؤ۔ امام ابن المنذر نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) شکر خرید کر اس کو صدقہ کردیتے ‘ ہم نے مشورہ دیا اگ رآپ اس شکر کے بدلہ طعام خرید لیں تو ان سے ان کو بہت فائدہ ہوگا ! حضرت ابن عمر نے فرمایا میں جانتا ہوں تم جو کچھ کہہ رہے ہو ‘ لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو۔ “ (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ٥١‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

پسندیدہ اور محبوب مال کا معیار : 

مال محبوب میں محبت سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کی طرف نفس کا میلان ہو اور اس چیز میں اس کا دل اٹکا رہے ‘ اسی وجہ سے اس چیز کو خرچ کرنا نفس پر بہت شاق اور دشوار ہوتا ہے اور اسی بناء پر ان مسلمانوں کی مدح کی گئی ہے جو اپنی محبوب چیزوں کو خدا کی راہ میں خرچ کردیتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا۔ انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزآء ولا شکورا “۔ (الدھر : ٩۔ ٨)

ترجمہ : اور وہ طعام سے محبت کے باوجود مسکین ‘ یتیم اور قید کو کھلا دیتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ‘ ہم تم سے کوئی صلہ چاہتے ہیں نہ سپاس۔

بعض علماء نے کہا مال محبوب سے مراد یہ ہے کہ انسان کو خود اس مال کی ضرورت ہو ‘ کیونکہ جو لوگ اپنی ضروریات کے باوجود مال کو دوسروں پر خرچ کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی ہے :

(آیت) ” ویؤثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصہ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “۔۔ (الحشر : ٩)

ترجمہ : اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں خواہ انہیں (خود) شدید حاجت ہو اور جو لوگ اپنے نفس کے بخل سے بچائے گئے تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

اور بعض علماء نے یہ کہا کہ مال محبوب سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز فی نفسہ صحیح اور لائق استعمال ہو ‘ ردی ‘ خبیث اور ناقابل استعمال نہ ہو جیسے گلے سڑے پھل ‘ خراب ہوجانے کے بعد بدبودار کھانا ‘ بہت زیادہ بوسیدہ اور پھٹے ہوئے کپڑے ‘ ان کا استدلال اس آیت سے ہے :

(آیت) ” یا یھا الذین امنوا انفقوا من طیبات ماکسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ “۔ (البقرہ : ٢٦٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی راہ میں اپنی کمائی سے عمدہ چیزوں کو خرچ کرو ‘ اور ان چیزوں میں سے جن کو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کیا ہے اور جو ردی اور ناکارہ چیز ہو اس کو دینے کا ارادہ (بھی) نہ کرو کہ (راہ خدا میں) اسی میں سے خرچ کرنے لگو ‘ حالانکہ تم خود بھی اس کو لینے والے نہیں ہو سوا اس کے کہ تم چشم پوشی کرو۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے اس وقت تک کوئی شخص (کامل) مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی اس چیز کو پسند نہ کرے جس کو وہ اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کا بھی یہی محمل ہے کہ انسان اپنے لیے ردی اور ناقابل استعمال چیز پسند نہیں کرتا ‘ سو وہ اپنے پھائی کے لیے بھی اس کو پسند نہ کرے۔

بعض دفعہ ایک چیز کسی کے مزاج کے موافق اور دوسرے شخص کی طبیعت کے مخالف ہوتی ہے مثلا ذیابیطس کے مریض کے لیے میٹھی چیز اور بلند فشار دم (ہائی بلڈپریشر) کے مریض کے لیے نمکین چیز اور گلسٹرول اور یرقان کے مریض کے لیے چکنائی اور گوشت منع ہیں۔ گردہ میں پتھری کے مریض کے لیے چاول اور کیلشیم پر مشتمل دوسری اجناس منع ہیں جب کہ دوسرے تندرست شخص کے لیے ان چیزوں کا کھانا منع نہیں ہے ‘ اس لیے اس آیت اور اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شوگر کا مریض کسی صحت مند شخص کو میٹھی اور نشاستہ والی چیز نہ دے ‘ بلکہ وہ کسی شوگر کے مریض کو کھانے کے لیے ایسی چیز نہ دے جس کو وہ خود اس بیماری میں نقصان دہ سمجھتا ہے۔ البتہ صحت مند لوگوں کو ان چیزوں کا دینا اس آیت اور اس حدیث کے تحت داخل نہیں ہے۔

اسی طرح اہل ثروت بعض چیزوں کے استعمال کو اپنے معیار کے اعتبار سے لائق استعمال نہیں سمجھتے جب کہ ان کے نوکروں اور دوسرے غرباء کے لیے وہ چیزوں بہرحال نعمت ہوتی ہیں مثلا قابل استعمال پرانے کپڑے ‘ پرانے بستر اور دوسری کارآمد چیزیں ‘ ہاں وہ اہل ثروت اپنے ہم مرتبہ دوسرے اہل ثروت کو ایسی چیزیں نہ دیں جن کو وہ اپنے معیار سے کم تر خیال کرتے ہیں۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہر شخص سے اس کی حیثیت اور اس کے رتبہ کے لحاظ سے سلوک کرو۔ (مقدمہ صحیح مسلم ج ١ ص ٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

مثلا اگر کسی شخص کے ہاں امیر تاجر مہمان ہو تو اس کی مہمان نوازی اس کے رتبہ کے لحاظ سے کی جائے گی ‘ اور اگر کوئی غریب یا مزدور مہمان ہو تو اس کی مہمان نوازی اس کی حیثیت کے لحاظ سے کی جائے گی اسی طرح رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی حسب سلوک کیا جائے گا۔

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں صدقہ سے مراد آیا صدقہ واجبہ ہے یا صدقہ نفلیہ ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس سے صدقہ واجبہ مثلا ذکوۃ مراد ہے اور حضرت حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے مراد عام صدقات ہیں خواہ صدقات واجبہ ہوں یا صدقہ نفلیہ ‘ یعنی مسلمان جس چیز کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ ایسی چیز ہو جس کو وہ خود بھی اپنے لیے پسند کرتا ہو اور وہ چیز ردی ‘ ناکارہ اور ناقابل استعمال نہ ہو ‘ اور اگر وہ چیز اس کی پسندیدہ اور محبوب ہے تو یہ بڑی فضیلت کی بات ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ناقابل استعمال چیز کا تو دینا جائز نہیں ہے اور پسندیدہ نفیس اور محبوب چیز کا دینا فضیلت اور رضائے الہی کا موجب ہے۔

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو تمہاری پسندیدہ ہیں ‘ اس آیت میں ” من “ کا لفظ ہے اگر یہ من تبعیضیہ ہو تو معنی ہوگا تم اس وقت تک ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکو گے جب تک اللہ کی راہ میں اپنی بعض پسندیدہ چیزیں خرچ نہ کرو اور اس صورت میں پسندیدہ چیزوں سے محبوب اور نفیس چیزیں مراد ہوں گی ‘ اور اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ نیکی حاصل کرنے کے لیے اللہ کی راہ میں اپنی تمام پسندیدہ چیزوں کو دینا ضروری نہیں ہے ‘ بلکہ اگر کسی شخص نے زندگی میں دو چار بار بھی اپنی پسندیدہ اور محبوب چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دی ہیں تو اس کا ابرار اور نیکوں میں شمار ہوگا اور اگر یہ ” من “ بیانیہ ہو تو اس کا معنی ہوگا : تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کرسکو گے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جو تمہارے نزدیک پسندیدہ ہوں اور اب یہ ضروری ہوگا کہ کسی ناپسندیدہ چیز کو خرچ نہ کیا جائے اور اس صورت میں پسندیدہ کا معنی ہوگا جو چیزیں فی نفسہ صحیح اور لائق استعمال ہوں ‘ اور اللہ کی راہ میں کوئی ردی اور ناکارہ چیز نہ دی جائے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ اس آیت میں ” من “ تبعیضیہ اور ” من “ بیانیہ دونوں درست ہیں اور ” من “ تبعیضیہ ہو تو پسندیدہ سے مراد محبوب چیزیں اور ” من “ بیانیہ ہو تو اس سے مراد قابل استعمال چیزیں ہیں ‘ بعض علماء اس گہرائی تک نہیں پہنچ سکے اور انہوں نے یہاں پر من کو مطلقا تبعیضیہ پر محمول کیا ‘ اور بعض نے ” من “ کو مطلقا بیانیہ پر محمول کیا۔

اس میں بھی اختلاف ہے کہ اس آیت میں برسے کیا مراد ہے ‘ بعض علماء نے کہا اس سے مراد اعمال مقبولہ ہیں ‘ بعض علماء نے کہا اس سے مراد ثواب اور جنت ہے اور بعض علماء نے کہا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل اور اس کا احسان ہے۔ یعنی جب تک اللہ کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیزوں کو نہ خرچ کرو ‘ اس وقت تک تمہارے اعمال مقبول نہیں ہوسکتے یا تم کو جنت نہیں ملے گی یا تم اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے اکرام اور احسان کو نہیں پاسکتے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم جس چیز کو بھی خرچ کرتے ہو اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے۔

اس آیت کا معنی ہے تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ تم کو اس کی جزا دے گا ‘ خواہ وہ چیز کم ہو یا زیادہ ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے اور اس کو علم ہے کہ تم نے کس وجہ سے خرچ کیا ہے اور اس خرچ کا باعث اور محرک کیا چیز ہے۔ آیا تم محض اخلاص سے اس کی رضا جوئی کے لیے خرچ کر رہے ہو یا نام و نمود کے لیے خرچ کر رہے ہو اور اللہ کی راہ میں عمدہ اور نفیس چیز خرچ کر رہے ہو یا ردی اور ناکارہ چیز خرچ کر رہے ہو ‘ سو اللہ تمہارے خرچ کرنے کے اعتبار سے تم کو جزاء دے گا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 92

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.