وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 104

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏

ترجمہ:

اور تم میں ایسے لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو اچھائی کی طرف بلائیں اور نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں ‘ اور وہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں

تفسیر:

ربط آیات اور مناسبت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار اہل کتاب کی دو وجہ سے مذمت فرمائی تھی ایک یہ کہ وہ خود کافر اور گمراہ ہیں اس لیے فرمایا اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو (آل عمران : ٩٨) اور دوسری اس وجہ سے کہ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں لہذا فرمایا : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے (آل عمران : ١٠٢) اور چونکہ گمراہ کرنے کی وجہ سے اہل کتاب کی مذمت کی تھی اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا اور تم میں ایسے لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق قرآن مجید کی مزید آیات 

(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ (ال عمران : ١١٠)

ترجمہ : ان سب امتوں میں جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہیں تم بہترین امت ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

(آیت) ” یبنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر “۔ (لقمان : ١٧)

ترجمہ : اے میرے بیٹے نماز قائم رکھ ‘ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روک۔

(آیت) ” وان طآئفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔ (الحجرات : ٩)

ترجمہ : اور اگر ایمان لوگوں کی دو جماعتیں آپس میں جنگ کریں تو ان میں صلح کرا دو پھر ان میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو اس جماعت سے جنگ کرو جو زیادتی کرے حتی کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔

(آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل علی لسان دادؤ و عیسیٰ ابن مریم ‘ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون۔ کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون “۔ (المائدہ : ٧٩۔ ٧٨)

ترجمہ : بنو اسرائیل سے جنہوں نے کفر کیا وہ داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر لعنت کیے گئے ‘ ان کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ‘ وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو انہوں نے کیے تھے۔ یقینا وہ بہت ہی برے کام کرتے تھے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق احادیث اور آثار : 

امام مسلم بن حجاج قشری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جس شخص نے برائی کو دیکھا وہ اپنے ہاتھ سے برائی کو مٹائے ‘ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا جانے ‘ اور یہ سب سے کمزور درجہ کا ایمان ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٥١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی متوفی ٦٥٦ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سلطان یا ظالم امیر کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ‘ اور وہ شخص جس نے ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اس ظالم حاکم نے اسے قتل کردیا اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ حاکم نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے جس نبی کو بھی مجھ سے پہلے کسی امت میں مبعوث فرمایا اس نبی کے اس امت میں حواری ہوتے تھے ‘ اور اس کے اصحاب ہوتے تھے جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم پر عمل کرتے تھے ‘ پھر ان کے بعد ایسے برے لوگ آئے جو ایسی باتیں کرتے تھے جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کام کرتے تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا ‘ سو جو ان کے ساتھ ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے ‘ اور جو ان کے ساتھ زبان سے جہاد کرے وہ بھی مومن ہے ‘ اس کے علاوہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا تم اس سے دعا کرو گے اور تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شخص کیسے اپنے آپ کو حقیر جانے گا ؟ آپ نے فرمایا : وہ یہ گمان کرے گا کہ اس کے اوپر کلام کی گنجائش ہے پھر وہ کلام نہیں کرے گا ‘ اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے فرمائے گا تمہیں میرے متعلق کس چیز نے کلام سے روکا تھا ؟ وہ کہے گا لوگوں کے خوف سے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تم مجھ سے خوف کھاتے ‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب بنواسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا ‘ وہ باز نہ آئے ‘ وہ علماء ان کی مجالس میں بیٹھتے رہے ‘ اور ان کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دل ان جیسے کردیئے ‘ اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کی زبانوں سے ان پر لعنت کی ‘ کیونکہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ‘ پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے حتی کہ وہ اپنے نفس کو اتباع حق پر لازم کرلیں ‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی قوم میں رہ کر گناہ کر رہا ہو اور وہ لوگ اس کو گناہ سے روکنے پر قادر ہوں اور نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا کرے گا ‘ اس حدیث کو امام ابو داؤد ‘ امام ابن ماجہ اور امام ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔ (المائدہ : ١٠٥)

ترجمہ : اے ایمان والوں ! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جب لوگ کسی شخص کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کے ہاتھ کو نہ پکڑیں تو عنقریب اللہ ان سب پر عذاب نازل فرمائے گا۔ اس حدیث کو امام ابوداؤد ‘ اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میری امت میں ان لوگوں کو دیکھو جو ظالم کو ظالم کہنے سے ڈریں تو تم ان سے الگ ہوجاؤ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور کہا یہ صحیح الاسناد ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

(مسند احمد ‘ جامع ترمذی ‘ صحیح ابن حبان) الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٢٤٣۔ ٢٢٣‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤٠٧)

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

امام بزار حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے اور امام طبرانی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا ورنہ تم پر تم ہی میں سے برے لوگ مسلط کردیئے جائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ دعا قبول نہیں ہوگی ‘ امام ترمذی کی روایت میں ہے : ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے گا پھر تم اللہ سے دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

امام ابن ماجہ نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے :

اللہ تعالیٰ بندے سے سوال کرے گا : جب تو نے برائی کو دیکھا تو اس کو روکنے سے تجھ کو کس چیز نے منع کیا تھا ؟ اور جب اللہ تعالیٰ بندے کو حجت کی تلقین کردے گا تو وہ کہے گا : مجھے تجھ سے امید تھی اور میں لوگوں سے ڈرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا (اتحادف السادۃ المتقین ج ٧ ص ١٢۔ ٦‘ ملخصا مطبعہ میمنہ مصر ١٣١١ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی مقام پر کھڑا ہو کر حق بات کہہ سکتا ہے اس کو حق بات کہہ دینی چاہیے کیونکہ یہ (حق کہنا) اس کی موت کو مقدم کرسکتا ہے نہ اس کو اس کے لکھے ہوئے رزق سے محروم کرسکتا ہے۔

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے حق بات کہنا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے نیکی کا حکم دیا نہ برائی سے روکا وہ ہلاک ہوگیا۔

حضرت ابن عباس نے سعید بن جبیر سے فرمایا اگر تم کو یہ خوف ہو کہ نیکی کا حکم دینے سے تمہارا امام تمہیں قتل کر دے گا تو پھر چھوڑ دو ۔

حضرت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی فرمائی کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ان میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس شہر کو الٹ دو وہ بندہ میری وجہ سے ایک ساعت کے لیے بھی ناراض نہیں ہوا۔

مالک بن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی محبت کی وجہ سے دنیاد اوروں سے صلح کرلی ہے ہم میں سے کوئی کسی کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور نہ برائی سے روکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس حال پر نہیں چھوڑے گا ‘ کاش مجھے علم ہو تاکہ کون سا عذاب نازل ہوگا۔ (شعب الایمان ج ٦ ص ٩٧۔ ٩٢ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠ ھ)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تفصیل اور تحقیق : 

برائی سے روکنا اور نیکی کا حکم دینا فرض کفایہ ہے ‘ جب لوگ اس فرض کر ادا کرلیں تو باقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے اور جب تمام لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیں تو سب گنہ گار ہوں گے ‘ اور جس جگہ کوئی اور شخص برائی سے روکنے والا نہ ہو اور وہاں صرف ایک عالم ہو تو اس پر برائی سے روکنا فرض عین ہے۔ مثلا کوئی شخص اپنی بیوی کو ‘ اپنی اولاد کو یا اپنے نوکر کو کوئی برا کام کرتے ہوئے دیکھے یا کسی نیکی میں تقصیر کرتا ہوا پائے تو اس کے لیے نہی عن المنکر فرض ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ شخص خود کامل ہو تمام احکام شرعیہ پر عامل اور تمام محرمات شرعیہ سے مجتنب ہو اور نہ ہی یہ حکام کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی علماء کے ساتھ مخصوص ہے ‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو احکام ظاہر اور مشہور ہیں مثلا نماز ‘ روزہ کی فرضیت ‘ جھوٹ ‘ قتل ‘ زنا اور چوری وغیرہ کی حرمت ان کا علم ہر مسلمان کو ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہو مثلا نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے پر ٹوکے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو احکام شرعیہ غامض اور دقیق ہیں یا جن کا تعلق اجتہاد سے ہے عام لوگوں کا ان میں دخل نہیں ہے اور نہ وہ اس میں انکار کرسکتے ہیں (مثلا روزہ میں انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں ‘ ٹیلی فون پر نکاح ہوتا ہے یا نہیں ‘ اعضاء اور قرنیہ کی پیوندکاری ‘ انتقال خون وغیرہ) جو مسئلہ اجتہادی اور مختلف فیہ ہو ‘ مثلا کسی مجتہد کے نزدیک جائز اور کسی کے نزدیک ناجائز ہو اور عمل کرنے والا کسی مفتی کے فتوی کے مطابق عمل کر رہا ہو تو اس کو گناہ نہیں ہوگا خواہ وہ دوسرے مجتہد کے نزدیک ناجائز ہی کیوں نہ ہو ‘ ایسی صورت میں بھی عالم کو چاہیے کہ اس کو ٹوکے تاکہ وہ ایسی صورت پر عمل کرے جس میں کسی مجتہد کا اختلاف نہ ہو (مثلا بیمار روزہ دار ‘ اگر روزہ میں انجیکشن لگواتا ہے تو اس روزہ کی قضا کرلے۔ )

برائی سے روکنے کے لیے تادیب اور تعزیر کے مراتب : 

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔ (المائدہ : ١٠٥)

ترجمہ : اے ایمان والوں ! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

حضرت ابوبکر (رض) نے ایک خطبہ میں اس آیت کو تلاوت کرکے فرمایا تم اس آیت کا غلط مطلب لیتے ہو ‘ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگ کسی ظلم کرنے والے کو دیکھیں اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل فرمائے ‘ ابو امیہ شعبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابو ثعلبہ خشنی سے اس آیت کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا تھا ‘ آپ نے فرمایا تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاری ہے اور خواہش کی پیروی کی جارہی ہے ‘ دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے ‘ اور ہر شخص اپنی رائے پر اترا رہا ہے ‘ اس وقت تم صرف اپنی جان کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑ دو ‘ کیونکہ تمہارے بعد صبر کے ایام ہیں ‘ ان ایام میں صبر کرنا انگارے پکڑنے کے مترادف ہے اس وقت میں ایک عمل کرنے والے کو پچاس عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا۔

یہ حدیث اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے دو حال ہیں ایک حال وہ ہے جس میں برائی کو بدلنا اور اس کو مٹانا ممکن ہے ‘ اس حال میں جس شخص کے لیے برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹانا ممکن ہو اس پر اس برائی کو مٹانا فرض ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں ‘ ایک صورت یہ ہے کہ وہ برائی کو تلوار سے مٹائے مثلا ایک شخص اس کو یا کسی اور شخص کو قتل کرنے کا قصد کرے ‘ یا اس کا مال لوٹنے کا قصد کرے ‘ یا اس کی بیوی سے زنا کرنے کا قصد کرے ‘ اور اس کو یقین ہو کہ زبانی منع کرنے سے وہ باز نہیں آئے گا یا بغیر ہتھیار کے اس سے جنگ کی (مثلا تھپڑ یا مکہ مارا) تب بھی باز نہ آئے گا تب اس پر لازم ہے کہ اس کو قتل کردے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کا ارشاد ہے : تم میں سے جو شخص برائی دیکھے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹائے ‘ اور جو شخص برائی کر رہا ہے اگر اس کو قتل کیے بغیر اس برائی کو مٹانا ممکن نہ ہو تو اس کو قتل کرنا اس پر فرض ہے ‘ اور اگر اس کو ظن غالب ہو کہ بغیر ہتھیار کے بھی اس برائی کو مٹانا ممکن ہے۔ (مثلا تھپڑ اور مکہ مارنے سے) تو پھر اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر اس کو یہ گمان ہو کہ اب اگر اس کو بغیر ہتھیار کے مارا یا زبان سے منع کیا تو یہ باز آجائے گا لیکن بعد میں اتنی سزا سے باز نہیں آئے گا اور اس کو قتل کیے بغیر یہ برائی نہیں مٹ سکے گی تو پھر اس کو قتل کرنا لازم ہے۔ ایک آدمی کے لیے ملکی قانون کو ہاتھ میں لینا جائز نہیں ہے ‘ البتہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی جان یا مال یا عزت پر حملہ آور ہو تو وہ اپنی یا دوسرے مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے مزاحمت کرے اور اگر اس مزاحمت کے دوران وہ حملہ آور اس کے ہاتھوں مارا جائے تو اس سے شرعا کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ (سعیدی غفرلہ)

ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے کسی کا سامان چھین لیا تو تمہارے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے حتی کہ تم اس کا سامان چھڑا لو ‘ اور اس آدمی کو واپس کردو اسی طرح امام ابوحنیفہ نے فرمایا جو چور مکانوں میں نقب لگا رہا ہو ‘ تمہارے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے اور جو آدمی تمہارا دانت توڑنا چاہتا ہو (مدافعت میں) تمہارا اس کو قتل کرنا جائز ہے بہ شرطی کہ تم ایسی جگہ پر ہو جہاں لوگ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں ‘ اور ہم نے جو یہ ذکر کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔ (الحجرات : ٩)

ترجمہ : جو جماعت زیادتی کرے اس سے اس وقت تک جنگ کرو حتی کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے۔

اسی طرح حدیث میں ہے : تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے مٹائے۔ “ اس لیے جب کوئی شخص کسی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹائے خواہ برائی کرنے والے کو قتل کرنا پڑے ‘ اور اگر وہ زبان سے منع کرنے سے باز آجائے تو اس کو زبان سے منع کرے ‘ یہ حکم ہر اس برائی کے لیے ہے جو علی الاعلان کی جارہی ہو اور اس پر اصرار کیا جارہا ہو ‘ مثلا کوئی شخص بھتہ اور جبری ٹیکس وصول کرے ‘ اور جب ہاتھ سے برائی کو مٹانا اور زبان سے منع کرنا دونوں میں اس کی جان کو خطرہ ہو تو اس کے لیے سکوت جائز ہے اور اس وقت اس پر لازم ہے کہ اس برائی سے اور ان برائی کرنے والوں سے الگ ہوجائے۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔

ترجمہ : تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

حضرت ابن مسعود (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : جب تک تمہاری بات کو قبول کیا جائے گا تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو ‘ اور جب تمہاری بات کو قبول نہ کیا جائے تو پھر تم اپنی جان کی فکر کرو ‘ اسی طرح حضرت ابوثعلبہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جا رہی ہے ‘ خواہش کی پیروی کی جارہی ہے دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر اترا رہا ہے تو پھر تم اپنی جان کی فکر کرو اور لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دو ‘ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قبول نہ کریں اور اپنی خواہشات اور آراء کی پیروی کریں تو پھر تمہارے لیے ان کو چھوڑنے کی گنجائش ہے اور تم اپنی فکر کرو اور لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور جب لوگوں کا یہ حال ہو تو پھر آپ نے برائی پر ٹوکنے کو ترک کرنا مباح کردیا۔

بغیر علم کے وعظ اور تبلیغ کرنا حرام ہے : 

وعظ ‘ تقریر اور تبلیغ دین کے ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا علماء دین کا منصب ہے اور علم دین کی حسب ذیل شرائط ہیں :

(١) عربی لغت ‘ صرف اور نحو کا عالم ہونا کہ عربی عبارت بغیر اعراب کے صحیح پڑھ سکے اور قرآن مجید اور احادیث کا صحیح ترجمہ کرسکے۔

(٢) قرآن مجید ‘ احادیث ‘ آثار صحابہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفاء راشدین کی سیرت اور فقہ کا عالم ہو اور اس پر کامل عبور رکھتا ہو۔

(٣) مسلک حق اہل سنت و جماعت کے عقائد اور ان کے دلائل کا عالم ہو اور باطل فرقوں کے رد کی کامل مہارت رکھتا ہو۔

(٤) پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن ‘ سنت ‘ علم کلام اور فقہ کی کتابوں میں دیکھ کر بغیر کسی کی مدد کے نکال سکتا ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون “۔ (العنکبوت : ٤٣)

ترجمہ : یہ مثالیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں ‘ ان کو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں۔

قرآن مجید کی آیتوں کا ترجمہ کرنا ‘ ان سے مسائل کا استنباط کرنا اور ان کی باریکیوں اور اسرار کو سمجھنا مذکور الصدر علوم کے بغیر ممکن نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے عالم فرمایا ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے بغیر علم کے قرآن مجید میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اعلی حضرت فاضل بریلوی (رح) سے سوال کیا گیا :

عرض : کیا واعظ کا عالم ہونا ضروری ہے ؟

ارشاد : غیر عالم کو وعظ کہنا حرام ہے۔

عرض : عالم کی کیا تعریف ہے ؟

ارشاد : عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے۔ (الملفوظ ج ١ ص ٨ مطبوعہ لاہور)

کتاب سے مراد تفسیر ‘ حدیث اور فقہ کی عربی کتابیں ہیں کیونکہ اعلی حضرت نے اردو کی کتابیں پڑھ کر وعظ کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ عنقریب فتاوی رضویہ سے بیان کیا جائے گا۔

نیز اعلی حضرت (رح) فرماتے ہیں :

صوفی بےعلم مسخرہ شیطان است وہ جانتا ہی نہیں ‘ شیطان اپنی باگ ڈور میں لگا لیتا ہے ‘ حدیث میں ارشاد ہوا بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایسا ہے جیسے چکی میں گدھا کہ محنت شاقہ کرے اور حاصل کچھ نہیں (الملفوظ ج ٣ ص ٢٩‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)

نیز اعلی حضرت (رح) واعظ کے متعلق لکھتے ہیں :

مسئلہ ١٨ ذیقعدہ ١٣١٩ ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر و حدیث بےخواندہ وبے اجازت اساتذہ ‘ برسر بازار ومسجد وغیرہ بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردو کتابیں دیکھ کر کہتے ہیں یہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کا شرعا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا تو جروا :

الجواب :

حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ‘ من قال فی القران بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار والحدیث رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس (رض) واللہ تعالیٰ اعلم (فتاری رضویہ ج ١، ١٨٨١٠‘ مکتبہ رضویہ لاہور)

اعلی حضرت امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سے سوال کیا گیا کہ اگر بےعلم اپنے آپ کو مولوی کہلوائے (آج کل تو بےعلم ‘ ناخواندہ ‘ اور بےسند یافتہ اپنے آپ کو علامہ کہلواتے ہیں ! ) اور منبر پر بیٹھ کر وعظ کرے اس کا کیا حکم ہے تو اس کے جواب میں لکھتے ہیں :

یونہی اپنے آپ کو بےضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنا بھی گناہ و مخالف حکم قرآن عظیم ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ۔

(آیت) ” ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھتکم فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی “۔

ترجمہ : اللہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اوس نے تمہیں زمین سے اوٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کو آپ اچھا نہ کہو خدا خوب جانتا ہے جو پرہیز گار ہے۔

اور فرماتا ہے۔

(آیت) ” الم الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء “۔

ترجمہ : کیا تم نہ ان لوگوں کو جو آپ اپنی جان کو ستھرا بتاتے ہیں بلکہ خدا ستھرا کرتا ہے جسے چاہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من قال انا عالم فھو جاھل “ جو اپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر (رض) بسند حسن ‘ ہاں اگر کوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہو کر فیض لیں ہدایت پائیں اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تو مضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا تھا

(آیت) ” انی حفیظ علیم “۔۔

پھر یہ بھی سچے عالموں کے لیے ہے۔ زید جاہل کا اپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دونا گناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کا پسند کرنا بھی شامل ہے ہوا، قال اللہ عزوجل، (آیت) ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا فلاتحسبنم بمفازۃ من العذاب ولھم عذاب الیم “۔۔

ترجمہ : ہرگز نہ جانیوتو انہیں جو اتراتے ہیں اپنے کام پر اور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کیے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی تو ہرگز نہ جانیو انہیں عذاب سے پنا کی جگہ میں اور ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔

معالم شریف میں عکرمہ تابعی شاگرد عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ” یفرحون باضلالھم الناس وبنسبۃ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم “۔ خوش ہوتے ہیں ‘ لوگوں کو بہکانے پر اور اس پر کہ لوگ نہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں۔ جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔ وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر ہوگی یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث یا شریعت کا مسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کا بیان جائز نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من قال فی القران بغیر عم فلیتبوا مقعدہ من النار “ جو بےعلم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس (رض) ، احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت و موضوع کی تمیز نہ ہوگی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من یقل علی مالم اقل فلیتبوا مقعدہ من النار “ جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے رواہ البخاری فی صحیحہ عن سلمۃ بن الاکوع (رض) اور فرماتے ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا “ بےعلم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا ” رواہ الائمۃ احمد والشیخان والترمذی وابن ماجہ عن عبداللہ بن عمر و (رض) دوسری حدیث میں آیا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض “ جو بےعلم فتوی دے اسے آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ یونہی جاہل کا پیر بننا لوگوں کو مرید کرنا چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا چھوٹا منہ بڑی بات ہے پیر ہادی ہوتا ہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ سے ’۔ ع کہ بےعلم نتواں خداراشناخت۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٩٦۔ ٩٥‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

نیز بےعلم کے فتوی دینے اور علماء کی توہین کرنے والے کے متعلق لکھتے ہیں :

رحمۃ اللہ علیہالجواب :

سند حاصل کرنا تو کچھ ضرور نہیں ہاں باقاعدہ تعلیم پانا ضرور ہے۔ مدرسہ میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر اور جس نے بےقاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر نیم ملا خطرہ ایمان ہوگا ایسے شخص کو فتوی نویسی پر جرات حرام ہے حدیث میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض “ جو بےعلم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے اور اگر فتوی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اللہ مقصود نہیں بلکہ اپنا کوئی دنیاوی نفع منظور ہو تو یہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اللہ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پر فرمایا گیا (آیت) ” اولئک لا خالق لھم فی الاخرۃ ولا یکلمھم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیمۃ ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم “۔۔

ترجمہ : ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ‘

اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے۔ حدیث میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” ثلثۃ لا یستخف بحقہم الا منافق بین النفاق ذوالعلم و ذوالشیبۃ فی الاسلام و امام مقسط “۔ تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جانے گا مگر جو منافق کھلا منافق ہو عالم اور وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور سلطان اسلام عادل ‘ تحصیل زر کے لیے علماء ومسلمین پر بیجا حملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلمات ‘ قاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترک کرنا تفریق جماعت یا ترک جماعت ہے اور دونوں حرام وناجائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ ٢، ١٠ ص ٣٠٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

بے علم کے وعظ کے متعلق اعلی حضرت (رح) لکھتے ہیں :

الجواب :

(١) اگر علم عالم ہے تو اس کا یہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کہ اجازت نہیں وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

اعلی حضرت (رح) بیت کی شرائط کے متعلق فرماتے ہیں :

بیعت اس شخص سے کرنا چاہیے جس میں یہ چار باتیں ہوں اور نہ بیعت جائز نہ ہوگی۔ اول سنی صحیح العقیدہ ہو ‘ کم از اتنا علم ضروری ہے کہ بلاکسی امداد کے اپنی ضروریات کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے، ثالثا ‘ اس کا سلسلہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک متصل ہو کہیں منقطع نہ ہو ‘ رابعا فاسق معلن نہ ہو۔ (الملفوظ ص ٥٢٣‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے خود نیک ہونا ضروری نہیں ہے۔

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ فرماتے ہیں :

قرآن مجید اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سے ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے اور جب بعض لوگ اس فرض کو ادا کرلیں تو پھر باقیوں سے ساقط ہوجاتا ہے ‘ اور اس فرض کی ادائیگی میں نیک اور بد کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص کسی ایک فرض کو ترک کردے تو اس کی وجہ سے باقی فرائض اس سے ساقط نہیں ہوتے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے تو اس سے روزہ اور دیگر عبادات کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ اس طرح جو شخص تمام نیکیاں نہ کرے اور کسی برائی سے نہ رکے تو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہوئی ‘ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتائیے کہ اگر ہم تمام نیکیوں پر عمل کرلیں حتی کہ کوئی نیکی باقی نہ بچے مگر ہم نے اس پر عمل کرلیا ہو اور تمام برائیوں سے بچیں حتی کہ کوئی برائی نہ بچے مگر ہم اس سے رک چکے ہوں تو کیا اس وقت ہمارے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنے کی اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نیکیوں کا حکم دو خواہ تم نے نیکیوں پر عمل نہ کیا ہو اور برائی سے روکو خواہ تم برائی نہ رکتے ہو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کو باقی تمام فرائض کی ادائیگی کے مساوی قرار دیا ہے ‘ جس طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود دیگر فرائض کا ادا کرنا ساقط نہیں ہوتا ‘ اسی طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود دیگر فرائض کا ادا کرنا ساقط نہیں ہوتا ‘ اسی طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ساقط نہیں ہوتا۔

ہتھیاروں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو فتنہ کہنے کا بطلان : 

علماء امت میں سے صرف ایک جاہل قوم نے یہ کہا کہ باغی جماعت سے قتال نہ کیا جائے اور ہتھیاروں کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کیا جائے انہوں نے کہا جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو یہ فتنہ ہے ‘ حالانکہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔

ترجمہ : جو جماعت بغاوت کرے اس سے جنگ کرو حتی کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے۔

ان لوگوں نے یہ کہا کہ سلطان کے ظلم اور جور پر انکار نہ کیا جائے ‘ البتہ سلطان کا غیر اگر برائی کرے ‘ اس کو قول سے منع کیا جائے اور بغیر ہتھیار کے ہاتھ سے منع کیا جائے۔ یہ لوگ بدترین امت ہیں امام ابو داؤد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم سلطان یا ظالم امیر کے سامنے کلمہ حق کہا جائے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں اور وہ شخص جس نے ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اس کی پاداش میں اس کو قتل کردیا گیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٣٤۔ ٣٠‘ ملخصا مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

کسی شخص سے محبت کی وجہ سے امر بالمعروف کو ترک نہ کیا جائے۔ 

کسی شخص سے دوستی اور محبت کی وجہ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہیں کرنا چاہیے ‘ نہ کسی شخص کے نزدیک قدر و منزلت بڑھانے اور اس سے کوئی فائدہ طلب کرنے کے لیے مداہنت (بےجانرمی اور دنیاوی مفاد کیلیے نہی عن المنکر کو ترک کرنا) کرنی چاہیے۔ کیونکہ کسی شخص سے دوستی اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ساتھ خیرخواہی کی جائے اور اس کی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کو آخرت کی فلاح کی ہدایت دی جائے اور اس کو آخرت کے عذاب سے بچایا جائے اور کسی انسان کا سچا دوست وہی ہے جو اس کے لیے آخرت کی بھلائی کی سعی کرے ‘ اور اگر وہ فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں تقصیر کر رہا ہو تو اسے ان فرائض کی ادائیگی کا حکم دے اور اگر وہ کسی برائی کا ارتکاب کررہا ہو تو اس کو برائی سے روکے۔

امر بالمعروف میں ملائمت کو اختیار کیا جائے۔ 

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں نرمی اور ملائمت کو اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ موثر ہو ‘ امام شافعی (رح) نے فرمایا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں نصیحت کی اس نے خیر خواہی کی ‘ اور جس نے کسی شخص کو لوگوں کے سامنے نصیحت کی اور ملامت کی اس نے اس کو شرمندہ اور رسوا کیا۔

اگر کسی برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹانے سے ملکی قوانین کو اپنے ہاتھوں میں لینا لازم نہیں آتا تو اس برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹایا جائے ورنہ زبان سے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے ‘ اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اس برائی کو دل سے ناپسند کرے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکام اور ارباب اقتدار پر لازم ہے کہ وہ برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹائیں۔ مثلا قاتل کو قصاص میں قتل کریں اور چور کا ہاتھ کاٹیں ‘ زانی کو کوڑے لگائیں یا رجم کریں اسی طرح دیگر حدود الہیہ جاری کریں ‘ اور علماء پر لازم ہے کہ وہ زبان سے برائی کی مذمت کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ ہر برائی کو دل سے برا جانیں ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ جس شخص کے سامنے ظلم اور زیادتی ہو ‘ اس کو حسب مقدور مٹانے کی کوشش کرے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 104

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.