يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ  ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 106

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّوۡمَ تَبۡيَضُّ وُجُوۡهٌ وَّتَسۡوَدُّ وُجُوۡهٌ  ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ

ترجمہ:

جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ؟ سو اب تم عذاب (کامزہ) چکھو اس سبب سے کہ تم کفر کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے ‘ سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ؟ سو اب تم عذاب کا مزہ چکھو اس سبب سے کہ تم کفر کرتے تھے۔ اور جن لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے سو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (آل عمران : ١٧۔ ١٠٦)

اس آیت سے پہلی آیت میں کفار اہل کتاب کو عذاب کی وعید سنائی تھی اس آیت میں اس عذاب کی کچھ تفصیل بیان فرمائی ہے ‘ کہ قیامت کے دن مسلمانوں کے چہرے سفید ‘ روشن اور مسرور ہوں گے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

(آیت) ” وجوہ یومئذ ناضرۃ۔ الی ربھا ناظرۃ۔ (القیامہ : ٢٣۔ ٢٢)

ترجمہ : کتنے ہی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے ہوئے۔

کفار پر عذاب کے بیان میں اللہ تعالیٰ مومنوں پر اپنے انعام واکرام کا بیان فرمایا کسی شخص کے دشمنوں پر انعام بھی اس شخص کے حق میں عذاب کا موجب ہوتا ہے ‘ پھر ان پر صراحۃ عذاب کا بیان فرمایا۔

قیامت کے دن مومنوں اور کافروں کی وہ علامات جن سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔

(آیت) ” وجوہ یومئذ باسرۃ۔ تظن ان یفعل بہا فاقرۃ (القیامہ : ٢٥۔ ٢٤)

ترجمہ : اور کتنے ہی چہرے مرجھائے ہوئے ہوں گے وہ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جائے گا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” وجوہ یومئذ مسفرۃ۔ ضاحکۃ مستبشرۃ۔ ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ۔ ترھقہا قترۃ۔ اولئک ھم الکفرۃ الفجرۃ “ (عبس : ٤٢۔ ٣٨)

ترجمہ : اس دن کئی چہرے چمکتے ہوئے مسکراتے ہوئے ہشاش بشاش ہوں گے اور کئی چہرے اس دن خاک آلود ہوں گے ‘ ان پر سیاہی چھائی ہوگی وہی لوگ کافر بدکار ہیں۔

نیز فرمایا :

(آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ ولا یرھق وجوھھم قترولا ذلۃ اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیھا خالدون۔ والذین کسبوا السیات جزآء سیئۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ مالھم من اللہ من عاصم کا نما اغشیت وجوھھم قطعا من اللیل مظلما اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔ (یونس : ٢٧، ٢٦)

ترجمہ : جن لوگوں نے نیک کام کیے ان کے لیے اچھی جزا ہے اور اس سے بھی زیادہ ‘ اور ان کے چہروں پر سیاہی چھائے گی نہ ذلت ‘ وہی جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہوں نے برے کام کیے تو برائی کی سزا اسی کی مثل ہوگی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ‘ انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا ‘ گویا ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دیں گے وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے میدان حشر میں کفار کی علامتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا :

(آیت) ” یعرف المجرمون بسیماھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام۔ (الرحمن : ٤١)

ترجمہ : اس دن مجرم اپنی علامتوں سے پہچانے جائیں گے انہیں پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔

(آیت) ” فاصحاب المیمنۃ ما اصحاب المیمنۃ۔ واصحاب المشئمۃ ما اصحاب المشئمۃ “۔۔ (الواقعہ : ٩۔ ٨)

ترجمہ : تو دائیں طرف والے کیا ہی اچھے ہیں دائیں طرف والے ‘ اور بائیں طرف والے کیسے برے ہیں بائیں طرف والے۔

حوض پرواردہونے والے مرتدین کے متعلق علم رسالت اور بحث ونظر :

ان آیات سے معلوم ہوا کہ میدان حشر میں کفار کے چہرے سیاہ اور مرجھائے ہوئے ہوں گے ان کو ذلت اور رسوائی نے گھیرا ہوا ہوگا ‘ اور ان کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں ہوگا ‘ اور اس کے برخلاف مومنوں کے چہرے سفید ‘ روشن ‘ تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے اور ان کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں ہوگا اور ان علامات کی وجہ سے کفار پہچانے جائیں گے جیسا کہ سورة رحمن میں ہے اور ان علامات سے میدان محشر میں موجود ہر شخص کو علم ہوجائے گا کہ کون مومن ہے اور کون کافر ہے ‘ لیکن حیرت ہے کہ شیخ تھانوی نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعض مرتدین کے متعلق یہ علم نہ تھا کہ وہ مرتد ہوچکے ہیں ‘ شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ لکھتے ہیں :

حدیث شریف میں ہے کہ بعض امتیوں کی نسبت قیامت میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جائے گا ” انک لا تدری ما احدثوا بعدک “ (آپ از خود نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا تبدیلیاں کیں) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے بعض از منہ تک بھی کہ آخر عمر سے بہت متاخر ہے آپ پر بعض کونیات ظاہر نہیں ہوئے نہ بالذات نہ بالعطاء کیونکہ بالعطاء کے بعد آپ ان کو نہ بلاتے صریح اس اطلاع کے بعد سحقا ‘ سحقا فرما دیا (حفظ الایمان ص ١٧‘ مکتبہ تھانوی کراچی)

اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت حوض پر آئے گی اور میں اس وقت دوسرے لوگوں کو حوض سے روک رہا ہوں گا ‘ جیسے کوئی شخص اپنے حوض سے پرائے اونٹوں کو دور کرتا ہے ‘ صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا نبی اللہ ! آپ ہم کو پہچان لیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں کیونکہ تمہاری ایک ایسی نشانی ہوگی جو کسی امت میں نہیں ہوگی ‘ تم جس وقت میرے پاس حوض پر آؤ گے تو تمہارا چہرہ اور ہاتھ پیر آثار وضوء کی وجہ سے سفید اور چمکدار ہوں گے ‘ اور تم میں سے ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا پس وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ‘ میں کہوں گا اے میرے رب ! یہ میرے صحابہ ہیں پھر مجھے ایک فرشتہ جواب دے گا کیا آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں نئی نئی باتیں نکالی تھیں۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ سے کہا جائے گا کہ انہوں نے آپ کے وصال کے بعد اپنا دین بدل لیا تھا) پھر میں کہوں گا دور ہوجاؤ‘ دور ہوجاؤ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١٢٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

بعض لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی کا انکار کرتے ہیں وہ اس حدیث سے آپ کے علم کی نفی پر استدلال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو علم کلی ہوتا تو آپ حوض پر آنے والے ان مرتدین کو اصحابی نہ فرماتے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انہیں اصیحابی فرمانا عدم علم کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لیے تھا کہ پہلے ان کو یہ امید ہو کہ ان کو پانی ملے گا اور پھر جب ان کو حوض سے دور کیا جائے گا اور ان کی امید ٹوٹے گی تو ان کو زیادہ عذاب ہوگا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصیحابی سے پہلے ہمزہ استفہام کا محذوف ہو ‘ یعنی کیا یہ میرے اصحابی ہیں ؟ جن کے چہرے سیاہ ‘ اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ‘ آنکھیں نیلی ‘ چہرے تاریک اور مرجھائے ہوئے ہیں۔ یہ میرے صحابہ ہیں ؟ میرے اصحاب کے تو چہرے اور ہاتھ پیر سفید اور روشن ہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہیں اور ان کے چہرے کھلے ہوئے اور شاداب ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں مومنوں اور کافروں کی جو علامتیں بیان کی گئیں ہیں کہ مومنوں کے چہرے سفید ہوں گے اور اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور کافروں کے چہرے سیاہ اور اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے ‘ ان علامتوں سے میدان محشر میں موجود ہو شخص کو علم ہوگا کہ مومن کون ہے اور کافر کون ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ کو یہ علم نہ ہو کہ کون آپ کا صحابی ہے اور کون نہیں ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دنیا میں امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں سو آپ کو علم تھا کہ کون ایمان پر قائم رہا اور کون مرتد ہوگیا اور سب سے بڑھ کر یہہ کہ آپ تو دنیا میں بیان فرما رہے ہیں کہ میرے حوض پر ایسے ایسے لوگ آئیں گے سو آخرت کا علم تو دور کی بات ہے آپ نے دنیا میں ہی اپنے علم کی وسعت کا اظہار فرما دیا ہے۔

شیخ شبیر احمد عثمانی اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :

امام بزار نے سند جید کے ساتھ اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

میری حیات تھی تمہارے لیے خیر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے خیر ہے ‘ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں ‘ سو جو اچھے اعمال ہوں میں ان پر اللہ کی حمد کرتا ہوں اور جو برے اعمال ہوں میں ان پر تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں۔

اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کو علم ہو کہ حوض پر آنے والے یہ لوگ مرتد ہوچکے تھے اور صحیح مسلم کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ مرتد ہوچکے ہیں ‘ شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ بعض دیگر علماء کے جوابات نقل کرنے کے بعد اپنی تحقیق لکھتے ہیں :

میں کہتا ہوں کہ مسند بزار کی حدیث کے سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم پر امت اجابت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور ارتداد سے وہ شخص امت اجابت سے خارج ہوجاتا ہے پس ہوسکتا ہے کہ اس کے اعمال آپ پر پیش نہ کئے جاتے ہوں ‘ نیز اس حدیث میں ہے جو اعمال آپ پر پیش کیے جاتے ہیں وہ اچھے اعمال ہوتے ہیں جن پر آپ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں یا وہ برے اعمال ہوتے ہیں جن پر آپ استغفار کرتے ہیں اور ارتداد لائق حمد ہے نہ لائق استغفار۔ (فتح الملہم ج ١ ص ٤١٣۔ ٤١٢‘ مطبوعہ مکتبہ الحجاز کراچی)

شیخ عثمانی کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان لوگوں کے مرتد ہونے کا علم نہیں ہوا اس لیے آپ نے ان کو میدان محشر میں نہیں پہچانا ‘ اور ان کو اپنا صحابی گمان فرمایا ‘ ہمارے نزدیک شیخ عثمانی کا کلام صحیح نہیں ہے اولا اس لیے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو اعمال لائق استغفار ہوں میں ان پر استغفار کرتا ہوں اور جو لائق استغفار نہ ہوں آپ ان پر استغفار نہیں کرتے اور ارتداد لائق استغفار نہیں ہے لیکن اس کا لائق استغفار نہ ہونا اس عمل کے پیش کیے جانے کے منافی نہیں ہے۔

باقی رہا شیخ عثمانی کا یہ کہنا کہ آپ پر آپ کی امت اجابت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور ارتداد کی وجہ سے وہ آپ کی امت سے خارج ہوگیا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ارتداد کے بعد وہ آپ کی امت سے خارج ہوا ہے ‘ اس لیے ارتداد کے بعد اس کے اعمال پیش نہیں کئے جائیں گے لیکن ارتداد سے پہلے تو وہ آپ کی امت میں تھا اور جب اس نے ارتداد کا برا عمل کیا تو وہ آپ پر پیش کیا گیا کہ آپکے فلاں امتی نے یہ برا عمل کیا ہے اس کی وجہ سے وہ آپ کی امت سے خارج ہوگیا۔ نیز کسی چیز کا علم اس کی ضد کے علم کو مستلزم ہوتا ہے ‘ مثلا دن کا علم رات کے علم کو مستلزم ہے کہ جو وقت دن کی طرح نہیں ہوگا وہ رات ہوگا ‘ اسی طرح اسلام کا علم کفر کے علم کو مستلزم ہے کہ جو عقیدہ اسلام کی طرح نہیں ہوگا وہ کفر ہوگا ‘ تو جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی تمام امت دکھادی گئی تو آپ نے جان لیا کہ جو لوگ آپ کو نہیں دکھائے گئے وہ آپ کی امت نہیں ہیں تو جب شیخ عثمانی کے بہ قول یہ مرتدین آپ پر پیش نہیں کئے گئے اور ان کے اعمال آپ کو نہیں دکھائے گئے تو آپ نے جان لیا کہ یہ آپ کے امتی نہیں ہیں اور آپ کو ان کا علم ہوگیا ‘ رہا یہ کہ پھر آپ نے ان کو اصیحابی کیوں فرمایا تو اس کا یہی جواب ہے کہ آپ کا یہ فرمانا یا تو بطور استفہام تھا یا ان میں مزید حسرت ‘ افسوس اور عذاب واقع کرنے کے لیے تھا۔ اس حدیث کی بناء پر بعض لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی پر جو اعتراض کرتے ہیں کہ اس کے مزید جوابات اور سیر حاصل بحث ہم نے شرح صحیح مسلم جلد اول میں ذکر کردی ہے اس لیے اس بحث کو وہاں ضرور دیکھ لیا جائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 106

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.