أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوا الرِّبٰٓوا اَضۡعَافًا مُّضٰعَفَةً ‌ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ

تفسیر:

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا تھا کہ مومن کسی غیر مومن کو اپنا دوست اور ہم راز بنائے اور اس کے بعد احد کا قصہ بیان فرمایا ‘ اور کفار اپنے کاروبار کے اکثر معاملات سود کے ذریعہ کرتے تھے ‘ اور یہ سودی کاروبار وہ مسلمانوں اور کافروں دونوں کے ساتھ کرتے تھے اور اس کاروباری معاملہ کی وجہ سے بھی مسلمان کافروں سے ملتے جلتے تھے تب مسلمانوں کو سودی لین دین سے بالکل روک دیا گیا تاکہ مسلمانوں کے کافروں کے ساتھ تعلقات کی کوئی وجہ نہ رہے۔ ابتداء میں مسلمان تنگ دست تھے ‘ اور کفار اور یہودی بہت خوش حال تھے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ حرام مال کھانے کی وجہ سے نیک اعمال اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں ‘ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے جس شخص کا کھانا پینا حرام ہو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے جو شخص مال حرام سے حج کرتا ہے تو جب وہ لبیک کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا لبیک کہنا مقبول نہیں ہے اور تمہارا حج مردود ہے۔

نیز جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست مال دنیا کی مالی محبت کی وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ مال دنیا کی محبت کی وجہ سے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو نظر انداز کر کے مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے تھے ‘ سو اس آیت میں ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم مال دنیا کی محبت کی وجہ سے دگنا چوگنا سود کھانا نہ شروع کردینا اور مسلمانوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین فرمائی ہے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرایا ہے۔

ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مشرکین مکہ نے سودی کاروبار سے اپنا سرمایہ بڑھا کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا تھا اور جنگ احد لڑی تھی ہوسکتا تھا کہ اس سے مسلمانوں کو بھی سودی کاروبار کے ذریعہ اپنے سرمایہ کو بڑھانے کا خیال آئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو پہلے ہی منع فرمادیا کہ چوگنا سود مت کھاؤ۔

سود مفرد اور سود مرکب کا بیان :

زمانہ جاہلیت میں ایک شخص دوسرے شخص کو مثلا ایک سال کی مدت کے لیے دس روپے کی زیادتی پر سو روپے قرض دیتا ‘ اور جب ایک سال کے بعد مقروض رقم ادا نہ کرسکتا تو اب قرض خواہ ایک سو دس روپے پر دس روپے فی صد کے حساب سے سالانہ سود مقرر کردیتا اس طرح ہر سال کرتا ‘ یا کہتا کہ تمہیں ایک سال کی مزید مہلت دیتا ہوں لیکن تمہیں سو روپے کی بجائے دو سو روپے دینے ہوں گے ‘ اسی طرح عدم ادائیگی کی صورت میں ہر سال سو روپے کا اضافہ کرتا چلا جاتا ‘ یہ سود در سود ہے اس کو سود مرکب بھی کہتے ہیں اس کے مقابلہ میں سود مفرد یہ ہے کہ اصل رقم سو روپے ہو اور قرض خواہ اس رقم پر مقروض سے دس فیصد سالانہ کے حساب سے سود وصول کرے۔

اس آیت میں سود مرکب کو حرام کیا گیا ہے ‘ لیکن اس آیت میں اس کا مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے کہ صرف سود مرکب حرام ہے ‘ اور سود مفرد جائز ہے کیونکہ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے مطلقا سود کو حرام کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (البقرہ : 275) 

ترجمہ : اور اللہ نے بیع کو حلال کردیا اور سود کو حرام کردیا :

رباالفضل کا بیان : 

سورة بقرہ میں ہم سود کے متعلق مفصل بحث کرچکے ہیں اس لیے اس بحث کو وہاں دیکھ لیا جائے۔ یہ بحث ربا النسیہ سے متعلق ہے اور رباالفضل یہ ہے کہ دو ہم جنس چیزوں کی جب بیع کی جائے تو وہ دونوں نقد ہوں اور برابر برابر ہوں اور ان میں زیادتی سود ہے ‘

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سونا ‘ سونے کے عوض ‘ چاندی ‘ چاندی کے عوض گندم ‘ گندم کے عوض ‘ جو ‘ جو کے عوض ‘ کھجور ‘ کھجور کے عوض اور نمک ‘ نمک کے عوض فروخت کرو برابر برابر نقد بہ نقد ‘ اور جب یہ اقسام مختلف ہوں تو جس طرح چاہو فروخت کرو بہ شرطی کہ نقد ہوں۔ rnّ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥٨٧ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤٩‘ سنن نسائی رقم الحدیث ٤٥٧٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٢٥٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٥٦٩٠‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث ١٤١٩٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٠١٨‘ سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٤‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٢٠‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ١٠٤۔ ١٠٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٥ ص ٢٨٢ ‘۔ ٢٧٧)

صحیح بخاری رقم الحدیث ٢٠٢٧‘ سنن ابن ماجہ (٢٢٥٣) اور طبرانی (المعجم الکبیر : ١٠١٧) میں حضرت عمر سے روایت ہے اور اس میں چاندی کے علاوہ باقی پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔

رباالفضل میں علت حرمت کی تحقیق : 

احادیث میں سونا ‘ چاندی ‘ گندم ‘ جو ‘ کھجور اور نمک ان چھ چیزوں کی بیع ان کی مثل میں زیادتی اور ادھار کے ساتھ منع کی گئی ہے اور جب دو نوع مختلف ہوں تو پھر زیادتی کے ساتھ بیع منع نہیں ہے ‘ ائمہ مجتہدین نے ان چھ چیزوں میں علت مشترکہ نکال کر باقی چیزوں کی مثل میں بھی زیادتی کے ساتھ منع کیا ہے ‘ امام شافعی نے کہا ان چھ چیزوں میں ثمنیت اور طم مشترک ہے ‘ سو جو چیز ثمن ہو یا کھانے پینے کی چیز ہو اس کی مثل میں زیادتی کے ساتھ بیع منع ہے اور باقی چیزوں میں جائز ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ جو چیزیں کھانے پینے کی اور ثمن نہ ہوں ان کی مثل میں زیادتی کے ساتھ بیع جائز ہوگی مثلا ایک کپڑے کا تھان اس جیسے دو تھانوں کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا ‘ امام مالک کے نزدیک ثمینت اور خوراک کے لیے ذخیرہ ہونے کی صلاحیت علت ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تانبا ‘ پیتل ‘ لوہا ‘ لکڑی اور دیگر عام استعمال کی اشیاء میں اپنی مثل میں زیادتی کے ساتھ بیع کرنا ان کے نزدیک سود نہیں ہے امام احمد بن حنبل کے دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو وزن یا ماپ کے ذریعہ فروخت کی جائے اس کی اس جنس کے بدلہ میں زیادتی کے ساتھ بیع جائز نہیں ہے۔ ان کا یہ قول فقہاء احناف کی طرح ہے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت کی علت طعم اور ثمنیت ہے۔ یہ قول فقہاء شافعیہ کی طرح ہے ‘ ان دونوں قولوں پر وہی اعتراض ہے جو امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے مذہب پر ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے زدیک حرمت کی علت وزن اور کیل (ماپنا) ہے ‘ سو دو ایک جنس کی چیزیں جو وزنی ہوں یا کیلی ہوں ان میں زیادتی کے ساتھ بیع ناجائز ہے اس پر اعتراض ہے کہ جو چیزیں عددا فروخت ہوتی ہیں مثلا انڈے ‘ اخروٹ ‘ صابن ‘ گلاس ‘ پلیٹیں وغیرہ ان سب میں زیادتی کے ساتھ بیع جائز ہوگی مثلا ایک صابن کی ٹکیہ کی بیع دس صابن کی ٹکیوں کے ساتھ جائز ہوگی اور یہ سود نہ ہوگا ‘ نیز جو عام استعمال کی چیزیں ہیں صابن ‘ پلیٹیں ‘ پین پنسل ‘ میز ‘ کرسی وغیرہ جو عددا فروخت کیے جاتے ہیں ان کی مثل میں اگر زیادتی کے ساتھ بیع کی جائے تو وہ کسی امام کے نزدیک سود نہ ہوگی۔

جن احادیث میں ان چھ چیزوں کا ذکر ہے ‘ ان میں ایک جنس کی دو چیزوں کی بیع میں جو مقدار مشترک ہے وہ وزن اور کیل ہے ‘ کیونکہ سونے اور چاندی کو وزن سے فروخت کیا جاتا ہے اور گندم ‘ جو ‘ کھجور اور نمک کو کیل (پیمانے سے ماپ کر) سے فروخت کیا جاتا ہے۔ اس لیے امام ابوحنیفہ اور امام احمد نے ایک جنس کی دو چیزوں کی بیع میں وزن اور کیل کو علت قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ ان دو چیزوں کا وزن اور کیل برابر ہو اور زیادتی سود ہے ‘ لیکن یہ کہنا بھی بعید نہ ہوگا کہ کسی مسئلہ کا حکم معلوم کرنے کے لیے اس سے متعلق تمام آیات اور احادیث کو سامنے رکھ رکھ کر غور کرنا ضروری ہے اور بعض احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک درہم کی دو درہموں سے ایک دینار کی دو دیناروں سے بیع کو بھی ناجائز قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب ایک جنس کی دو چیزوں میں بیع کی جائے تو وزن اور کیل کے علاوہ عدد میں بھی مساوات ضروری ہے ‘ اور اگر ان میں کمی اور زیادتی کے ساتھ بیع کی جائے تو پھر سود ہوگا اور اگر ربا الفضل کی علت میں وزن ‘ کیل اور عدد تینوں کو ملحوظ رکھا جائے تو پھر حرمت سود کی علت جامع ہوجائے گی اور ہر صورت میں دو ہم جنس چیزوں میں کمی اور زیادتی کے ساتھ بیع ناجائز اور سود ہوگی۔ وہ حدیث یہ ہے :

امام بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دینار کو دو دیناروں اور ایک درہم کو دو درہم کے بدلہ میں فروخت نہ کرو۔ (سنن کبری ج ٥ ص ٢٧٨ موطا امام مالک رقم الحدیث ١٣٢٧)

ہر چند کہ مقدار کی مساوات میں عدد کا اعتبار کرنا ‘ کسی امام سے ثابت نہیں ہے لیکن اگر ربا الفضل کی علت و حرمت میں اس کا اعتبار کرلیا جائے تو پھر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ کتنی ہی ہم جنس چیزوں میں کمی اور زیادتی کے ساتھ بیع کی جائے تو پھر بھی سود نہیں ہوگا ‘ میں نے اس پر بہت غور کیا ہے اور میرے نزدیک ربا الفضل میں حرمت کی علت یہی معقول اور جامع ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کے مطابق ہے کہ دو ہم جنس چیزوں کی بیع وزن مکمل اور عدد میں مساوی ہو اور زیادتی سود ہوگی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 130