وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنۡ يَّغُلَّ‌ؕ وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 161

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ اَنۡ يَّغُلَّ‌ؕ وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور خیانت کرنا کسی نبی کی شان کے لائق نہیں اور جو شخص خیانت کرے گا وہ خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن لے کر آئے گا پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

مناسبت اور شان نزول :

اس سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے کہ احد پہاڑ کی پشت پر پچاس تیراندازوں کو کھڑا کیا گیا تھا ‘ وہ مال غنیمت دیکھ کر اس کو لوٹنے کے لیے دوڑ پڑے۔ ان کو شاید یہ خیال تھا کہ اگر انہوں نے بروقت مال غنیمت سے حصہ نہیں لیا تو شاید ان کو بعد میں حصہ نہیں ملے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ خیانت کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے تو جو سید الانبیاء اور امام المرسلین ہیں ان کے متعلق یہ گمان کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔ اس آیت کے شان نزول کے متعلق امام بن جریر نے کئی روایات بیان کی ہیں : 

مقسم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جنگ بدر کے دن سرخ رنگ کی ایک چادر گم ہوگئی بعض لوگوں نے کہا شاید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ چادر لی ہوگی۔ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ خیانت کرنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان نہیں ہے۔ بہ ظاہر اس قول کے قائم منافقین تھے۔ 

ضحاک نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اصحاب میں مال غنیمت تقسیم کرتے تھے اور بعض اصحاب میں نہیں کرتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٠٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عادلانہ مزاج کے پیش نظر یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ 

امام رازی اور بعض دیگر مفسرین ذکر نے ذکر کیا ہے کہ بعض اشراف یہ چاہتے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت میں سے ان کو زیادہ حصہ عطا کریں اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کا تعلق اداء وحی کے ساتھ ہے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید پڑھتے تھے اور اس میں مشرکین کے دین کی مذمت تھی اور ان کے باطل خداؤں کا بطلان ظاہر کیا تھا اس لیے انہوں نے کہا کہ آپ ایسی آیات نہ پڑھا کریں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اس آیت کی آیات سابقہ کے ساتھ صحیح مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ جہاد کے احکام بیان فرمائے تھے اور جہاد کے احکام میں سے ایک حکم مال غنیمت کو تقسیم کرنا ہے سو اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم میں خیانت نہ کی جائے۔

مال غنیمت میں خیانت کرنے پر عذاب کی وعید : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن صحابہ کرام آپس میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ فلاں شخص شہید ہوا اور فلاں شخص شہید ہوا ‘ دوران گفتگو ایک شخص کا ذکر ہوا صحابہ کرام نے اس شخص کے بارے میں بھی کہا کہ وہ شہید ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہرگز نہیں ! میں نے اسے جہنم میں دیکھا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرالی تھی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا جا کر لوگوں میں اعلان کردو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے ‘ چناچہ میں نے حسب ارشاد لوگوں میں اعلان کردیا کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر فتح کرنے گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی ‘ وہاں سے مال غنیمت میں سونا چاندی نہیں ملا ‘ بلکہ مختلف قسم کا سامان ‘ غلہ اور کپڑے وغیرہ ملے ‘ ہم ایک وادی کی طرف چل پڑے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رفاعہ بن زید نامی بنو ضبیب کا ایک غلام تھا ‘ جو آپ کو قبیلہ جذام کے ایک شخص نے نذر کیا تھا۔ جب ہم اس وادی میں اترے تو اس غلام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامان کھولنا شروع کیا ‘ اسی دوران کہیں سے اچانک ایک تیر آ کر اسے لگا ‘ جس سے وہ فوت ہوگیا ‘ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اسے شہادت مبارک ہو ‘ رسول اللہ نے فرمایا : ہرگز نہیں ‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ‘ جو چادر اس نے خیبر کے مال غنیمت میں سے لی تھی ‘ وہ اس کے حصہ کی نہ تھی وہی چادر ایک شعلہ کی صورت میں اس کے اوپر جل رہی ہے ‘ یہ سن کر سب خوف زدہ ہوگئے ‘ ایک شخص چمڑے کے ایک یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے جنگ خیبر کے دن ان کو پایا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تسمے بھی آگ کے ہیں ( صحیح مسلم ج ١ ص ٧٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

مال غنیمت سے متعلق دیگر مسائل : 

ان دونوں حدیثوں سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوئے : 

(١) مال غنیمت میں سے کچھ چرانا حرام ہے : 

(٢) مال غنیمت کی چوری میں قلیل اور کثیر کا کوئی فرق نہیں ہے، 

(٣) مال غنیمت میں کچھ چرانے والے کو اگر قتل کردیا جائے تو اس کو شہید نہیں کہا جائے گا۔ 

(٤) اس زمین پر رہتے ہوئے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہنم کو دیکھ رہے ہیں۔ 

(٥) جن لوگوں کو دوزخ میں عذاب ہو رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ 

(٦) نہ صرف یہ کہ آپ عذاب میں مبتلا لوگوں کو دیکھ رہے ہیں بلکہ آپ کو ان کے عذاب کی وجہ کا بھی علم ہے۔ 

(٧) مطالبہ قسم کے بغیر بھی کلام کو موکد کرنے کے لیے قسم کھانا جائز ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد کی جان ہے۔ 

(٨) مال غنیمت میں سے جو چیز چرائی جائے اس کا واپس کرنا واجب ہے اور اگر وہ واپس کرے تو اس کو قبول کیا جائے گا۔ 

(٩) مال غنیمت سے چوری کرنے والے شخص کے سامان کو جلایا نہیں جائے گا اور جس حدیث میں یہ ہے کہ ” جو شخص چوری کرے اس کے سامان کو جلا دو اور اس کو مار دو “ اس حدیث کو حافظ عبدالبر وغیرہ نے ضعیف کہا ہے ‘ اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہوگئی۔ یہ حکم اس وقت تھا جب عقوبات مالیہ (جرمانے) مشروع تھیں۔ 

اموال مسلمین میں خیانت کرنے پر عذاب کی وعید : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے، آپ نے خیانت کا ذکر کیا اور اس کا سخت گناہ بیان کیا ‘ اور فرمایا میں تم میں سے کسی ایک شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سوار اونٹ بڑبڑا رہا ہو ‘ وہ شخص کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد فرمائیے ‘ میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ‘ میں تجھ کو تبلیغ کرچکا ہوں ‘ اور میں سے کسی ایک شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سوال بکری ممیارہی ہو ‘ وہ کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد فرمائیے ‘ میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ‘ میں تجھے تبلیغ کرچکا ہوں ‘ اور میں تم میں سے کسی ایک شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سوار انسان چیخ رہا ہو ‘ وہ کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد فرمائیے ‘ میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہ ہوں ‘ میں تجھے تبلیغ کرچکا ہوں ‘ اور میں تم میں سے کسی ایک شخص کو قیامت کے اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر کپڑوں کی ایک گٹھڑی ہل رہی ہو ‘ وہ کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد فرمائیے ‘ میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے تبلیغ کرچکا ہوں اور تم میں سے کسی ایک شخص کو قیامت کے دن اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر سونا اور چاندی ہو وہ کہے گا یا رسول اللہ ! میری مدد فرمائیے ‘ میں کہوں گا میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے تبلیغ کرچکا ہوں۔ (صحیح مسلم ج ٣ ص ‘ ١٤٦٢۔ ١٤٦١ مطبوعہ بیروت، صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٣٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ مسند احمد مطبوعہ بیروت ج ٢ ص ٤٢٦) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء سختی فرمائیں گے اور شفاعت نہیں کریں گے اور فرمائیں گے میں تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں لیکن بعد میں جب آپ پر رحمت کا غلبہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ آپ کو شفاعت کا اذن دے دے گا اس وقت شفاعت فرمائیں گے ‘ اس حدیث میں طعام کے علاوہ ہر چیز کی خیانت کا ذکر ہے ‘ دنیا میں خیانت کرنے والے کو حاکم تعزیرا سزا دے گا ‘ اور اس کے اس سامان کو جلایا نہیں جائے گا جس میں اس نے خیانت کا مال رکھا تھا ‘ حسن ‘ مکحول اور اوزاعی کے نزدیک ان کا پالان جلا دیا جائے گا ان کی دلیل یہ حدیث ہے : امام احمد روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے سامان میں تم خیانت کا مال پاؤ اس کے سامان کو جلا دو ‘ اور میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا اس کو ضرب لگاؤ (مارو) (مسند احمد ج ١ ص ٢٢) 

جمہور نے اس حدیث پر اس لیے عمل نہیں کیا کہ سالم سے اس حدیث کی روایت میں صالح بن محمد منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے، نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جن لوگوں نے خیانت کا اقرار کیا آپ نے ان کا سامان نہیں جلایا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو حمید ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو اسد کے ایک شخص کو صدقات وصول کرنے کا عامل بنایا اس کا نام ابن اللبتیہ تھا ‘ جب وہ صدقات وصول کرکے آیا تو اس نے کہا یہ تمہارا مال ہے ‘ اور یہ میرا مال ہے مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر کھڑے ہو کر اللہ عزوجل کی حمد وثناء کی اس کے بعد فرمایا : جن عاملوں کو میں بھیجتا ہوں ان کو کیا ہوگیا ہے وہ کہتے ہیں یہ تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے ‘ یہ شخص اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہیں بیٹھ گیا۔ پھر ہم دیکھتے کہ اس کو ہدیہ کیا جاتا ہے یا نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ‘ تم میں سے جو شخص بھی صدقات (اموال مسلمین) میں سے کوئی چیز لے گا قیامت کے دن جب وہ آئے گا تو وہ چیز اس کی گردن پر سوار ہوگی ‘ اونٹ بڑبڑا رہاہو گا ‘ یا گائے ڈکرا رہی ہوگی ‘ یا بکری ممیارہی ہوگی ‘ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے حتی کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ‘ پھر دو مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟ (صحیح مسلم ج ٣ ص ١٤٦٣‘ مطبوعہ بیروت) 

حکومت کے عمال جو چیزیں ہدیہ کے نام پر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اس میں اللہ کی بھی خیانت ہے اور مسلمانوں کی بھی ‘ اللہ کی خیانت اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ کے دیئے ہوئے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کی خیانت اس لیے ہے کہ انہوں نے بیت المال کو اپنے ذاتی تصرف میں لے لیا۔ ؛ 

نیز امام مسلم روایت کرتے ہیں : 

عدی بن عمیرہ کندی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم نے تم میں سے جس شخص کو کسی منصب کا عامل بنایا اور اس نے کوئی سوئی یا اس سے بھی چھوٹی کوئی چیز ہم سے چھپالی تو یہ خیانت ہے جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ‘ انصار میں سے ایک سیاہ فام شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا ‘ یا رسول اللہ ! اپنے دیئے ہوئے منصب کو مجھ سے واپس لے لیجئے آپ نے پوچھا : کیا ہوا ؟ اس نے کہا میں نے آپ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے آپ نے فرمایا میں اب بھی یہی کہتا ہوں ہم نے تم میں سے جس شخص کو کسی عہدہ کا عامل بنایا ‘ اس کو چاہیے کہ وہ ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو لے کر آئے ‘ پھر اس کو جو دے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔ (صحیح مسلم ج ٣ ص ١٤٦٥‘ مطبوعہ بیروت) 

ہمارے ملک میں جو لوگ دفاتر میں کام کرتے ہیں وہ دفاتر سے سٹیشزی کا سامان گھر لے آتے ہیں ‘ جو لوگ ریلوے ورکشاپ میں کام کرتے ہیں ‘ ان کی ذاتی ضروریات کی تمام چیزیں ورکشاب سے بنتی ہیں ‘ حتی کہ بعض دینی مدارسکے ناظمین ‘ مدرسہ کے تمام اموال کو بےدھڑک اپنے ذاتی تصرف میں لاتے ہیں ‘ یہ تمام امور خیانت ہیں اللہ تعالیٰ ان خیانتوں سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور ان لوگوں کو توبہ کی توفیق دے ‘ ان کو ہدایت دے اور معاف فرمائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 161

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.