أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ هُوَ خَيۡـرًا لَّهُمۡ‌ؕ بَلۡ هُوَ شَرٌّ لَّهُمۡ‌ؕ سَيُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِهٖ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ وَ لِلّٰهِ مِيۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ

ترجمہ:

جو لوگ ان چیزوں میں بخل کرتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے دی ہیں وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ وہ ان کے حق میں بہتر ہے بلکہ وہ ان کے حق میں بہت برا ہے عنقریب انکے گلے میں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا جس کے ساتھ وہ بخل کرتے تھے آسمانوں اور زمینوں کا اللہ ہی وارث ہے اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی خبر رکھنے والا ہے ؏

تفسیر:

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مال کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں بخل کرتے ہیں ان کے لیے شدید وعید بیان فرمائی ہے۔ 

بخل کا لغوی معنی : 

علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی متوفی ٨١٧ ھ لکھتے ہیں : 

بخل کرم کی ضد ہے۔ (القاموس المحیط ج ٣ ص ‘ ٣٨٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

جس مال کو جمع کرنے کا حق نہ ہو اس کو خرچ نہ کرنا بخل ہے اس کا مقابل جود ہے ‘ بخیل اس شخص کو کہتے ہیں جو بہ کثرت بخل کرے ‘ بخل کی دو قسمیں ہیں ‘ اپنے مال میں بخل کرنا ‘ اور غیر کے مال میں بخل کرنا اور یہ زیادہ مذموم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ : 

(آیت) ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (النساء : ٣٧) 

ترجمہ : جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ‘ اور اللہ نے اپنے فضل سے جو ان کو دیا ہے اس کو چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے : 

(المفردات ص ٣٨‘ مطبوعہ کتاب فروشے مرتضوی ‘ ١٣٦٢ ھ) 

بخل کا شرعی معنی اور اس کی اقسام :

بخل کرم اور جود کی ضد ہے بغیر عوض کسی کو مال دینے سے منقبض اور تنگ ہونے کو بخل کہتے ہیں یا کوئی شخص اس وقت مال خرچ نہ کرے جب اس مال کو خرچ کرنے کی ضرورت اور اس کا موقع اور محل ہو ‘ عرب کہتے ہیں بخلت العین بالدموع آنکھوں نے آنسوؤں میں بخل کیا اور جب آنسوبہانے کا وقت تھا اس وقت آنسو نہیں بہائے۔ 

تحقیق یہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بخل ہے ‘ اور جہاں خرچ نہ کرنا واجب ہو وہاں خرچ کرنا اسراف اور تبذیر ہے اور ان کے درمیان جو متوسط کیفیت ہے وہ محمود ہے اس کو جود اور سخا کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا “۔ (الاسراء : ٢٩) 

ترجمہ : اور اپناہاتھ گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے پوری طرح کھول دے کہ ملامت زدہ تھکا ہارا بیٹھا رہے، 

(آیت) ” والذین اذا انفقوا الم یسرفوا ولم یقتروا واکان بین ذلک قواما “۔ (الفرقان : ٦٧) 

ترجمہ : اور وہ لوگ جو خرچ کرتے وقت فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی سے کام لیتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا زیادتی اور کمی کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ 

خرچ کرنا شرعا واجب ہوتا ہے یاعرف اور عادت کے اعتبار سے ‘ زکوۃ ‘ صدقہ فطر ‘ قربانی ‘ حج ‘ جہاد اور اہل و عیال کی ضروریات پر خرچ کرنا شرعا واجب ہے ‘ جو ان پر خرچ نہ کرے وہ سب سے بڑا بخیل ہے اور دوستوں ‘ رشتہ داروں اور ہمسایوں پر خرچ کرنا عرف اور عادت کے اعتبار سے واجب ہے جو ان پر خرچ نہ کرے وہ اس سے کم درجہ کا بخیل ہے اور بخل کی ایک تیسری قسم بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں تو خرچ کرتا ہے لیکن نفلی صدقات ٗ عام فقراء اور مساکین اور سائلین اور رفاہی کاموں میں خرچ نہیں کرتا اور باوجود وسعت ہونے کے اپنا ہاتھ روک کر رکھتا ہے اور پیسے گن گن کر رکھتا ہے یہ بخل کی تیسری قسم ہے لیکن یہ پہلے دو درجوں سے کم درجہ کا بخل ہے۔ 

بخل کی مذمت کے متعلق قرآن مجید کی آیات : 

(آیت) ” واما بن بخل واستغنی، وکذب بالحسنی، فسنیسرہ للعسری، (اللیل : ١٠۔ ٨) 

ترجمہ : اور جس نے بخل کیا اور (تقوی سے) بےپرواہ رہا اور اس نے نیکی کو جھٹلایا تو ہم عنقریب اس کے لیے تنگی کا راستہ مہیا کردیں گے۔ 

(آیت) ” فلما اتھم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون “۔ (التوبہ : ٧٦) 

تو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دے دیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی درآن حالیکہ وہ اعراض کرنے والے تھے۔ 

(آیت) ” ھانتم ھؤلآء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ واللہ الغنی انتم الفقرآء “۔ (محمد : ٣٨) 

ترجمہ : ہاں تم وہی لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے کوئی بخل کرتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ صرف اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ 

(آیت) ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ومن یتول فان اللہ ھو الغنی الحمید “۔ (الحدید : ٢٤) 

ترجمہ : جو لوگ بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور جس نے اعراض کیا تو اللہ بےنیاز ہے ستائش کیا ہوا۔ 

(آیت) ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (النساء : ٣٧) 

ترجمہ : جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں ‘ اور اللہ نے اپنے فضل سے جو ان کو دیا ہے اس کو چھپاتے ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے : 

(آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزۃ، الذی جمع مالا وعددہ، یحسب ان مالہ اخلدہ، کلا لینبذن فی الحطمہ، وما ادراک ما الحطمۃ، نار اللہ الموقدۃ، (الھمزۃ : ٦۔ ١) 

ترجمہ : ہر طعنہ دینے والے اور چغلخوری کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے، جس نے مال جمع کیا اور اس کو گن گن کر رکھا، وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ زندہ رکھے گا، ہرگز نہیں وہ چورا چورا کرنے والی میں ضرور پھینک دیا جائے گا، آپ کیا جانتے ہیں کہ چورا چورا کردینے والی کیا چیز ہے ؟ ، اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے، جو دلوں پر چڑھ جائے گی۔ 

(آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم، یوم یحمی علیھا فی نار جھنم فتکون بھا جباھھم وجنوبھم وظھورھم ھذا ما کنزتم لانفسکم فذوقوا ماکنتم تکنزون “۔ (التوبہ : ٣٥۔ ٣٤) 

ترجمہ : اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے نہیں کرتے ان سب کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس دن وہ (سونا چاندی) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ‘ پھر اس سے ان کی پیشانیاں ان کے پہلو اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا یہ ہے وہ (مال) جو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا سو اپنے جمع کئے ہوئے کا مزہ چکھو۔ 

بخل کی مذمت کے متعلق احادیث اور آثار : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوۃ ادا نہیں کی ‘ قیامت کے دن وہمال ایک موٹا اور گنجا سانپ بنادیا جائے گا جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے ‘ پھر اس شخص کو وہ سانپ اپنے دو جبڑوں سے پکڑ لے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں اور تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی : (آیت) ” ولا یحسب الذین یبخلون “۔ الایۃ (آل عمران : ١٨٠) 

(صحیح البخاری ج ١ ص ٤٣٠‘ رقم الحدیث ١٤٠٣‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر روز فرشتے نازل ہو کر دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما اور اے اللہ خرچ نہ کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے (صحیح البخاری ج ١ ص ٤٤٣‘ رقم الحدیث ١٤٤٢‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہ کثرت مرتبہ یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : اے اللہ ! میں پریشانی ‘ غم ‘ عاجز ہونے ‘ سستی ‘ بخل ‘ بزدلی ‘ قرض کی زیادتی ‘ اور لوگوں کے غلبہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (صحیح البخاری ج ٣ ص ٣٠٥‘ رقم الحدیث ٢٨٩٣‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی ایک مثال بیان فرمائی ‘ ان کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے ‘ جنہوں نے لوہے کی دو زرہیں پہنی ہوئی ہیں جو انکی چھاتیوں سے ہنسیلوں اور ان کے ہاتھوں تک ہیں ‘ جب صدقہ کرنے والا صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ اس سے ڈھیلی ہوجاتی ہے حتی کہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کا نشان مٹ جاتا ہے اور جب بخیل کسی چیز کے صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ تنگ ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری ج ٧ ص ٤٧‘ رقم الحدیث ٥٧٩٧‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ) 

سخی کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے پوری زرہ پہنی اور وہ اس کے جسم پر پھیلتی رہی حتی کہ اس نے پورے بدن کو چھپالیا ‘ اور زرہ نے اس کو محفوظ کرلیا اور بخیل کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کے دونوں ہاتھ طوق بنے ہوئے ہیں جو اس کے سینہ کے سامنے ابھرے ہوئے ہیں جب وہ زرہ پہننے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ درمیان میں حائل ہوجاتے ہیں اور اس زرہ کو بدن پھیلنے نہیں دیتے اور وہ اس کی گردن میں اکٹھی ہو کر اس کی ہنسلیوں سے چمٹ جاتی ہے اور اس کے لیے وبال جان اور بوجھ بن جاتی ہے ‘ اور اس کے بدن کی حفاظت نہیں کرتی ‘ خلاصہ یہ ہے کہ سخی جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور اس کے ہاتھ اس کی موافقت کرتے ہیں اور اس کے ہاتھ فراخ ہوجاتے ہیں اور بخیل جب کچھ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ کوتاہ ہوجاتے ہیں ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ صدقہ کرنے سے مال بڑھنے اور بخل سے مال کم ہونے کی مثال ہو اور اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سخی پر اللہ دنیا اور آخرت میں پردہ رکھتا ہے جس طرح یہ زرہ اس کے جسم کو چھپا لیتی ہے اور بخیل کے عیوب دنیا اور آخرت میں کھل جاتے ہیں جس طرح یہ زرہ اس کے گلے میں سکڑ کر اکٹھی ہوجاتی ہے اور اس کا باقی جسم برہنہ ہوجاتا ہے۔ 

امام خرائطی متوفی ٣٢٧ ھ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سخی کی لغزش سے درگذر کرو کیونکہ وہ جب بھی لڑکھڑاتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتا ہے۔ (مکارم الاخلاق ج ٢ ص ٥٩٠‘ مطبوعہ دارالکتب المصریہ مصر ‘ ١٤١١ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ہر وہ اونٹ والا جو اونٹوں کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن اس کے اونٹ بہت فربہ ہو کر آئیں گے اور اس کے سامنے چٹیل میدان میں مالک کو بٹھا دیا جائے گا اور اونٹ اس کو اپنی ٹانگوں اور کھروں کے ساتھ روندتے ہوئے گزر جائیں گے ‘ اور جو گائے والا گائے کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ گائیں بہت فربہ ہو کر آئیں گی اور اس کے سامنے چٹیل میدان میں مالک کو بٹھا دیا جائے گا اور وہ اس کو سینگوں سے مارتی ہوئی اور پیروں سے کچلتی ہوئی گزر جائیں گی ‘ اور جو بکریوں والا بکریوں کا حق ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن وہ بکریاں بہت فربہ ہو کر آئیں گی اور اس کے سامنے چٹیل میدان میں مالک کو بٹھا دیا جائے گا اور وہ اس کو سینگوں سے مارتی ہوئی اور کھروں سے روندتی ہوئی گزر جائیں گی “ اس دن ان میں نہ کوئی بغیر سینگ کے ہوگی نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا ‘ اور جو خزانہ والا خزانہ میں سے اللہ کا حق ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں منہ کھولے اس کے پیچھے دوڑے گا ‘ خزانہ کا مالک بھاگے گا تو ایک منادی آواز دے کر کہے گا اپنا خزانہ لے لو ‘ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ‘ جب خزانہ کے مالک کو کوئی چارہ نظر نہیں آئے گا تو وہ اس سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈال دے گا ‘ اور سانپ اونٹ کی طرح اس کے ہاتھ کو چبائے گا ‘ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی کا کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا پانی کے موقع پر اس کا دودھ دوہنا (تاکہ لوگ اس کو پئیں) اور ڈول دینا ‘ اور نر اونٹ کو جفتی کے لیے عاریۃ دینا اور اونٹنی کو دودھ پینے کے لیے (ضرورت مندوں کو) دینا اور راہ خدا میں اس پر لوگوں کا مال لادینا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٦٨٤‘ رقم الحدیث : ٩٨٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : تنگ دلی کرنے سے بچو ‘ کیونکہ تم سے پہلے لوگ تنگ دلی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ‘ اس تنگ دلی نے انکو بخل کا حکم دیا تو انہوں نے بخل کیا اور اس نے ان کو قطع تعلق کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے قطع تعلق کیا اور اس نے ان کو جھوٹ بولنے کا حکم دیا تو انہوں نے جھوٹ بولا۔ 

ہم نے الشح کا ترجمہ تنگ دلی کیا ہے کیونکہ حافظ منذری متوفی ٦٥٦ ھ نے لکھا ہے کہ شح منع کرنے میں بخل سے زیادہ بلیغ ہے ‘ شح بہ منزل جنس ہے اور بخل بہ منزلہ نوع ہے شح انسان کی طبیعت اور جبلت کی طرف سے وصف لازم کی طرح ہے اور بعض نے کہا کہ بخل صرف مال میں ہوتا ہے اور شح مال اور نیکی دونوں میں ہوتا ہے۔ (مختصر سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت) 

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس صرف وہی مال ہے جو زبیر نے اپنے گھر میں رکھا ہے کیا میں اس میں سے دیا کروں ؟ آپ نے فرمایا دیا کرو اور تھیلی کا منہ باندھ کر نہ رکھو ورنہ تم بھی بندش کردی جائے گی۔ 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے مساکین یا صدقہ کو گننے کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دیا کرو اور گنا نہ کرو ورنہ تم کو بھی گن کردیا جائے گا۔ (سنن ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٧‘ رقم الحدیث : ١٧٠٠‘ ١٦٩٩، ١٦٩٨‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت ١٤١٣ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان کا بدترین خلق گھبراہٹ پیدا کرنے والا بخل ہے (یعنی کسی کو دینے سے دل گھبراتا ہو) اور بےشرمی والی بزدلی ہے، (سنن ابو داؤد ج ٣ ص ١٢‘ رقم الحدیث : ٢٥١١‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت ١٤١٣ ھ) 

ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی سے پوچھا کہ تم ” علیکم انفسکم “ المائدہ : ١٠٥ ” تم (صرف) اپنی جانوں کی فکر کرو “ کی کیا تفسیر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا میں نے اس آیت کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا ‘ آپ نے فرمایا : نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو حتی کہ تم جب یہ دیکھو کہ بخل کی موافقت کی جارہی ہے اور خواہش کی پیروی کی جارہی ہے اور دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ذو رائے اپنی رائے کو اچھا سمجھ رہا ہے تو تم صرف اپنی جان کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑ دو کیونکہ تمہارے بعد صبر کے ایام ہوں گے ‘ ان میں صبر کرنا انگاروں کو پکڑنے کی مثل ہے اور ان ایام میں (نیک) عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے (نیک) عمل کا اجر ملے گا۔ (سنن ابو داؤد ج ٤ ص ١٢١‘ رقم الحدیث : ٤٣٤١‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت ١٤١٣ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان میں دو خصلتیں جمع نہیں ہوتیں۔ بخل اور بدخلقی ‘ حضرت ابوبکرصدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم فرمایا دھوکا دینے والا ‘ احسان جتلانے والا اور بخیل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٣٤٣‘ رقم الحدیث : ١٩٦٣۔ ١٩٦٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے اچھے لوگ تمہارے حاکم ہوں اور تمہارے مال دار سخی ہوں ‘ اور تمہارے باہمی امور مشاورت سے ہوں تو زمین کے اوپر رہنا تمہارے لیے زمین کے نیچے دفن ہونے سے بہتر ہے ‘ اور جب تمہارے بدترین لوگ تمہارے حاکم ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے امور تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں تو زمین کے نیچے دفن ہونا تمہارے لیے زمین کے اوپر رہنے سے بہتر ہے الجامع الصحیح ج ٤ ص ٥٢٩‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو ‘ عرض کیا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ بخل کرنا (اور روایت میں سحر ہے) ناحق قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا ‘ پاک دامن ‘ مومن بھولی بھالی عورتوں کو تہمت لگانا۔ (سنن سنائی ج ٢ ص ١٣٤‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (قرب قیامت میں) احکام میں سختی زیادہ ہوگی ‘ اور دنیا میں صرف بدبختی زیادہ ہوگی اور لوگوں میں صرف بخل زیادہ ہوگا ‘ اور قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی اور عیسیٰ بن مریم کے سوا کوئی ہدایت یافتہ نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ١٣٤١۔ ١٣٤٠‘ رقم الحدیث ٤٠٣٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی بندہ کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوگا اور کسی بندہ کے دل میں ایمان اور بخل جمع نہیں ہوں گے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر یا عصر کی نماز پڑھ رہے تھے اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز کو پکڑنے لگے ‘ پھر آپ پیچھے ہٹے اور لوگ بھی پیچھے ہٹ گئے ‘ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو حضرت ابی بن کعب (رض) نے پوچھا آپ نے نماز میں ایک کام کیا جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے آپ نے فرمایا مجھ پر جنت پیش کی گئی اس میں چمک اور تروتازگی تھی۔ میں نے تمہارے پاس لانے کے لیے انگوروں کا ایک گچھا پکڑا تو میرے اس کے درمیان ایک چیز حائل کردی گئی ‘ اگر میں اس کو لے آتا تو اس کو آسمان اور زمین کے درمیان کھایا جاتا اور اس میں کچھ کمی نہیں ہوتی ‘ پھر میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی جب میں نے اس کی تپش دیکھی تو میں اس سے پیچھے ہٹا ‘ اور میں نے دوزخ میں ان عورتوں کو دیکھا جن کو کوئی راز بتایا جاتا تو وہ اس کو افشاء کر دیتیں ‘ ان سے سوال کیا جاتا تو وہ بخل کرتیں اور جب وہ خود سوال کرتیں تو گڑگڑا کر کرتیں اگر ان کو کچھ دیا جاتا تو وہ اس کا شکر ادا نہ کرتیں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ٣٥٣۔ ٣٥٢، مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی المتوفی ٣٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص کے گناہ گار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو ضائع کر دے (مکارم الاخلاق ج ٢ ص ٥٩٦‘ مطبوعہ دارالکتب المصریہ مصر ١٤١١ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابن آدم ! اگر تو خرچ کرے تو یہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو بخل کرے تو یہ تیرے لیے بدتر ہے اور قدر ضروری پر تجھے ملامت نہیں کی جائے گی ‘ اور اپنے اہل و عیال سے ابتداء کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ‘ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے : (صحیح مسلم ج ٢ ص ٧١٨‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ١٨١) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص مومن (کامل) نہیں ہے جو سیر ہو کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوک سے کروٹیں بدل رہاہو۔ (مستدرک ج ٤ ص ١٦٨‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ) 

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کا غلام اس کے پاس جائے اور اس سے کسی فالتو چیز کا سوال کرے اور وہ اس کو نہ دے تو قیامت کے دن وہ فالتو چیز جس سے اس نے منع کیا تھا ایک گنجا سانپ بن کر اس کو اپنے جبڑوں سے چبائے گی۔ (سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ١٧٩) 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) فرماتے تھے جب تم سیر ہو تو بھوکے کو یاد کرو اور جب تم غنی ہو تو فقراء کو یاد کرو۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ٢٣٦۔ ٢٢٤‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٠ ھ رقم الحدیث : ٣٣٩٣‘ ٣٣٩٠‘ ٣٣٨٩‘ ٣٣٨٦) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حجر بن بیان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے کسی رشتہ دار کے پاس جاکر اس سے کسی فاضل چیز کا سوال کرے جو اس کو اللہ نے دی ہے اور وہ اس کو دینے سے بخل کرے تو وہ چیز قیامت کے دن آگ کا سانپ بن کر اس کے گلے میں طوق بن جائے گی اور اس کو اپنے جبڑوں سے چبائے گی ‘ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ “ (آل عمران : ١٨٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ ایک سانپ ان (بخلاء) میں سے کسی ایک کے سر کو کھوکھلا کرے گا اور کہے گا میں تیرا وہ مال ہوں جس کے ساتھ تو نے بخل کیا تھا۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اس کا مال ایک سانپ کی شکل میں آئے گا اور اس کے سر کو کھوکھلا کرے گا اور کہے گا میں تیرا وہ مال ہوں جس کے ساتھ تو نے بخل کیا تھا پھر اس کی گردن پر لپٹ جائے گا۔ 

ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اپنے قرابت داروں کو اس کا حق دینے سے منع کرے جو اللہ نے اس کے مال میں ان کا حق رکھا ہے پھر اس مال کو سانپ بنا کر اس کے گلے میں طوق ڈال دیا جائے گا وہ شخص کہے گا تیرا مجھ سے کیا واسطہ ہے وہ سانپ کہے گا میں تیرا مال ہوں۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٢٨۔ ١٢٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : 

محمد بن یوسف فریابی متوفی ٢١٢ ھ (یہ امام احمد اور امام بخاری کے اصحاب میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں میں اپنے اصحاب کے ساتھ ابوسنان (رح) کی زیارت کے لیے گیا ‘ جب ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا چلو ہم اپنے پڑوسی کی تعزیت کے لیے جائیں اس کا بھائی فوت ہوچکا ہے جب ہم اس کے پاس پہنچے تو وہ اپنے بھائی پر زار و قطار رو رہا تھا ‘ ہم نے اس کو تسلی دی اور تعزیت کی لیکن اس کو قرار نہیں آیا ‘ ہم نے اس سے کہا تم کو معلوم ہے کہ موت سے کسی کو راستگاری نہیں ہے ‘ اس نے کہا یہ ٹھیک ہے میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے بھائی کو صبح وشام عذاب ہوتا ہے ‘ ہم نے کہا کیا تم کو اللہ نے غیب پر مطلع کردیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ! جب میں نے اس کو دفن کیا اور اس پر مٹی برابر کی ‘ اور لوگ چلے گئے تو میں اس کے پاس بیٹھ گیا اچانک میں نے یہ آواز سنی ‘ آہ انہوں نے مجھے اکیلے بٹھا دیا ہے اور میں عذاب برداشت کر رہا ہوں ‘ حالانکہ میں نماز پڑھتا تھا اور روزے رکھتا تھا مجھے اس کے کلام نے رلا دیا ‘ میں نے قبر سے مٹی کھود کر ہٹائی تاکہ اس کا حال دیکھوں ‘ اس وقت اس کی قبر آگ سے بھڑک رہی تھی ‘ اور اس کی گردن میں آگ کا طوق پڑا ہوا تھا ‘ بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر میں نے اس کی گردن سے طوق نکالنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میری انگلیاں اور ہاتھ جل گیا ‘ پھر اس نے ہمیں اپنا ہاتھ نکال کر دکھایا جو جل کر سیاہ ہوچکا تھا ‘ اس نے کہا میں نے قبر پر دوبارہ مٹی ڈال دی اور لوٹ آیا ‘ ہم نے پوچھا تمہارا بھائی دنیا میں کیا عمل کرتا تھا ؟ اس نے کہا وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا ‘ ہم نے کہا یہ آیت کی تصدیق ہے۔ ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتتہم اللہ من فضلہ ھو خیراللھم بل ھو شرلھم سیطوقون مابخلوا بہ یوم القیامۃ “۔ (آل عمران : ١٨٠) تمہارے بھائی کو قیامت کا عذاب قبر میں جلدی دے دیا گیا۔ (الکبائر ص ٤٠۔ ٣٩ مطبوعہ دارالفلا العربی قاہرہ والزواجر ج ١ ص ٣٣٢۔ ٣٣١) مطبوعہ دالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 180