رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا  ۖرَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ‌ۚ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 193

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِىۡ لِلۡاِيۡمَانِ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ فَاٰمَنَّا  ۖرَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ‌ۚ

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! بیشک ہم نے ایک منادی کو ایمان کی ندا کرتے ہوئے سنا کہ (اے لوگو) تم اپنے رب پر ایمان لے آؤ‘ سو ہم ایمان لے آئے ‘ اے ہمارے رب تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری خطاؤں کو مٹا دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ (آل عمران : ١٩٣) 

گناہوں کو بخشنے اور خطاؤں کے مٹانے میں تکرار کے جوابات :

اس آیت پر یہ اعتراض ہے کہ جن لوگوں نے کہا ہم ایمان لے آئے وہ تو پہلے ہی مسلمان تھے ‘ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ انہوں نے کہا ہم ایمان لے آئے اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں منادی سے مراد یا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں یا اس سے مراد قرؤن کریم ہے ‘ اس سے پہلی آیتوں میں ذکر کیا تھا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا ‘ اس آیت میں بتایا ہے کہ مسلمان اپنی دعا کی قبولیت کے لیے اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنا رہے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا قرآن مجید کی دعوت پر فورا ایمان لے آئے ‘ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرچند کہ وہ پہلے سے مسلمان تھے لیکن انسانی کمزوریوں کی وجہ سے جو خطائیں اور تقصیریں ہوجاتی ہیں ان کی بناء پر انہوں نے اپنے ایمان کو بہ منزلہ عدم ایمان قرار دے کر کہا کہ ہم اپنے رب پر ایمان لے آئے اس آیت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری خطاؤں کو مٹا دے ‘ بظاہر گناہوں کو بخشنے اور خطاؤں کے مٹانے کا ایک ہی معنی ہے اور ان جملوں کا ذکر کرنا تکرار ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ دوسرا جملہ تاکید کے طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ دعا میں سائل گڑگڑا کر دعا کرتا ہے اور اپنے مطلوب کا بار بار ذکر کرتا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ پچھلے جملہ سے مراد پچھلے گناہوں کی معافی طلب کرنا ہے اور دوسرا جملہ سے اس کے بعد ہونے والے گناہوں کی معافی طلب کرنا ہے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ پہلے جملہ سے مراد یہ ہے کہ توبہ سے ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور دوسرے جملہ سے مراد یہ ہے کہ ہماری نیکیوں سے ہماری برائیوں کو مٹا دے ‘ اور چوتھا جواب یہ ہے کہ پہلے جملہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو علم کے باوجود کیے اور دوسرے سے مراد وہ گناہ ہیں جو جہالت سے کئے۔ 

صالحین کے جوار اور قرب میں مدفون ہونے کی کوشش کرنا : 

اس کے بعد انہوں نے دعا کی : اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر ‘ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جب ہمیں موت آئے تو ہمارا عقیدہ نیک لوگوں کے مطابق ہو اور ہمارے اعمال نیک لوگوں کے مطابق ہوں ‘ اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ہمیں اس جگہ دفن کیا جائے جہاں نیک لوگوں کی قبریں ہوں اور نیک لوگوں کی معیت میں ہمیں موت آئے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کی طرف بھیجا گیا جب وہ ان کے پاس آیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ایک تھپڑمارا ‘ اس نے جا کر اپنے رب سے کہا تو نے مجھے ایسے بندہ کی طرف بھیجا ہے جو مرنے کا ارادہ (ہی) نہیں کرتا ‘ اللہ تعالیٰ نے عزرائیل کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا جاؤ ان سے کہو کہ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پشت کے اوپر رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے اس کے جتنے بال آئیں گے اتنے سال اس کی عمر کردی جائے گی ‘ انہوں نے کہا : اے رب ! پھر کیا ہوگا ؟ فرمایا موت ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تو پھر ابھی آجائے ‘ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی وہ ان کو بیت المقدس سے اتنی دور کر دے جتنی دور ایک پتھر پھینکنے سے جاتا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستہ کی ایک جانب کثیب احمر کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث ٣٢٢٦‘ ١٣٣٩‘ صحیح مسلم : رقم الحدیث : ٢٣٧٢‘ سنن نسائی ج ٤ ص ١١٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٦٩‘ ج ٢ ص ٣١٥‘ ج ٢ ص ٥٣٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ مبارک مقامات پر صالحین کی قبروں کے پاس میت کو دفن کرنا مستحب ہے (عمدۃ القاری ج ٨ ص ‘ ١٥٠ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

حرمین طیبین ‘ انبیاء (علیہم السلام) کے مزارات اور اولیاء اور شہداء کی قبروں کے پاس دفن کرنا تاکہ انکے جوار سے برکتیں حاصل ہوں اور ان پر جو رحمتیں نازل ہوتی ہیں ان کے بقیہ آثار ان پر نازل ہوں ‘ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کیا قتداء کی وجہ سے مستحب ہے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا اس لیے کی تھی کہ ان کو ان انبیاء (علیہم السلام) کا قرب مطلوب تھا جو بیت المقدس میں مدفون ہیں ‘ قاضی عیاض مالکی کی بھی یہی تحقیق ہے : (فتح الباری ج ٣ ص ٢٠٧ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن خلفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیت المقدس کے جوار میں دفن ہونا اس لیے پسند کیا تھا تاکہ آپ کو اس جگہ کی برکتیں حاصل ہوں ‘ اور جو صالحین وہاں مدفون ہیں ان کے قرب کی وجہ سے آپ کی فضیلت حاصل ہو ‘ اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ مبارک جگہوں اور صالحین کی قبروں کے پاس دفن ہونے میں رغبت کرنا چاہیے۔ (الکمال اکمال المعلم ج ٨ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس حدیث کی مکمل شرح ‘ شرح صحیح مسلم ج ٧ میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 193

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.