مِنۡ اَجۡلِ ذٰ لِكَ ‌ ۚكَتَبۡنَا عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ وَلَـقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَيِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فِى الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 32

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنۡ اَجۡلِ ذٰ لِكَ ‌ ۚكَتَبۡنَا عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ وَلَـقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَيِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ بَعۡدَ ذٰ لِكَ فِى الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اسی وجہ سے ہم نے بنو اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس شخص نے بغیر جان کے بدلہ کے یا زمین میں فساد پھیلانے کے لیے کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا ‘ اور جس نے کسی شخص کو مرنے سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا ‘ اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن معجزات لے کر آئے ‘ پھر اس کے باوجود ان میں سے بہت سے زمین میں یقینا حد سے بڑھنے والے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی وجہ سے ہم نے بنو اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس شخص نے بغیر جان کے بدلہ کے یا زمین میں فساد پھیلانے کے لیے کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا ‘ اور جس نے کسی شخص کو مرنے سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا ‘۔ (المائدہ : ٣٢) 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ قابیل اور ہابیل کے قصہ میں اور بنو اسرائیل پر قصاص کے وجوب میں کیا مناسبت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قابیل اور ہابیل کے قصہ سے یہ معلوم ہوا کہ قتل کے فعل میں اللہ تعالیٰ کی شدید نافرمانی اور اس کی ناراضگی ہے۔ نیز اس قصہ سے معلوم ہوا کہ قتل کرنے والا دوزخی ہے۔ نقصان اٹھانے والا ہے اور پچھتانے والا ہے ‘ تو چونکہ قتل کرنا ان خرابیوں کا سبب ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر قتل میں قصاص (بدلہ لینے) کو واجب کردیا ‘ تاکہ لوگ قتل کرنے سے باز رہیں۔ 

اس آیت پر دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ بنواسرائیل سے پہلی امتوں پر بھی قتل کرنا حرام تھا اور ان پر قصاص واجب تھا۔ پھر اس آیت میں بنو اسرائیل کا خصوصیت سے کیوں ذکر کیا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی امتوں میں ان کے انبیاء (علیہم السلام) زبانی وجوب قصاص کا ذکر فرماتے تھے اور بنو اسرائیل میں سب سے پہلے اس حکم کو کتاب میں نازل کیا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قابیل نے ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا اور بنو اسرائیل میں بھی حسد بہت زیادہ تھا ‘ اور انہوں نے بیشتر قتل حسد کی بناء پر کیے تھے جب۔ انہوں نے حسد کی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کیا ‘ اور دو مرتبہ آپ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ایک مرتبہ مدینہ میں جب آپ بنو قینقاع کے پاس ایک مسلمان کی دیت وصول کرنے کے سلسلہ میں گئے تھے ‘ اور دوسری مرتبہ خیبر میں جب ایک یہودی بڑھیا نے آپ کو زہر آلود گوشت کھانے کے لیے دیا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ عموما قتل کا سبب قساوت قلبی ‘ یعنی سنگ دلی اور عدوان اور سرکشی ہوتا ہے اور بنو اسرائیل میں یہ سبب بہ درجہ اتم موجود تھا ‘ حتی کہ انہوں نے متعدد انبیاء (علیہم السلام) کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ 

ایک انسان کو قتل کرنا تمام انسانوں کے قتل کے برابر کس طرح ہوگا ؟ 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جس نے بغیر قصاص یا بغیر زمین میں فساد کے قتل کیا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتل کرنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک وجہ قصاص ہے ‘ دوسری وجہ کسی کافر کا مسلمان سے جنگ کرنا ہے ‘ تیسری وجہ ارتداد ہے ‘ چوتھی وجہ شادی شدہ کا زنا کرنا ہے ‘ اور پانچویں وجہ زمین میں ڈاکہ ڈالنا ہے۔ پہلی وجہ کا اس آیت میں صراحتا ذکر ہے اور پانچویں وجہ یعنی ڈاکہ کا اس آیت کے بعد والے حصہ میں تفصیلی بیان آرہا ہے۔ باقی ماندہ تین وجوہات زمین میں فساد پھیلانے کے ضمن میں آگئیں۔ اس لیے فرمایا : جس نے بغیر قصاص یا بغیر زمین میں فساد پھیلانے کے قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔ 

اس آیت میں یہ سوال ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا تمام انسانوں کو قتل کرنے کے کیسے مساوی ہوسکتا ہے ؟ حتی کہ اس آیت میں ایک انسان کے قتل کو تمام انسانوں کے قتل کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ مقصود ہے کہ ایک بےقصور انسان کو عمدا قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے ‘ جتنا تمام انسانوں کو قتل کردینا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کو عمدا قتل کرنے کی سزا جہنم مقرر کی۔ اس پر اپنا غضب نازل کیا اور لعنت کی اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار کیا اور اگر کوئی شخص تمام انسانوں کو قتل کردیتا ‘ تب بھی اس کی یہی سزا ہوتی۔ نیز اگر تمام انسان کسی ایک بےقصور انسان کے قتل میں عمدا شریک ہوں تو ان سب کو قصاص میں قتل کردیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایک بےقصور انسان کو عمدا قتل کرنا اتنا سنگین جرم ہے تو تمام انسانوں کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ 

دوسرا جواب جو شخص کسی بےقصور انسان کو عمدا قتل کرتا ہے ‘ اس کی طیبعت پر غضب کا غلبہ ہے ‘ اور جو اپنے جوش غضب سے مغلوب ہو کر ایک شخص کو قتل کرسکتا ہے ‘ وہ اس کے بعد دوسرے شخص کو ‘ پھر تیسرے شخص کو بھی قتل کرسکتا ہے۔ اور اگر بالفرض اس کے لیے ممکن ہو تو وہ اپنے جوش غضب میں تمام انسانوں کو بھی قتل کرسکتا ہے۔ امریکہ کے ایک صدر کے فیصلہ نے ہر وشیما اور ناگا سا کی پر ایٹم بم گرائے تھے ‘ جس سے لاکھوں انسان ہلاک ہوگئے۔ اس طرح اب بھی اگر جوش غضب سے مغلوب ہونے والا کوئی امریکی صدر ہو تو اس کے پاس اب ایسے ایٹإ بم اور ہائیڈروجن بم ہیں جن سے پوری دنیا کو ہلاک اور تباہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک انسان کا تمام انسانوں کو ہلاک کرنا ممکن ہے۔ سو جو شخص جوش غضب سے مغلوب ہو کر ایک بےقصور انسان کو ہلاک کرسکتا ہے ‘ اگر اس کے بس میں ہو تو وہ تمام انسانوں کو بھی ہلاک کرسکتا ہے۔ 

پھر فرمایا : جس شخص نے ایک انسان کو مرنے سے بچا لیا ‘ اس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔ مثلا کوئی شخص آگ میں جل رہا تھا ‘ یا دریا میں ڈوب رہا تھا ‘ یا بھوک سے مر رہا تھا ‘ یا شدید سردی میں ٹھٹھر کر مرنے والا تھا اور کسی انسان نے اس کو اس مصیبت سے نکال کر اس کی جان بچالی ‘ تو اللہ کے نزدیک اس کی یہ نیکی اتنی عظیم ہے جیسے کسی شخص نے تمام انسانوں کو موت کے چنگل سے آزاد کرا لیا ہو۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں ڈاکے ڈالتے ہیں ان کی یہی سزا ہے کہ ان کو چن چن کر قتل کیا جائے یا ان کو سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ ایک جانب سے اور پیر دوسری جانب سے کاٹ دیے جائیں یا ان کو (اپنے وطن کی) زمین سے نکال دیا جائے ‘۔ 

شان نزول : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ آئے ‘ انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہیں آئی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقہ کی اونٹنیوں کی چراگاہ میں جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ‘ انہوں نے اسی طرح کیا اور تندرست ہوگئے۔ پھر انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں پر حملہ کیا اور ان کو قتل کردیا اور دین اسلام سے مرتد ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ لے کر بھاگ گئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیجا ‘ ان کو پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے ان کے ہاتھوں اور پیروں کو کٹوا دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں اور ان کو تپتے ہوئے میدان میں چھوڑ دیا ‘ حتی کہ وہ مرگئے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٧١‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٠١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٦٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٧٨‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٣۔ ١٠٧) 

امام رازی شافعی نے اسی آیت کی تفسیر میں چار قول ذکر کیے ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ یہ آیت عرینیین کے بارے میں نازل ہوئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ابو برزہ اسلمی کی قوم کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا ‘ لوگوں نے ان کو قتل کردیا اور ان کا مال لوٹ لیا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت بنو اسرائیل کے قاتلوں اور مفسدوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ اور چوتھا قول یہ ہے کہ یہ آیت مسلمان ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ اور اکثر فقہائے اسلام کا یہی نظریہ ہے اور اس کے ثبوت میں حسب ذلیل دلائل ہیں : 

(الف) مرتد کو قتل کرنا ‘ زمین میں فساد کرنے اور اللہ اور رسول سے جنگ کرنے پر موقوف نہیں ہے ‘ جبکہ اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص اللہ اور رسول سے جنگ کرے اور زمین میں فساد کرے ‘ اس کو قتل کیا جائے گا۔ 

(ب) مرتد کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے اور اس کو شہر بدر کرنے پر اقتصار کرنا کافی نہیں ہے ‘ جبکہ اس آیت کی رو سے یہ جائز ہے۔ 

(ج) مرتد کو سولی پر چڑھانا مشروع نہیں ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت مرتد کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ 

(د) اس آیت کا تقاضایہ ہے کہ جو لوگ بھی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہوں اور زمین میں فساد کرتے ہوں ‘ ان کو یہ سزائیں دی جائیں۔ خواہ وہ لوگ کافر ہوں یا مسلمان ‘ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ آیت کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ لیکن اہل علم سے مخفی نہیں کہ اعتبار عموم الفاظ کا ہوتا ہے ‘ خصوصیت مورد کا نہیں ہوتا۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣ ص ٣٩٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حرابہ (ڈاکہ) کا لغوی معنی : 

علامہ زبیدی لکھتے ہیں ‘ حرب کا معنی ہے جنگ۔ صلح کی ضد ‘ اور حرب کا معنی ہے کسی انسان کا سارا مال لوٹ لینا اور اس کو بالکل تہی دست چھوڑ دینا۔ (تاج العروس ‘ ج ٣‘ ص ٣٩٦) 

ڈاکہ کی اصطلاحی تعریف : 

ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں ‘ باغیوں اور محاربین (ڈاکوؤں) میں فرق یہ ہے کہ باغی کسی تاویل سے حکومت کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور ڈاکو بغیر کسی تاویل کے قتل اور غارت گری کرتے ہیں۔ 

فقہاء احناف نے حرابہ (ڈاکہ) کی تعریف کو سرقہ (چوری) کی تعریف کے ساتھ لاحق کردیا ہے۔ کیونکہ ڈاکہ بڑی چوری ہے ‘ مگر یہ مطلقا چوری نہیں ہے ‘ کیونکہ خفیہ طریقہ سے کسی چیز کو لینا چوری کہلاتا ہے۔ چور ‘ محافظ ‘ امام یا مالک سے چھپ کر کوئی چیز لیتا ہے اور ڈاکو اعلانیہ مار دھاڑ کر کے لوٹتا ہے ‘ اس لیے ڈاکہ کا ضرر چوری سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ سے کہ ڈاکہ کی سزا بھی چوری سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ 

ڈاکو (قاطع الطریق یا محارب) ہر وہ مسلمان یا ذمی شخص ہے جس کی جان ڈاکہ ڈالنے سے پہلے محفوظ اور مامون ہو اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے قتل کیا اور مال لوٹا اس پر حد قائم کرنا واجب ہے اور ولی مقتول کے معاف کردینے اور لوٹا ہوا مال واپس کردینے سے اس کی حدساقط نہیں ہوگی اور ڈاکہ ہر اس فعل کو کہتے ہیں ‘ جس میں اس طریقہ سے مال کو لوٹا جائے کہ عادتا اس مال کو بچانا مشکل ہو۔ (الفقہ الاسلامی واداتہ ‘ ج ٦ ص ١٢٩۔ ١٢٨) 

ڈاکہ کا رکن : 

ملک العلماء علامہ کا سانی حنفی لکھتے ہیں کہ ڈاکہ کا رکن یہ ہے کہ کوئی شخص غلبہ سے مسافروں کا مال لوٹنے کے لیے اس طرح نکلے کہ مسافروں کا اس راستہ پر سفر کرنا مشکل ہوجائے۔ خواہ ڈاکہ ڈالنے والا ایک فرد ہو یا جماعت ‘ جبکہ ڈاکو کے پاس ڈاکہ ڈالنے کی قوت ہو ‘ خواہ اس کے پاس ہتھیار ہوں یا لاٹھی یا اینٹ یا پتھر ہوں ‘ کیونکہ ان میں سے ہر چیز کے ساتھ ڈاکہ ڈالا جاسکتا ہے ‘ خواہ سب حملہ کریں یا بعض حملہ کریں اور بعض معاون ہوں۔ 

اس سے معلوم ہوگیا کہ ڈاکو اس فرد یا گروہ کو کہتے ہیں جس کے پاس ایسی قوت ہو جس کا مقابلہ کرنا مسافروں کے لیے مشکل ہو ‘ اور وہ اپنی قوت سے مسافروں کا مال لوٹنے کا قصد کریں۔ (بدائع الصناء ‘ ج ٧‘ ص ٩٠) 

ڈاکہ کی شرائط : 

ملک العلماء علامہ کاسانی حنفی نے ڈاکہ کی حسب ذیل شرائط بیان کی ہیں : 

(١) ڈاکہ ڈالنے والاعاقل اور بالغ ہو۔ اگر وہ بچہ یا مجنون ہے تو اس سے حد ساقط ہوجائے گی۔ 

(٢) ڈاکو مرد ہو ‘ اگر عورت نے ڈاکہ ڈالا ہے تو اس پر حد نہیں ہے ‘ لیکن امام طحاوی کے نزدیک اس میں عورت اور مرد برابر ہیں ‘ اور دونوں پر حد ہوگی۔ روایت مشہورہ کی وجہ یہ ہے کہ غلبہ سے مال کوٹنا عادتا عورتوں سے متصور نہیں ہے ‘ اور امام طحاوی کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح باقی حدو ود میں مردوں کی تخصیص نہیں ہے ‘ عورتوں پر بھی حد جاری ہوتی ہے۔ اسی طرح ڈاکہ میں بھی مردوں کی تخصیص نہیں ہوگی۔ 

(٣) جن پر ڈاکہ ڈالا ہے ‘ وہ مسلمان یا ذمی ہوں ‘ اگر ان غیر مسلموں پر ڈاکہ ڈالا ہے جو پاسپورٹ کے ذریعہ دارالسلام میں آئے ہوں تو ڈاکوؤں پر حد نہیں ہے (بلکہ تعزیر ہے) 

(٤) جن پر ڈاکہ ڈالا وہ ڈاکوؤں کے محرم نہ ہوں۔ 

(٥) جس چیز پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے وہ قیمت والا مال ہو اور محفوظ ہو ‘ اس میں کسی اور کا حق نہ ہو ‘ نہ اس میں لینے کی کوئی تاویل ہو اور نہ تاویل کا کوئی شبہ ہو ‘ نہ اس میں ڈاکو کی ملکیت ہو نہ ملکیت کی تاویل یا شبہ ہو اور وہ مال دس درہم کی مالیت سے کم نہ وہ (یعنی ٢٥، ٢ تولہ چاندی ہو جو ٦١٨، ٣ گرام چاندی کے برابر ہے) اگر متعدد ڈاکو ہوں تو ہر ڈاکو کے حصہ دس درہم کی مالیت کا مال ہو اور ہر ڈاکو کے حصہ میں اتنا مال نہ آئے تو حد واجب نہیں ہوگی۔ 

(٦) جس جگہ ڈاکہ ڈالا گیا ‘ وہ جگہ دارالاسلام ہو ‘ اگر دار الحرب میں ڈاکہ ڈالا ہے تو واجب نہیں ہوگی۔ کیونکہ حد کو حاکم اسلام جاری کرتا ہے اور دارالحرب حاکم اسلام کی ولایت اور تصرف میں نہیں ہے اس لیے وہ دارالحرب میں حد جاری کرنے پر قادر نہیں ہے۔ (علامہ کا سانی نے جو وجہ بیان کی ہے ‘ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ دارالحرب میں جاکر ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کریں ‘ اور یہ کہ ناجائز طریق سے کفار کا مال لینا بہرحال گناہ ہے خواہ ان کا مال سود کے ذریعہ لیں یا قمار کے یا رشوت کے۔ (سعیدی غفرلہ) 

(٧) جس جگہ ڈاکہ ڈالا گیا ہے ‘ وہ جگہ شہر نہ ہو۔ اگر کسی نے شہر میں ڈاکہ ڈالا ہے تو اس پر حد واجب نہیں ہوگی۔ خواہ دن میں ڈاکہ ڈالا ہو یا رات میں اور خواہ ہتھیاروں کے ذریعہ ڈاکہ ڈالا ہو یا بغیر ہتھیاروں کے ‘ یہ استحسان ہے اور یہی امام حنیفہ اور امام محمد کا قول ہے اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ شہر میں ڈاکہ ڈالنے سے بھی حد واجب ہوگی اور یہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ قیاس کی وجہ یہ ہے کہ حد واجب ہونے کا سبب ڈاکہ اور جب ڈاکہ ثابت ہوگیا تو حد واجب ہوگی۔ خواہ شہر میں ڈاکہ ڈالا ہو اور استحسان کی وجہ یہ ہے قطع الطریق (ڈاکہ) سفر میں ہی متحقق ہوسکتا ہے۔ شہر میں راستے منقطع نہیں ہوتے کیونکہ اگر شہر میں ڈاکہ پڑے تو اس سے راستے منقطع نہیں ہوتے۔ ایک قول یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نے غیر شہر کی قید اپنے زمانہ کے اعتبار سے لگائی ہے کیونکہ اس زمانہ میں شہر والے ہتھیاروں سے مسلح رہتے تھے ‘ اس لیے ڈاکوؤں کو شہر میں ڈاکہ ڈالنے کی قدرت نہیں تھی اور اب شہر کے لوگوں نے ہتھیار رکھنے کی عادت چھوڑ دی ہے۔ اس لیے اب شہر میں ڈاکہ ڈالنے سے بھی حد واجب ہوگی۔ (رض) اجمعین 

(٨) جس جگہ ڈاکہ ڈالا ہے اس جگہ اور شہر کی درمیان مسافت سفر ہو (یعنی اکسٹھ میل چھ سول چالیس گز) یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول پر شرط ہے۔ امام ابو یوسف کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے۔ 

ڈاکہ کے جرم کی تفصیل : 

ڈاکو کی سزاؤں میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ آیا یہ سزائیں جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں یا یہ قاضی کی صوابدید پر موقوف ہیں ‘ ڈاکو کے جرم کے اختلاف کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 

(١) صرف لوگوں یا مسافروں کو ڈرانا اور دھمکانا کسی کو قتل کرنا ‘ نہ مال لوٹنا۔ 

(٢) صرف مال لوٹنا۔ 

(٣) صرف قتل کرنا۔ 

(٤) مال لوٹنا اور قتل کرنا۔ 

ان میں سے ہر جرم کی ائمہ کے نزدیک ایک الگ سزا ہے۔ امام مالک کا نظریہ یہ ہے کہ اگر ڈاکو نے قتل نہیں کیا ہے تو قاضی قتل اور پھانسی کی سزا میں سے کوئی بھی سزا اپنے اجتہاد سے دے سکتا ہے۔ اس کی سزا قتل بھی ہوسکتی ہے اور قتل اور پھانسی بھی ہوسکتی ہے۔ ان سزاؤں میں قاضی کو اختیار ہے اور باقی سزاؤں میں اس کو اختیار نہیں ہے۔ اور غیر مقلدین کا یہ نظریہ ہے کہ ڈاکو کا جو بھی جرم ہو ‘ قرآن مجید کی بیان کردہ سزاؤں میں سے قاضی اپنے اجتہاد سے کوئی بھی سزا دے سکتا ہے۔ 

مذاہب اربعہ کی روشنی میں ڈاکو کے صرف ڈرانے کی سزا : 

جب ڈاکو صرف ڈرائے اور دھمکائے ‘ نہ مال لوٹے اور نہ قتل کرے تو امام احمد وغیرہ کے نزدیک اس کی سزا شہر بدر کرنا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” اوینفوا من الارض “ یا ان کو شہر بدر کردیا جائے “ 

علامہ موفق الدین ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں جب ڈاکو راستہ میں ڈرائیں اور دھمکائیں نہ قتل کریں اور نہ مال لوٹیں تو ان کو زمین سے نکال دیا جائے گا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” اوینفوا من الارض “ (مائدہ : ٣٦) اس حالت میں جلا وطن کرنا حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور یہی نخعی ‘ قتادہ اور عطاء خراسانی کا قول ہے اور زمین سے نکالنے کا معنی یہ ہے کہ ان کو تمام شہروں اور قصبوں سے نکال دیا جائے اور ان کے لیے کسی شہر میں رہنے کا ٹھکانا نہ ہو ‘ اس طرح کی تفسیر حسن اور زہری سے مروی ہے اور حضرت ابن عباس (رض) یہ اس کو ایک شہر سے دوسرے شہر میں بھیج دیا جائے جس طرح زانی کو شہر بدر کیا جاتا ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ امام مالک کا قول یہ ہے کہ جس شہر میں اس کو بھیجا جائے ‘ اس میں اس کو قید کردیا جائے۔ جس طرح زانی کے متعلق ان کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا اس کو زمین سے نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو قید کرلیا جائے حتی کہ وہ توبہ کرے۔ امام شافعی کا بھی اسی قسم کا قول ہے۔ کیونکہ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں امام اس کو تعزیز لگائے اور اگر اس کی رائے ڈاکو کو قید کرنا ہو تو اس کو قید کر دے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ نفی کا معنی یہ ہے کہ امام ڈاکوؤں پر حدود جاری کرنے کے لیے ان کو طلب کرے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت ہے۔ ابن شریح نے کہا ڈاکوؤں کو ان کے شہر کے علاوہ کسی اور شہر میں قید کر دے۔ یہ قول امام مالک کے قول کی مثل ہے اور یہ زیادہ بہتر ہے ‘ کیونکہ اگر ان کو کسی اور شہر میں بھیجیں گے تو وہ وہاں جاکر ڈاکہ ڈالیں گے اور لوگوں کو ایذاء پہنچائیں گے۔ ان لیے ان کو قید کرنا بہتر ہے۔ 

نیز علامہ موفق الدین ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں ” ہماری دلیل ظاہر آیت ہے کیونکہ نفی کا معنی نکالنا ‘ دور کرنا اور بھگانا ہے اور قید کا معنی روکنا ہے۔ اگر ان کو کسی غیر معین جگہ کی طرف نکال دیا جائے تو اس کی دلیل ‘(آیت) ” اوینفوا من الارض “ (مائدہ : ٣٦) کیونکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ان کو تمام زمینوں سے نکال دیا جائے ‘ باقی ہمارے اصحاب نے یہ نہیں لکھا کہ اسے کتنی مدت کے لیے شہر بدر کیا جائے ؟ تاہم اس کو اتنی مدت کے شہر بدر کرنا چاہیے جس میں اس کی توبہ ظاہر ہوجائے اور اس کا چال چلن ٹھیک ہوجائے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ایک سال کے لے شہر بدر کیا جائے۔ (المغنی مع الشرح الکبیر ‘ ج ١٠ ص ٣٠٨۔ ٣٠٧) 

علامہ ابوبکر رازی جصاص حنفی اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ‘ زمین سے نکالنے کی تین صورتیں ہیں۔ 

ایک یہ کہ ڈاکو کو تمام زمینوں سے نکال دیا جائے۔ 

دوسری یہ کہ جس شہر میں اس نے ڈاکہ ڈالا ہو وہاں سے نکال دیاجائے۔ 

تیسری صورت یہ ہے کہ اس کو دارالاسلام سے نکال دیا جائے۔ 

پہلی صورت مراد لینا اس لیے صحیح نہیں ہے کہ تمام زمینوں سے نکال دینا اسی صورت میں متصور ہوسکتا ہے جب اس کو قتل کردیا جائے اور قتل کرنے کا ذکر اس آیت میں پہلے آچکا ہے۔ دوسری صورت اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اگر ڈاکو کو دوسرے شہر کی طرف نکالیں گے تو وہ وہاں جا کر ڈاکے ڈالے گا ‘ اور لوگوں کو ضرر پہنچائے گا ‘ اور تیسری صورت اس لیے صحیح نہیں ہے کہ مسلمانوں کو دارالحرب میں بھیجنا صحیح نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں نفی من الارض کا معنی یہ ہے کہ اس کو تمام زمینوں سے نکال کر اس زمین میں رکھا جائے جس میں اس کو قید کیا جائے جہاں پر اس کا فساد کرنا متصور نہ ہو۔ (احکام القرآن ‘ ج ٢ ص ٤١٢) 

شمس الائمہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں کہ جب ڈاکو صرف راستہ میں ڈرائیں اور دھمکائیں ‘ نہ قتل کریں اور نہ مال لوٹیں تو ان کو تعزیر لگانے کے بعد اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں ‘ اور اللہ کے قول (آیت) ” اوینفوا من الارض “ سے بھی یہی مراد ہے۔ یعنی ان کو قید کرلیا جائے۔ اس کو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ (علامہ سرخسی نے پہلے یہ بیان کیا ہے کہ جس شخص نے قتل کیا ‘ نہ مال لوٹا صرف ڈرایا اور دھمکایا اس نے معصیت کا ارادہ کیا اور قتل کرنا ‘ ہاتھ پیر کاٹنا ‘ انتہائی سزائیں ہیں اور جس شخص نے معصیت کا صرف ارادہ کیا ہو اس کو یہ سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ جس طرح چوری میں چوری کا صرف ارادہ کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جاتا۔ اسی طرح یہاں بھی صرف ڈرانے کی وجہ سے اس کے ہاتھ پیر نہیں کاٹے جائیں گے۔ (مبسوط للسرخسی ‘ ج ٩‘ ص ١٩٥) اور یہ امام شافعی کی تفسیر سے بہتر ہے۔ یعنی ان کو طلب کرنا تاکہ ان کو ہر جگہ سے بھگا دیا جائے ‘ کیونکہ قید کرکے سزا دینے کی شریعت میں نظیر ہے اور جس چیز کی شریعت میں نظیر ہو ‘ اس پر عمل کرنا اس کی بہ نسبت بہتر ہے جس کسی شریعت میں نظیر نہ ہو۔ (المبسوط ‘ ج ٩‘ ص ١٩٩) 

اگر ڈاکو نے صرف مال لوٹا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ڈاکو ہاتھ اور پیرمخالف جانب سے کاٹ دیا جائے گا۔ یعنی سیدھا ہاتھ اور الٹا پیر ‘ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اگر اس کا ایک ہاتھ اور ایک پیر پہلے کٹا ہوا تھا تو اب اس کا ہاتھ اور پیر نہیں کاٹا جائے گا ‘ بلکہ اس کو تعزیرا قید کیا جائے گا اور اگر اس کا پہلے ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا تو اب صرف پیر کاٹا جائے گا اور اگر پہلے ایک پیر کٹا ہوا تھا تو اب صرف ہاتھ کاٹا جائے گا۔ یہ حکم امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک ہے اور امام مالک کے نزدیک اس صورت میں امام کو اختیار ہے کہ وہ ڈاکو کو قتل کر دے یا سولی دے۔ یا مخالف جانب سے اس کے ہاتھ اور پیر کاٹ دے۔ البتہ اس صورت میں اس کو شہر بدر کرنے یا قید کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ 

امام شافعی کے نزدیک بھی دوبارہ ڈاکہ ڈالنے پر اس کے بقیہ ہاتھ اور پیر کو کاٹ دیا جائے گا۔ 

قاضی ابن رشد مالکی لکھتے ہیں کہ جب ڈاکو مال لوٹے اور قتل نہ کرے تو امام کو اسے قید یا شہر بدر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ البتہ اس کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس کو قتل کرے یا سولی دے یا مخالف جانب سے اس کے ہاتھ اور پیر کاٹ دے۔ 

علامہ سحنون مالکی لکھتے ہیں کہ امام ابن قاسم نے کہا ہے کہ امام مالک نے فرمایا : کہ جس ڈاکو کا ایک ہاتھ اور پیر کا ٹا جا چکا ہے ‘ اور وہ دوبارہ ڈاکہ ڈالے توا مام کو اختیار ہے کہ وہ اس کا دوسرا ہاتھ اور پیر بھی کاٹ دے۔ (بدایہ المجتہد ‘ ج ٢ ٣٤١) 

ملک العلماء علامہ کا سانی حنفی لکھتے ہیں ” جس ڈاکو نے مال لیا ہو اور قتل نہ کیا ہو ‘ اس کا ہاتھ اور پیر مخالف جانب سے کاٹ دیا جائے گا “۔ (بدائع الصنائع ‘ ج ٧‘ ص ٩٣) 

علامہ یحی بن شرف نووی شافعی لکھتے ہیں ” اگر ڈاکو نے چوری کے نصاب کے مطابق مال لیا ہو تو اس کا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دیا جائے گا اور اگر وہ دوبارہ ڈاکہ ڈالے تو اس کا بایاں ہاتھ اور دایاں پیر کاٹ دیا جائے گا اور اگر نصاب سے کم مال لیا تو اس کے ہاتھ اور پیر کاٹ دے ‘ پھر اس جگہ کو داغ نہ لگائے یونہی چھوڑ دے ‘ حتی کہ وہ مرجائے۔ (بدائع الصنائع ‘ ج ٧‘ ص ٩٣) 

علامہ ابو الحسن مرغینانی حنفی لکھتے ہیں کہ امام محمد نے یہ کہا ہے کہ ڈاکو کو قتل کیا جائے یا سولی دی جائے اور اس کا ہاتھ اور پیر نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ یہ ایک جرم ہے ‘ اس سے دو حدیں واجب نہیں ہوں گی۔ نیز قتل سے کم سز قتل میں داخل ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ حد سرقہ ‘ حد رجم میں داخل ہوجاتی ہے۔ (مثلا کسی نے چوری بھی کی ہو اور زنا بھی کیا ہو تو اس کو سرف رجم کیا جائے گا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ سعیدی غفرلہ) امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ ہاتھ اور پیر کاٹنا اور قتل کرنا ایک سزا ہے ‘ اور چونکہ ڈاکہ کا جرم زیادہ ہے ‘ اس لیے اس کی سزا بھی زیادہ ہے ‘ کیونکہ جو ڈاکو لوگوں کو قتل کرتا ہے اور ان کا مال لوٹتا ہے ‘ وہ امن میں خلل ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکہ میں ہاتھ اور پیر دونوں کاٹنا ایک حد ہے جبکہ چوری میں دونوں کاٹنا دو سزائیں ہیں ‘ اور امام محمد نے جو حد رجم اور حد سرقہ کی مثال دی ہے ‘ وہاں دو حدوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا گیا ہے ‘ اور یہاں ایک حد میں بحث ہو رہی ہے۔ امام ابو یوسف سے ایک روایت یہ ہے کہ سولی میں اختیار نہیں ہے ‘ اس کو ترک نہ کیا جائے ‘ کیونکہ اس کی قرآن مجید میں تصریح ہے اور مقصود یہ ہے یہ اس سزا کو شہرت دی جائے ‘ تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں اور امام ابوحنیفہ کی جانب سے جواب یہ ہے کہ اصل شہرت قتل سے حاصل ہوجاتی ہے اور سولی پر چڑھانے میں مبالغہ ہے ‘ لہذا اس میں اختیار دیا جائے گا۔ (یدایہ اولین ‘ ص ٥٣٦) 

علامہ سحنون مالکی لکھتے ہیں میں نے امام ابن قاسم مالکی سے پوچھا اگر ڈاکو قتل کرے اور مال لے ‘ تو کیا اس کا ہاتھ اور پیر کاٹا جائے گا ‘ اور اس کو قتل کیا جائے گا ‘ یا اس کو صرف قتل کیا جائے گا ‘ اور اس کا ہاتھ اور پیر نہیں کاٹا جائے گا ؟ اس میں امام مالک کا کیا قول ہے ؟ امام ابن قاسم نے فرمایا اس کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا۔ (خواہ قاضی کی رائے میں اس کا ہاتھ اور پیر کاٹنا ضروری ہو یا نہ ہو) (المدونۃ الکبری ‘ ج ٤‘ ص ٤٢٩) 

علامہ یحی بن شرف نووی شافعی لکھتے ہیں اگر ڈاکو نے قتل کیا اور مال لیا تو اس کو قتل کیا جائے گا اور اس کو سولی دی جائے گی اور یہ اس وقت ہے جب مال نصار کے برابر ہو اور مذہب یہی ہے۔ ابن سلمہ کا قول یہ ہے کہ اس کا ہاتھ اور پیر کاٹا جائے گا اور قتل کیا جائے اور اس کو سولی دی جائے گی اور صاحب تقریب نے کہا کہ اس کا ہاتھ اور پیر کاٹا جائے گا اور قتل کیا جائے گا اور سولی نہیں دی جائے گی۔ (روضۃ الطالبین ‘ ج ١٠‘ ص ١٥٧۔ ١٥٦) 

علامہ ابو القاسم خرقی حنبلی لکھتے ہیں : جس ڈاکو نے قتل کیا اور مال لیا اس کو قتل کیا جائے گا۔ خواہ صاحب مال معاف کر دے اور اس کو سولی دی جائے گی ‘ حتی کہ اس کی شہرت ہوجائے اور اس کی لاش ڈاکوؤں کے حوالے کردی جائے گی۔ (المقنع مع المغنی والشرح ‘ ج ٠ ا ‘ ص ٢٩٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 32

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.