يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ الۡوَسِيۡلَةَ وَجَاهِدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِهٖ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابۡتَغُوۡۤا اِلَيۡهِ الۡوَسِيۡلَةَ وَجَاهِدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِهٖ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی بارگاہ میں (نجات کا) وسیلہ تلاش کرو ‘ اور اس کی راہ میں جہاد کرو ‘ تاکہ تم کامیاب ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی بارگاہ میں (نجات کا) وسیلہ تلاش کرو۔ (المائدہ : ٣٥) 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس سے پہلے متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سرکشی اور عناد اور اللہ کی نافرمانی کرنے پر ان کی جسارت اور دیدہ دلیری کو بیان فرمایا تھا ‘ اور اللہ کی اطاعت اور عبادت کرنے سے ان کے بعد اور دوری کا ذکر فرمایا تھا۔ اللہ کے قرب کا وسیلہ اور ذریعہ اس کے خوف سے گناہوں کا ترک کرنا اور عبادات کا بجا لانا ہے ‘ یہود نے اس وسیلہ کو حاصل نہیں کیا تھا۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا کہ تمہارا طریقہ یہود کے برعکس ہونا چاہیے ‘ تم اللہ کے خوف سے گناہوں کو ترک کرکے اور اس کی اطاعت اور عبادات کر کے اس کے قرب کا وسیلہ تلاش کرو۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے ذکر فرمایا تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور اپنے باپ دادا کے اعمال پر فخر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا کہ تمہیں اپنے اکابر اور اسلاف پر فخر کرنے کے بجائے نیک اعمال میں کوشش کرنی چاہیے ‘ اور عبادات کے ذریعہ اس کے قرب اور نجات کے وسیلہ کو تلاش کرنا چاہیے۔ 

تیسری وجہ یہ ہے کہ اس سے متصل آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ اللہ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے ‘ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ رہنمائی فرمائی ہے کہ قبولیت توبہ کے لیے اس کی بارگارہ میں وسیلہ تلاش کرو۔ 

وسیلہ بہ معنی ذریعہ تقرب : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

کسی چیز کی طرف رغبت سے پہنچنا وسیلہ ہے اور اللہ کی طرف وسیلہ کی حیققت یہ ہے کہ علم اور عبادت کے ساتھ اسکے راستہ کی رعایت کرنا ‘ اور شریعت پر عمل کرنا اور اللہ کا وسیلہ اللہ کا قرب ہے۔ (المفردات ص ٥٢٤۔ ٥٢٣“ مطبوعہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ ابن محمد بن مکرم بن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام لغت علامہ جوہری نے کہا ہے کہ جس چیز سے غیر کا تقرب حاصل کیا جائے ‘ وہ وسیلہ ہے۔ (صحاح جوہری ‘ ج ٥ ص ١٨٤١‘ لسان العرب ‘ ج ١١ ص ٧٢٥۔ ٧٢٤‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ) 

انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کے وسیلہ سے دعا کا جواز : 

امام محمد بن جزری متوفی ٨٣٣ ھ آداب دعا میں لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی بارے میں انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کا وسیلہ پیش کرے۔ (حصن حصین معہ تحفہ الذاکرین ‘ ص ٣٤‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ) 

شیخ ابو العباس تقی الدین احمد بن تیمیہ متوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا یہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے فلاں کے حق اور فلاں فرشتے اور انبیاء اور صالحین وغیرھم کے حق میں سوال کرتا ہوں یا فلاں کی حرمت اور فلاں کی وجاہت کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں تو اس دعا کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت ہو اور یہ دعا صحیح ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت اور حرمت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی قدر افزائی کرے اور جب یہ شفاعت کریں تو ان کی شفاعت قبول کرے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی اس سے شفاعت کرسکتا ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ‘ ج ١ ص ٢١١‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز) 

شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ١٢٥٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ پر سائلین کے حق سے مراد یہ ہو ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ وعدہ فرمایا ہے ‘ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ (تحفۃ الذاکرین ‘ ص ٦٩‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ) 

امام ابو حاتم محمد بن حبان متوفی ٣٥٤ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چھ (قسم کے) آدمیوں پر میں نے لعنت کی ہے ‘ اور ان پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ہر نبی کی دعا قبول کی جائے گی۔ (الحدیث) (صحیح ابن حبان ‘ ج ١٣ رقم الحدیث : ٥٧٤٩‘ حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے اور میرے علم میں اس کی کوئی علت نہیں ہے اور ذہبی نے اس کو برقرار رکھا۔ المستدرک ‘ ج ١ ص ٣٦‘ ج ٢‘ ص ٥٢٥‘ ج ٤ ص ٩٠‘ الجامع الکبیر ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨٥‘ ١٢٩٢١‘ المعجم الاوسط ‘ للطبرانی ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٦٨٨۔ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور امام ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٢٠٥‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١٧‘ ص ٤٣‘ مواردالظمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢) 

اس صحیح حدیث میں یہ تصریح ہے کہ ہر نبی مستجاب الدعوات ہے : 

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی وجاہت ‘ ان کی حرمت اور اس کے حق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو اپنی بارگاہ میں یہ عزت عطا فرمائی ہے کہ وہ ان کے سوال اور ان کی دعا کو مسترد نہیں فرماتا ‘ ہرچند کہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ ان کی دعا کو مسترد فرما دے ‘ لیکن ایسا کرنا ان کی دی ہوئی عزت اور وجاہت کے خلاف ہے۔ ان کا اللہ پر حق ہے ‘ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ جیسے اجیر کا آجر پر حق ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ان کی دعا کو قبول کرنے کا جو وعدہ فرما لیا ہے ‘ اس وعدہ کی جہت سے ان کا حق ہے ‘ فی ذاتہ کوئی استحقاق نہیں ہے ‘ یا حق بمعنی وجاہت اور حرمت ہے استحقاق کے معنی میں ہے۔ 

اس پر ایک دلیل مذکور الصدر حدیث ہے اور دوسری دلیل یہ حدیث ہے : 

امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ جب بندہ فرائض ادا کرکے نوافل کو ہمیشہ پڑھتا ہے تو اللہ اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور جب وہ اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ اس کے کان ہوجاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے ‘ اس کی آنکھیں ہوجاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے ‘ اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر ہوجاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور فرماتا ہے اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اس کو اپنی پناہ میں لوں گا۔ (الحدیث) (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٠٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ ‘ مختصر تاریخ دمشق ‘ ج ٤‘ ص ١٠٤‘ مسند احمد بتحقیق ‘ احمد شاکر ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٧١‘ مسند ابویعلی ‘ ٧٠٨٧‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ رقم الحدیث : ٣٤٧‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٢٦٩‘ المطالب العالیہ ‘ ج ١‘ ص ١٣٩) اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر ولی اور نبی سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کی دعا ضرور قبول فرمائے گا اور ان کی دعا رد نہیں فرمائے گا اور ان کا اللہ پر یہی حق ہے ‘ اور یہی ان کی اللہ کی بارگاہ میں وجاہت اور حرمت ہے۔ اس لیے انبیاء اور اولیاء کے وسیلہ سے دعا کرنا ‘ یا ان سے دعا کرنے کی درخواست کرنا صحیح ہے اور اب ہم اس سلسلہ میں احادیث پیش کریں گے۔ 

انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام کے وسیلہ سے دعا کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر بن الخطاب (رض) حضرت المطلب (رض) کے وسیلہ سے بارش کی دعا کرتے اور یہ عرض کرتے ‘ اے اللہ ہم اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برساتا تھا (اب) ہم اپنے نبی کے عم (محترم) کو تیری طرف وسیلہ پیش کرتے ہیں ‘ تو تو ہم پر بارش نازل فرما۔ حضرت انس نے کہا پھر لوگوں پر بارش ہوتی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٠١٠‘ مطبوعہ دارالکتب ‘ العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ ‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٨٤‘ کتاب الدعاء للطبرانی ‘ رقم الحدیث : ٩٦٥‘ شرح السنہ للبغوی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١١٦٠) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ‘ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ‘ آپ سے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے ٹھیک کر دے۔ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں اور اگر تم چاہو تو میں اس کو مؤخر کر دوں اور یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اس نے کہا آپ دعا کر دیجئے ‘ آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح سے وضو کرے ‘ پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا کرے ‘ ” اے اللہ ! میں تیرے نبی (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی رحمت کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں ‘ اے محمد ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنی اس حاجت میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ تاکہ میری حاجت پوری ہو ‘ اے اللہ میرے متعلق آپ کی شفاعت قبول فرما۔ (امام ابن ماجہ نے لکھا ہے کہ ابو اسحاق نے کہا ‘ یہ حدیث صحیح ہے) 

علامہ احمد شاکر متوی ١٣٧٧ ھ نے لکھا ہے اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٧١٧٥‘ ١٧١٧٤‘ طبع قاہرہ ‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٨٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٨٥‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٤٩٦‘ عمل الیوم واللیلہ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٦٤‘ عمل الیوم والیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٣٣‘ المستدرک ج ١‘ ص ٥١٩‘ دلائل النبوۃ ‘ ج ٦‘ ص ١٦٧‘ امام طبرانی نے اس حدیث کو روایت کر کے لکھا ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ المعجم الصغیر ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٨‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣١١‘ حافظ منذری نے لکھا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ الترغیب والترہیب ‘ ج ١‘ ص ٤٧٦۔ ٤٧٤‘ حافظ الہیثمی نے بھی لکھا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٢ ص ٢٧٦‘ مختصر تاریخ دمشق ‘ ج ٣ ص ٣٠٤) 

شیخ ابن تیمیہ ‘ قاضی شوکانی ‘ علامہ نووی اور امام محمد جزری وغیرھم نے امام ترمذی کے حوالے سے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اور اس میں یا محمد کے الفاظ ہیں ‘ لیکن ہمیں جو ترمذی کے پاکستانی اور بیروت کے نسخے دستیاب ہیں ‘ ان میں یا محمد کے الفاظ نہیں ہیں۔ سنن ترمذی کے علاوہ ہم نے باقی جن کتب حدیث کے حوالے دیئے ہیں ‘ ان سب میں یا محمد کے الفاظ ہیں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے گھر سے نماز پڑھنے کے لیے نکلا اور اس نے یہ دعا کی ‘ اے اللہ ! تجھ پر سائلین کا جو حق ہے میں اس کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ اور میرے اس (نماز کے لیے) جانے کا جو حق ہے اس کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ کیونکہ میں بغیر اکڑنے اور اترانے اور بغیر دکھانے اور سنانے کے (محض) تیری ناراضگی کے ڈر اور تیری رضا کی طلب میں نکلا ہوں ‘ سو میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو جہنم میں سے مجھے اپنی پناہ میں رکھنا اور میرے گناہوں کو بخش دینا اور بلاشبہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشے گا۔ (سو جو شخص یہ دعا کرے گا) اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوگا اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے استغفار کریں گے۔ 

سنن ابن ماجہ ‘ ج ١ رقم الحدیث : ٧٧٨‘ عمل الیوم واللیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث : ٨٥‘ الترغیب والترھیب ‘ ج ٢‘ ص ٤٥٢‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ٢‘ ص ٤٥٨‘ علامہ احمد شاکر نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ مسند احمد ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث : ١١٠٩٩) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبدالرحمن بن یزید روایت کرتے ہیں کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو خوب علم تھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ان میں سب سے زیادہ قریب اللہ عزوجل کی طرف وسیلہ تھے۔ (مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٣٩٥‘ دارالفکر بیروت ‘ طبع قدیم ‘ علامہ احمد شاکر ‘ متوفی ١٣٧٧ ھ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٠١‘ طبع قاہرہ) 

وسیلہ بہ معنی درجہ جنت : 

علامہ ابن اثیر جزری متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : 

وسیلہ کا ایک معنی جنت کے درجات میں سے ایک (مخصوص) درجہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے۔ (نہایہ ‘ ج ٥‘ ص ١٨٥) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم موذن (کی اذان) کو سنو تو اس کے کلمات کی مثل کہو ‘ پھر مجھ پر درود پڑھو ‘ کیونکہ جس شخص نے ایک مرتبہ مجھ پر درود پڑھا ‘ اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجے گا۔ پھر میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو ‘ کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک ایسا درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ کو حاصل ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں۔ سو جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا ‘ اس کے حق میری شفاعت جائز ہوجائے گی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ (٣٨٤) ٨٢٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٤‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٤‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٧‘ عمل الیوم واللیلہ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٥‘ عمل الیوم واللیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٤‘ مسند احمد ‘ بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٦٥٦٨‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٩٦٢‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٤٢‘ ١١٦٨١‘ ١١٧٩٩‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤١٠۔ ٤٠٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٨‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ فیصل آباد) 

دعاء اذان میں حدیث شفاعت کی تحقیق : 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اذان سنتے تو دعا کرتے ” اے اللہ اس دعوت کاملہ اور (اس کے نتیجہ میں) کھڑی ہونے والی نماز کے رب ‘ اپنے بندے اور اپنے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رحمت نازل فرما اور قیامت کے دن ہمیں آپ کی شفاعت میں (داخل) کردے “۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٥‘ مکتبہ المعارف الریاض ‘ ١٤٠٥ ھ) 

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں اس حدیث کی سند میں صدقہ بن عبداللہ السمین ہے۔ امام احمد ‘ امام بخاری اور امام مسلم وغیرہ نے اس کو ضعیف کہا ہے اور دحیم اور ابو حاتم اور احمد بن صالح مصری نے اس کی توثیق کی ہے ‘ ( مجمع الزوائد ج ١ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت) 

حافظ جمال الدین یوسف مزی متوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں : 

صدقہ میں عبداللہ السمین کی روایات سے امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے استدلال کیا ہے۔ ہرچند کہ امام احمد اور شیخین نے اس کو ضعیف کہا ہے ‘ لیکن سعید بن عبدالعزیز اور امام اوزاعی نے اس کو ثقہ کہا۔ عبدالرحمن بن ابراہیم نے کہا : صدقہ ہمارے شیوخ میں سے ہیں اور ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ احمد بن صالح مصری نے کہا اس کی روایت صحیح اور مقبول ہے۔ دحیم نے کہا اگرچہ یہ قدریہ کی طرف مائل تھا ‘ لیکن روایت میں صادق تھا۔ ولید بن مسلم نے کہا یہ ١٦٦ ھ میں فوت ہوگیا تھا۔ تہذیب الکمال ‘ ج ٩‘ ص ٨١۔ ٧٨‘ ملخصا ‘ میزان الاعتدال ‘ ج ص ٤٢٦۔ ٤٢٥‘ تہذیب التہذیب ‘ ج ٤‘ ص ٣٨١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا کی ”’ اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “ اے اللہ ! آپ پر صلوۃ نازل فرما اور آپ کو اس مقام پر پہنچا جو تیرے نزدیک جنت میں آپ کے لیے مخصوص ہے اور قیامت کے دن ہم کو آپ کی شفاعت میں داخل کردے ‘ سو جو شخص یہ دعا کرے گا ‘ اس کے لیے شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (المعجم الکبیر ج ١٢‘ رقم الحدیث : ١٢٥٥٤‘ الجامع الکبیرج ٧‘ رقم الحدیث : ٢٢١١٨‘ عمدۃ القاری ‘ ج ٥‘ ص ١٢٤) 

حافظ الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ لکھتے ہیں اس حدیث کی سند میں اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے۔ حاکم اور ابن حبان نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کے باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ ( مجمع الزوائد ج ١ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) 

حافظ جمال الدین ابو الحجاج یوسف مزی متوفی ٧٤٢ ھ نے متعدد ائمہ حدیث کے حوالوں سے اسحاق بن عبداللہ کا ضعف نقل کیا ہے۔ امام ابو داؤد نے اسحاق بن عبداللہ کی صرف ایک حدیث متابعۃ درج کی ہے اور امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اس کی روایات کو درج کیا ہے۔ اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ١٤٤ ھ میں فوت ہوا تھا۔ 

تہذیب الکمال ‘ ج ١ ص ٦٢۔ ٥٧‘ میزان الاعتدال ‘ ج ١ ص ٣٤٦‘ کتاب الجرح والتعدیل ‘ ج ٢‘ ص ٢٢٨) 

ہر چند کہ یہ حدیث ضعیف ہے ‘ لیکن فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ 

دعائے اذان کے بعض دیگر کلمات کی تحقیق : 

اس بحث کے اخیر میں ہم ایک اور حدیث بیان کرنا چاہتے ہیں جس میں ” انک لا تخلف المیعاد “ کا ذکر ہے۔ 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا کی ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس دعوت کاملہ اور اس کے نتیجہ میں کھڑی ہونے والی نماز کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں وہ مقام عطا فرما جو آپ کے لیے مخصوص ہے ‘ اور آپ کو فضیلت عطا فرما اور آپ کو اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے ‘ بیشک تو وعدہ کی مخالفت نہیں کرتا ‘ اس حدیث کو امام بخاری نے اپنے صحیح میں علی بن عیاش سے روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ‘ ج ١‘ ص ٤٤٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 

اس دعا میں الوسیلۃ اور الفضیلۃ کے بعد والدرجۃ الرفیعۃ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : 

ایوب اور جابر جعفی بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اقامت کے وقت کہا : ” اے اللہ ! اس دعوت تامہ اور اس کے بعد کھڑی ہونے والی نماز کے رب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں وہ مقام عطا فرما ‘ جو آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور آپ کے درجات بلند فرما “ تو اس کے حق میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (المصنف ‘ ج ١ ص ٤٩٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

وسیلہ بن معنی مرشد کامل : 

ایمان ‘ اعمال صالحہ ‘ فرائض کی ادائیگی ‘ اتباع سنت ‘ اور محرمات اور مکروہات سے بچنا ‘ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنا کا ذریعہ اور وسیلہ ہیں اور جس مرد صالح اور مرشد کامل کے ہاتھ پر بیعت کرکے ایک مسلمان گناہوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کا عہد کرتا ہے ‘ جو اس کی مسلسل نیکی کی تلقین کرتا ہے ‘ اور اس کی روحانی تربیت کرتا ہے ‘ اس شیخ کے وسیلہ اور قرب الہی کے ذریعہ میں کس کو شبہ ہوسکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی قول جمیل میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں وسیلہ سے مراد بیعت مرشد ہے۔ اور شیخ اسماعیل دہلوی متوفی ١٢٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

اہل سلوک اس آیت کو راہ حقیقت کے سلوک کی طرف اشارہ گردانتے ہیں اور مرشد کو وسیلہ سمجھتے ہیں۔ اس بناء پر حقیقی کامیابی اور مجاہدہ سے پہلے مرشد کو تلاش کرنا ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے سالکان حقیقت کے لیے یہی قاعدہ مقرر کیا ہے ‘ اس لیے مرشد کی رہنمائی کے بغیر اس راہ کا ملنا شاذ ونادر ہے۔ (صراط مستقیم ‘ (فارسی) ص ٥٠‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ لاہور) 

اسلام میں بیعت کا تصور ‘ شیخ طریقت کی شرائط ‘ بیعت برکت ‘ بیعت ارادت ‘ تبدیلی بیعت ‘ اور تجدید بیعت کا حکم ‘ کیا ہر شخص پر بیعت ہونا فرض ہے ‘ ان تمام عنوانات پر ہم نے شرح صحیح مسلم جلد رابع کے اخیر میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ جو حضرات ان مباحث سے دلچسپی رکھتے ہوں ‘ وہ اس کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 35

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.