لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الۡاَيۡمَانَ‌ ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ‌ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ‌ ؕ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 89

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الۡاَيۡمَانَ‌ ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ‌ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ‌ ؕ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ تمہاری بےمقصد قسموں پر گرفت نہیں فرمائے گا لیکن تمہاری پختہ قسموں پر تمہاری گرفت فرمائے گا ‘ سو ان کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے جیسا کہ تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ‘ یا ان مسکینوں کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، جو ان میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے ‘ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو ) اور اپنی قسموں کو حفاظت کرو ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تمہاری بےمقصد قسموں پر گرفت نہیں فرمائے گا لیکن تمہاری پختہ قسموں پر تمہاری گرفت فرمائے گا ‘ سو ان کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے جیسا کہ تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ‘ یا ان مسکینوں کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، جو ان میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے ‘ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو ) اور اپنی قسموں کو حفاظت کرو ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ (المائدہ : ٨٩) 

مناسبت اور شان نزول : 

امام ابو جع فرمحمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ! تم ان پسندیدہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو جن کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے۔ (المائدہ : ٨٧) تو جن مسلمانوں نے اپنے اوپر عورتوں اور گوشت کو حرام کرلیا تھا انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب ہماری ان قسموں کا کیا ہوگا جو ہم کھاچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اللہ تعالیٰ تمہاری بےمقصد قسموں پر گرفت نہیں فرمائے گا۔ (الآیہ) (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٩۔ ١٨‘ مطبوعہ ١٤١٥ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ جن مسلمانوں عورتوں نے گوشت اور رات کی نیند ترک کرنے کی قسمیں کھائی تھیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے ان پر کفارہ لازم کردیا ‘ یعنی وہ قسم توڑیں اور کفارہ ادا کریں۔ 

یمین کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

یمین کے از روئے لغت تین معنی ہیں۔ (ا) قوت ‘ (٢) داہنا ہاتھ (٣) قسم۔ 

یمین بہ معنی قوت اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” ولو تقول علینا بعض الاقاویل، لاخذنا منہ بالیمین “۔ (الحاقہ : ٤٥۔ ٤٤) 

ترجمہ : اور اگر وہ (رسول) کوئی بھی بات ہم پر بنا کر اپنی طرف سے کہتے تو ہم ان کو پوری قوت سے پکڑ لیتے۔ 

یمین کا معنی داہنا ہاتھ بھی اس وجہ سے ہے کہ اس میں زیادہ قوت ہوتی ہے۔ یمین بہ معنی دایاں ہاتھ اس آیت میں ہے : 

(آیت) ” واما ان کان من اصحب الیمین، فسلم لک من اصحب الیمین “۔ (الواقعہ : ٩١۔ ٩٠) 

ترجمہ : اور اگر وہ (مرنے والا) دائیں طرف والوں سے ہو (تو اس سے کہا جائے گا) تجھ پر سلام ہو (تو) دائیں طرف والوں سے ہے۔ 

یمین کا تیسرا معنی قسم ہے جیسا کہ زیر بحث آیت میں ہے اور قسم پر یمین کا اطلاق اس لیے ہوتا ہے کہ جب لوگ ایک دوسرے کے لیے حلف اٹھاتے تو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتے۔ نیز قسم کے ذریعہ سے قسم کھانے والا اپنے کلام کو قوی اور موکد کرتا ہے۔ 

قسم کھانے کا جواز اور مشروعیت : 

قسم کھانا مشروع ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود بھی قسم کھائی ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی قسم کھانے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قسم کھانے کی یہ چند مثالیں ہیں :

(آیت) ” والنجم اذا ھوی “۔ (النجم : ١) 

ترجمہ روشن ستارے کی قسم جب وہ غروب ہوا۔ 

(آیت) ” لا اقسم بھذا البلد “۔ (البلد : ١) 

ترجمہ : میں اس شہر کی قسم فرماتا ہوں۔ 

(آیت) ” والشمس وضحھا “۔ (الشمس : ١) 

ترجمہ : سورج اور اس کی چمک کی قسم۔ 

(آیت) ” والضحی وللیل اذا سجی “۔ (الضحی : ٢۔ ١) 

ترجمہ : چاشت کی قسم اور رات کی قسم جب وہ (تاریکی کا) پردہ ڈالے۔ 

اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات میں قسم کھانے کا حکم دیا ہے : 

(آیت) ” ویستنبئونک احق ھو قل ای وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین “۔ یونس : ٥٣) 

ترجمہ : اور آپ سے پوچھتے ہیں کیا واقعی وہ (دائمی عذاب) برحق ہے ؟ آپ کہئے ہاں میرے رب کی قسم وہ برحق ہے اور تم (میرے رب کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ 

(آیت) ” قال الذین کفروا لا تاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم عالم الغیب “۔ (سبا : ٣) 

ترجمہ : اور کافروں نے کہا ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ آپ کہئے میرے رب عالم الغیب کی قسم وہ ضرور تم پر آئے گی۔ 

(آیت) ” زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی و ربی لتبعثن “۔ (التغابن : ٧) 

ترجمہ : کافروں نے اپنے فاسد گمان سے کہا : وہ مرنے کے بعد ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ‘ آپ کہئے کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم : تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ 

احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قسم کھانے کا ذکر ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ سے سواری طلب کی۔ آپ نے فرمایا تمہیں سوار کرنے کے لیے میرے پاس سواری نہیں ہے۔ خدا کی قسم میں تم کو سوار نہیں کروں گا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف چتکبرے کوہان والے تین اونٹ بھیجے۔ ہم نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سواری طلب کرنے گئے تھے تو آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے ‘ ہم نے آپ کے پاس جا کر آپ کو اس قسم کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا میں جب بھی کسی چیز کی قسم کھاتا ہوں پھر اس کے غیر کو بہتر سمجھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ الایمان ١٠ (١٦٤٩) ٤١٩٠‘ صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٥‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٥٥٥‘ سنن نسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٨٠‘ مسند احمد ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٥٣٦) 

جھوٹ کا خدشہ نہ ہو تو زیادہ قسمیں کھانے کا جواز : 

فقہاء کے نزدیک ہرچند کہ قسم کھانا مباح ہے لیکن کثرت قسم کھانا مکروہ ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ قسم کھانے کی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ”۔ ولاتطع کل حلاف مھین “۔ (القلم : ١٠) 

ترجمہ : اور آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا ‘ انتہائی ذلیل ہے۔ 

لیکن اگر بہ افراط قسمیں نہ کھائی جائیں تو پھر قسم کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ بلاکراہت جائز ہے۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ قسم کھاتا مطلقامکروہ ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم “۔ (البقرہ : ٢٢٤) 

ترجمہ : اور اللہ (کے نام) کو تم اپنی قسموں کے لیے بہانہ نہ بناؤ۔ 

ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت قسم کھاتے تھے ‘ بعض اوقات ایک حدیث میں کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ 

آپ نے خطبہ کسوف میں فرمایا اے محمد کی امت اللہ کی قسم اللہ سے زیادہ اس پر کوئی غیرت دار نہیں ہے کہ اس کا بندہ زنا کرے یا اس کی بندی زنا کرے ‘ اے امت محمد اللہ کی قسم اگر تم وہ چیزیں جان لوجو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور روؤ زیادہ۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٠٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

آپ نے ترک دنیا کو ارادہ کرنے والے صحابہ سے فرمایا سنو : خدا کی قسم میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سے زیادہ متقی ہوں ‘ لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں افطار بھی کرتا ہوں اور میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦ رقم الحدیث : ٥٠٦٣) 

آپ نے ابو طالب سے اس کے مرتے وقت فرمایا سنو اللہ کی قسم میں تمہارے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے تمہاری استغفار سے منع نہ کیا جائے (صحیح البخاری ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ١٣٦٠) 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور قریش سے جنگ کروں گا ‘ اللہ کی قسم ! میں ضرور قریش سے جنگ کروں گا ‘ اللہ کی قسم ! میں ضرور قریش سے جنگ کروں گا۔ پھر فرمایا انشاء اللہ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٢٨٥) 

اس ایک حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار قسم کھائی ہے۔ 

اور بہ افراط قسمیں کھانا اس لیے مکروہ ہے کہ اس میں یہ خدشہ ہے کہ انسان کسی جھوٹ پر اللہ کی قسم کھالے اور مانعین نے جو آیت پیش کی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ان کی دلیل نہیں ہے ‘ کیونکہ پوری آیت اس طرح ہے : 

(آیت) ” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس “۔ (البقرہ : ٢٢٤) 

ترجمہ : اور اللہ (کے نام) کو تم اپنی قسموں کے لیے بہانہ نہ بناؤجن سے مقصد نیکی ‘ خدا خوفی اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے سے باز رہناہو۔ 

یعنی کوئی شخص یہ قسم کھالے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا ‘ خدا خوفی نہیں کرے گا اور لوگوں کے درمیان صلح نہیں کرائے گا ‘ پھر اور نیک کاموں سے یہ کہہ کر باز رہے کہ میں تو یہ کام کرنے کی قسم کھاچکا ہوں ‘ سوا ی سے شخص پر لازم ہے کہ وہ نیکی کرکے قسم توڑنے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی چیز کی قسم کھائی پھر وہ اس چیز کے خلاف کرنے کو بہتر جانے تو وہ اس قسم کے خلاف کرے اور اس قسم کا کفارہ دے۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١١‘ (١٦٥٠) ٤١٩٢) 

فی نفسہ قسموں کی اقسام : 

فی نفسہ قسموں کی پانچ اقسام ہیں۔ واجب ‘ مستحب ‘ مباح ‘ مکروہ اور حرام : 

واجب : اگر کسی بےقصور مسلمان کو قتل یا ہلاکت سے بچانا قسم کھانے پر موقوف ہو تو قسم کھانا واجب ہے۔ 

حضرت سوید بن حنظلہ (رض) بیان کرتے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادہ سے نکلے ‘ ہمارے ساتھ حضرت وائل بن حجر (رض) بھی تھے ‘ ساتھیوں نے قسم کھانے میں ناگواری محسوس کی اور میں نے قسم کھالی کہ یہ میرے بھائی ہیں تو دشمن نے ان کو چھوڑ دیا۔ پس ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے ‘ میں نے بتایا کہ ساتھیوں نے قسم کھانے میں ناگواری محسوس کی تھی ‘ اور میں نے قسم کھالی کہ یہ میری بھائی ہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا : مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٥٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١١٩‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٧٢٦‘ طبع دارالفکر مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٧٩‘ طبع قدیم) 

مستحب : جب دو مسلمانوں میں رنجش ہو اور ان میں صلح کرانا قسم کھانے پر موقوف ہو ‘ یا کسی مسلمان کے دل سے کینہ کو زائل کرنا قسم کھانے پر موقوف ہو ‘ یا کسی شرکو رفع کرنا قسم کھانے پر موقوف ہو ‘ تو ان صورتوں میں قسم کھانا مستحب ہے۔ اسی طرح کسی عبادت کے کرنے پر کسی گناہ کے ترک کرنے پر قسم کھانا مستحب ہے۔ 

مباح : کسی مباح کام کرنے کے یا اس کو ترک کرنے پر قسم کھانا مباح ہے ‘ جس خبر کے صادق ہونے کا یقین ہو ‘ یا اس کے صدق کا غلبہ ظن ہو ‘ اس پر قسم کھانا بھی مباح ہے۔ 

مکروہ : کسی مکروہ کام کے کرنے پر ‘ یا کسی مستحب کرنے پر قسم کھائی جائے تو یہ قسم مکروہ ہے۔ روایت ہے کہ حضرت مسطح (رض) حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگانے والوں میں شامل تھے ‘ حالانکہ حضرت ابوبکر (رض) حضرت مسطح (رض) کو خرچ دیتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ (رض) کی اس تہمت سے برات بیان کردی تو حضرت ابوبکر نے قسم کھائی کہ وہ پہلے جو حضرت مسطح (رض) کو خرچ دے کر ان کی مدد کرتے تھے وہ اب بند کردیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : 

(آیت) ” ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یؤتوا اولی القربی والمساکین والمھجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم واللہ غفوررحیم “۔ (النور : ٢٢) 

ترجمہ : اور تم میں سے جو لوگ صاحب وسعت اور خوش حال ہیں ویہ یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں ‘ اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے اور انکو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ کسی کار خیر کو ترک کرنے کی قسم کھانا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔ 

حرام : جھوٹی قسم کھانا اور خلاف واقع قسم کھانا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ویحلفون علی الکذب وھم یعلمون، اعداللہ لھم عذابا شدیدا انھم سآء ماکانوا یعملون “۔ (المجادلہ : ١٤۔ ١٣) 

ترجمہ : اور منافق جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں، اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کررکھا ہے ‘ بیشک وہ (دنیا میں) بہت برا کام کرتے تھے۔ 

اسی طرح معصیت پر اور ترک واجب پر قسم کھانا حرام ہے۔ مثلا کوئی شخص ناجائز کام کرنے کے لیے قسم کھائے تو یہ حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا اولئک لا خالق لھم فی الاخرۃ ولایکلمھم اللہ ولا ینظر الیھم یوم القیامۃ ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم “۔ (آل عمران : ٧٧) 

ترجمہ : بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن کلام فرمائے گا ‘ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا ‘ اور نہ ان کو پاک کرے گا ‘ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ 

اپنا حق ثابت کرنے کے لیے قسم کھانے کے متعلق فقہاء کے نظریات : 

جب حاکم کے سامنے اپنے حقوق پر قسم کھانی ہو تو اس میں فقہاء کے دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اپنا حق ترک کردیا جائے اور قسم نہ کھائی جائے اور یہ اولی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اپنے حق پر قسم کھانا جائز ہے۔ پہلی رائے کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عثمان (رض) اور حضرت مقداد میں اس رقم کے متعلق اختلاف تھا ‘ جو حضرت عثمان (رض) سے قرض لی تھی۔ چونکہ حضرت عثمان (رض) کے پاس گواہ نہیں تھے ‘ اس لیے حضرت عمر (رض) نے حضرت مقداد میں اس رقم کے متعلق اختلاف تھا جو حضرت عثمان (رض) سے قرض لی تھی۔ چونکہ حضرت عثمان کے پاس گواہ نہیں تھے ‘ اس لیے حضرت عمر (رض) نے حضرت مقداد پر قسم لازم کی۔ حضرت مقداد نے حضرت عثمان پر قسم لوٹا دی۔ حضرت عثمان (رض) نے قسم کھانے کی بجائے ان کے قول کے مطابق رقم لے لی اور خود قسم نہیں کھائی۔ اور فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ مقداد پر کوئی مصیبت آئے اور یہ کہے کہ یہ مصیبت عثمان کی قسم کی وجہ سے آئی ہے۔ سو دونوں صحابہ نے قسم پر اپنا حق چھوڑنے کو ترجیح دی ‘ اور دوسرے قول کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ محمد بن کعب القرظی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) منبر پر کھڑے تھے اور آپ کے ہاتھ میں عصا تھا۔ آپ نے فرمایا اے لوگو ! قسم کھانے کی وجہ سے اپنے حقوق نہ چھوڑنا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے بیشک میرے ہاتھ میں عصا ہے ‘ اور عمر بن شبہ نے کتاب قضاۃ البصرۃ میں اپنی سند کے ساتھ شعبی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابی (رض) نے ایک کھجور کے درخت کے متعلق حضرت زید بن ثابت کے پاس مقدمہ دائر کیا۔ حضرت ابی بن کعب کا اس درخت پر دعوی تھا ‘ تو حضرت عمر پر قسم آئی۔ حضرت زید نے کہا تم امیر المومنین سے قسم کو معاف کردو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا امیر المومنین کو کیوں معاف کیا جائے ؟ اگر مجھے معلوم ہو کہ کسی چیز پر میرا حق ہے اور قسم کھانے سے مجھے وہ حق مل جائے گا تو میں ضرور قسم کھاؤں گا ورنہ میں قسم کو ترک کر دوں گا ‘ اور اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے یہ کھجور کا درخت میرا درخت ہے اور اس پر ابی کا کوئی حق نہیں ہے۔ جب وہ دونوں عدالت سے نکلے تو حضرت عمر (رض) نے وہ درخت ابی کو بخش دیا۔ ان سے کہا گیا اے امیر المومنین ! آپ نے قسم کھانے سے پہلے ابی کو درخت کیوں نہیں دیا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا مجھے یہ خوف تھا کہ اگر میں نے قسم نہیں کھائی تو لوگ میرے بعد اپنے حقوق پر قسم نہیں کھائیں گے اور یہی طریقہ مقرر ہوجائے گا ‘ اور یہ حق پر سچی قسم ہے تو جس طرح یہ قسم حاکم کے علاوہ دوسرے کے سامنے کھانا جائز ہے ‘ وہ حاکم کے سامنے بھی جائز ہے۔ (المغنی ج ٩‘ ص ٣٨٩۔ ٣٨٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤٠٥ ھ) 

قسم کھانے کا طریقہ : 

قسم اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کے اسماء میں سے کسی اسم یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی کھائی جاتی ہے۔ مثلا اس طرح قسم کھائے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ یا اس ذات کی قسم جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح قسم کھاتے تھے ‘ اس ذات کی قسم محمد کی جان جس کے قبضہ وقدرت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء مثلا یہ ہیں اللہ ‘ رحمن ‘ رحیم ‘ خالق ‘ باری ‘ رزاق ‘ رب ‘ وغیرہ۔ ان اسماء کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے اور اللہ کی صفات یہ ہیں ‘ اللہ کی عظمت اللہ کا جلال ‘ اللہ کی قدرت ‘ اللہ کا علم ‘ اللہ کا کلام وغیرہ ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوں قسم کھاتے ” لا ومقلب القلوب “ دلوں کے پلٹنے والے کی قسم۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٣٩١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٩٢) اگر کسی شخص نے کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں ‘ اس میں اگر وہ قسم کی نیت کرے گا تو قسم ہے ‘ ورنہ نہیں۔ 

غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت کی تحقیق : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) سواروں کی ایک جماعت میں اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ندا کر کے فرمایا : سنو اللہ تمہیں تمہارے آباء کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے۔ سو جس شخص نے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٦١٠٨‘ صحیح مسلم ‘ الایمان ‘ ٣‘ (١٦٤٦) ٤١٧٨) 

غیر اللہ کی قسم سے ممانعت کی حکمت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی جائے اس کی تعظیم مقصود ہوتی ہے اور حقیقی تعظیم اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہے ‘ اس لیے غیر اللہ کی قسم کھا کر اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہ نہیں کیا جائے گا۔ نیز جس کی قسم کھائی جائے اس کو گواہ بنایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی یہ شان نہیں کہ وہ ہر وقت ہر چیز پر گواہ ہو۔ اس لیے اللہ کے سوا اور کسی کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر میں سو مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر اس کو توڑ دوں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ میں ایک بار غیر اللہ کی قسم کھا کر اس کو پورا کروں۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے خود غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ مثلا فرمایا : (آیت) ” والطور : ١) پہاڑ طور کی قسم “۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی حکم کا پابند نہیں ہے۔ وہ مالک علی الاطلاق ہے ‘ جو چاہے کرے ‘ اس پر کوئی سوال یا اعتراض نہیں ہے اور پہاڑ طور ‘ درخت انجیر وغیرہ کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی فضیلت ظاہر کی ہے۔ نیز یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ چیزیں اللہ کی ذات پر گواہ ہیں۔ 

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

کیا اللہ تعالیٰ کے غیر کی قسم کھانا مکروہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ہاں کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے ‘ اور عام فقہاء نے یہ کہا ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے ‘ اور ہمارے زمانہ میں فقہاء نے اسی پر فتوی دیا ہے اور حدیث میں ممانعت اس پر محمول ہے جب اس قصد سے غیر اللہ کی قسم کھائے کہ اگر قسم پوری نہیں کی تو وہ حانث ہوگا اور اس کا کفارہ ادا کرے گا ‘ اور جب یہ قصد نہ ہو تو پھر غیر اللہ کی قسم کھانا جائز ہے ‘ جیسے کوئی کہے کہ تمہارے باپ کی قسم ! یا تمہاری زندگی کی قسم۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٤٦ ’ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے زمانہ میں چونکہ لوگ اللہ کی قسم کھا کر اس کو پورا کرنے میں تساہل برتتے ہیں ‘ اس لیے لوگ تاکید اور توثیق کے لیے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تم طلاق کی قسم کا کھاؤ مثلا اگر میں نے فلاں کو فلاں کام نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق ‘ توثیق کے حصول کے لیے طلاق کی قسم کھائی جاتی ہے۔ اس میں حرف قسم نہیں ہوتا ‘ اور کبھی حرف قسم کے ساتھ باپ یا زندگی کی قسم کھائی جاتی ہے اس لیے توثیق مطلوب نہیں ہوتی ‘ اور نہ اس میں قسم پوری نہ کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے۔ جس کی قسم کھائی جائے صرف اس کے ساتھ تعلق اور محبت کا اظہار مقصود ہوتا ہے ‘ اور اگر طلب ثوثیق کے لیے حرف قسم کے ساتھ غیر اللہ کی قسم کھائی جائے تو یہ بالاتفاق مکروہ ہے ‘ کیونکہ میں غیر اللہ کو تعظیم میں اللہ کے ساتھ مشابہ کرنا ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٤٧۔ ٤٦ ’ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

یمین لغو کی تعریف : 

ازہری نے کہا ہے : کہ لغو کے کلام عرب میں دو معنی ہیں۔ ایک معنی بےفائدہ اور باطل کلام جس سے کوئی عقد نہ کیا جائے۔ دوسرا معنی ہے فحش اور بےہودہ کلام ‘ جو گناہ کا موجب ہو۔ قرآن مجید میں ہے 

(آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا الا سلما “۔ (مریم : ٦٢) 

ترجمہ : وہ جنت میں کوئی فضول اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے بجزسلام کے۔ 

علامہ ابو اسحاق ابراہیم بن علی شیرازی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جس شخص کا ارادہ قسم کھانے کا نہ ہو اور بلاقصد اس کی زبان پر قسم کے الفاظ آجائیں ‘ یا وہ شخص کسی چیز پر قسم کھانے کا ارادہ کرے اور اس کی زبان سے کوئی چیز نکل جائے تو یہ یمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ تمہاری بےمقصد قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا اور حضرت ابن عمر ‘ ابن عباس اور حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کہے ‘ نہیں ‘ خدا کی قسم ! ہاں خدا کی قسم اور جو چیز زبان پر بلا قصد آجائے اس میں مواخذہ نہیں ہوتا ‘ جیسے سبقت لسان سے کلمہ کفر نکل جائے تو اس پر مواخذہ نہیں ہے۔ (المہذب ‘ ج ٢‘ ص ١٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

علامہ ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

انسان کو گمان ہو کہ یقینی طور پر فلاں واقعہ ہوا اور وہ اس پر قسم کھالے اور درحقیقت واقعہ اس کے خلاف ہو تو یہ یمین لغو ہے۔ اس میں نہ کفارہ ہے نہ گناہ ہے۔ (بدایۃ المجتہد ‘ ج ١ ص ٢٩٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

ایک شخص اپنے گمان کے مطابق کسی چیز پر قسم کھائے اور وہ اس کے گماں کے مطابق نہ ہو تو یہ یمین لغو ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک اس میں کفارہ نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابو مالک ‘ حضرت زرارہ بن اوفی (رض) کا یہ نظریہ ہے۔ حسن بصری ‘ نخعی ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ علامہ ابن عبدالبر نے کہا اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔ امام شافعی کا ایک قول یہ ہے کہ اس میں کفارہ ہے۔ امام احمد سے بھی ایک یہی روایت ہے۔ (المغنی ج ٩ ص ‘ ٣٩٣ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

ایک شخص ماضی کے کسی واقعہ پر قسم کھائے اور اسکے گمان میں وہ واقعہ اسی طرح ہو اور درحقیقت واقعہ اس کے برخلاف ہو تو یہ یمین لغو ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے مواخذہ نہیں فرمائے گا اور ایک شخص کے متعلق قسم کھائے کہ یہ زید ہے اور اس کا یہی گمان ہو اور وہ درحقیقت عمرو ہو تو یہ بھی یمین لغو ہے۔ (ھدایہ اولین ‘ ص ٤٧٩۔ ٤٧٨‘ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

یمین منعقدہ کی تعریف : 

مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی جائے تو یہ یمین منعقدہ ہے۔ اس قسم کو پورا کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ (المائدہ : ٨٩) اور جب اس قسم کو توڑ دے تو اس کا کفارہ دینا لازم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لیکن اللہ تمہاری پختہ قسموں پر تمہاری گرفت فرمائے گا۔ سوا ان کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے۔ الآیہ (المائدہ : ٨٩) اس قسم میں کفارہ بالاتفاق مقرر ہے ‘ خواہ کسی طاعت پر قسم کھائی ہو یا کسی معصیت پر ‘ لیکن اگر اس نے کسی معصیت پر قسم کھائی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ معصیت نہ کرے اور اس قسم کا کفارہ دے ‘ جیسا کہ ہم اس سے پہلے (صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١١ (١٦٥٠) ٤١٩٢) کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں۔ امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہے ‘ خواہ اس نے عمدا قسم توڑی ہو ‘ یا بھول کر ‘ یا خطا سے ‘ یا جبر سے ‘ کیونکہ قرآن مجید نے قسم توڑنے پر مطلقا کفارہ لازم کیا ہے اور اس میں عمد اور نسیان کا فرق نہیں کیا۔ (بدایۃ المجتہد ‘ ج ١ ص ٣٠٤‘ بدائع الصنائع ‘ ج ٣‘ ص ١٧) 

امام شافعی اور امام احمد نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نسیان ‘ خطا یا جبر سے قسم توڑ دی ‘ تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ (المہذب ‘ ج ٢ ص ١٢٨‘ المغنی ‘ ج ٩‘ ص ٣٩١) 

امام شافعی اور امام احمد کی دلیل یہ حدیث ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت سے خطا نسیان اور جبر سے مواخذہ اٹھا لیا گیا ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث : ٨٢٦٩‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ‘ ریاض ‘ ١٤١٥ ھ) 

یمین غموس کی تعریف : 

ماضی یا حال کے کسی واقعہ پر عمدا جھوٹی قسم کھائی جائے تو یہ یمین غموس ہے اور اس کا ارتکاب پر جھوٹی قسم کھانے والا عذاب کا مستحق ہوگا۔ اس میں کفار نہیں ہے اس پر توبہ لازم ہے ‘ کیونکہ جھوٹ گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ پر توبہ لازم ہے۔ فقہاء احناف ‘ فقہاء مالکیہ اور فقہاء حنبلیہ کا یہی مذہب ہے۔ (بدائع الصنائع ‘ ج ٣ ص ١٥‘ ٣‘ الشرح الکبیر علی ھامش الدسوقی ‘ ج ٢‘ ص ١٢٨‘ المغنی ج ٩ ص ٣٩٢) 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے قسم کھائی اور وہ اس میں جھوٹا تھا تاکہ کسی مسلمان شخص کے مال کو حاصل کرے تو اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ٢١٨‘ (١٣٧) ٣٤٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٤‘ سنن الدارمی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٠٥‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٨٧‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٢٦٠‘ سنن کبری ‘ ج ١٠‘ ص ١٧٩) 

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے جھوٹی قسم کھا کر کوئی فیصلہ کروایا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٤٢‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ٤٤١۔ ٤٣٦) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا گناہ کبیرہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا یا فرمایا : یمین غموس (جھوٹی قسم) اور شعبہ کہتے ہیں آپ نے فرمایا : کبائر یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ‘ یمین غموس ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کسی کو قتل کرنا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٧٠‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٣٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٢٢‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٥٦٢‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٦٩٠١) 

امام شافعی کے نزدیک یمین غموس میں کفارہ واجب ہوتا ہے اور یمین غموس میں جھوٹ کا گناہ کفارہ سے ساقط ہوجاتا ہے ‘ جیسے یمین منعقدہ میں قسم توڑنے کا گناہ کفارہ سے ساقط ہوتا ہے۔ (المہذب ‘ ج ٢‘ ص ١٢٨) 

کفارہ قسم کی مشروعیت : 

کفارہ کا لفظ کفر سے مشتق ہے ‘ کفر کا معنی ہے ستر اور ڈھانپنا۔ سو توڑنے کی وجہ سے جس گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے کفارہ اس گناہ کو ڈھانپ لیتا ہے۔ کفارہ کی مشروعیت سورة مائدہ کی زیر تفسیر آیت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سو ان کا کفارہ دس مسکینوں کو درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے جیسا تم اپنے گھروں کو کھلاتے ہو ‘ یا ان مسکینوں کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے جو ان میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے ‘ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو ) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (المائدہ : ٨٩) اور حسب ذیل حدیث سے بھی کفارہ کی مشروعیت ثابت ہے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی کام کے کرنے کی قسم کھائی ‘ پھر وہ اس کے خلاف کرنے کو بہتر جانے تو وہ اس قسم کے خلاف کرے اور اس قسم کا کفارہ دے۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ١١‘ (١٦٥٠) ٤١٩٢) 

کفارہ قسم کے احکام میں مذاہب ائمہ : 

قرآن مجید کی اس آیت سے معلوم ہوگیا کہ کفارہ قسم میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ‘ یا ان کو کپڑے پہنانا ہے اور یا غلام آزاد کرنا ہے ‘ اور جو شخص ان میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ 

فقہاء احناف کے نزدیک کھانا کھلانے سے مراد یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا پیش کردیا جائے اور ان کو کھانے کی اجازت دی جائے ‘ اس کو اصطلاح میں اباحت کہتے ہیں۔ اس سے مراد ان کو اس کھانے کا مالک بنانا نہیں ہے ‘ اور باقی فقہاء کے نزدیک اس طعام کا مالک بنانا ضروری ہے۔ کھانے کی مقدار میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک ہر مسکین کو ایک کلو گرام گندم دی جائے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہر مسکین کو دو کلو گندم یا چار کلو کھجور یا جو دیئے جائیں یا ان کی قیمت دی جائے۔ 

اگر ایک مسکین کو دس روز صبح وشام کھانا کھلایا جائے یا دس دن تک ہر روز اس کو دو کلو گندم یا اس کی قیمت دی جائے تو یہ جائز ہے ‘ لیکن اگر ایک مسکین کو ایک دن میں بیک وقت وقت دس آدمیوں کا کھانا دے دیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دس مسکینوں کی بھوک مٹانے کا حکم دیا ہے ‘ خواہ بیک وقت یا دس دنوں میں اور یہ مقصود اس صورت میں حاصل نہیں ہوگا۔ جن مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے وہ مسلمان ہوں۔ فقہاء احناف کے نزدیک ذمی کو بھی کھانا کھلایا جاسکتا ہے ‘ اور باقی فقہاء کے نزدیک کافر کو قسم کا کفارہ کھلانا جائز نہیں ہے۔ 

اگر کفارہ میں کپڑے دیئے جائیں تو فقہاء احناف کے نزدیک بھی ان کا مالک بنانا ضروری ہے ‘ بخلاف کھانا کھلانے کے کیونکہ اس سے مقصود بھوک کو مٹانا ہے اور وہ فقط کھانے کی اجازت سے بھی مٹ جاتی ہے۔ 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک اتنا کپڑا ہونا چاہیے جس سے عام بدن چھپ جائے اور امام احمد کے نزدیک جتنی مقدار سے نماز جائز ہوجائے اور امام مالک کے نزدیک جتنے کپڑے سے تمام بدن چھپ جائے اور امام شافعی کے نزدیک کپڑے کا اطلاق دو چادروں پر ہوتا ہے ‘ یہ مقدار ضروری ہے ‘ ورنہ مردوں کو قمیص ‘ شلوار اور ٹوپی دی جائے اور عورتوں کو قمیص ‘ شلوار اور دوپٹہ۔ 

اس دور میں غلامی کا رواج ختم ہوگیا ہے ‘ اس لیے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ضابطہ یہ ہے کہ ایسا غلام آزاد کیا جائے جو کامل الاعضاء ہو اور عیب دار نہ ہو۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک وہ غلام عام ہے ‘ مومن ہو یا کافر ‘ کیونکہ قرآن مجید کی اس آیت میں مطلقا فرمایا (آیت) ” اوتحریر رقبۃ “ (المائدہ : ٨٩) اور اس کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ضروری ہے ‘ کیونکہ کفارہ قتل خطا میں فرمایا ہے۔ (آیت) ” اوتحریر رقبۃ مؤمنۃ “ (النساء : ٩٢) ائمہ ثلاثہ مطلق کو مقید پر محمول کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کا اصول یہ ہے کہ جب مطلق اور مقید دو الگ الگ احکام میں ذکر کیے جائیں تو مطلق کو مقید پر محمول نہیں کیا جاتا اور جس حکم میں کوئی چیز مطلق ذکر کی گئی ہے وہاں اس کے اطلاق پر عمل کیا جائے گا ‘ اور جہاں اس کو مقید ذکر کیا ہے وہاں اس کی۔۔۔۔۔ پر عمل ہوگا۔ 

اس پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر قسم توڑنے والا دس مسکینوں کو کھانا کھلانے یا ان کو کپڑے پہنانے یا غلام آزاد کرنے پر قادر نہ ہو ‘ تو وہ تین دن کے روزے رکھے گا۔ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک مسلسل تین دن کے روزے رکھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر اس نے لگا تار تین دن کے روزے رکھے تو یہ مستحب ہے۔ کیونکہ قرآن مجید کی اس آیت میں مطلقا فرمایا ہے (آیت) ” فصیام ثلاثۃ ایام “ (المائدہ : ٨٩) اور امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک لگا تار تین روزے رکھنا ضروری ہے کیونکہ حضرت ابن مسعود (رض) کی قرات میں ہے ” فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات “۔ ہرچند کہ یہ قرات متواتر نہیں ہے ‘ لیکن یہ آیت خبر واحد اور آپ سے روایت کے درجہ میں ہے اور خبر واحد حجت ہوتی ہے اور اس سے قرآن کے کسی حکم میں زیادتی ہوسکتی ہے۔ جس طرح عمدا روزہ توڑنے کے کفارہ میں جو ساٹھ روزے لگا تار رکھے جاتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے اور ان کا لگا تار رکھنا صرف حدیث سے ثابت ہے۔ سو اسی طرح اس کا حکم ہے۔ (الکافی فی فقہ الامام احمد ‘ ج ٤‘ ص ١٩٥‘ المہذب ‘ ج ٢‘ ص ١٤٢‘ بدایۃ المجتہد ‘ ج ٢‘ ص ١٠٧‘ ١٠٥‘ رد المختار ‘ ج ٣‘ ص ٦٢۔ ٦٠‘ فتح القدیر ‘ ج ٥‘ ص ٩١۔ ٧٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 89

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.