أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا طٰۤئِرٍ يَّطِيۡرُ بِجَنَاحَيۡهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمۡثَالُـكُمۡ‌ؕ مَا فَرَّطۡنَا فِى الۡـكِتٰبِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور زمین میں چلنے والا ہر حیوان اور (فضا میں ) اپنے بازوؤں سے اڑنے والا ہر پرندہ تمہاری ہی مثل مخلوق ہے ہم نے کتاب (لوح محفوظ) میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا پھر وہ اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زمین میں چلنے والا ہر حیوان اور (فضا میں ) اپنے بازوؤں سے اڑنے والا ہر پرندہ تمہاری ہی مثل مخلوق ہے ہم نے کتاب (لوح محفوظ) میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا پھر وہ اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ (الانعام : ٣٨) 

آیات سابقہ سے مناسبت اور وجہ ارتباط : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اگر کفار کے فرمائشی اور مطلوبہ معجزات کے نازل کرنے میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان معجزات کو نازل فرما دیتا اور اس کی تاکید اس آیت میں فرمائی کہ زمین میں چلنے والا ہر حیوان اور فضا میں اڑنے والا ہر پرندہ تمہاری مثل مخلوق ہے ‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل و کرم فرمایا ہے اور ان پر احسانات کیے ہیں ‘ اسی طرح تم پر بھی فضل و کرم فرمایا اور ان پر احسانات کیے ہیں ‘ اور تمہارے مطلوبہ معجزات کو تم پر نازل نہ کرنا بھی ہمارا تم پر احسان ہے۔ کیونکہ اگر تمہاری فرمائش کے مطابق نشانیاں نازل کردی جاتیں اور پھر تم ایمان نہ لاتے تو تم پر ایسا عذاب نازل کیا جاتا جس سے تم نیست ونابود ہوجاتے۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ کافروں کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اس کے حضور جمع کیے جائیں گے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ حیوانات اور پرندے بھی تمہاری مثل ہیں ‘ یعنی ان کو بھی اللہ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ 

جانوروں کے حساب اور قصاص کے متعلق احادیث : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سنو ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن ہر چیز مقدمہ پیش کرے گی ‘ حتی کہ وہ بکریاں بھی جنہوں نے ایک دوسرے کو سینگھ مارے تھے۔ (مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣٩٠‘ طبع قدیم ‘ اس حدیث کی سند حسن ہے ‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٣٤٩) 

امام ابو یعلی نے اس حدیث کو حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (مسند ابو یعلی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٤٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٩‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٣٤٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے اور دو بکریاں گھاس چر رہی تھیں۔ ایک بکری نے دوسری بکری کو سینگھ مار کر اس کا حمل ساقط کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسنے لگے۔ آپ سے عرض کیا گیا ‘ یارسول اللہ ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا مجھے اس بکری پر تعجب ہوا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! اس بکری سے قیامت کے دن قصاص لیا جائے گا۔ (مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ١٧٣‘ مسند البزار ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٤٥٠) 

امام احمد کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٣٥٢) 

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن سینگھ والی بکری سے بغیر سینگھ کی بکری کا قصاص لیا جائے گا۔ ( مسند البزار ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٤٤٩‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن بعض مخلوق کا بعض سے حساب لیا جائے گا ‘ حتی کہ بغیر سینگھ والی بکری کا سینگھ والی بکری سے اور حتی کہ چیونٹی کا چیونٹی سے۔ 

(مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣٦٣‘ امام احمد کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٥٢) 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن جبار تبارک وتعالی متوجہ ہوگا اور پل صراط پر اپنا پیر رکھ دے گا ‘ پھر فرمائے گا ‘ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! کوئی ظالم ظلم کر کے مجھ سے بھاگ نہیں سکتا۔ پھر وہ بعض مخلوق کا بعض سے انصاف لے گا ‘ حتی کہ بغیر سینگھ کی بکری کا سینگھ والی بکری سے اس کو سینگھ مارنے کا انصاف لے گا۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٤٢١‘ اس حدیث کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ضعیف ہے اور باقی ثقہ ہیں۔ مجمع الزوائد ‘ ج ١٠‘ ص ٣٥٣) 

حیوانوں اور پرندوں کی انسانوں سے مماثلت کی وجوہ : 

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ہر حیوان اور ہر پرندہ تمہاری مثل مخلوق ہے۔ یہ تمثیل اور تشبیہ کس چیز میں ہے ؟ اس کی مفسرین نے حسب ذیل وجوہات بیان کی ہیں : 

(١) حیوانوں اور پرندوں کو بھی اللہ کی معرفت ہے ‘ وہ اس کی وحدانیت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” تسبیح لہ السموات السبع والارض ومن فیھن وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “۔ (بنواسرائیل : ٤٤) 

ترجمہ : سات آسمان ‘ اور زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے ‘ وہ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ 

(آیت) ” الم تران اللہ یسبح لہ من فی السموات والارض والطیر صفت کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ “۔ (النور : ٤١) 

ترجمہ : کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور زمینوں میں ہیں اور صف بستہ پرندے ‘ ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح کو جان لیا۔ 

حضرت شرید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے بلافائدہ کسی چڑیاکو قتل کیا ‘ وہ چڑیا قیامت کے دن اللہ عزوجل سے فریاد کرے گی ‘ اے میرے رب ! فلاں شخص نے مجھ کو بےفائدہ قتل کیا اور کسی نفع کے لیے مجھے قتل نہیں کیا۔ (سنن نسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٥٨‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٣٨٩‘ مسند الحمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٨٧‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٤٥‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٢٣٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٩‘ ص ٨٦‘ الکامل لابن عدی ‘ ج ٥‘ ص ١٨٣٧‘ کنزالعمال ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٩٧١) 

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کو واقعات اور حوادث کا ادراک اور انکی معرفت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ہدہد کے مکالمہ کا جو ذکر کیا گیا ہے ‘ اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اسی طرح چیونٹی کے جس کلام کا ذکر کیا گیا ہے اس میں بھی حیوانوں کے ادراک اور معرفت پر دلیل ہے۔ 

(٢) جس طرح انسانوں میں توالد اور تناسل ہے اور وہ ایک دوسرے سے انس رکھتے ہیں ‘ اسی طرح حیوانوں اور پرندوں میں بھی یہ امور ہیں۔ 

(٣) اللہ عزوجل نے جس طرح انسانوں کو ایک خاص تدبیر سے پیدا کیا ہے ‘ اور وہ ان کے رزق کا کفیل ہے ‘ اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کا معاملہ ہے۔ 

(٤) جس طرح قیامت کے دن انسانوں سے ایک دوسرے کا قصاص لیاجائے گا ‘ سو حیوانوں اور پرندوں سے بھی یہ معاملہ ہوگا۔ 

(٥) ہر انسان میں کسی نہ کسی حیوان یا پرندے کی خصلت اور خصوصیت ہے۔ بعض انسان شیر کی طرح دلیر اور بہادر ہیں ‘ بعض انسان بھیڑیے کی طرح حملہ کرتے ہیں ‘ بعض انسان کتوں کی طرح بھونکتے ہیں ‘ بعض انسان مور کی طرح مزین ہوتے ہیں ‘ بعض انسان خنزیر کی طرح پاک چیز کو چھوڑ کر ناپاک کی طرف لپکتے ہیں ‘ بعض انسان بلی کی طرح خوشامدی ہوتے ہیں ‘ بعض کوے کی طرح حریص اور بعض لومڑی کی طرح چالاک ہوتے ہیں۔ 

(٦) جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی موت ‘ حیات ‘ ان کا عمل ‘ ان کا رزق اور ان کا اخروی انجام مقدر کردیا ہے ‘ اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کے بھی یہ امور مقرر کردیئے ہیں۔ 

(٧) جس طرح انسان اپنی روزی میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے ‘ اور اسے کسی مکان کی حاجت ہوتی ہے ‘ جس میں وہ سردی ‘ گرمی اور بارش سے پناہ حاصل کرسکے۔ اسی طرح حیوانوں اور پرندوں کو بھی ان امور کی حاجت ہوتی ہے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہم مثل ہونے کا محمل : 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد “۔ (الکہف : ١١٠) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ میں تمہاری ہی مثل بشر ہوں ‘ میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ 

اس آیت کی بنا پر بعض لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی مثل بشر کہتے ہیں۔ میں نے ایک شخص سے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مماثل کوئی بشر نہیں ہے۔ اس نے کہا کیا آپ کے دو ہاتھ نہیں تھے ؟ کیا آپ کی دو آنکھیں اور دو کان نہیں تھے ؟ میں نے کہا تم دو ہاتھ تو دکھا دو گے مگر ان ہاتھوں میں یہ کمال کہاں سے لاؤ گے ؟ کہ ان ہاتھوں سے اشارہ کریں تو سورج مغرب سے طلوع ہوجائے ‘ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں تو چاند شق ہوجائے ‘ وضو کہاں سے لاؤ گے ؟ کہ ان ہاتھوں سے اشارہ کریں تو سورج مغرب سے طلوع ہوجائے ‘ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں تو چاند شق ہوجائے ‘ وضو کے برتن میں ہاتھ رکھ دیں تو انگلیوں سے فوارے کی طرح پانی جاری ہوجائے اور تم دو آنکھیں تو دکھا دو گے لیکن ان آنکھوں میں یہ کمال کہاں سے لاؤ گے ؟ کہ ان آنکھوں سے جنات اور فرشتوں کو دیکھو حتی کہ رب کائنات کو بےحجاب دیکھو اور تم دو کان تو دکھا دو گے مگر ان کانوں میں یہ قوت کہاں سے لاؤ گے ؟ کہ فرشتوں اور جنات کا کلام سن سکو ‘ زمین پر ہوتے ہوئے آسمانوں کی آوازوں کو سن سکو ‘ حتی کہ رب کائنات کا کلام سن سکو۔ وہ کہنے لگا کمالات کی بات کو چھوڑو ‘ صرف اس بات میں تو آپ ہماری مثل ہیں۔ میں نے کہا اس طرح تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ تم کتے اور خنزیر کی مثل ہو ‘ کیونکہ تمہارے بھی دو کان اور دو آنکھیں ہیں۔ اور ان کے بھی دو کان اور دو آنکھیں ہیں اور جس طرح تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مماثل ہونے کے ثبوت میں سورة کہف کی یہ آیت پڑھتے ہو ‘ وہ تمہیں کتے اور خنزیر کی مثل ثابت کرنے کے لیے یہ آیت پڑھ سکتا ہے : 

(آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم “۔ (الانعام : ٣٨) 

ترجمہ : اور زمین میں چلنے والا ہر حیوان اور فضا میں اپنے بازوؤں سے اڑنے والا ہر پرندہ تمہاری مثل مخلوق ہے۔ 

تمہیں کتے اور خنزیر کی مثل کہا جائے تو یہ تمہاری توہین ہے۔ حالانکہ تمہیں کتے اور خنزیر پر اتنی فضیلت نہیں ہے جتنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم پر فضیلت ہے ‘ تو سوچو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی مثل کہنے سے آپ کی کس قدر توہین ہوگی ! 

رہا یہ سوال کہ پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے ؟ آپ کہئے کہ میں تمہاری ہی مثل بشر ہوں ‘ میری طرف یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف عدم الوہیت میں ہماری مثل ہیں۔ نہ ہم خدا ہیں نہ آپ خدا ہیں اور اسی پر تنبیہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ خلاصہ یہ کہ کسی وجودی وصف میں کوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مماثل نہیں ہے نہ بشریت میں ‘ نہ عبدیت میں ‘ نہ نبوت اور رسالت میں اور اس کائنات میں جو بھی آپ کی مثل ہے ‘ وہ عدی وصف میں آپ کی مثل ہے یعنی نہ وہ خدا ہے نہ آپ خدا ہیں۔ نہ وہ واجب ‘ قدیم اور مستحق عبادت ہے ‘ نہ آپ واجب ‘ قدیم اور مستحق عبادت ہیں۔ 

لومحفوظ تمام مخلوقات کے تمام احوال کی جامع ہے : 

اس آیت میں فرمایا ہے ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا اس آیت میں کتاب کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے ‘ لوح محفوظ سے مراد وہ کتاب ہے جس میں تمام مخلوقات کے تمام احوال تفصیل سے لکھے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وکل شیء فعلوہ فی الزبر، وکل صغیر و کبیر مستطر “۔ (القمر : ٥٣۔ ٥٢) 

ترجمہ : انہوں نے جو کچھ کیا ‘ وہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ‘ ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھا ہوا ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تبارک وتعالی نے اپنی مخلوق کو ظلمت میں پیدا کیا ‘ پھر ان پر اپنے نور سے تجلی فرمائی ‘ سو جس نے اس نور کو پالیا ‘ اس نے ہدایت کو پالیا اور جس نے اس نور سے خطا کی وہ گمراہ ہوگیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم پر خشک ہوچکا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٥١‘ صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٥٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٠‘ مسندابو عوانہ ‘ ج ١ رقم ١٧‘ مسند احمد ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٠٦٥) 

حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یقین رکھو کہ اگر تمام امت تم کو نفع پہنچانے پر متفق ہوجائے تو وہ تم کو صرف وہی نفع پہنچا سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے لکھ دیا ہے ‘ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٢٤‘ مسند احمد ج ١‘ ص ٣٠٧‘ ٣٠٣‘ ٢٩٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نوجوان شخص ہوں اور مجھے اپنے نفس پر زنا کا خوف ہے اور عورتوں سے نکاح کر نیکی میرے پاس وسعت نہیں ہے آپ خاموش رہے۔ میں نے پھر عرض کیا آپ نے پھر مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے عرض کیا ‘ آپ نے پھر مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے چوتھی بار اسی طرح عرض کیا تو آپ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! جو کام تمہیں درپیش ہیں ‘ ان کے متعلق قلم (لکھ کر) خشک ہوچکا ہے ‘ خواہ تم خصی ہو یا ایسے رہو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٧٦‘ سنن النسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢١٥) 

ان حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں تمام مخلوقات کے تمام احوال لکھ دیئے گئے ہیں اور قلم لکھ کر خشک ہوچکا ہے۔ 

قرآن مجید تمام عقائد اسلامیہ اور احکام شرعیہ کا جامع ہے : 

اس آیت میں کتاب کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے اور اب معنی یہ ہوگا کہ ہم نے قرآن مجید میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں حساب ‘ الجبرا ‘ ریاضی اور سائنسی علوم اور ان کے قواعد کا ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح جدید اور قدیم میڈیکل سائنس کے علوم کا ذکر نہیں ہے ‘ تو پھر یہ معنی کس طرح درست ہوگا کہ ہم نے قرآن مجید میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کا موضوع ہے دین کی معرفت ‘ عقائد اور احکام شرعیہ کا بیان۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا ہے : 

(آیت) ” ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین “۔ 

ترجمہ : یہ عظیم الشان کتاب ! اس (کے منزل من اللہ ہونے) میں کوئی شک نہیں ہے ‘ یہ متقین کے لیے ہدایت ہے۔ rnّ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ “۔ (النساء : ١٠٥) 

ترجمہ : بیشک ہم نے آپ پر کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے ساتھ فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ کو دکھائی ہے۔ 

(آیت) ” وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون “۔ (النحل : ٦٤) 

ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل فرمائی ہے کہ جس چیز میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے ‘ آپ اس کو صاف صاف بیان کردیں اور یہ کتاب ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

(آیت) ” ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین “۔ (النحل : ٨٩) 

ترجمہ : اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت ‘ رحمت اور بشارت ہے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے یہ کتاب ہر شے کا روشن بیان ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس میں تمام علوم وفنون کا روشن بیان ہے اور ماضی ‘ حال اور مستقبل کے تمام واقعات کا تفصیلی ذکر ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں ہر پیش آمدہ مسئلہ کے لیے روشن ہدایت اور واضح شرعی رہنمائی ہے۔ قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ اس کا موضوع عقائد اسلام اور احکام شرعیہ سارے کے سارے قرآن کریم سے ثابت نہیں ہیں۔ بعض قرآن مجید سے ثابت ہیں ‘ بعض رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ‘ بعض آثار صحابہ سے ‘ بعض اجماع سے اور بعض قیاس سے ثابت ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا ہے، لہذا جو احکام سنت سے ثابت ہیں ‘ ان کی اصل بھی قرآن مجید میں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کی اقتداء کا حکم دیا ہے۔ لہذا جو مسائل آثار صحابہ سے ثابت ہیں ‘ ان کی اصل بھی قرآن کریم میں ہے اور اجماع اور قیاس کا حجت ہونا بھی قرآن مجید سے ثابت ہے۔ لہذا جو مسائل اجماع اور قیاس سے ثابت ہیں ‘ انکی اصل بھی قرآن مجید میں ہے۔ 

سنت کی حجیت پر دلائل : 

جو احکام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہیں ‘ ان کی اصل یہ آیات ہیں : 

(آیت) ” وما اتکم الرسول فخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا “۔ (الحشر : ٥٩) 

ترجمہ : اور رسول تم کو جو (احکام) دیں ان کو قبول کرو اور جن کاموں سے تم کو منع کریں ‘ ان سے باز رہو۔ 

(آیت) ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ (النساء : ٨٠) 

ترجمہ : جس نے رسول کی اطاعت کی ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کرلی۔ 

(آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم “۔ (آل عمران : ٣١) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو ‘ اللہ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ 

آثار صحابہ کی حجیت پر دلائل :

اور صحابہ کرام (رض) کی اطاعت اور اتباع کی اصل یہ احادیث ہیں : 

حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تم کو اللہ سے ڈرنے ‘ احکام کو سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ خواہ تم پر حبشی غلام مسلط کردیا جائے ‘ جو لوگ بعد زندہ رہیں گے وہ بہت اختلاف دیکھیں گے۔ تم دین میں نئی نئی باتیں نکالنے سے آپنے آپ کو بچانا کیونکہ یہ گمراہی ہے ‘ تم میں سے جو شخص اس چیز کو پائے اس پر لازم ہے کہ وہ میری سنت پر عمل کرے اور خلفاء راشدین مھدیین کی سنت پر عمل کرے اور اس کو ڈاڑھوں سے پکڑ لے۔ 

امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٨٥‘ سنن ابو داؤدج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٠٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢‘ سنن دارمی ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٥‘ مسند احمد ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٧١٤٥‘ طبع جدید ‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ١٢٧۔ ١٢٦‘ طبع قدیم ‘ المستدرک ‘ ج ١ ص ٩٧۔ ٩٦) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت ضرور وہ کام کرے گی جو بنواسرائیل نے کیے تھے ‘ بالکل برابربرابر ‘ حتی کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ کھلم کھلابدکاری کی ہو تو میری امت میں بھی لوگ ایسا کریں گے اور بنواسرائیل بہتر (٧٢) فرقوں میں منقسم ہوگئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہوگی ‘ اور ایک فرقے کے سوا سب دوزخ میں جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون سافرقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا جس ملت پر میں ہوں اور میرے اصحاب ہیں۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢٦٥٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد میرے اصحاب میں جو اختلاف ہوگا : اس کے متعلق میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے اصحاب میرے نزدیک آسمان میں ستاروں کی طرح ہیں۔ بعض اصحاب بعض سے زیادہ قوی ہیں اور ہر ایک کا نور ہے ‘ جب ان کے مواقف میں اختلاف ہو تو جو شخص ان میں سے جس کے موقف پر بھی عمل کرے گا ‘ وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں تم نے ان میں سے جس کی بھی اقتداء کی ‘ تو ہدایت پا جاؤ گے۔ اس حدیث کو امام رزین نے روایت کیا ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ‘ ص ٥٥٤‘ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی) 

اس حدیث کے آخری حصہ کو علامہ زبیدی نے امام دارمی اور امام ابن عدی کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (اتحاف السادۃ المتقین ‘ ج ٢‘ ص ٢٢٣‘ مطبوعہ مطبعہ میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣١١ ھ) 

اجماع کی حجیت پر دلائل : 

اجماع کی اصل درج ذیل آیت اور احادیث ہیں : 

(آیت) ” ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “۔ (النساء : ١١٥) 

ترجمہ : جس شخص نے ہدایت واضح ہونے کے بعد رسول کی مخالفت کی اور مسلمانوں کے راستہ کے خلاف چلا تو ہم اس کو اسی طرح پھیر دیں گے جس طرف وہ پھیرا ہے اور اس کو جہنم میں پہنچائیں گے اور وہ کیسا برا ٹھکانہ ہے۔ 

اس آیت میں تمام مسلمانوں کے موقف اور مسلک کی مخالفت پر عذاب کی وعید ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ تمام مسلمانوں کا اجتماعی موقف حجت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کبھی بھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی ‘ سو تم جماعت کو لازم رکھو کیونکہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ١٢ رقم الحدیث : ١٣٦٢٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

حافظ الھیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی دو سندیں ہیں۔ ایک سند کے راوی صحیح اور ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ‘ ج ٥‘ ص ٢١٨) 

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے ‘ اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے۔ میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ دیتا ہے ‘ اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور کسی کی مخالفت ان کو نقصان نہیں پہنچائے گی حتی کہ قیامت آجائے گی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٧١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

قیاس کی حجیت پر دلائل : 

(آیت) ” ھوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر ماظننتم ان یخرجوا وظنوا انھم مانعتھم حصونھم من اللہ فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا وقذف فی قلوبھم الرعب یخربون بیوتھم بایدیھم وایدی المؤمنین فاعتبروا یاولی الابصار “۔ (الحشر : ٢) 

ترجمہ : وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے پہلی بار جلاوطن کرنے کے وقت نکالا ‘ تمہیں ان کے نکل جانے کا گمان (بھی) نہ تھا۔ وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ ان کے مضبوط قلعے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے ‘ سو ان کے پاس اللہ کا حکم آگیا جہاں سے انہیں گماں بھی نہ تھا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا ‘ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو ویران کر رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی ‘ سو اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔ 

اس آیت میں قیاس کی دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعتبار کرنے کا حکم دیا ہے اور اعتبار کا معنی ہے کسی چیز کو اس کی نظیر کی طرف لوٹانا ‘ یعنی جو حکم اصل شئے کے لیے ثابت ہوگا ‘ وہی حکم اس کی نظر کے لیے ثابت ہوگا۔ اس آیت میں مسلمانوں کو عبرت پکڑنے کا حکم دیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جس کام کے سبب سے کفار اہل کتاب پر عذاب نازل ہوا ہے ‘ تم وہ کام نہ کرنا ‘ ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہوگا اور یہی قیاس ہے کہ علت کے اشتراک کی وجہ سے حکم مشترک ہو۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی میری بہن فوت ہوگئی اور اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے تھے۔ آپ نے فرمایا یہ بتاؤاگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتیں۔ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا تو اللہ کا حق ادائیگی کے زیادہ حق دار ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٥٣‘ صحیح مسلم ‘ صیام ‘ ١٥٤‘ (١١٤٨) ٢٦٥١‘ سنن ترمذی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٧١٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣١٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٥٩‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩١٢) 

اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے حق کو بندے کے حق پر قیاس کیا ہے اور جس شخص پر روزے ہوں اور وہ فوت ہوجائے تو اس کا ولی اس کی طرف سے فدیہ دے گا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی ‘ پھر وہ فوت ہوگئی۔ اس کا بھائی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور اس کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا یہ بتاؤ ! اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتے ؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا پھر اللہ کا حق ادا کرو ‘ وہ ادائیگی کے زیادہ حقدار ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٥٢‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٦٩٩‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٣١٥‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٣١) 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا ‘ تم کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر (وہ مسئلہ) کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا آپ نے فرمایا اگر (وہ مسئلہ) سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نہ ہو ؟ انہوں نے کہا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول کو توفیق عطا فرمائی۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٣٢‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٩٢‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٢٣٦‘ ٢٣٠) 

عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ایک دن لوگوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے بہت زیادہ سوالات کیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا ایک زمانہ تھا کہ ہم بالکل فیصلہ نہیں کرتے تھے اور ہم اس مقام پر فائز نہ تھے۔ پھر اللہ عزوجل نے ہمارے لیے وہ چیز مقدر کردی جو تم دیکھ رہے ہو۔ سو آج کے بعد جس شخص کو فیصلہ کرنا پڑے ‘ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے۔ پھر اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جس کا حل کتاب اللہ میں نہ ہو ‘ تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کرے اور اگر کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو جس کا حل نہ کتاب اللہ میں ہو ‘ اور نہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے مطابق فیصلہ کیا ہو تو جس طرح صالحین نے اس کا فیصلہ کیا ہو ‘ اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور اگر کوئی ایسا امر درپیش ہو جس کا حل نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا فیصلہ کیا ہو اور نہ صالحین نے اس کا فیصلہ کیا ہو ‘ تو پھر وہ اپنے رائے سے اجتہاد کرے اور یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں اور میں خوف زدہ ہوں ‘ کیونکہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ امور مشتبہ ہیں تو جس چیز میں تمہیں شک ہو ‘ اس کو چھوڑ کر غیر مشکوک امر کو اختیار کرو۔ امام ابو عبدالرحمن نسائی نے کہا یہ حدیث بہت جید (عمدہ) ہے۔ (سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٥٤١٢‘ ٥٤١٣‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ مسائل کے استنباط اور احکام کے اثبات کے لیے کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی ترتیب کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ 

قرآن مجید میں ہر چیز کے ذکر ہونے پر دلائل : 

اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ آیا قرآن مجید میں صرف ان علوم کو بیان کیا گیا ہے جن کی مکلفین کو ہدایت اور اخروی فوزوفلاح میں احتیاج ہوتی ہے یا قرآن مجید میں دنیا اور آخرت کے ہر واقعہ اور ہر حادثہ کا ذکر موجود ہے۔ علامہ آلوسی کا مختار ثانی الذکر ہے۔ وہ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ بلخی اور ایک جماعت کا مختار ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ان تمام چیزوں کا ذکر ہے جن کی دین اور دنیا میں ضرورت پڑتی ہے ‘ بلکہ اس کے علاوہ دوسری چیزوں کا بھی ذکر ہے ‘ اور یہ ذکر یا مفصل ہے یا مجمل ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دین کا جو مسئلہ بھی پیش آئے گا ‘ اللہ کی کتاب میں اس کے متعلق ہدایت موجود ہے۔ 

امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ گودنے والی پر اور گدوانے والی پر لعنت کرتا ہے ‘ اور بال نوچنے والی پر اور جو خوبصورتی کے لیے دانتوں میں جھری کرواتی ہیں ‘ اور اللہ کی بناوٹ کو تبدیل کرتی ہیں۔ ام یعقوب نے کہا اس کا کیا سبب ہے ؟ حضرت عبداللہ نے کہا میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے اور اس پر کتاب اللہ میں لعنت ہے۔ اس عورت نے کہا بخدا میں نے قرآن مجید کو پڑھا ہے اس میں تو اس لعنت کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا بخدا اگر تم نے قرآن مجید کو پڑھا ہوتا تو تم اس لعنت کو پالیتیں ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اور رسول تم کو جو (احکام) دیں ان کو قبول کرو اور جن کاموں سے تم کو منع کریں ان سے باز رہو۔ (الحشر : ٥٩) (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٥٩٣٩) صحیح بخاری میں اسی قدر ہے ‘ لیکن علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس عورت سے پوچھا ‘ کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی ‘ اس نے کہا پڑھی ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کام سے منع فرمایا ہے۔ 

ایک مرتبہ امام شافعی نے مکہ میں فرمایا تم جو چاہو مجھ سے سوال کرو میں تم کو اللہ کی کتاب سے اس کا جواب دوں گا ان سے سوال کیا گیا جو محرم بھڑ (تتیہ) کو مار ڈالے آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا وہ اس کو مار سکتا ہے اور اس پر حضرت ابن مسعود (رض) کی طرح استدلال کیا۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے کہا اس قرآن میں ہر علم کو نازل کیا گیا ہے اور اس میں ہر چیز کا لیکن ہمارا علم ان چیزوں کو حاصل کرنے سے قاصر ہے جن کا قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اور امام ابو الشیخ نے کتاب العظمہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی چیز سے غافل ہوتا تو چیونٹی ‘ رائی کے دانہ اور مچھر سے غافل ہوتا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر میرے اونٹ کی رسی بھی گم ہوگئی تو میں اسے اللہ کی کتاب میں تلاش کرلوں گا (یہ اثر کسی صحیح یا معتبر سند سے منقول نہیں ہے۔ سعیدی غفرلہ) اور علامہ مرسی نے کہا قرآن مجید میں اولین اور آخرین کے علوم جمع ہیں اور ان علوم کا حقیقتا احاطہ صرف اللہ تعالیٰ نے کیا ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماسوا ان چیزوں کے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ خاص کرلیا ہے ‘ اور میں نے بعض علماء سے سنا اور اس کی صحت کا ذمہ ان ہی پر ہے کہ ایک دن محی الدین ابن العربی قدس سرہ اپنے دراز گوش پر سوار ہو کر جارہے تھے ‘ اچانک شیخ گدھے سے گرگئے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ لوگ شیخ اکبر کو سوار کرانے کے لیے آگے بڑھے ‘ انہوں نے کہا مجھے کچھ مہلت دو ۔ انہوں نے کچھ مہلت دی۔ پھر شیخ نے ان کو سوار کرانے کی اجازت دی ‘ لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ شیخ نے کہا میں نے اللہ کی کتاب میں اس حادثہ پر غور کیا ‘ تو مجھے سورة الفاتحہ میں اس کا ذکر مل گیا ‘ اور یہ امر ہماری عقلوں سے ماوراء ہے۔ اسی طرح بعض علماء نے سورة الفاتحہ سے بادشاہوں کے نام نکالے ہیں اور ان کے احوال اور ان کی سلطنت کی مدت وغیرہ مستنبط کی ہے اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ ام الکتاب ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر اس آیت میں اس تخصیص کی ضرورت نہیں ہے کہ قرآن مجید میں انہی چیزوں کا بیان کیا گیا ہے جن کی مکلفین کو ضرورت ہے۔ مثلا دلائل توحیدوغیرہ۔ (روح المعانی ج ٧ ص ‘ ١٤٥۔ ١٤٤ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

قرآن مجید میں صرف ہدایت کے مذکور ہونے پر دلائل : 

جیساکہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید کا موضوع صرف ہدایت دینا ہے۔ اس لیے اس نے عقائد اسلامیہ اور احکام شرعیہ کی ہدایت دی ہے ‘ اور اس سلسلہ میں موعظت اور نصیحت کے لیے انبیاء اور صالحین اور کفار اور منافقین کا تذکرہ کیا ہے اور جنت اور دوزخ کا بیان کیا ہے اور اخروی فوز و فلاح کی ہدایت کے لیے جو امور ضروری ہیں ان سب کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بعض علماء اور صوفیاء کا یہ نظریہ ہے کہ قرآن مجید میں تمام (آیت) ” ماکان وما یکون “ کا بیان ہے ‘ یعنی ابتداء آفرینش عالم سے لے کر دخول جنت اور دخول نار تک ہر ہر جزی اور مثخص واقعہ اور حادثہ کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔ ہرچند کہ ان کا صراحتا ‘ اور تفصیلا بیان نہیں ہے ‘ لیکن ان امور کا اجمالا ذکر ہے اور کچھ رموز ‘ اشارات اور کنایات ہیں جن سے ان تمام استخراج کیا جاسکتا ہے۔ ان کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء وھدی ورحمۃ وبشری للمسلمین “۔ (النحل : ٨٩) 

ترجمہ : ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔ 

ظاہر ہے کہ یہ آیت ان کے مطلوب پر دلالت کرتی ‘ کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ قرآن مجید میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ اگر ہر چیز سے ” ماکان ومایکون “ مراد لیا جائے تو انکے اپنے قول کے مطابق اس کا بیان رموز اور اشارات سے ہے اور اس کو تبیان اور روشن یا واضح بیان نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں ‘ اگر اس سے مراد عقائد اسلامیہ اور احکام شرعیہ ہوں تو انکی ہر چیز کا قرآن مجید میں روشن بیان ہے۔ نیز وہ اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں : 

(آیت) ” ماکان حدیثا یفتری ولکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شیء وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون “۔ (یوسف : ١١١) 

ترجمہ : یہ (قرآن) کوئی من گھڑت بات نہیں ہے ‘ لیکن یہ ان کتابوں کی مصدق ہے جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور یہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

لیکن اس آیت سے بھی ان کا استدلال صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اگر اس سے یہ مراد ہو کہ اس میں دنیا اور آخرت کے ہر واقعہ اور ہر حادثہ اور آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز کی تفصیل ہے تو فی الواقع قرآن مجید میں ان چیزوں کی تفصیل نہیں ہے اور ان علماء کا بھی یہ کہنا ہے کہ ان تمام امور کا قرآن مجید میں اجمالا ذکر ہے ہے ‘ نہ کہ تفصیلا اس لیے یہ آیت بھی ان کے مدعا پر دلیل نہیں ہے اور اگر اس آیت سے یہ مراد ہو کہ اس میں عقائد اسلامیہ اور احکام شرعیہ میں سے ہر چیز کی تفصیل ہے تو یہ معنی برحق ہے ‘ لیکن یہ معنی ہماری تائید کرتا ہے نہ کہ ان کی۔ 

قرآن مجید میں ہر چیز کے بیان کے متعلق مستند مفسرین کا نظریہ :

امام ابوالحسن علی بن احمد الواحدی النیشا پوری متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں 

(آیت) ” مافرطنا فی الکتاب من شیء “۔ (الانعام : ٣٨) 

ترجمہ : ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا۔ 

عطا نے ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں کو جس چیز کی حاجت تھی ‘ ہم نے اس کا بیان کردیا ہے اور صریح عبارت میں یا دلالت النص سے یا اجمال سے یا تفصیل سے ‘ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے : 

(آیت) ” ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء “۔ (النحل : ٨٩) 

ترجمہ : ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ 

یعنی قرآن مجید ہر اس چیز کا روشن بیان ہے جس کی دین میں احتیاج ہے ‘ اور سورة الانعام کی زیر بحث آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جو ” ماکان وما یکون “ پر مشتمل ہے ‘ یعنی ہم نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا ہے ‘ جیسا کہ حدیث میں ہے قیامت تک کی تمام چیزوں کو لکھ کر قلم خشک ہوگیا ہے۔ (الویسط ‘ ج ٢‘ ص ٢٦٩۔ ٢٦٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٠ ھ) 

علامہ واحدی نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے ‘ وہ یہ ہے : 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ اس سے فرمایا لکھ تو اس نے ابد تک ہونے والی سب چیزوں کو لکھ دیا۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٣٣٠‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث ‘ ٤٧٠‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٣١٧) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ نے قلم کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا لکھ تو اس نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دیا۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٥٠٠‘ مسند ابو یعلی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٢٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٩‘ ص ٣‘ الاسماء والصفات للبیہقی ‘ ص ٣٧٨‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ١٩٠‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے) 

علامہ ابوالفرج جمال الدین عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

کتاب کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے ‘ یعنی ہم نے ہر چیز کو ام الکتاب میں لکھ دیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے ‘ یعنی ہم نے تمہاری حاجت کی ہر چیز قرآن مجید میں بیان کردی ہے یا صراحتا یا اجمالا یا دلالۃ ‘ جیسا کہ سورة النحل : آیت ٨٩ میں ہے ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی جو ہر چیز کا روشن بیان ہے یعنی ہر اس چیز کو بیان کردیا جس کی دین میں احتیاج ہوتی ہے۔ (زادالمیسر ج ٣ ص ٣٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

قرآن مجید کی تمام یا اکثر آیتیں مطابقتا ‘ ضمنا ‘ اور التزاما اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کتاب کو نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دین اللہ کی معرفت اور اللہ کے احکام کی معرفت کو بیان کیا جائے۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٤٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے ‘ کیونکہ اس میں تمام حوادث ثابت کیے گئے ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے یعنی ہم نے دین کی کسی چیز کو قرآن مجید میں نہیں چھوڑا ‘ اور دین کی ہر چیز کی اس میں دلالت ہے۔ یا تو بالکل واضح دلالت ہے اور اگر مجمل دلالت ہے تو اس کا بیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یا اجماع سے یا قیاس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (الجاع لا احکام القرآن جز ٦ ص ٣٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بن محمد شیرازی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

کتاب سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے ‘ کیونکہ اس میں دنیا کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز لکھی ہوئی ہے اور اس میں کسی جاندار یا بےجان کی کسی چیز کو ترک نہیں کیا گیا اور یا کتاب سے مراد قرآں مجید ہے ‘ کیونکہ اس میں ان تمام چیزوں کی تدوین کی گئی ہے جن کی دین میں احتیاج ہوتی ہے۔ مفصلا بھی اور مجملا بھی۔ (البیضاوی مع الکازرونی ‘ ج ٢‘ ص ٤٠٦ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٦ ھ) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اگر کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کتاب میں ایسی کسی چیز کو نہیں چھوڑا جو اللہ کی معرفت کی دعوت دیتی ہو ‘ اور اس کے احکام کی طرف بلاتی ہو۔ اور اس میں اشارہ ہے کہ یہ کتاب تمام احکام شرعیہ پر مشتمل ہے۔ (البحرالمحیط ‘ ج ٤‘ ص ٥٠٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن قیم جو زیہ حنبلی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : 

کتاب کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ اس بناء پر اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس چیز کو نہیں چھوڑا جس کے ذکر کی احتیاج ہے۔ (بدائع التفسیر ‘ ص ١٤٨۔ ١٤٧‘ مطبوعہ دارابن الجوزی ‘ ریاض ‘ ١٤١٤ ھ) 

علامہ نظام الدین حسن بن محمد حسین قمی نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے کتاب میں کسی چیز کے ذکر کو نہیں چھوڑا۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں طب ‘ حساب ‘ دیگر علوم اور لوگوں کے مذاہب کی تفصیلات تو نہیں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تفریط نہ کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کی احتیاج ہو اس کو نہ چھوڑا جائے اور احتیاج اصول اور قوانین کی ہوتی ہے۔ اور وہ قرآن مجید میں مذکور ہیں اور علم الفروع کی تفاصیل کے متعلق علماء نے کہا ہے کہ وہ سنت ‘ اجماع اور قیاس سے ثابت ہیں۔ (غرائب القرآن ورغائب الفرقان علی ھامش ’ جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٤٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤٠٩ ھ) 

علامہ ابو البرکات احمد بن محمد نسفی حنفی متوفی ٧١٠ ھ لکھتے ہیں : 

اگر کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو اس کا معنی ہے کہ یہ کتاب اپنی عبارت ‘ دلالت ‘ اشارت اور اقتضاء کے اعتبار سے ان تمام امور پر مشتمل ہے جن کی طرف ہم اپنی عبادت میں محتاج ہیں۔ (مدارک التنزیل علی ھامش الخازن ‘ ج ٢‘ ص ١٥‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ ‘ پشاور) 

علامہ ابو سعود محمد بن عمادی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اہم اشیاء کے بیان میں سے قرآن مجید میں کسی شے کو ترک نہیں کیا اور ان میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کی مصلحتوں کی رعایت فرماتا ہے۔ (تفسیر ابو سعود علی ھامش التفسیر الکبیر ‘ ج ٣‘ ص ١٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٣٩٨ ھ) 

قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

یا کتاب سے مراد قرآن مجید ہے ‘ کیونکہ اس میں ان تمام چیزوں کو مفصلا یا مجملا مدون کیا گیا ہے جن کی دین میں احتیاج ہوتی ہے۔ (التفسیر المظہری ‘ ج ٣‘ ص ٢٣٤‘ مطبوعہ بلوچشتان بک ڈپو ‘ ١٤٠٤ ھ) 

سید محمد رشید رضا اپنے استاد الشیخ محمد عبدہ کی تقریر لکھتے ہیں : 

اگر کتاب سے قرآن مجید مراد لیا جائے تو اس آیت کے عموم سے مراد دین کے موضوع کا عموم ہوگا ‘ جس دین کو دے کر رسولوں کو بھیجا جاتا ہے ‘ اور جس کی وجہ سے کتابوں کو نازل کیا جاتا ہے اور وہ ہدایت ہے کیونکہ ہر چیز کا عموم اس کے اعتبار سے ہوتا ہے اور اس آیت کا معنی ہے کہ ہم نے اس کتاب میں ہدایت کی ان اقسام میں سے کسی قسم کو ترک نہیں کیا جن کی وجہ سے رسولوں کو بھیجا جاتا ہے ‘ اور ہم نے ان کو اس کتاب میں بیان کردیا ہے اور وہ دین کے اصول ‘ قواعد اور احکام ہیں اور ان میں انسان کی قوت بدنی اور قوت عقلی کی یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کردیا ہے ‘ وہ ان سے کس طرح استفادہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی سنتوں کی رعایت کرکے کس طرح سے انفرادی اور اجتماعی کمال حاصل کرے اور قرآن مجید نے صریح عبارات اور اشارات سے اس کے حصول کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ 

بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں تمام کائنات کے علوم ہیں اور تمام ” ماکان وما یکون “ کا ذکر ہے اور یہ کہ ایک دن شیخ محی الدین ابن العربی اپنے دراز گوش سے گرے گئے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو انہوں نے لوگوں کو اس وقت تک یہ اجازت نہیں دی کہ ان کو اٹھائیں جب تک کہ انہوں نے سورة فاتحہ سے اپنے گدھے سے گرنے اور ٹانگ ٹوٹنے کے حادثہ کا استخراج نہیں کرلیا۔ یہ دعوی ایسا ہے کہ صحابہ میں سے کسی نے اس کا قول نہیں کیا اور نہ فقہاء تابعین اور علماء سلف صالحین میں سے کسی کا یہ قول ہے اور نہ ہی لوگوں میں سے کوئی شخص اس قول کو قبول کرے گا ‘ سوا ان لوگوں کے جن کا یہ اعتقاد ہے کہ گزرے ہوئے لوگوں نے جو کچھ اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے وہ سب حق ہے۔ خواہ اس کو عقل قبول کرے ‘ نہ اس کی نقل تائید کرے اور نہ اس پر لغت دلالت کرے۔ اس کے برعکس ائمہ سلف نے یہ کہا ہے کہ عبادات ضروریہ کے تمام احکام فرعیہ پر قرآن مجید مشتمل نہیں ہے نہ صریح عبارت سے ‘ نہ اشارۃ النص سے ‘ بلکہ قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنا واجب ہے۔ لہذا ہر وہ چیز جو سنت سے ثابت ہے ‘ اس پر بھی قرآن دلالت کرتا ہے۔ نیز قرآن مجید نے قیاس صحیح کے قواعد کو ثابت کیا ہے اور دیگر قواعد کو بھی ثابت کیا ہے۔ لہذا قیاس کی فروع اور جزئیات پر بھی قرآن مشتمل ہے اور دین کی کوئی چیز ان سے خارج نہیں ہے۔ (المنار ‘ جز ٧‘ ص ٣٩٥‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

علامہ محمد جمال الدین قاسمی متوفی ١٣٣٢ ھ لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید شریعت کا کلیہ ہے اور اس میں امور کلیات جمع کیے گئے ہیں ‘ کیونکہ ان کے نزول کے مکمل ہونے سے شریعت تام ہوگئی ‘ لہذا جب ہم شریعت کے کلیات کی طرف نظر کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید ان تمام کو شامل ہے۔ (تفسیر القاسمی ‘ ج ٦‘ ص ٥٢١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

علامہ احمد مصطفیٰ المراغی لکھتے ہیں : 

ایک قول یہ ہے کہ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے ‘ یعنی ہم نے قرآن مجید میں ہدایت کی ان اقسام میں سے کوئی قسم نہیں چھوڑی جن کی وجہ سے رسولوں کو بھیجا گیا ہے اور اس میں دین کے اصول ‘ احکام اور حکمتوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ انسان اپنی بدنی اور عقل قوتوں کو کس طرح استعمال کرے۔ (تفسیر المراغی ‘ ج ٧‘ ص ١١٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

ڈاکٹروھبہ زحیلی لکھتے ہیں : 

اگر اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ قرآن مجید مکمل شریعت پر دلالت کرتا ہے اور اسلام کے مبادی اور تمام احکام کے اصول اور دین کے اخلاق و ضوابط پر محیط ہے۔ (التفسیر المنیر ‘ جز ٧ ص ١٩٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١١ ھ) 

علامہ محی الدین شیخ زادہ متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآں کریم میں علم طب اور علم حساب کی تفاصیل کا ذکر تو نہیں ہے ‘ نہ دیگر علوم اور ان کے مباحث کا ذکر ہے اور نہ ائمہ کے مذاہب کا ذکر ہے اور نہ انکے ان دلائل کا ذکر ہے جو علم الاصول اور علم الفروع میں ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہم نے کتاب میں سے کسی چیز کا ذکر نہیں چھوڑا ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ مکلفین کو اپنے دین کی فہم میں جن امور کی ضرورت ہوتی ہے ‘ ہم ان کو نہیں چھورا۔ اور جن امور کی حاجت نہیں ہے ‘ ان کی تفصیل نہیں کی اور علم الاصول بتمامہ قرآن کریم میں موجود ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں دلائل اصلیہ پوری تفصیل سے موجود ہیں اور ائمہ مذاہب کی تفاصیل اور ان کے اقوال کے ذکر کی اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ باقی رہی علم الفروع کی تفاصیل تو علماء نے ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجماع ‘ خبر واحد اور قیاس شریعت میں حجت ہیں اور جو مسئلہ بھی ان تین ذرائع میں سے کسی ایک سے ثابت ہوگا ‘ وہ درحقیقت قرآن کریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور رسول تم کو جو (احکام) دیں ‘ ان کو قبول کرو اور جن کاموں سے تم کو روکیں ان سے باز رہو (الحشر : ٥٩) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تم میری سنت پر اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر لازم عمل کرنا اور حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا میں اس پر کیوں نہ لعنت کروں جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے ‘ یعنی گودنے والی پر اور گدوانے والی پر اور بال جوڑنے والی پر اور بال جڑوانے والی پر۔ 

روایت ہے کہ ایک عورت نے پورے قرآن کو پڑھا پھر وہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آئی اور کہنے لگی میں نے گذشتہ رات پورے قرآن کو پڑھا اور مجھے اس میں یہ آیت نہیں ملی کہ گودنے والی پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اگر تم واقعی تلاوت کرتیں تو تو تم کو آیت مل جاتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور رسول تم کو جو (احکام) دیں ان کو قبول کرو ‘ اور جن کاموں سے منع کریں ان سے باز رہو ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جو احکام دیئے ہیں ‘ ان میں یہ حکم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ گودنے والی پر اور گدوانے والی پر لعنت فرماتا ہے ‘ اور روایت ہے کہ ایک دن امام شافعی مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے آکر پوچھا اگر محرم بھڑ (تتیہ) کو مار دے تو کیا اس پر تاوان ہے ؟ امام شافعی نے فرمایا اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ اس شخص نے پوچھا کہ حکم قرآن مجید میں کہاں ہے ؟ کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور رسول تم کو جو (احکام) دیں وہ قبول کرو پھر سند کے ساتھ بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میری سنت پر اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر لازما عمل کرنا۔ پھر سند کے ساتھ ذکر کیا کہ جس محرم نے بھڑ کو قتل کیا تھا ‘ اس کے متعلق حضرت عمر (رض) نے یہی فرمایا تھا ‘ تو امام شافعی نے تین درجات کے ساتھ اس حکم کو قرآن مجید سے مستنبط کیا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ جب قرآن مجید اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجماع حجت ہے اور خبر واحد حجت ہے اور قیاس حجت ہے ‘ لہذا ہر وہ حکم جو ان تین طریقوں میں سے کسی ایک سے ثابت ہوگا ‘ وہ درحقیقت قرآن مجید سے ثابت ہوگا اور اس تقریر کے مطابق اس آیت کا یہ معنی صحیح ہے کہ ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان کو نہیں چھوڑا ‘ کیونکہ اس کتاب کا موضوع عقائد اسلام اور احکام شرعیہ کا بیان ہے اور وہ تمام عقائد اور احکام قرآن مجید میں یا صریح عبارت کے ساتھ موجود ہیں یا دلالت کے ساتھ موجود ہیں اور وہ دلالت اجماع ‘ خبر واحد یاقیاس میں سے کسی ایک سے حاصل ہوگی۔ (حاشیہ شیخ زادہ علی تفسیر الیضاوی ‘ ج ٢‘ ص ١٦٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

ہم نے یہ واضح کرنے کے لیے بہ کثرت دلائل اور حوالہ جات پیش کیے ہیں کہ قرآن مجید میں صرف عقائد اسلام اور احکام شرعیہ کو بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ بات بہت مشہور ہوگئی ہے کہ قرآن مجید میں ابتداء افرینش عالم سے لے کر دخول جنت اور دخول نار تک تمام کو ائن اور حوادث اور تمام مخلوقات کے تمام احوال بیان کیے گئے ہیں اور جیسا کہ قارئین پر واضح ہوچکا ہے ‘ یہ بالکل بےاصل بات ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 38