أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡوَزۡنُ يَوۡمَئِذِ اۨلۡحَـقُّ‌ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اس دن اعمال کا وزن کرنا برحق ہے، پس جن (کی نیکیوں) کے پلڑے بھاری ہوئے تو وہی کامیاب ہیں

تفسیر:

تفسیر آیت 8 ۔ 9: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اس دن اعمال کا وزن کرنا برحق ہے، پس جن (کی نیکیوں) کے پلرے بھاری ہوئے تو وہی کامیاب ہیں۔ اور جن (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوئے تو وہی اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنے والے ہیں کیوں کہ وہ ہماری آیتوں پر ظلم کرتے تھے “۔

مشکل الفاظ کے معانی اور آیت سابقہ سے مناسبت : 

” وزن “ علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ وزن کا معنی ہے کسی چیز کی مقدار کی معرفت حاصل کرنا۔ اور عرف عام میں ترازو سے کسی چیز کے تولنے کو وزن کرنا کہتے ہیں۔ (المفردات، ص 523، مطبوعہ ایران، 362 ھ) ۔ 

علامہ جار اللہ زمخشری متوفی 583 ھ نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کے درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا حتی کہ اس درخت سے کھجوروں کو کھایا جائے اور ان کا وزن کیا جائے۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے پوچھا وزن سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اس کی مقدار کا اندازہ کیا جائے۔ (الفائق ج 3، ص 358، مطبوعہ بیرون، 1417 ھ، النہایہ، ج 5 ص 182، مطبوعہ ایران، 1367 ھ، تاج العروس، ج 10، س 360، مطبوعہ مصر) ۔

” میزان ” علامہ زبیدی حنفی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں : جس آلہ کے ساتھ چیزوں کا وزن کیا جائے اس کو میزان کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا ہے کہ جو میزان قیامت میں ہوگی اس کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے۔ تفسیر میں ہے کہ وہ ایک ترازو ہے جس کے دو پلڑے ہیں۔ دنیا میں میزان اتاری گئی تاکہ لوگ عدل کے ساتھ باہم معاملہ کریں اور اس کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ (تاج العروس، ج 9، ص 361، مطبوعہ المطبعہ الخیریہ، مصر 1306 ھ) ۔

” موازین ” یہ میزان کی جمع ہے۔ اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ قیامت کے دن میزان تو صرف ایک ہوگی۔ پھر یہاں جمع کا صیغہ کیوں لایا گیا ہے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ موزون کی جمع ہے اور موزون متعدد ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اھل عرب واحد پر بھی تعظیماً جمع کا اطلاق کردیتے ہیں اور تیسرا جواب یہ ہے کہ جو اعمال و وزن اور حساب کے لائق ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔ افعال قلوب، افعال جوارح (ظاہری اعضاء کے افعال) اور اقوال اور ہوسکتا ہے کہ ان تینوں کے لیے الگ الگ میزان ہوں۔ ایک قول یہ ہے کہ وزن کرنے والوں کی اکثریت کے اعتبار سے میزان کو جمع کرکے لایا گیا ہے۔ 

اس سے پہلی آیت میں قیامت کے دن انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی امتوں سے سوال کرنے کا ذکر تھا اور یہ قیامت کے دن کا ایک حال ہے اور دوسرا حال میزان پر اقوال اور اعمال کا وزان کرنا ہوگا۔ سو اس آیت میں قیامت کے دن کا یہ دوسرا حال بیان فرمایا ہے۔ 

اعمال کے وزن کے متعلق مذاہب علماء : مجاہد، ضحاک، اعمش اور بہ کثرت متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ قیامت کے اعمال کو وزن کرنے سے مراد عدل اور قضاء ہے۔ کیونکہ دنیا میں لین دین میں عدل کا ذریعہ ترازو میں وزن کرنا ہے اور وزن کرنے کو عدل اور قضاء لازم ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جس شخص کے اعمال کا میزان میں وزن کیا جائے گا تو وہ اللہ کے عادل اور حکیم ہونے کا اقرار کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے عادل اور حکیم ہونے کا اقرار کرے گا تو اس کے لیے میزان کی کوئی حاجت نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں اور گناہوں کے متعلق جو بھی فیصلہ فرمائے گا، وہ اس کو تسلیم ہوگا اور اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کو عادل اور صادق نہیں مانتا تو پھر وہ نیکیوں اور گناہوں کے کیے ہوئے وزن کو بھی نہیں مانے گا تو پھر میزان میں اس کے کیے ہوئے وزن کا کوئی فائدہ نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی نیک مسلمان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور اس کی نیکیوں کا پلڑہ گناہوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا تو اس مسلمان شخص اور اس کے دوستوں کو فرحت اور مسرت حاصل ہوگی اور تمام اہل محشر کے سامنے اس کے جنتی ہونے پر حجت قائم ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں اس کو حقیر سمجھتے تھے، ان کے سامنے اس کی عزت و توقیر اور وجاہت ظاہر ہوگی اور وہ اپنے محبین کے سامنے سرخرو ہوگا اور یہ میزان کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) ، جمہور صحابہ، تابعین اور علماء اسخین کا مذہب یہ ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا حقیقتاً وزن کیا جائے گا۔ مانعین کا اس پر اعتراض یہ ہے کہ اعمال از قبیل اعراض ہیں اور وزن اجسام کا کیا جاتا ہے، اعراض کا نہیں کیا جاتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان اعراض کے مقابلہ میں اجسام پیدا فرما دے اور ان اجسام کا وزن کیا جائے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نیک اعمال حسین اجسام میں متمثل کردیے جائیں گے اور بداعمال قبیح اجسام میں متشکل کردئیے جائیں گے اور ان کا وزن کیا جائے گا۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ نفس اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا بلکہ صحائف اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ موخر الذکر دونوں جوابوں کے متعلق احادیث ہیں، جن کا ہم عنقریب ذکر کررہے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج 5 ص 203 ۔ 204 مع التلخیص و التوضیح، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

قرآن مجید سے میزان کے ثبوت پر دلائل :

” ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ فلا تظلم نفس شیئا و ان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بہا و کفی بنا حاسبین : اور قیامت کے دن ہم انصاف کی میزان رکھیں گے سو جن کی میزان کے (نیکی کے) پلڑے بھاری ہوئے وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔ اور جن کی میزان کے (نیکی کے) پلڑے ہلکے ہوئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا، اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 

” فاما من ثقلت موازینہ۔ فھو فی عیشۃ راضیۃ۔ واما من خفت موازینہ فامہ ھاویۃ : سو جس (کی نیکی) کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو اس کا ٹھکانا ہاویہ (دیکتی آگ کا گہرا گڑھا) ہوگا۔

احادیث اور آثار سے میزان کے ثبوت پر دلائل : حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میزان کو رکھا جائے گا، اگر اس میں آسمانوں اور زمینوں کو رکھا جائے تو وہ اس کی بھی گنجائش رکھتی ہے۔ پس فرشتے کہیں گے : اے رب اس میں کس کو وزن کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں اپنی مخلوق سے جس کو چاہوں گا، فرشتے کہیں گے تو پاک ہے ہم تیری اس طرح عبادت نہیں کرسکے جو تیری عبادت کا حق ہے (الحدیث) امام حاکم متوفی 405 ھ نے کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ (المستدرک ج 4 ص 586، مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ) 

حافظ ذہبی متوفی 848 ھ نے امام حاکم کی موافقت کی ہے۔ (تلخیص المستدرک ج 4 ص 586، مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ) امام عبداللہ بن المبارک متوفی 181 ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (کتاب الزہد، رقم الحدیث، 1357، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت) امام ابوبکر محمد بن الحسین آجری متوفی 360 ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے (الشریعہ، ص 339، مطبوعہ دار السلام، ریاض)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : نیکیوں اور برائیوں کا میزان میں وزن کیا جائے گا۔ اس میزان کی ایک ڈنڈی اور دو پلڑے ہیں۔ رہا مومن تو اس کا عمل حسین صورت میں آئے گا اور اس کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس کی نیکیوں کا پلڑا، برائیوں کے پلڑے کے مقابلہ میں بھاری ہوگا۔ (شعب الایمان ج 1 ص 264 رقم الحدیث : 284 ۔ الجامع لاحکام القرآن، جز 7، ص 151 مطبوعہ دار الفکر، بیروت 1415 ھ) 

عبیداللہ بن غیزار نے کہا قیامت کے دن اقدام اس طرح ہوں گے جیسے ترکش میں تیر۔ خوش قسمت وہ شخص ہے جسے اپنے قدموں کے لیے جگہ مل جائے اور میزان کے پاس ایک فرشتہ ندا کرے گا، سنو فلاں بن فلاں (کی نیکیوں) کا پلڑا بھاری ہے، اس نے ایسی کامیابی حاصل کی ہے کہ پھر کبھی ناکام نہیں ہوگا۔ سنو فلاں بن فلاں (کی نیکیوں) کا پلڑا ہلکا ہے یہ ناکام ہوگیا ہے اس کے بعد کبھی کامیاب نہیں ہوگا (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5 ص 1441 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ المکرومہ 1417 ھ)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے یادہ راجح ہو قیامت کے دن میزان میں اس (کی نیکیوں) کا پلڑا ہلکا ہوگا اور جس شخص کا باطن اس کے ظاہر سے زیادہ راجح ہو قیامت کے دن میزان میں اس (کی نیکیوں) کا پلڑا بھاری ہوگا۔ (الدر المثور ج 3 ص 70 مطبوعہ ایران البدور السافرۃ رقم الحدیث 918)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو لفظ زبان پر آسان ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور رحمن کو محبوب ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ (صحیح البخاری ج 7 رقم الحدیث 1406 رقم الحدیث 7563 ۔ صحیح مسلم، الذکر :31 (2694) ۔ سنن الترمذی ج 5 رقم الحدیث 3467، ج 2 رقم الحدیث 3806)

حضرت ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وضو نصف ایمان ہے اور الحمد للہ میزان کو بھر لیتا ہے (صحیح مسلم الطہارۃ (223) سنن الترمذی ج 5 رقم الحدیث :3517 ۔ سنن الدارمی ج رقم الحدیث :653)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تمام آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ انمیں ہے اور ان کے درمیان ہے، اور ان کے نیچے ہے۔ اگر تم ان کو لے کر آؤ اور اس کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھ دو اور کلمہ شہادت کو دوسرے پلڑے میں رکھ دو تو وہ پہلے پلڑے سے بھاری ہوگا۔ (المعجم الکبیر ج 12 ص 254 رقم الحدیث :13024، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک شخص کو قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا۔ اس کے (گناہوں کے) ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے ان میں سے ہر رجسٹر حدنظر تک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو، وہ کہے گا نہیں ! اے میرے رب ! پھر فرمائے گا کیا میرے لکھنے والے فرشتوں نے تم پر کوئی زیادتی کی ہے ؟ وہ کہے گا نہیں اے میرے رب ! پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیوں نہیں میرے پاس تمہاری ایک نیکی ہے اور آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا پھر اس کے لیے ایک پرچی نکالی جائے گی جس پر لکھا ہوگا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد عبدہ ورسولہ وہ کہے گا اے میرے رب ! یہ ایک پرچی اتنے بڑے رجسٹروں کے سامنے کیا وقعت رکھتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بیشک تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر ایک پلڑے میں یہ پرچی ہوگی اور دوسرے پلڑے میں وہ رجسٹر ہوں گے پھر ان رجسٹروں کا پلڑا ہلکا ہوگا اور اس پرچی کا پلڑا بھاری ہوگا اور اللہ کے نام کے مقابلہ میں کوئی چیز بھاری نہیں ہوسکتی۔ (سنن الترمذی ج 4 رقم الحدیث 2548 ۔ سنن ابن ماجہ ج 2 رقم الحدیث 4300 ۔ المستدرک ج 1 ص 529)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میزان کو قائم کیا جائے گا۔ پھر ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کے گناہوں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔ وہ پلڑہ جھک جائے گا اور اس کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جائے گا تو رحمن کے پاس سے اس کو ایک بلانے والا بلائے گا۔ جلدی نہ کرو، جلدی نہ کرو اس کی ایک نیکی باقی ہے۔ پھر کلمہ شہادت کی ایک پرچی لائی جائے اور اس آدمی کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دی جائے گی اور اس سے میزان جھک جائے گی۔ (مسند احمد رقم الحدیث 7066 ۔ مجمع الزوائد، ج 10، ص 82)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھے اخلاق سے بڑھ کر میزان میں کوئی چیز بھاری نہیں ہے۔ (سنن ابو داود ج 4 رقم الحدیث 4799 ۔ سنن الترمذی ج 3، رقم الحدیث 2009 ۔ مسند احمد ج 10 رقم الحدیث 27587 ۔ صحیح ابن حبان، ج 2، رقم الحدیث 481، مصنف ابن ابی شیبہ، ج 8 ص 516 ۔ الادب المفرد، رقم الحدیث 270 ۔ مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث 20157 ۔ شرح السنہ ج 2 رقم الحدیث : 783 ۔ حلیۃ الاولیاء ج 5 ص 243 ۔ ا لشریعہ، رقم الحدیث : 864)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اللہ پر ایمان اور اس کے وعدہ کی تصدیق کی وجہ سے اللہ کی راہ میں گھوڑے کو باندھا، اس گھوڑے کا چارہ، اس کا پانی اور اس کی لید اور اس کا پیشاب قیامت کے دن میزان میں وزن کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری، ج 3، رقم الحدیث 2853، المستدرک، ج 2 ص 92 ۔ سنن کبری للبیہقی ج 10 ص 27 ۔ شرح السنہ رقم الحدیث 2648) 

امام ابن المبارک متوفی 181 ھ نے حماد بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص آئے گا۔ وہ اپنے نیک اعمال کو بہت کم جان رہا ہوگا۔ وہ اسی کیفیت میں ہوگا کہ بادل کی طرح ایک چیز آئے گی اور اس کی نیکیوں کے پلڑے میں جاگرے گی۔ اس سے کہا جائے گا یہ وہ چیز ہے جو تم لوگوں کو نیکیوں کی تعلیم دیتے تھے۔ تمہارے بعد تمہاری تعلیم سے نیکیاں ظہور میں آئیں اور تم کو ان کا اجر دیا گیا۔ (کتاب الزہد لابن المبارک، رقم الحدیث 1384، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت) 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان شخص بھی ان کی حفاظت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ وہ دونوں آسان کام ہیں اور کم لوگ ان کو کرتے ہیں۔ (پہلی خصلت یہ ہے کہ) ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ کہے، دس مرتبہ الحمدللہ کہے، اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ یہ زبان سے ڈیڑ سو بار پڑھنا ہے اور میزان میں یہ ڈیڑھ ہزار نیکیاں ہیں (اور دوسری خصلت یہ ہے کہ) اور جب بستر پر جائے تو چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، اور تینتیس مرتبہ الحمدللہ کہے اور تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہے۔ یہ زبان سے ایک سو مرتبہ پڑھنا ہے اور میزان میں ایک ہزار نیکیاں ہیں تو بتاو تم میں سے کون شخص ایک دن رات میں ڈھائی ہزار نیکیاں کرتا ہے۔ (سنن ابو داود ج 4 رقم الحدیث 5065 ۔ سنن الترمذی ج 5 رقم الحدیث 3421 ۔ سنن ابن ماجہ ج 1 رقم الحدیث 926 ۔ سنن النسائی ج 3 رقم الحدیث 1347 ۔ مصنف عبدالرزاق ج 2 رقم الحدیث 3189)

آیا میزان میں صرف مسلمانوں کا وزن ہوگا یا کافروں کا بھی وزن ہوگا ؟ 

اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ آیا صرف مسلمانوں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا یا کافروں کے اعمال کا بھی وزن کیا جائے گا۔ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ صرف مسلمانوں کے اعمال کا وزن کی اجائے گا اور کافروں کے اعمال کا وزن نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ قرآن مجید میں ہے۔ ” اولئک الذین کفروا بایت ربہم ولقائدہ فحبطت اعمالہم فلانقیم لہم یوم القیمۃ وزنا : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا سو ہم قیامت کے ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ” (الکہف :105) ۔ 

لیکن اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ جن کافروں کو اللہ تعالیٰ جلد دوزخ میں ڈالنا چاہے گا ان کو بغیر وزن اعمال کے دوزخ میں ڈال دے گا اور بقیہ کافروں کے اعمال کا وزن کیا جائے گا جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے ” ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسہم فی جہنم خلدون : اور جن کی میزان کے پلرے ہلکے ہوئے تو یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ” (المومنون :103)

اسی طرح بعض مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ بغیر وزن اعمال اور بغیر حساب کے جنت میں داخل کردے گا۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کراتے ہوں گے، نہ بدشگونی نکالتے ہوں گے اور نہ جسم کو لوہے کے داغ سے جلاتے ہوں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہوں گے۔ 

امام بخاری نے اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حضرت ان عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم، ایمان، 367) 216) 509، صحیح البخاری، 7 رقم الحدیث 1542، سنن الترمزی، ج 4 رقم الحدیث، 2454، مسند احمد، ج 1 ص 454، 443، 403، 401، 271 ۔

امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی 360 ھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن شہید کو لایا جائے گا اور اس کو حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ پھر صدقہ دینے والے کو لایا جائے گا اور اس کو حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ پھر مصیبت میں مبتلا شخص کو لایا جائے گا اس کے لیے میزان قائم کی جائے گی نہ اس کے اعمال کا رجسٹر کھولا جائے گا اور اس پر اتنا اجر وثواب انڈیل دیا جائے گا کہ عیش و آرام میں رہنے والے محشر میں یہ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے جسموں کو قینچی سے کاٹ ڈالا جاتا اور ان کو بھی ایسا اجر وثواب مل جاتا۔ (المعجم الکبیر ج 12 رقم الحدیث 12829، حلیۃ الاولیاء ج 3 ص 91) ۔

ان مسلمانوں کی مغفرت کی صورتیں جن کی نیکیاں گناہوں کے برابر یا گناہوں سے کم ہوں گی : 

آیت 8 میں فرمایا ہے : پس جن (کی نیکیوں) کے پلڑے بھاری ہوئے تو وہی کامیاب ہیں۔ اس آیت سے مراد مومن ہیں اور آیت 9 میں فرمایا ہے : اور جن (کی نیکیوں) کے پلڑے ہلکے ہوئے تو وہی اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنے والے ہیں کیونکہ وہ ہماری آیتوں پر ظلم کرتے تھے۔ اس آیت سے کافر مراد ہیں۔ کیونکہ وہی اللہ کی آیتوں کا انکار کرکے ان پر ظلم کرتے تھے۔ 

ان آیتوں میں صالح اور نیک مسلمانوں کا ذکر فرمایا ہے جن کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے اور کافروں کا ذکر فرمایا ہے جن کی نیکیوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔ اس آیت میں ان مسلمانوں کا ذکر نہیں ہے ج کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں اور نہ ان مسلمانوں کا ذکر ہے جن کی نیکیاں برائیوں سے کم ہوں، رہے وہ مسلمانجن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں تو وہ اعراف میں ہوں گے اور بعد میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا اور رہے وہ مسلمان جن کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے جنت میں داخل فرما دے گا یا کچھ عذاب دے کر یا بغیر عذاب دیے ان کو محض اپنے فضل و کرم سے دوزخ سے نجات دے گا اور جنت میں داخل فرما دے گا۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے نجات کے متعلق یہ حدیث ہے امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت ابوہیرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے اور ہر نبی نے اس مقبول دعا کو دنیا ہی میں جلد خرچ کرلیا اور میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے لیے چھپا کر رکھا ہے اور یہ انشاء اللہ میری امت میں سے ہر اس شخص کو حاصل ہوگی جو اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہ کیا ہو۔ (صحیح البخاری ج 7 رقم الحدیچ 6304 ۔ صحیح مسلم الایمان : 338 (199) 483 ۔ سنن الترمذی ج 5 رقم الحدیث 3613 ۔ سنن ابن ماجہ ج 2 رقم الحدیث 4307 ۔ موطا امام مالک، رقم الحدیث : 492، مسند احمد، ج 3، رقم الحدیث 10315 ۔ صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6461 ۔ مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث 20864)

محض اپنے فضل سے عذاب دینے کے بعد دوزخ سے نجات دینے کے متعلق یہ حدیث ہے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جن تمہیں داخل فرمائے گا اور اپنی رحمت سے جس کو چاہے گا، جنت میں داخل فرمائے گا اور اہل جہنم میں سے جس کو چاہے گا جہنم میں داخل کردے گا۔ پھر فرمائے گا دیکھو، جس کے دل میں رائی کے ایک دانہ کے برابر بھی ایمان ہو، اس کو جہنم سے نکال لو، پس وہ لوگ جہنم میں سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ ان کا جسم جل کر کوئلہ ہوچکا ہوگا۔ پھر ان کو آب حیات کی نہر میں ڈالا جائے گا اور وہ اس نہر میں سے اس طرح تروتازہ ہو کر نکلنا شروع ہوں گے جیسے دانہ پانی کے بہاؤ والی مٹی میں سے زردی مائل ہو کر اگ پڑتا ہے۔ (صحیح البخاری ج 1 رقم الحدیث : 22، ج 7، رقم الحدیث :6560 ۔ صحیح مسلم، ایمان، 304 (184) 449) ۔

اور محض اپنی رحمت سے بغیر عذاب دیے ہوئے جنت میں داخل کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن مومن کو اپنے رب عزوجل کے قریب کی جائے گا حتی کہ اللہ اس کے اوپر اپنی رحمت کا پر رکھ دے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا تم (اس گناہ کو) ہپانتے ہو ؟ وہ کہے گا ہاں میرے رب میں پہچانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تم پر ستر کیا تھا (تمہارا پردہ رکھا تھا) اور آج میں تمہیں بخش دیتا ہوں۔ پھر اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور رہے کافر اور منافق تو ان کو تمام لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا تھا۔ (صحیح البخاری، ج 3، رقم الحدیث :2441 ۔ صحیح مسلم، التوبہ :52، (2768) (6882) ۔ السنن الکبریج 6، رقم الحدیث 1242، سنن ابن ماجہ، ج 1، رقم الحدیث : 183)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 8