میں کیا پوچھوں کہ ہے میری خطا کیا
sulemansubhani نے Saturday، 19 October 2019 کو شائع کیا.
میں کیا پوچھوں کہ ہے میری خطا کیا
کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
پیش کش : ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
❤️
میں کیا پوچھوں کہ ہے میری خطا کیا
عتاب بے سبب کا پوچھنا کیا
❤️
نہیں احوالِ دل تعریف دشمن
سنیں وہ کان دھر کر ماجرا کیا
❤️
چڑھاؤ آستیں خنجر نکالو
یہ چپکے چپکے مجھ کو کوسنا کیا
❤️
یہ پہلے سینے سے لب تک تو آ لے
ہوا باندھے گی آہِ نا رَسا کیا
❤️
رہے گی بے اَثر ہی حسرتِ دید
نہ ہو گا حشر میں بھی سامنا کیا
❤️
بھرے ہیں دشمنوں نے کان اُن کے
سنیں ٹوٹے ہوئے دل کی صدا کیا
❤️
فدا کرتے ہیں وہ اَغیار پر روز
میری تصویر کا خاکہ اُڑا کیا
❤️
ہماری سخت جانی کو بھی دیکھو
لگاؤ ہاتھ کوئی سوچنا کیا
❤️
اُنھیں جب جان سمجھیں اہلِ اُلفت
پھر اُن کی بے وفائی کا گلہ کیا
❤️
ہوئے ہم اِبتداے عشق ہی کے
خدا ہی جانے ہو گی اِنتہا کیا
❤️
حسنؔ اب کیوں ہے جامِ مے سے انکار
کہو تو زہر اِس میں گُھل گیا کیا
❤️❤️❤️