کرے ایسے سے کوئی التجا کیا
sulemansubhani نے Monday، 28 October 2019 کو شائع کیا.
کرے ایسے سے کوئی التجا کیا
کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
پیش کش: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
❤️
کرے ایسے سے کوئی التجا کیا
کہے جو سُن کے مطلب مدعا کیا
❤️
کوئی افسوں پڑھا یا گالیاں دیں
مجھے یہ چپکے چپکے کہہ لیا کیا
❤️
میرے گھر پوچھتا آیا انہیں غیر
مجھے حیرت کہ ہے یہ ماجرا کیا
❤️
ہمارے ہاتھ سے بھی کوئی ساغر
جو کھل کھیلے تو پھر شرم و حیا کیا
❤️
درِ دُشمن پہ لے جاتا ہے ہر روز
ستم کرتا ہے تیرا نقشِ پا کیا
❤️
اگر وہ میرے جانے سے نہ آئے
تو پھر اے شوقِ دل تیری سزا کیا
❤️
میں حاضر ہوں جو کرتے ہو مجھے قتل
مگر کس بات پر مَیں نے کیا کیا
❤️
میرے سینے کو دیکھو دل کو دیکھو
نہیں ناوک نگاہِ عشوہ زا کیا
❤️
گماں ہے آپ کا وہ کون میں کون
حسنؔ مجھ سے کسی سے واسطہ کیا
❤️❤️