عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا
عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا
❤️
❤️
عیادت کیوں کریں وہ مدعا کیا
کہ دردِ بے کسی کا پوچھنا کیا
❤️
ہجوم صدمۂ فرقت تو دیکھو
کرے اب صبر طاقت آزما کیا
❤️
نہ سُوجھا دل لگاتے وقت کچھ بھی
پر اب کہتا ہوں یہ میں نے کیا کیا
❤️
یہ مانا دُکھ ہمارا لا دوا ہے
جو وہ پوچھیں تو اے دل پوچھنا کیا
❤️
چسک رہ رہ کر اُٹھتی ہے یہ کیسی
الٰہی میرے دل کو ہو گیا کیا
❤️
میری بالیں سے یہ کہتے اٹھے وہ
مریضانِ محبت کی دوا کیا
❤️
کوئی دُکھ دینے والوں سے یہ پوچھے
کہ تم کو اس میں آتا ہے مزا کیا
❤️
یہی حسرت سے تم کو دیکھے جانا
سوا اِس کے ہمارا مدعا کیا
❤️
رہے مرنے ہی والے چین سے کچھ
جو دُکھ بھرتے ہیں اُن کا پوچھنا کیا
❤️
ترس آتا نہیں مطلق کسی کو
گزرتی ہے کسی پر ہائے کیا کیا
❤️
ستاؤ دل دُکھاؤ مار ڈالو
نہ آئے گا کبھی روزِ جزا کیا
❤️
کٹے گی بے کسی کی رات کیوں کر
جو دل ہی لے چلے تم پھر رہا کیا
❤️
حسنؔ کیوں کر دیا ٹکڑے گریباں
یہ بیٹھے بیٹھے جی میں آ گیا کیا
❤️