مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا
sulemansubhani نے Tuesday، 19 November 2019 کو شائع کیا.
مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا
کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️❤️❤️
مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا
پھول پیکر وہ گل عذار ہوا
❤️❤️❤️
خاک میں مل گئی خوشی اپنی
کہ وہ دشمن کا سوگوار ہوا
❤️❤️❤️
میرے دل پر بھی اب کوئی جلوہ
طور کا تو بہت وقار ہوا
❤️❤️❤️
تمہیں ٹھوکر لگانے سے مطلب
مَیں ہوا یا مرا مزار ہوا
❤️❤️❤️
آہ عاشق ذرا سنبھل کے سنو
یہ بھی کیا نالۂ ہزار ہوا
❤️❤️❤️
اُن کے جلوے کی گرمیاں دیکھو
دلِ ہر سنگ میں شرار ہوا
❤️❤️❤️
آنکھ وہ ہے جو اشک بار رہی
دل وہی ہے جو بے قرار ہوا
❤️❤️❤️
نہیں ملتا ہمیں نہیں ملتا
دل بھی یا رب مزاجِ یار ہوا
❤️❤️❤️
غیر تھا منہ لگانے کے قابل
جاؤ بھی تم کو کس سے پیار ہوا
❤️❤️❤️
دستِ وحشت نے پھر نکالے پاؤں
سر پر اب پھر جُنوں سوار ہوا
❤️❤️❤️
ہاں جی سچ تو ہے تم کو کیا معلوم
دل مرا آپ بے قرار ہوا
❤️❤️❤️
فتنہ جو تیری چال سے اٹھا
وہی آشوبِ روزگار ہوا
❤️❤️❤️
ہائے رے اُس کے دل کی ناکامی
جو تمہارا اُمید وار ہوا
❤️❤️❤️
داغِ الفت جگر میں دیکھ لیے
بد گماں اب تو اِعتبار ہوا
❤️❤️❤️
لوگ دل تھامے پھر رہے ہیں کیوں
کیا وہ پردے سے آشکار ہوا
❤️❤️❤️
سچ تو ہے تم کو غیر سے کیا کام
یہ میں بیٹھا ہوں شرم سار ہوا
❤️❤️❤️
ترس آتا ہے اُس کی حالت پر
تم کو جس دل پر اختیار ہوا
❤️❤️❤️
ہیں یہی ضبط عشق کے دشمن
تو ہوا موسم بہار ہوا
❤️❤️❤️
ہو گیا صرفِ گریہ عنصر آب
دیکھ اتنا میں اشک بار ہوا
❤️❤️❤️
کُھل گیا عشق غیر اسی سے کہ وہ
تیرے آگے نہ بے قرار ہوا
❤️❤️❤️
شاید اب دوست دیکھنے آئے
غیر حالِ وفا شعار ہوا
❤️❤️❤️
کیا قیامت تھیں پیار کی نظریں
میٹھی چُھریوں سے دل فگار ہوا
❤️❤️❤️
تھا جو اک مست مے کا دیوانہ
خشت خم سے میں سنگ سار ہوا
❤️❤️❤️
دیکھ بلبل سنبھل کر اس گل کو
یہ بھی کیا جلوۂ بہار ہوا
❤️❤️❤️
مشک کی کس سے چھپ سکی خوشبو
عشق کا کون پردہ دار ہوا
❤️❤️❤️
محوِ عشرت ہوں یہ کہ یاد نہیں
رات کس سے میں ہمکنار ہوا
❤️❤️❤️
اس کو سمجھیں ہیں راز حضرتِ دل
جو زمانے پر آشکار ہوا
❤️❤️❤️
رفتہ رفتہ وہ جلوۂ بے باک
آفتِ جانِ روزگار ہوا
❤️❤️❤️
آؤ تیار ہے جنازہ مرا
یہ بھی کیا آپ کا سنگار ہوا
❤️❤️❤️
اے حسنؔ مے کشی کو بیٹھ گئے
کچھ ہمارا بھی اِنتظار ہوا
❤️❤️❤️