پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہوگیا
❤️
کچھ تمہیں معلوم ہے کس پر یہ مائل ہو گیا
❤️
خوش نہ ہوں ٹکڑے اگر آئینۂ دل ہو گیا
اُن کی یکتائی کا دعوی بھی تو باطل ہو گیا
❤️
آنکھ سے دیکھا ہو تو ناصح کسی کا نام لوں
کیا خبر کس کے لیے مضطر مرا دل ہو گیا
❤️
کیا تیری تیغ اَدا ہے موجۂ آبِ حیات
پڑگیا زندوں میں وہ تو جس کا قاتل ہو گیا
❤️
حُسنِ لیلیٰ کو غرض پردہ نشینی سے نہ تھی
قیس ہی کا بختِ بد در پردہ محمل ہو گیا
❤️
دل دُکھانا کیا کہ اب ہے قتل بھی واجب مرا
یہ گنہ کیا کم ہے اُن پر قلب مائل ہو گیا
❤️
نرم ہو کر اپنے پہلو میں جگہ دینے لگا
پاؤں جس پتھر پر اُس نے رکھ دیا دل ہو گیا
❤️
سخت جانی نے نہ پوری ہونے دی اُمید قتل
گِر گئی تلوار، شل بازوے قاتل ہو گیا
❤️
غیر دشمن اپنے بیگانے زمانہ بر خلاف
دل لگانے کا جو حاصل ہے وہ حاصل ہو گیا
❤️
خود لگانا تاک کر دل پر مرے تیر نظر
خود ہی کہنا بیٹھے بیٹھے کیوں یہ بسمل ہو گیا
❤️
حُسن عالم سوز کا پردے میں رہنا تھا محال
دیکھ لو جلوہ تمہارا شمع محفل ہوگیا
❤️
آئنے دیکھ اپنا منہ، حد سے قدم آگے نہ ڈال
تو بھی اُن کے سامنے آنے کے قابل ہو گیا
❤️
سخت جانوں سے اجل پھرتی ہے کترائی ہوئی
ہم نے یہ صدمے سہے مرنا بھی مشکل ہو گیا
❤️
ناز اپنے دیکھیے انداز اپنے دیکھیے
کیا کہوں قابو سے باہر کیوں مرا دل ہو گیا
❤️
ایک جلوے نے ترے بدلی ہیں کیا کیا صورتیں
دل کا آئینہ ہوا آئینہ کا دل ہو گیا
❤️
کیا خبر اُس کو کہ وہ ناوک فگن ہے مستِ حُسن
چھد رہا کس کا کلیجہ کون بسمل ہو گیا
❤️
پھر میں کہہ دوں گا جلا کیوں صورتِ پروانہ دل
یہ بتا دے پہلے تو کیوں شمع محفل ہو گیا
❤️
اس قدر قولِ منجم سے پریشاں کیوں ہوئے
مدتیں گزریں حسنؔ یہ علم باطل ہو گیا
❤️