فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا
فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا
کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️
فتنہ گر کیا میرا نالہ رَسا ہو جائے گا
کچھ نہ ہو گا جب بھی اِک محشر بپا ہو جائے گا
❤️
پردۂ دَر تو اُٹھاتے ہو جنابِ دل مگر
یہ بھی ہے معلوم کس کا سامنا ہو جائے گا
❤️
فتنے پیدا ہوتے ہیں طرزِ خرامِ ناز سے
جب چلو گے دو قدم محشر بپا ہو جائے گا
❤️
خوش ہوئے تھے ہم کہ خنجر تو گلے سے مل گیا
کیا خبر تھی یہ بھی دم دے کر جدا ہو جائے گا
❤️
جس کو دل دیتا ہوں جس پر جان کرتا ہوں فدا
یہ نہ سمجھا تھا وہی دشمن مرا ہو جائے گا
❤️
بے محابا تم چلے آؤ کہ اہلِ بزم پر
بے خودی چھائے گی خود ہی تخلیہ ہو جائے گا
❤️
آج بیمارِ الم کے طور کچھ بے طور ہیں
تم نظر بھر دیکھ آؤ گے تو کیا ہو جائے گا
❤️
قتل کرنے کو وہ کیا پردے میں چھپ کر آئیں گے
یوں بھی تو پورا ہمارا مدعا ہو جائے گا
❤️
دل نہ دینے کی شکایت ہے عدو کے سامنے
یہ تو کہیے آپ کا وعدہ وفا ہو جائے گا
❤️
رحم آ ہی جائے گا اُن کو دلِ بیمار پر
درد بڑھتے بڑھتے آخر کو دوا ہو جائے گا
❤️
بے ڈبوئے پھر نہ چھوڑے گا ستم گر
اے حسنؔ کشتیِ دل کا اگر وہ ناخدا ہو جائے گا
❤️