مریض ہجر اُمید سحر نہیں رکھتا
مریض ہجر اُمید سحر نہیں رکھتا
کلام: شاگرد داغ استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️
مریض ہجر اُمید سحر نہیں رکھتا
غضب ہے پھر بھی وہ غافل خبر نہیں رکھتا
❤️
یہ پھنک رہا ہوں تپِ عشق و سوزِ فرقت میں
کہ مجھ پہ ہاتھ کوئی چارہ گر نہیں رکھتا
❤️
گلہ ہے اُس سے تغافل کا حضرتِ دل کو
جو مستِ ناز ہے اپنی خبر نہیں رکھتا
❤️
تجھے رقیب کی کرنی پڑے گی چارہ گری
سمجھ تو کیا مرا نالہ اَثر نہیں رکھتا
❤️
تلاشِ مست تغافل میں میرا گم ہونا
وہ مبتدا ہے جو کوئی خبر نہیں رکھتا
❤️
ہم اُن سے پوچھیں سبب رنج بے سبب کا کیوں
رقیب ہم سے عداوت مگر نہیں رکھتا
❤️
غضب ہے آہ مری حالت تباہ مری
وہ اس لیے مجھے پیشِ نظر نہیں رکھتا
❤️
مگر قریب ہے اب کوئے قاتلِ عالم
کہ مجھ سے آگے قدم راہبر نہیں رکھتا
❤️
سوائے ڈیوڑھے ہیں بازارِ عشق میں اُس کے
جو فکرِ نفع و خیالِ ضرر نہیں رکھتا
❤️
کہو تو بزمِ عدو کا کہوں مفصل حال
تمہیں خبر ہے کہ میں کچھ خبر نہیں رکھتا
❤️
نگاہِ ناز سے اب کس لیے مجھے دیکھیں
حسنؔ میں دل نہیں رکھتا جگر نہیں رکھتا
❤️