أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا ۞

ترجمہ:

اور آپ ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجیے جو اس پانی کی مثل ہے جس کو ہم نے آسمان سے نازل کیا تو اس کے سبب سے زمین کا ملا جلا سبزہ نکلا، پھر وہ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا جس کو ہوا اڑا دیتی ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا اشراد ہے : اور آپ ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجیے جو اس پانی کی مثل ہے جس کو ہم نے آسمان سے نازل کیا تو اس کے سبب سے زمین کا ملا جلا سبزہ نکلا پھر وہ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا جس کو ہوا اڑا دیتی ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ (الکھف :45)

دنیا کو پانی کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجوہ 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ ان متکبرین کے سامنے دنیا کی حقارت، اس کی بےمائیگی اور بےثباتی کی ایک اور مثال بیان کیجیے، جو فقراء مومنین کی مجلس میں بیٹھنا اپنے لئے باعث توہین اور باعث عار سمجھتے تھے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پانی کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی میں اور دنیا میں چند وجوہ سے مناسبت ہے، جو حسب ذیل ہیں :

(١) پانی ایک کیفیت اور ایک حالت پر برقرار نہیں رہتا، اسی طرح دنیا بھی ایک کیفیت اور ایک حالت پر برقرار نہیں رہتی۔

(٢) کوئی شخص اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ پانی میں داخل ہوا اور بھیگنے سے بچ جائے اسی طرح کوئی شخص اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ دنیا میں داخل ہو اور اس کے فتنوں اور اس کی آفتوں سے محفوظ رہ سکے۔

(٣) جب پانی کو بہ قدر ضرورت باغات اور کھیتوں میں ڈالا جائے تو وہ ان کے لئے نفع بخش ہے اور ان کی روئیدگی کو بڑھانے والا ہے، اور جب ان میں ضرورت سے زیادہ پانی کو ڈالا جائے گا تو وہ ان کو تباہ و برباد کر دے گا جیسے کہ دریائوں کے سیلاب میں اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، اسی طرح جب دنیا کے مال و متاع کو بہ قدر ضرورت لیا جائے گا تو وہ انسان کے لئے مفید اور نفع بخش ہے اور جب انسان دنیا کو اپنی ضروریات سے زیادہ لے گا تو وہ اس کے لئے فتنہ اور فساد کا سبب بن جائے گی۔

حرص کی مذمت اور قناعت کی فضیلت 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اسلام لایا اور اس کو بہ قدر کفاف (ضرورت) رزق دیا گیا اور اللہ نے جو کچھ اس کو دیا ہے اس میں اس کو قانع کردیا تو وہ شخص کامیاب ہوگیا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1054، سنن الترمذی رقم الحدیث :2349، سنن ابن ناجہ رقم الحدیث :4138، مسند احمد ج ٢ ص 168)

بہ قدر کفاف کا معنی ہے، بہ قدر ضرورت۔ یعنی اس کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ اپنے کھانے پینے، پہننے کے کپڑوں اور رہائش کا بندوبست کرسکے، اور بیماری کی صورت میں دوا اور علاج کا اتنظام کرسکے اور آرائش، زیبائش عیش و آرام، اللے تللے اور گلچھرے اڑانے کے لئے مال دنیا جمع نہ کرے اور جس شخص نے اتنا مال حاصل کیا وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوگیا اور جس شخص نے اس سے زیادہ مال حاصل کیا اور لا کی حرص کسی حد پر جا کر ختم نہیں ہوتی، اس نے اپنے آپ کو مشکل اور امتحان میں ڈال لیا کیونکہ اس کے پاس اس کی ضرورت سے زیادہ جتنا مال ہوگا، آخرت میں اس مال کے بدلے میں اس کو عبادات پیش کرنی ہوں گی اور جب انسان کے پاس اس کی ضرورت سے زیادہ مال ہوتا ہے تو وہ عموماً اس مال کو نفسانی خواہشوں اور دنیا کی حرام لذتوں کے حصول میں خرچ کرتا ہے، اور مالدار آدمی اپنے مال کو بڑھانے کے لئے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع اختیار کرتا ہے۔ جعلی اور نقلی اشیاء بناتا ہے، نشہ آور چیزوں کا کاروبار کرتا ہے، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری میں ملوث ہوتا ہے اور ان تمام دینی اور دنیاوی خرابیوں کی واحد وجہ مال دنیا کی حرص ہے، اگر وہ بہ قدر ضرورت مال پر قناعت اور اکتفا کرے تو ان تمام خرابیوں سے بچ جائے گا، اسی لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی : اے اللہ ! محمد کا رزق قوت کر دے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :1055، سنن الترمذی رقم الحدیث :2361، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4139، مسند احمد ج ہ ص 446)

قوت کا معنی ہے اتنا رزق جو ان کی رمق حیات باقی رکھنے کے لئے کافی ہو، جس کی کم سے ان کو تشویش نہ ہو اور ان کو فاقوں کا سامنا نہ ہو اور ان کو سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور نہ وہ رزق اتنا زیادہ ہو جس سے دنیا کی کشادگی اور عیاشی کا خطرہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی زاہدانہ تھی اور آپ دنیا میں رغبت نہیں کرتے تھے، اور اس میں ان علماء ن کے لئے حجت ہے جو کہتے ہیں کہ بہ قدر ضرورت رزق کا حصول فقر اور غنادونوں سے افضل ہے۔

الھشیم کے معنی کی تخلیق 

اس کے بعد فرمایا : پھر وہ (سبزہ) سوکھ کر چورا چورا ہوگیا۔ اس آیت میں چورا چورا ہونے کے لئے ہشیم کا لفظ ہے اس کا مادہ ہشم ہے، اس کے معنی کی تحقیق یہ ہے :

علامہ ابوالحسن علی بن اسماعیل بن سیدہ متوفی 457 ھ لکھتے ہیں :

ھشم کا معنی ہے کسی کھوکھلی یا خالی چیز کا توڑنا۔ ایک قول ہے ہڈیوں کو توڑنا یا سر کو پھاڑنا۔ بعض نے کہا اس کا معنی ہے ناک توڑنا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دادا کو ہاشم کہتے ہیں ان کا نام عمرو تھا، انہوں نے سب سے پہلے ثرید بنایا عینی گوشت کے سالن میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر طعام بنایا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اہل مکہ قحط سے دوچار ہوئے۔ ہاشم ملک شام گئے اور وہاں سے بوریوں میں آٹا لائے پھر اونٹوں کو ذبح کیا اس کا سالن بنایا اور اس میں روٹیاں توڑ کر ڈالیں اور اہل مکہ کو قحط کے بعد پہلی سے بوریوں میں آنا لائے پھر اونٹوں کو ذبح کیا، اس کا سالن بنایا اور اس میں روٹیاں توڑ کر ڈالیں اور اہل مکہ کو قحط کے بعد پہلی بار سیر ہو کر کھانا نصیب ہوا۔ پس سالن میں روٹیاں توڑنے کی وجہ سے ان کا لقب ہاشم پڑگیا۔ سوکھی ہوئی گھاس کے چورے کو بھی ہشیم کہتے ہیں جس درخت کے پتے سوکھ گئے ہوں اس کو بھی ہشیم کہتے ہیں اگر اونٹنی کا تمام دودھ دھو لیا جائے تو اس فعل کو بھی ہشم کہتے ہیں۔

ہشم کے مقلوبات یہ ہیں :

ہمش، شھم اور مھش الھمشۃ کے معنی ہیں کلام اور حرکت، جو عورت بہت زیادہ باتیں کرتی ہو اس کو ہمشی کہتے ہیں جو شخص اپنی انگلیوں سے تیزی سے کام کرتا ہو اس کو الھمش کہتے ہیں۔

شھم : پیداوار مغز اور بہت ذہین شخص کو شھم کہتے ہیں۔ شھم الفرس کا معنی ہے گھوڑے کو دھمکایا۔ شھم الرجل کا معنی ہے کسی شخص کو ڈرایا۔

مھش : المشھشہ اس عورت کو کہتے ہیں جو استرے سے اپنے چہرے کے بال صاف کرے۔ (المحکم والمحیط الاعظم ج ٤ ص 194-197، ملحضا مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1431 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 45