أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡذِرۡعَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (عذاب سے) ڈرایئے

تفسیر:

عشیرۃ کا معنی اور صلہ رحم میں الاقرب فالا قرب کی ترجیح 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (اللہ کے عذاب سے) ڈرایئے۔ (الشعرائ : ٢١٤)

یعنی آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس عذاب سے ڈرایئے جو شرک کرنے اور کبیرہ گناہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس آیت میں قریبی رشتہ داروں کے عشیرۃ کا لفظ ہے اور عشیرہ کا لفظ عشرہ سے بنا ہے اور عشرہ (دس کا عدد) عددکامل ہے۔ اس لئے یہ لفظ کسی شخص کے ان رشتہ داروں کی جماعت کا نام بن گیا جو کثیر تعداد میں ہوں۔ خواہ وہ اس کے قریب ہوں یا اس کے معاون ہوں۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

اس آیت میں قریبی رشتہ داروں سے مراد بنو ہاشم ہیں۔ اللہ کے عذاب سے ڈرانے میں ان سے ابتداء کرنا اسی طرح اولیٰ ہے جس طرح نیکی اور صلہ رحم میں ان سے ابتداء کرنا اولیٰ ہے۔ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحم کرنے کے متعلق یہ احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میری نیکی اور صلہ رحم کا کون زیادہ مستحق ہے۔ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ! اس نے پوچھا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں، اس نے پوچھا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ! ‘ اس نے پوچھا پھر کون ‘ پھر فرمایا تمہارا باپ ! ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا : تمہاری ماں ‘ پھر تمہاری ماں ‘ پھر تمہاری ماں ‘ پھر تمہارا باپ ‘ پھر تمہارے زیادہ قریب ‘ زیادہ قریب !۔(صحیح البخاری رقم الحدیث ٥٩٧١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث ٢٥٤٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٤٩١١)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی انسان کی سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے پیٹھ پھیرنے کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٢‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٤٩١٧)

حضرت ابو مسعود بدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی مسلمان اپنے گھر والوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرے تو اس کو اس میں بھی صدقہ کا اجر ملتا ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٢‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٦٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٥‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩٢٠٥)

جس طرح قریب کے رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم ہے اور قریب کے رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنے اور صلہ رحم کرنے کا حکم ہے اسی طرح جو کفار قریب ہوں ‘ ان کے خلاف پہلے جہاں کرنے کا حکم ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ترجمہ : (التوبۃ : ١٢٣ )… اے ایمان والوں ! ان کفار سے جہاد کرو جو تمہارے قریب ہیں۔

اس آیت میں کفار سے جہاد کرنے کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے کہ الاول فالاول اور الاقرب فالاقرب کے موافق کفار کے خلاف جہاد کیا جائے ‘ جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے پہلے جزیرہ عرب کے مشرکین سے قتال کیا ‘ جب آپ مکہ ‘ طائف ‘ یمامہ ‘ حجر ‘ خیبر ‘ یمن اور حضرت موت وغیرہ کے خلاف جہاد سے فارغ ہوگئے تو پھر آپ نے اہل کتاب سے جہاد کا آغاز کیا اور نو ہجری میں عیسائیوں سے جہاد کرنے کے لئے تبوک تشرکیف لے گئے ‘ جو جزیرہ عرب کے قریب ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد خلفاء راشدین نے روم کے عیسائیوں سے قتال کیا اور پھر ایران کے مجوسیوں کے خلاف جہاد کیا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوہ صفا پر چڑھ کر اپنے قرابت داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ‘ وانذر عشیرتک الاقربین (الشعرائ : ٢١٥)… تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑ پر چڑھے اور آپ نے بلند آواز سے فرمایا : یا صباحاہ (دشمن کے حملہ کے وقت ان الفاظ سے تنبیہ کی جاتی تھی ‘ ان کے کفر و شرک کی وجہ سے آپ کو ان پر عذاب کا خطرہ تھا ‘ اس لئے آپ نے ان الفاظ کے ساتھ تنبیہ کرکے قوم کو آواز دی) تو مکہ کے سب لوگ آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا ‘ یہ بتائو کر اگر میں تم کو یہ خبر دوں کے دشمن کا ایک بڑا لشکر اس پہاڑ کے پیچھے کھڑا ہے تو کیا تم سب میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔ اس لئے ہم آپ کی تصدیق کریں گے۔ آپ نے فرمایا ‘ تو میں تم کو اس بات سے ڈرا رہا ہوں کہ تمہارے سامنے بہت سخت عذاب ہے۔ تب ابو لہب نے کہا ‘ تمہارے لئے ہلاکت ہو کیا تم نے ہم صرف اس لئے جمع کیا تھا ! پھر وہ کھڑا ہوگیا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : تبت یدا ابی لھب و تب (تبت : ١)… ” ابو لہب کے دونوں ہاتھ توٹ گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا۔ “(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٧١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٦٣‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٠٨١٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٨‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٥٠‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٨٢۔ ١٨١)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء : ٢١٥)… تو آپ نے فرمایا :

اے قریش کی جماعت ! اپنی جانوں کو خرید لو ( عذاب سے بچائو) میں تم کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی نہیں بچا سکتا ! (یعنی اگر تم اپنے کفر اور شرک پر قائم رہے تو میں تم کو عذاب سے ذرہ برابر بھی نہیں بچا سکتا۔ ) اے بنو عبدمناف ! میں تم کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی نہیں بچا سکتا ! اے صفیہ ! رسول اللہ کی پھوپھی ! میں تم کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی نہیں بچا سکتا ! اے فاطمہ ! بنت محمد ! میرے مال سے جس چیز کا چاہے سوال کرو میں تم سے اللہ کے عذاب کو بالکل دور نہیں کرسکتا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٧١‘ ٢٨٥٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٦‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٦٤٧‘ ٣٦٤٦‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٦٤٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٧٤‘ ْمسند احمد ج ٢ ص ٣٣٣)

ایک اور حدیث کا متن اس طرح ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وانذر عشیر تک الاقربین (الشعرائ : ٢١٤)…تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ہر عام اور خاص کو بلایا۔ جب وہ سب جمع ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی کعب بن لوی ! تم اپنی جانوں کے دوزخ کی آگ سے بچائو ‘ اے بنی مرہ بن کعب ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ‘ اے بنی عبد شمس ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ! اے بنی عبد مناف ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ! اے بنی ہاشم ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ! اے عبدالمطلب ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ! ‘ اے فاطمہ ! تم اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو ! ‘ البتہ میرا تمہارے ساتھ رحم کا رشتہ ہے اور میں عنقریب اس کی تراوٹ تم کو پہنچائوں گا۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٨٥‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٦٤٤‘ السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ١١٣٧٧)

رحم کی تراوٹ سے فائدہ پہنچانا 

صحیح مسلم کی حدیث کے آخر میں ہے ‘ میرا تمہارے ساتھ رحم کا رشتہ ہے۔ میں عنقریب اس کی تراوٹ تم کو پہنچائوں گا۔ اس جمہ کی شرح میں قاضی عیاض متوفی ٥٤٤ ھ ‘ علامہ ابو العباس احمد بن عمر القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ ‘ علامہ نووی متوفی ٦٧٦ ھ ‘ علامہ سنوسی متوفی ٨٩٥ ھ اور جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے لکھا ہے کہ رحم کو آگ کی حرارت سے تشبیہ دی گئی ہے جس کو پانی سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے یعنی میں تمہارے ساتھ صلہ رحم کروں گا اور تم کو فائدہ پہنچائوں گا ‘ مومنوں کو اکرام کروں گا اور کافروں کو ہدایت دوں گا۔(اکمال المعلم و فوائد مسلم ج ١ ص ٥٩٣‘ المفہم ج ٧ ص ٣٨٤‘ مکمل اکمال الاکمال ج ١ ص ٦٢٢٣‘ صحیح مسلم بشرح النواوی ج ٢ ص ١٠٨٤‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ الدیباج ج ٢ ص ٢٦٧ )

ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ نے لکھا ہے : اس حدیث کا معنی یہ ہے :

اگر اللہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو میں تم سے اللہ کے عذاب کو بالکل دور نہیں کرسکتا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرچند کہ مسلمانوں کو اپنی شفاعت سے نفع پہنچائیں گے کیونکہ آپ شفاعت کریں گے اور آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی لیکن آپ نے یہاں مطلق نفع رسانی سے منع فرمایا تاکہ انہیں عذاب سے ڈرائیں کہ وہ صرف شفاعت پر تکیہ نہ کرلیں اور ان کو آخرت کے لئے کوشش کی ترغیب دیں اور فرمایا میرا تمہارے ساتھ رحم کا تعلق ہے۔ میں عنقریب صلہ رحم کروں گا ‘ یعنی میں اپنے قرابت داروں کے ساتھ قرابت کی وجہ سے نیکی اور احسان کروں گا۔(المرقات ج ١٠‘ ص ١٠٥‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

اس کا معنی یہ ہے کہ چونکہ مجھ پر تمہارے رحم اور قرابت کا حق ہے۔ میں اس کی تری سے اس کو تر کروں گا اور صلہ احسان کا پانی چھڑکوں گا۔ اس حدیث میں بہت زیادہ مبالغہ کے ساتھ ڈرایا گیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت اس امت کے گنہ گاروں کے لئے بھی ہوگی ‘ چہ جائیکہ اپنے اقرباء اور خویشان کے لئے اور احادیث سے ان کے حق میں شفاعت ثابت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا خوف باقی ہے۔(اشعتہ اللمعات ج ٤‘ ص ٣٧٢۔ ٣٧١‘ مطبوعہ مطبع تیج کمار لکھنئو)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر خاص و عام کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا 

حضرت عیاض بن حمارم جاشعی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں فرمایا : سنو ! میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دوں جو تم کو معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان چیزوں کا علم دیا ہے ‘ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں نے اپنے بندے کو جو کچھ مال دیا ہے وہ حلال ہے۔ میں نے اپنے تمام بندوں کو اس حال میں پیدا کیا ہے کہ وہ باطل سے دور رہنے والے تھے۔ بیشک ان کے پاس شیطان آئے اور ان کو دین سے پھیر دیا اور جو چیزیں میں نے ان پر حلال کی تھیں وہ انہوں نے ان پر حرام کردیں اور ان کو میرے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا جبکہ میں نے اس شرک پر کوئی دلیل نازل نہیں کی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور اہل کتاب کے چند باقی ماندہ لوگوں کے سوا تمام عرب اور عجم کے لوگوں سے ناراض ہوا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تم کو آزمائش کے لئے بھیجا ہے اور تمہارے سبب سے (دوسروں کی) آزمائش کے لئے ‘ میں نے تم پر ایسی کتاب نازل کی جس کو پانی نہیں دھو سکتا ‘ تم اس کو نیند اور بیداری میں پڑھو گے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے قریش کے جلانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا ‘ اے میرے رب ! وہ تو میرا سر پھاڑ دیں گے اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے چھوڑ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ ان کو اس طرح نکال دو جس طرح انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ تم ان سے جہاد کرو ‘ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ تم خرچ کرو ‘ ہم تم پر خرچ کریں گے۔ تم ایک لشکر بھیجو ‘ ہم اس سے پانچ گنا لشکر بھیجیں گے۔ اپنے اطاعت گزاروں کو لے کر اپنے نافرمانوں کے ساتھ جنگ کرو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ تین قسم کے لوگ جنتی ہیں۔ سلطان عادل جو نیکی کی توفیق دیا گیا ہو اور صدقہ کرنے والا ہو ‘ جو شخص رحم دل ہو اور اپنے تمام قرابت داروں اور عام مسلمانوں کے لئے رقیق القلب ہو اور جو شخص پاک دامن ہو اور عیال دار ہونے کے باوجود سوال کرنے سے گریز کرتا ہو اور پانچ قسم کے لوگ دوزخمی ہیں۔ وہ ضعیف لوگ جن کے پاس عقل نہ ہو جو تمہارے ماتحت ہوں اور اپنے اہل اور مال کے لئے کوئی سعی نہ کریں ‘ وہ خائن جس کی طمع پوشیدہ نہ ہو جو معمولی سی چیز میں بھی خیانت کرے ‘ وہ دھوکہ باز جو ہر صبح اور ہر شام کو تمہارے ساتھ ‘ تمہارے اہل اور تمہارے مال کے ساتھ دھوکہ کرے اور اللہ تعالیٰ نے بخل یا جھوٹ ‘ بدخو اور فحش کلام کرنے والے کا بھی ذکر کیا۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٦٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٠٨٨‘ مسند احمد ج ٤ ص ٢٦٦‘ ١٦٢‘ المعجم الکبیر ج ١٧ ص ٩٩٤‘ ٩٨٧‘ سنن کبریٰ ج ٩ ص ٦٠ )

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے اقربین کی دعوت کرکے ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ اپنے سند کے ساتھ امام احمد سے روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی و انذر عشیر تک الاقربین (الشعرائ : ٢١٤)… تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اہل بیت کو جمع کیا سو تیس نفر جمع ہوگئے۔ انہوں نے طعام کھایا اور مشروب پیا۔ آپ نے ان سے فرمایا ‘ تم میں سے جو بھی میرے دین اور میرے وعدوں کو پورا کرنے کا ضامن ہوگا وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا اور میرے اہل میں میرا جانشین ہوگا۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! آپ تو سمندر ہیں ‘ آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ حضرت علی نے کہا ‘ آپ نے پھر یہ کلام اپنے اہل بیت پر پیش کیا تو حضرت علی نے کہا ‘ میں !(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣٨٦۔ ٣٨٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ مسند احمد ج ١ ص ١١١‘ رقم الحدیث : ٨٨٣ ھ عالم الکتب بیروت)

حضرت علی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبدالمطلب کی دعوت کی۔ انہوں نے اونٹ کا گوشت کھایا اور پانی پیا۔ وہ سب کھا پی کر سیر ہوگئے اور وہ طعام اسی طرح باقی بچا رہا ‘ گویا کہ کسی نے اس کو چھوا ہے نہ پانی پیا ہے۔ پھر آپ نے شہد منگایا ‘ ان سب نے اس کو پیا حتیٰ کہ وہ سب سیر ہوگئے اور وہ شہد اسی طرح سچا رہا گویا اس کو کسی نے نہیں چھوا۔ آپ نے فرمایا ‘ اے بنو عبدالمطلب مجھے خصوصیت کے ساتھ تمہاری طرف مبعوث کیا گیا ہے اور عموم کے ساتھ عام لوگوں کی طرف۔ بیشک تم لوگوں نے میری نبوت پر ابھی ابھی یہ دلیل دیکھ لی ہے (کھانا کھائے جانے بعد اس کا جوں کا توں باقی رہنا) مت میں سے کون میرے ہاتھ پر بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی اور میرا صاحب ہوجائے۔ حضرت علی نے کہا یہ سن کر کوئی شخص بھی آپ کی طرف کھڑا نہیں ہوا ‘ پھر میں آپ کی طرف کھڑا ہوا اور میں قوم میں سب سے چھوٹا تھا۔ آپ نے فرمایا ‘ بیٹھ جائو ‘ پھر آپ نے یہ سوال تین بار دھرایا۔ ہر مرتبہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوتا اور آپ فرماتے بیٹھ جائو حتیٰ کہ تیسری بار آپ نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا یعنی مجھے بیعت کرلیا۔(تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٣٨٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ مسند احمد رقم الحدیث : ١٣٧١‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ ‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٣٠٢)

ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد بار اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایا۔ ایک مرتبہ کوہ صفا پر چڑھ کر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ایک بار آپ نے سب کی دعوت کی اور ان کو ایمان نہ لانے پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ ان احادیث سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخرت میں کسی کے کام نہیں آسکتے۔ جب آپ اپنے قریبی رشتہ داروں سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتے تو کسی اور سے اللہ کے عذاب کو کیسے دور کرسکیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان احادیث کا محمل یہ ہے کہ آپ کے رشتہ داروں میں سے جو آپ پر ایمان نہیں لایا اور موت تک کفر اور شرک پر قائم رہا ‘ آپ اس کی شفاعت نہیں فرمائیں گے اور اس سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کریں گے لیکن جو آپ پر ایمان لے آیا اور اس سے عمل میں کچھ تقصیر ہوگئی تو آپ ایسے عام مسلمانوں کی بھی شفاعت فرمائیں گے تو اپنے خواص اور اقرابین کی شفاعت کیوں نہیں فرمائیں گے ‘ اس کے ثبوت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

اہل بیت اور اپنے دیگر قرابت داروں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخرت میں نفع پہنچانا 

امام احمد بن جنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس منبر پر فرما رہے تھے : ان لوگوں کا خیال ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت آپ کی قوم کو نفع نہیں پہنچائے گی ‘ بیشک میری قرابت دنیا اور آخرت میں مجھ سے ملی ہوئی ہے اور اے لوگو ! جب تم حوض پر آئو گے تو میں حوض پر تمہارا پیشوا ہوں گا۔ (الحدیث)(مسند احمد ج ٣‘ ص ١٨‘ دارالفکر طبع قدیم ‘ اس حدیث کی سند حسن ہے ‘ مسند احمد ج ١٠‘ رقم الحدیث : ١١٠٨)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے میں اپنی امت میں سے اپنے اہل بیت کی شفاعت کروں گا ‘ پھر جو ان سے زیادہ قریب ہوں گے اور پھر جو ان سے قریب ہوں ‘ پھر انصار کی شفاعت کروں گا ‘ پھر ان کی جو مجھ پر ایمئے اور انہوں نے میری اتباع کی ‘ پھر اہل یمن کی ‘ پھر باقی عرب کی ‘ پھر اعاجم کی۔(المعجم الکبیر ج ١٢‘ رقم الحدیث : ١٣٥٥٠‘ الکامل لابن عدی ج ٢‘ ص ٧٩٠‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤١٤٥‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٣٨١‘ ٣٨٠‘ الفردوس بما ثور الخطاب ‘ رقم الحدیث ٢٩‘ اس حدیث کی سند میں حفص بن ابی دائود متروک ہے اور لیث بن سلیم ضعیف ہے الالآلی المصنوعہ ج ٢‘ ص ٣٧٤)

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے رب عز و جل سے سوال کیا کہ میرے اہل بیت میں سے کسی کو دوزخ میں داخل نہ فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا فرما دیا۔(الفردوس بما ثور الخطاب ٣٤٠٣‘ کنزل العمال رقم الحدیث : ٣٤١٤٩ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) سے فرمایا ‘ بیشک اللہ عزوجل نے فرمایا کہ وہ تمہیں عذاب دے گا اور نہ تمہاری اولاد کو۔(المعجم الکبیر ج ١١‘ رقم الحدیث : ١١٦٨٥‘ حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ ًسے میرے رب نے میرے اہلبیت کے متعلق یہ وعدہ کیا ہے کہ ان میں سے جس نے توحید کا اقرار کیا میں ان کو عذاب نہیں دوں گا۔(المستدرک ج ٣‘ ص ١٥٠‘ حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ‘ الکامل لابن عدی ج ٥‘ ص ١٧٠٤‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤١٥٦ )

زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے سرگوشی کی ‘ پھر حضرت علی نے صفہ میں عقیل ‘ حضرت حسین اور حضرت عباس سے حضرت ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر سے کرنے کے متعلق مشورہ لیا۔ پھر حضرت علی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ‘ ہر سبب (نکاح) اور نسب قیامت کے دن منقطع ہوجائے گا سوا میرے سبب اور نسب کے۔(المستدرک ج ٣‘ ص ١٤٢‘ المعجم الکبیر ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٦٣٣‘ ٢٦٣٤‘ ٢٦٣٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٣٥٤‘ السنن الکبریٰ ج ٧‘ ص ١١٤‘ المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٤٢٥٨‘ مجمع الزوائد ج ٤‘ ص ٢٧١‘ ٢٧٢‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٣٠٩)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میں اپنی امت میں سے جس عورت کے ساتھ بھی نکاح کروں اور میں اپنی امت میں سے جس شخص کو بھی نکاح کا رشتہ دوں میرے ساتھ جنت میں ہی رہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا کردیا۔(المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥٧٥٨‘ مجمع الزوائد ج ١٠‘ ص ١٧‘ المستدرک ج ٣‘ ص ١٣٧‘ المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٤٠١٨‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٤١٤٧‘ اسی سے متقارب روایت حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی مروی ہے۔ المعجم الاوسط ج ٤ ذ رقم الحدیث : ٣٨٥٦ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے یہ سوال کیا میں جس کو بھی نکاح کا رشتہ دوں اور جس سے بھی نکاح کروں ‘ وہ اہل جنت سے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا کردیا۔(کنز العمال رقم الحدیث : ٣٤١٤٨ )

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بھی میرے اہل بیت کے ساتھ کوئی نیکی کی تو میں قیامت کے دن اس کا۔ بدلہ دوں گا۔ (کامل ابن عدی ج ٥‘ ص ١٨٨٤‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٣٤١٥٢ )

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی نیکی کی اور اس نے اس کو دنیا میں اس کا صلہ نہیں دیا تو کل جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا تو مجھ پر اس نیکی کا صلہ دینا واجب ہے۔ (المعجم الاوسط ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٤٦٩‘ مجمع الزوائد ج ٩‘ ص ١٧٣‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣ ٣٤١٥)

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کیا کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ابو طالب کو کوئی نفع پہنچایا وہ آپ کی مدافعت کرتا تھا اور آپ کی وجہ سے غضب ناک ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا ‘ ہاں ! اب وہ ٹخنوں تک آگ میں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔(صحیح الخاری رقم الحدیث : ٣٨٨٣‘ ٦٢٠٨‘ ٦٥٧٢‘ صحیح مسلم ایمان ٣٥٧‘ (٢٠٩) ٥٠٠‘ مسند احمد ج ١‘ ص ٢٠٦‘ رقم الحدیث : ١٧٦٣‘ جامع الاصول رقم الحدیث : ٦٨٣٣)

نفع رسانی کی بظاہر نفی کی روایات کی توجیہ 

موخر الذکر پان حدیثوں کے علاوہ باقی مذکور الصدر تمام احادیث کو علامہ سید محمد امین ابن عابد بن شامی نے بھی بیان کیا ہے۔ (رسائل ابن عابدین ج ١‘ ص ٤٠٥) ان احادیث کے ذکر کے بعد تحریر فرماتے ہیں :

ہم نے جو یہ احادیث ذکر کی ہیں ان کے یہ بات معارض نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی ایک کو بھی اللہ سے مطلقاً نفع یا نقصان پہنچانے کے مالک نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس بات کا مالک بنائے گا کہ آپ اپنے اقارب کو نفع پہنچائیں بلکہ آپ شفاعت عامہ اور شفاعت خاصہ کے ذریعہ تمام امت کو نفع پہنچائیں گے۔ سو آپ صرف اسی چیز کے مالک ہوں گے جس کو آپ کا مولیٰ عز و جل مالک کرے گا۔ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا ہے : میں تم کو اللہ کے عذاب سے بالکل مستغنی نہیں کروں گا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے یہ عزت اور مقام نہیں دے گا یا جب تک مجھے منصف شفاعت نہیں دے گا یا جب تک میری وجہ سے مغفرت کرنے کا مرتبہ مجھے نہیں دے گا ‘ اس وقت تک میں تم کو اللہ کے عذاب سے نہیں چھڑائوں گا اور چونکہ یہ مقام اللہ کے عذاب سے ڈرانے کا تھا اور نیک اعمال پر برانگیختہ کرنے کا تھا۔ اس لئے آپ نے یہ قیود ذکر نہیں فرمائیں۔ علاوہ ازیں آپ نے اپنے رحم کے حق کی طرف اشارہ بھی فرمایا کہ میرا تمہارے ساتھ رحم کا تعلق ہے اور میں عنقریب اس کی تراوٹ تمہیں پہنچائوں گا۔ یعنی تم کو نفع پہنچائوں گا اور یہ احادیث میں تطبیق کا بہت عمدہ طریقہ ہے ‘ نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : قیامت کے دن میرے اولیائ ‘ متقی ہوں گے (الادب المفرد) اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرا ولی ‘ اللہ ہے اور صالح مومنین ہیں۔ (صحیح مسلم الایمان : ٣٦٦ (٢١٥) ٥٠٨‘ مسند احمد ج ٤‘ ص ٢٠٣‘ مسند ابو عوانہ ج ١‘ رقم الحدیث : ٩٦) سو یہ احادیث آپ کے رحم اور اقارب کو نفع پہنچانے کے خلاف نہیں ہیں۔ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جس شخص نے اپنے عمل میں دیر کردی تو اس کا نسب اس پر سبقت نہیں کرے گا۔(صحیح مسلم الذکر ٣٨‘ (٦٢٩٩) ٦٧٢٦‘ سنن الودائود رقم الحدیث : ٤٩٤٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٤‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٨٨٤٧ )

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس شخص نے اپنے عمل کو موخر کردیا ‘ اس کا نسب اس کو بلند درجات تک پہنچانے میں جلدی نہیں کرے گا۔ اس لئے یہ حدیث نجات کے منافی نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا باب بہت وسیع ہے اور یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حدود کی پامالی پر بہت غیور ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے عبد ہیں اور وہ صرف اسی چیز کے مالک ہیں جس کا آپ کے مولیٰ نے آپ کو مالک بنایا ہے اور آپ کی وہی خواہش پوری ہوتی ہے جس کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔(رسائل ابن عابدین ج ١‘ ص ٦٠٧‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٣٩٦ ھ)

اس پر دلیل کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نفع اور ضرر کی نفی ذاتی نفع اور ضرر پر محمول ہے 

عباس بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر (رض) حجر اسود کو بوسہ دے رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ بیشک مجھے علم ہے کہ تو ایک پتھر ہے ‘ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٩٧‘ ١٦١٠‘ صحیح مسلم الحج ١٢٤٨ (١٢٧٠) ٣٠١٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٨٧٣‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٧٦١‘ سنن السنائی رقم الحدیث : ٢٩٣٧‘ الموطا رقم الحدیث : ٨٣٥‘ مسند احمد ج ١ ص ١٦‘ طبع قدیم ‘ رقم الحدیث : ٩٩ طبع جدید دارالفکر بیروت) 

تمام شارحین حدیث نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ جو لوگ ثواب کی نیت سے اور اخلاص کے ساتھ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں ‘ حجر اسود ان کے حق میں گواہی دے گا اور جو لوگ دکھاوے اور ریاکاری کے لئے حجر اسود کو بوسہ دیں گے ‘ حجر اسود ان کے خلاف گواہی دے گا۔ سو حجر اسود نفع بھی پہنچائے گا اور ضرر بھی اور حضرت عمر نے حجر اسود کو مخاطب کرکے جو یہ کہا کہ تو ایک پتھر ہے ‘ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ‘ تو اس کا معنی یہ ہے کہ تو بالذات نفع اور ضرر نہیں پہنچا سکتا اور بالعرض نفع اور ضرر پہنچاتا ہے۔ (فتح الباری ‘ عمدۃ القاری ‘ شرح النواوی ‘ فیض الباری ‘ فتح الملھم وغیرہ) سو جس طرح حجر اسود سے نفع اور ضرر کی نفی ذاتی پر محمول ہے ‘ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی نفع اور ضرر کی نفی ذاتی پر محمول ہے اور جس طرح حجر اسود اللہ کی عطا سے نفع اور ضرر پہنچاتا ہے ‘ اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عطا سے نفع اور ضرر پہنچاتے ہیں۔

نسب پر اعتماد کرنے کے بجائے عمل کی کوشش کی جائے 

امام ابو منصور ماتریدی متوفی ٣٣٥ ھ التاویلات النجمیہ میں لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وانذر عشیرتک الافربین اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

ترجمہ (المومنون : ١٠١)… پس جب اس دن (صور پھوکنک دیا جائے گا) تو نہ آپس کے رشتے ہوں گے نہ آپس میں سوال کرنا۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ قیامت کے دن ہر نسب منقطع ہوجائے گا ‘ ماسوا میرے نسب کے۔ (المستدرک ج ٣ ص ١٤٢) پس آپ کا نسب ایمان اور تقویٰ ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا : ہر مومن متقی میر آل ہے (المعجم الصغیر ج ١ ص ١١٥) نیز آپ نے فرمایا : سنو آل ابی فلاح میرے اولیاء نہیں ہیں میرا ولی اللہ ہے اور صالح المومنین ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٥) اس میں یہ اشارہ ہے کہ جس کا دل نور ایمان سے روشن ہوا وہ اپنے رشتہ داروں کے چراغ سے روشن نہیں ہوا خواہ وہ رشتہ دار اس کا والد ہو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور اولیاء اللہ کی اقتداء میں یہی رمز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان خود کھانا کھائے تو اس کا پیٹ بھرتا ہے اور اس کے والد کے کھانے سے اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ سو آپ نے اپنے رشتہ داروں کو اس بات سے ڈرایا اگر ان میں اصل ایمان نہیں ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت انہیں کوئی نفع نہیں دے گی اور نہ ان کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 26 الشعراء آیت نمبر 214