اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ٘-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۲۲)

ترجمۂ  کنزالایمان:   یہ ہیں وہ جن کے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ: یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال برباد ہوگئے۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کفر سے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں کیونکہ یہودیوں نے اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا تھا جو سخت ترین بے ادبی ہے اور اس پر ان کے اعمال برباد کردئیے گئے۔