وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ: بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے۔} اس آیت میں حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کی شان کا بیان ہے ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں بہت سے فضائل کیلئے منتخب فرمالیا مثلاً: عورت ہونے کے باوجود بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے انہیں نذر میں قبول فرما لیا حالانکہ صرف مردوں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔ لہٰذایہ بات ان کے سوا کسی عورت کو مُیَسَّر نہ ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کیلئے جنتی رزق بھیجا گیا، حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو ان کا کفیل بنایا گیا، نیز اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں یہ فضیلتیں فرشتوں کی زبان سے سنائی گئیں۔ مزید حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو اللہ تعالٰی نے گناہوں سے اور مردوں کے ان پر قدرت پانے سے پاکیزہ بنایا اورانہیں سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔