اِذْ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتَانِ مِنۡکُمْ اَنۡ تَفْشَلَاۙ وَاللہُ وَلِیُّہُمَاؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوۡنَ﴿۱۲۲﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان: جب تم میں کے دو گروہوں کا ارادہ ہوا کہ نامردی کرجائیں اور اللہ ان کا سنبھالنے والا ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ بزدلی دکھائیں اور اللہ ان کو سنبھالنے والاتھااور اللہ ہی پر مسلمانوں کو بھروسہ کرناچاہئے۔

{ اِذْ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتَانِ مِنۡکُمْ اَنۡ تَفْشَلَا :جب تم میں سے دو گروہوں نے ارادہ کیا کہ بزدلی دکھائیں۔} یہ دونوں گروہ انصار میں سے تھے ایک قبیلہ بنی سلمہ جس کا تعلق خَزْرَجْ سے تھا اور ایک بنی حارثہ جس کا تعلق اَوس سے تھا۔ یہ دونوں لشکر کے بازو تھے ،جب عبداللہ بن اُبی بن سلول منافق بھاگا تو ان قبیلوں نے بھی واپسی کا ارادہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور انہیں اس سے محفوظ رکھا اور یہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ یہاں اس نعمت و احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ آیت کے آخر میں توکل کی عظمت کو بھی بیان فرمایا۔ توکل کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا کام کسی کے سپرد کر کے اس پر اعتماد کرنا،اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی کارساز ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اپنے کام ا س کے سپرد کر دینا۔ (احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، الشطر الثانی، بیان حال التوکل، ۴/۳۲۱، ملخصاً)