قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِکُمْ سُنَنٌۙ فَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ فَانْظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عٰقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیۡنَ﴿۱۳۷﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان: تم سے پہلے کچھ طریقے برتاؤ میں آچکے ہیں تو زمین میں چل کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم سے پہلے کئی طریقے گزر چکے ہیں تو زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کاکیسا انجام ہوا ؟

{ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ: تم سے پہلے کئی طریقے گزر چکے ہیں۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ اے لوگو! کافروں کو شروع میں مہلت دینے اور پھر ان کی گرفت کرنے کے حوالے سے تم سے پہلے بھی کئی طریقے گزر چکے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کی حرص اور اس کی لذّات کی طلب میں انبیاء و مرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مخالفت کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں پھر بھی مہلتیں عطا فرمائیں۔ اس کے باوجود وہ راہ ِراست پر نہ آئے تو انہیں ان کے اعمال کے سبب مختلف عذابوں کے ذریعے ہلاک و برباد کردیا۔ تو اے لوگو! ان زمینوں کی طرف سفر کرو جہاں پہلے کفار آباد تھے جنہوں نے اپنے رسولوں کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے ان پر عذابِ الٰہی آیا اور وہ تباہ کر دئیے گئے۔ ان کی اجڑی بستیاں دیکھ کر عبرت پکڑو اور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ پر ایمان لاؤ۔ یاد رہے کہ عبرت و نصیحت اور صحیح مقصد کیلئے سیر و سیاحت کرنے میں بہت فوائد ہیں۔ نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ جیسے عذاب کی جگہ جاکر عبرت حاصل ہوتی ہے ایسے ہی رحمت کی جگہ جاکر برکت و نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے کسی ولی کے مزار پر جائیں تو جاکر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی دنیا میں ہی کیسی عزت افزائی فرماتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی کیسی محبت ڈال دیتا ہے؟ اس لئے ایسی رحمت والی جگہوں پر بھی برکت و نصیحت کیلئے جانا چاہیے۔