فَاٰتٰىہُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۴۸﴾٪

ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام (بھی) عطا فرمایا اور آخرت کا اچھا ثواب بھی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ 

{ فَاٰتٰىہُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا: تو اللہ نے انہیں دنیا کا انعام (بھی) عطا فرمایا۔}انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مَعِیَّت میں دینِ خدا عَزَّوَجَلَّ کیلئے جدوجہد کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حسنِ نیت اور حسنِ عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دونوں جہان کی کامیابیاں عطا فرمائیں ، دنیا میں انہیں فتح و نصرت سے نواز اور دشمنوں پر غلبہ عطا فرمایا جبکہ آخرت میں ان کیلئے مغفرت، جنت اوررضائے الٰہی کا انعام رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کا ثواب دنیا کے انعام سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ آخرت کے ثواب پر لفظ’’ حُسْنَ‘‘ زیادہ فرمایا ہے اوریہ بھی معلوم ہوا کہ دین کی خدمت کرنے والے کو دنیا بھی ملتی ہے۔