وَلَا یَحْزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْکُفْرِ ۚ اِنَّہُمْ لَنۡ یَّضُرُّوا اللہَ شَیْـًٔا ؕ یُرِیۡدُ اللہُ اَ لَّا یَجْعَلَ لَہُمْ حَظًّا فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۶﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان:اور اے محبوب تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفر پر دوڑتے ہیں وہ اللہکا کچھ نہ بگاڑیں گے اللہچاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے حبیب!تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفرمیں دوڑے جاتے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔ 

{ وَلَا یَحْزُنۡکَ الَّذِیۡنَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْکُفْرِ: اور اے حبیب!تم ان کا کچھ غم نہ کرو جو کفرمیں دوڑے جاتے ہیں۔} حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی تسلی کیلئے یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ان لوگوں کا غم نہ کریں جو کفر میں دوڑے جاتے ہیں اور اس کیلئے کوشش کرتے ہیں خواہ وہ کفارِ قریش ہوں یا منافقین یایہودیوں کے سردار یا مرتدین ، یہ سب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کے مقابلہ کے لیے کتنے ہی لشکر جمع کرلیں ، کامیاب نہ ہوں گے۔ اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ملنے والے ثواب میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے اسی لئے اس نے انہیں ان کے کفر و سرکشی میں بھٹکتا چھوڑ دیا اور ان کے لئے اخروی ثواب سے مکمل طور پر محرومی کے ساتھ ساتھ جہنم کا بڑا عذاب بھی ہے تو اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، جن کے لئے ناکامی، محرومی اور دردناک عذاب مقدر ہو چکا ہے ان سے کوئی اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں۔