فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبْلِکَ جَآءُوۡ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَ الْکِتٰبِ الْمُنِیۡرِ ﴿۱۸۴﴾ 

ترجمۂ کنزالایمان:تو اے محبوب اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے اگلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں اور صحیفے اور چمکتی کتاب لے کر آئے تھے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو اے حبیب ! اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو تم سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے ۔ 

{ فَاِنۡ کَذَّبُوۡکَ: تو اگر وہ تمہاری تکذیب کرتے ہیں۔ } یہاں حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو تسلی دی جارہی ہے کیونکہ جب کوئی حق پر ہو اور اس کی حقانیت سورج سے زیادہ روشن ہو لیکن پھر بھی ایک گروہ اسے جھٹلائے اور اس کی حقانیت تسلیم نہ کرے تو اسے قلبی رنج ضرور ہوتا ہے اور رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ چونکہ اللہ تعالیٰ کے حبیب ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن میں بار بار سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتا ہے، چنانچہ یہاں بھی اِسی کا بیان ہوا اور فرمایا گیا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،اگر یہ کفار تمہاری تکذیب کرتے ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی ہے جو صاف نشانیاں ، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ بھی ان کی طرح صبر و اِستِقامت سے تبلیغِ دین فرماتے رہیں۔